خود اعتمادی اور ذہانت، کچھ مفید مشورے - حفصہ عبدالغفار

خود اعتمادی تو کام کرنے سے آتی ہے، ورکشاپس اٹینڈ کرنے یا مطالعہ کرنے سے نہیں۔ خالی مطالعہ اور علم کا حصول تو حوصلے چھین لیتا ہے۔ آپ جتنا پڑھیں گے اتنا کمتری کا احساس بڑھتا جائے گا اور اس کا علاج ایک ہی ہے، کچھ نہ کچھ کرنا۔

تو باہر نکلیے۔ اپنی عمر اور پہنچ کے مطابق روزمرہ کی زندگی سے ہٹ کر سرگرمیوں میں حصہ لیجیے۔ مائیکل فلان کینیڈین لیڈرشپ ایکسپرٹ اور ایجوکیشنسٹ ہیں۔ بالخصوص پیڈاگاجی کے حوالے سے ان کا کام ہے۔ ان کتاب "لیڈنگ ان آ کلچر آف چینج" کا ایک جملہ (جو شاید کسی اور کا مقولہ ہے) مجھے خود اعتمادی کے لیے بہت اچھا لگتا ہے۔
"چھوٹی چیز جیتیں، جلدی جیتیں، اکثر جیتیں"۔

تو زمانہ طالب علمی سے چھوٹی چھوٹی اچیومنٹس حاصل کرنا، اکثر کرتے رہنا ساری زندگی کام آتا ہے۔ اب ان اچیومنٹس میں امتحانات میں کامیابی کے ساتھ ساتھ مقابلہ جات جیتنا، سی آر بننا، پروگرام کے آرگنائزرز اور والنٹیئرز میں ہونا، اساتذہ کے کام کرنا بھی شامل ہے۔

کب سے دوستوں کی ملاقات نہیں ہوپائی تو ایک ملاقات رکھ لیں، اس کے وینیو، چائے شائے اور ایکٹیویز کی ذمہ داری اپنے سر لے لیں۔ سکول کالج میں چند دوست مل کر کوئی اچھا کام کرلیں، مثلا صفائی کے عملے کو چائے پلا دیں، چند دوستوں سے بات کریں کچھ کلیکشن کریں، جونیئرز کی کلاسز میں جائیں، رینڈم لوگوں سے بات کرکے کلیکشن کریں اور ان کو کیفے لے جائیں، چائے پلائیں باتیں کریں۔ اسی کو مینج کرتے آپ کافی کچھ سیکھ لیں گے اور ختم ہونے پر یہ ایک اچیومنٹ بن جائے گی۔ نیو ایڈمشن سیلز میں بیٹھیں۔
کسی موضوع پر پریزینٹیشن بنائیں اور اپنے علاقے کے کسی لوکل سکول/ کالج میں پروپوزل لیٹر دیں کہ مجھے بچوں کو یہ پریزنٹ کرنے کی اجازت دی جائے۔ پھر اسی موضوع کا سوال جواب سیشن رکھ لیں۔ اور اسی موضوع پر مختصر سی تحریر لکھ کر سوشل میڈیا پہ شیئر کر دیں۔

دعوتی سرگرمیوں میں شمولیت آپ کو بہت کچھ بنا دے گی۔ اعلی اخلاق کا ذہانت و اعتماد کے ساتھ گہرا تعلق ہے۔ وقت کی پابندی، سچ بولنا، غلطی ماننے اور معذرت کرنے کا حوصلہ پیدا کرنا، حسد اور غیبت جیسی چھوٹی حرکتیں چھوڑ دینا یقینا آپ کو خود اعتماد بنائے گا۔ حفظ قران، تہجد اور رب شرح کی صدری والی دعا بھی ذہانت و اعتماد میں اضافہ کے لیے انتہائی اہم ہیں۔ صبح شام کے اذکار سمجھ کر پڑھنے سے بھی خوف، کمزوری اور اندیشے دور ہوتے ہیں۔ ان کا مطلب سمجھنے کے لئے "ڈان اینڈ ڈسک" کے نام سے یوتھ کلب بلاگ پڑھ لیجیے۔

اور یہ کہ کوئی یہ سب کرنے سے چند دن میں تو شخصیت بالکل نہیں بدل جائے گی۔۔۔ ذرا ذرا کر کے ایڈ ہوتا جائے گا، جس کا اثر آپ کو خود سال بعد نظر آنے لگے گا۔

پھر وقت کے ساتھ اپنا ارتقا کرتے رہیں۔ وقت کے ساتھ بڑے کاموں میں پڑیں۔ پچھلی ایکٹویٹیز کو کم کرتے رہیں اور نئی چیزیں شروع کریں۔ اگر چار سال پہلے بھی وہی سوچیں اور ایکٹویٹیز تھیں تو آپ کا ذہن چھوٹا رہ گیا ہے۔ جبکہ جس کو آپ ذہین سمجھتے ہیں وہ کوئی سپر ہیومن نہیں بنا اس نے فقط اپنی عمر کے ساتھ اپنی ذہنی گروتھ کی ہے۔

پھر یہ کہ ضرورت کی خود اعتمادی ہم سب میں موجود ہوتی ہے۔ میرے مشاہدے میں اکثر لوگ جن کو لگتا ہے ان میں خود اعتمادی نہیں ہے اور وہ کہیں بات نہیں کر سکتے تو وہ ان کی اپنی منفی سوچ ہوتی ہے۔ ان میں سے اکثر کو بس اتنا سمجھانا کافی ہوجاتا ہے کہ بھئی مجھے تو آپ سے ملاقات کرکے ایسی کوئی کمی نظر نہیں آئی۔

اگر تو آپ کو دیکھ کر ہر کوئی کہے کہ آپ میں اعتماد نہیں ہے یا آپ میں بولنے کا حوصلہ نہیں ہے پھر واقعی مسئلہ ہوسکتا ہے۔ اور اگر دوسرے تو نہیں کہتے لیکن آپ خود کسی کے پاس جا کر بتاتے ہیں کہ آپ میں خود اعتمادی نہیں ہے تو آپ کو بس سوچ اور ایکٹویٹیز بدلنے کی ضرورت ہے۔

فیس بک پر فضول پیجز ان لائک کردیں۔ چھوٹی چیزیں پڑھیں گے تو چھوٹی سوچ ہی رہ جائے گی۔ ذہین بننا ہے تو ہر چیز نوٹ کرنے کی عادت ختم کر لیں۔ کسی نے کوئی نمبر بولا ہے تو فورا سے پرچی نکالنے کے بجائے ذہن میں رکھیں۔ کلاس میں بھی لیکچر کی ہر بات نوٹ کرنا اچھا نہیں۔ پھر امتحانات کی تیاری لکھ لکھ کر کرنے کی عادت کم کرتے ہوئے بتدریج ختم کر لیں۔

پھر کبھی اس پہ بھی غور کریں کہ آپ کو آگے بڑھنے کی خواہش پیدا کدھر سے ہوتی ہے؟ اگر یہ خواہش کے ساتھ آپ کی فکر مندی میں اضافہ ہوتا جاتا ہے۔۔ امید و خود اعتمادی کے بجائے مایوسی آپ کا پیچھا کررہی ہے تو ایک وجہ یہ بھی ہے کہ آپ کو یہ خواہش دوسروں کو دیکھ کر پیدا ہوتی ہے۔ کسی دوست کی فیس بک وال دیکھ کی تو ٹینشن میں پڑگئے کہ یہ تو بڑی بڑی باتیں لکھتا ہے، اس کو اتنے لائکس ملتے ہیں وغیرہ۔ یا کسی کی دولت دیکھ لی ویسا بننے کا شوق پیدا ہوا۔ تو دوسروں کو دیکھ کر پیدا ہونے والی سیلف امپروومنٹ کی خواہش بھی اکثر حوصلے چھین لیتی ہے ۔

آگے بڑھنے کی وہی خواہش آگے بڑھائے گی جو داخلی (انٹرنزک) ہوگی، جو آپ کی اپنی ہو گی، جو اپنی حقیقت سے آشنائی کا نتیجہ ہوگی، اور جو خارجی عوامل کی دین ہوتی ہے وہ عارضی دھکا تو لگا سکتی ہے، مستقل سہارا نہیں بن سکتی۔

جس سے زندگی کے حوالے سے کوئی مشورہ لیں، کچھ عرصہ اسی سے جڑے رہیں۔ اور ایک لانگ ٹرم گائڈ لائن کو فالو کرتے رہیں۔ نہ تو ہر کسی سے اپنے ذاتی سوالات اور مسائل شیئر کرنا بھی اچھا نہیں۔ ایک آدھ شخص سے کریں اور کچھ لمبا تعلق و رابطہ رکھیں۔

اپنے دماغ کو ٹپس اکیڈمی نہ بننے دیں۔ کچھ لوگ کسی ایک سے سوال کرتے ہیں، جواب پہ عمل نہیں کرتے۔ تو کسی دوسرے پاس چلے جاتے ہیں۔ اس پہ بھی عمل نہیں کرتے اسی طرح کتنے ہی جوابات جمع کرلیتے ہیں۔ پھر آن لائن ویڈیوز اور لٹریچر پڑھنے لگتے ہیں۔ اس قسم کا سارا مواد وقت طور پر مزہ دیتا ہے۔ تو دماغ ٹپس اکیڈمی بن جاتا ہے یعنی دنیا جہاں کی باتیں ان کو معلوم ہیں لیکن عمل کرنے کی عادت نہیں۔ تو فائدے کے بجائے مایوسی میں اضافہ ہوتا ہے۔

Comments

حفصہ عبدالغفار

حفصہ عبدالغفار

حفصہ عبدالغفار ایم فل کیمسٹری کی طالبہ اور موٹیویشنل سپیکر ہیں۔ زاویہ ڈیبیٹنگ سوسائٹی کی صدر رہیں۔ دلیل کی مستقل لکھاری ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.