خریداری غیرمہذب کتابوں کی - ماجد عارفی

سفروسیلہ ظفر ہے۔ لفظ ’’ظفر‘‘ کے توسع کو دیکھیں تو کامیابی کوئی بھی ہوسکتی ہے۔ کراچی کے چارہ پانچ روزہ سفر کا اصل مقصد مادر علمی جامعۃ الرشید کراچی کے فضلا اجتماع میں شرکت تھا۔ مگر اس سفر کے تیر سے دوشکار کرنے کا ارادہ بھی تھا۔ پھر ہواں کچھ یوں کے مادر علمی نے ایسا سخت اور جاں گسل شیڈول جاری کیا کہ بنیادی انسانی ضرورت کے علاوہ کچھ کرنے کا نہ وقت تھا اور نہ ہی موقع۔ صبح سات سے رات گیارہ تک کی مصروفیات میں صرف کھانا ہوتا تھا یا ’’فارغ ہونا۔‘‘ ایسے میں بات وہی آ جاتی ہے کہ ’’گنجی نہائے گی کیا اور نچوڑے گی گیا‘‘۔ مصروفیت اور ضرورت کو دیکھ ’’نہانے‘‘ کے بجائے ’’نچوڑنے‘‘ کا فیصلہ ہوا۔

اس نچوڑنے میں فیس بکی دوستوں سے ملاقات بھی شامل تھی۔اس سفر میں جہاں بہت سی خواہشات کی تکمیل ہوئی وہاں بہت سی آرزوئیں تشنہ تکمیل بھی رہیں۔ اور ایسے مواقع بھی آئے کہ جہاں یہ صورتحال سو فیصد درست منطبق ہوئی کہ کھانا آپ کے سامنے ہو اور آپ کھا نہ سکیں۔

پہلا موقع تو وہ تھا کہ جب جامعۃ الرشید کے قریب واقع الدعوہ اکیڈمی میں سید عزیز الرحمن موجود تھے، اور ان کے ہمراہ علامہ زاہد الراشدی بھی تھے۔ اور ہمارے دوست اور جگری سید عدنان کریمی بھی۔ مگر ہونی کو کون ٹال سکتا ہے! ہم جب جامعہ پہنچے تو یہی ان حضرات کے جانے کا وقت تھا۔ دوسرا موقع وہ تھا کہ جب مشہور صحافی جناب رعایت اللہ فاروقی مغرب کے بعد کے سیشن میں ہمارے سامنے موجود تھے، سوچا کہ سیشن کے اختتام پر اور کچھ نہ سہی، ایک عدد جھپی تو نصیب ہو ہی جائے گی، مگر اے بسا آرزو کہ خاک شدہ! وہ ہماری آنکھوں کے سامنے ہی اپنی نشست سے اٹھے، استاذ صاحب سے مصافحہ کیا اور ہماری حسرتوں کے تشنگی میں اضافہ کرتے ہوئے آڈیٹوریم سے باہر چلے گئے۔

یہ بھی پڑھیں:   کتابوں کی صحبت میں - محمد عامر خاکوانی

خیر ملاقاتیں تو ہوتی رہیں گی۔ یار زندہ صحبت باقی! آخری یعنی پیر کے دن کا شیڈول بھی کافی سخت تھا۔ کراچی میٹرک بورڈ سے سند کا مسئلہ بھی حل کروانا تھا اور پیارے دوست عدنان کریمی سے ملاقات بھی کرنا تھی۔ مشورہ سے طے ہوا کہ سند کا مسئلہ حل کروانے کے بعد اردو بازار میں ملاقات کریں گے۔ یہاں کم از کم ایک تیر سے دوشکار ہو ہی جائیں گے۔ ملاقات کی ملاقات اور ادبی سفر کے لیے کچھ زادہ راہ بھی۔ چنانچہ اردو بازار پہنچے، ملاقات ہوئی اور ویلکم بک پورٹ کی دکان میں باتوں کا دور بھی چلا اور کتابوں کی خریداری کا سلسلہ بھی جاری رہا۔ ان کی خواہش تھی ہم ’’دوپہریہ‘‘ یا ’’ظہرانہ‘‘ ان کے ساتھ کرتے، مگر وقت کی قلت کے باعث انہوں نے ظہرانہ تو کروایا مگر اس کی نوعیت کچھ یوں بدلی کہ روٹی کے نوالوں اور بوٹیوں کی جگہ کتاب ہدیہ کر دی اور کہا کہ وہ ظہرانہ تو شاید کینٹ اسٹیشن تک ہی فنا ہو جاتا، یہ ’’کتابی ظہرانہ‘‘ ہمیشہ کام آئے گا۔

کتاب اور مطالعہ کے بغیر انسان ادھورا ہے اور زندگی نامکمل. ہمارے دوست کریمی بتا رہے تھے کہ محترم مشتاق یوسفی سے ملاقات کے دوران پوچھا کہ سر اس وقت (تقربیا 97 سال کی عمر میں) آپ کا کیا مشغلہ ہے؟ کہنے لگے’’کتابیں پڑھنا۔‘‘ دوسرا سوال داغا کہ روز کتنا مطالعہ؟ جواب آیا کہ 300 صفحات۔ تیسرا سوال پیش کیا کہ سر جوانی میں کیا صورتحال تھی؟ ارشاد ہوا کہ ایک دو کتابیں تو پڑھ ہی لیتا تھا (یہ دو کتابیں بھی ایسی ہوں گی کہ جو ضخامت میں شاید بہت بڑی ہوتی ہوں گی)
جن مواقع پر مجھے پیسے خرچ کرنے پر سب سے زیادہ خوشی ہوتی ہے، ان میں کتاب سرفہرست ہے. آوارہ گردی بہت گھٹیا چیز ہے تاہم اس کے ساتھ کتاب جڑ جائے اور وہ کتابی اوارہ گردی بن جائے تو اس کا اپنا ہی لطف ہے.

یہ بھی پڑھیں:   خاکوانی صاحب کے آج کے کالم " کتابوں کی صحبت میں " پر تبصرہ - ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

تو عدنان کریمی کے ساتھ ہم نے کچھ کتابیں خریدیں۔ جب ہم دکان میں داخل ہوئے عرض کیا کہ کچھ ’’غیر مہذب‘‘ سی کتابیں چاہییں۔ تو عدنان بولے یہاں جو کتابیں ہیں ان کا ’’تہذیب‘‘ سے کچھ لینا دینا نہیں۔ دکان میں جس کتاب پر نظر پڑے تو دل مچلے کہ یہ بھی خرید لو. دماغ کا پارہ چڑھے کہ سب کچھ اس کتابی "جھمیلے" میں اڑا دیا تو آگے کا رستہ کیسے طے ہوگا؟ دل نے جوابی وار کیا کہ ٹکٹ ہوچکا، کھانا حیدرآباد سے ایک دوست نے لے کر آنا ہے تو پھر میمن یا شیخ بننے کی کیا ضرورت ہے؟ دماغ نے کہاں چپ رہنے والا تھا مگر دل کے ادب میں خاموش ہی رہا. ہم نے اس دماغی و دلی کشمکش میں دماغ کا ساتھ دیا. سو، کچھ کتب کی خریداری کی، الوداعی ملاقات کی اور کینٹ اسٹیشن کی طرف روانہ ہوگئے۔

اس دوران چونکہ فیس بک زیادہ استعمال میں نہیں تھی، دفتر پہنچے تو پتا چلا کہ ہفتہ کتاب منایا جا رہا ہے۔ شایدسب سے پہلے یہ تجویز عامر خاکوانی صاحب نے دی۔ خاکوانی صاحب! آپ کا ہفتہ کتاب شروع بھی نہیں ہوا اور ہم پہلے ہی کتابیں خرید لائے۔