جمعیت علماء اسلام کے کارکنوں کی خدمت میں چند گزارشات - عادل لطیف

ایک جملے نے، ہاں! صرف ایک جملے نے جمعیت علمائے اسلام کے سیاسی کارکن کو اس کی عملی سیاسی جدوجہد سے دور بہت دور کر دیا ہے. اس جملے نے جمعیت کے کارکن پر مایوسی کی دبیز تہہ چڑھا رکھی ہے. جمعیت کے حلقوں میں یہ جملہ اس تواتر سے بولا گیا ہے کہ پہلے تو جمعیت کا عام کارکن اس سے متاثر ہوا اور اب خواص کو بھی اس کی سحرانگیزی نے گھیر لیا ہے. جمعیت میں شامل ہونا والا نیا کارکن یہ سمجھنے لگا ہے کہ جمعیت کا کام صرف اور صرف جلسے کرنا، احتجاج کرنا اور ریلی نکالنا ہے. الیکشن میں جمعیت جب کسی امیدوار کو نامزد کرتی ہے تو وہ لوگ جو دامے، درمے سخنے، جمعیت کے معاون اور ہمدرد ہیں کہتے ہیں

''جمعیت نے جیتنا تو ویسے بھی نہیں ہے، بس بزرگوں کا حکم تھا اس لیے الیکشن میں کھڑے ہوگئے ہیں''

اندازہ لگائیں جب کارکن اور بعض جگہ پر تو امیدوار بھی اس کیفیت میں الیکشن لڑیں گے تو کامیابی کیا خاک ملے گی. یاد رکھیں! جلسے کرنے اور ریلیاں نکالنے سے جمعیت لوگوں میں متعارف تو ہوسکتی ہے لیکن جلسوں سے الیکشن جیت جائیں ایں خیال است ومحال است جنوں کیونکہ الیکشن مہم کو کامیابی سے ہمکنار کرنے کے لیے بروقت قوت فیصلہ اور مضبوط اعصاب کی ضروت ہوتی ہے ایسے حوصلہ شکن جملوں کی وجہ سے جمعیت سیاسی کامیابی حاصل کرنے میں پیچھے رہ جاتی ہے. لہذا تمام مخلص دوستوں سے دست بستہ عرض ہے کہ ایسے جملوں کو زبان پر مت لائیں.

دوسری سیاسی جماعتوں کی طرح جمعیت کا مقصود صرف اقتدار کا حصول نہیں ہے، بلکہ جمعیت کا مقصود اللہ کا نائب اور خلیفہ بن کر اللہ کی زمین پر اللہ کے نظام کو نافذ کرنا ہے. رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اگر ایک مبلغ تھے، مجاہد تھے، استاد تھے، اسی طرح حضور علیہ السلام ایک حکمران اور بہترین سیاستدان بھی تھے. ریاست مدینہ اس کی واضح مثال ہے جو روئے زمین پر کلمہ کے نام پر قائم ہونے پر پہلی ریاست ہے. مملکت خداداد پاکستان بھی اسی نظریہ کا تسلسل ہے کہ اللہ کا نائب اور خلیفہ بن کر اللہ کی زمین پر اللہ کے نظام کو نافذ کیا جائے. جب اللہ کی نیابت مقصود ٹھری تو پھر نتیجہ سے بے پروا ہو کر عملی سیاست میں بھر پور جدوجہد اور محنت کی جائے انشاءاللہ کامیابی ہمارے قدم چومے گی.

یہ بھی پڑھیں:   ایک نہیں دو استعفے - حبیب الرحمن

قرآن کریم میں اللہ تعالی نے اصحاب کہف کا قصہ بیان فرمایا ہے. اس سے ہمیں ایک سبق یہ بھی ملتا ہے کہ ایمان اور عمل صالح اختیار کرنے والوں کو تندہی باد مخالف سے گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے یہ تو ہمیں اونچا اڑانے کے لیے چلتی ہے. اصحاب کہف نے ایمان اور عمل صالح پر استقامت دکھائی تھی اس وقت کے ناموافق حالات میں یہی ان کے اختیار میں تھا، پھر اللہ تعالی کی طرف سے ملنے والے اجر حسن سے ہمیشہ بغیر کسی وقفے کے مستفید ہوتے رہے.

حضرت شاہ ولی اللہ رحمۃاللہ علیہ نے تحریک آزادی کی ابتداء کی تھی، پھر تقریبا دو سو سال بعد اس کا نتیجہ پاکستان کی صورت میں ظاہر ہوا. شہید ڈاکٹر خالد محمود سومرو کے والد مولانا احمد علی حقانی نے ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف اس وقت الیکشن لڑا جب پورے ملک میں بھٹو صاحب کا طوطی بولتا تھا. بھٹو صاحب نے پونے دو لاکھ ووٹ لیے تھے جبکہ مولانا کو صرف 800 ووٹ ملے، لیکن اس مرد مجاہد نے میدان نہیں چھوڑا اگلی مرتبہ پھر بھٹو کا مقابلہ کیا بھٹو صاحب نے ڈیڑھ لاکھ ووٹ لیے مولانا حقانی نے ساڑھے سولہ سو ووٹ لیے بھٹو صاحب کو پھانسی ہوگئی مولانا بھی دنیا سے رخصت ہوگئے آئندہ الیکشن میں پی پی پی کی طرف سے محترمہ امیدوار نامزد ہوئی جمعیت کی طرف سے شہید ڈاکٹر خالد محمود تھے محترمہ نے ڈاکٹر صاحب کو الیکشن میں شکست دی لیکن ڈاکٹر صاحب کے پائے استقامت میں ذرا بھی جنبش پیدا نہ ہوئی شہادت تک باطل نظام کا مردانہ وار مقابلہ کیا اور اب انکی اولاد انہی کے نقش قدم پر چلتے ہوئے باطل نظام کا مقابلہ کر رہی ہے. ان صاحب عزیمت لوگوں کی داستان بتا رہی ہے کہ باطل کے لیے کبھی میدان خالی نہیں چھوڑنا چاہیے فتح وشکست سے بے نیاز ہو کر دین کی سر بلندی کے لیے کوشش جاری رکھنی چاہیے.

یہ بھی پڑھیں:   کشمیر کے سوداگر - عمار مظہر

اللہ تعالی نے انسان کو محنت کا مکلف بنایا ہے نتیجہ کا نہیں. ہمیں بھی چاہیے کہ دل جمعی کے ساتھ وہ کچھ کر گزریں جو ہمارے اختیار میں ہے، پھر اللہ وہ کچھ کردیں گے جو اس کے اختیار میں ہوگا. خزاں کی رت کے ختم ہونے کے بعد چمن کی بہار میں ہمارا حصہ ضرور ہوگا.