قصور کے بچوں کا آخر قصور کیا ہے؟ ارشدعلی خان

سمجھ نہیں آتا کہ آخر قصور کے معصوم بچوں کا قصور کیا ہے کہ پاکستان کے بیسویں سب سے زیادہ آبادی والے شہر میں درندگی کا ننگا ناچ جاری و ساری ہے، مگر کسی ملزم کو قرار واقعی سزا نہیں ہوئی۔ زینب کے ساتھ زیادتی اور اس کا بہیمانہ قتل یہاں کوئی اس نوعیت کا کوئی پہلا واقعہ نہیں۔گزشتہ ایک سال کے دوران ضلع قصور کی حدود میں اسی نوعیت کے 11 واقعات رپورٹ ہوچکے ہیں، جن میں قصورکے مختلف علاقوں میں معصوم بچیوں کو درندگی کے بعد قتل کیا گیا جبکہ درندوں کی درندگی او ہوس کا نشانہ بننے والی 5سالہ کائنات آج بھی ہسپتال کے بیڈ پر ہے، جہاں جسمانی زخموں سے زیادہ اس کی روح پر آئے زخم اسے رلاتے ہیں۔ زینب کی بے حرمتی اور قتل کے بعد بھی درندگی کا یہ سلسلہ رکا نہیں بلکہ جاری و ساری ہے اور اس بہیمانہ قتل کے بعد پتوکی سے لاپتہ ہونے والے 11سالہ بچے کی لاش برآمد ہوئی ہے۔

قصور پولیس کی کارکردگی اور اس نوعیت کے مقدموں میں ان کی سنجیدگی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ گزشتہ سال کے دوران زیادتی کے بعد قتل کی گئی 5بچیوں کے ڈی این اے ٹیسٹ میں ایک ہی درندے کا ڈی این اے پایا گیا مگر وہ آج بھی آزاد زندگی گزار رہاہے اور کسی معصوم فرشتے کی تاک میں بیٹھا ہے۔پولیس کی سنجیدگی کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ زینب کی بے حرمتی کرنے کے بعد قتل میں ملوث درندے کا جو خاکہ جاری کیاگیا ہے(بے حرمتی کا لفظ اس لئے استعمال کر رہا ہوں کیونکہ میرے نزدیک معصوم بچیوں کی عزت و آبرو خانہ خدا سے بڑھ کر ہے) وہ بھی غلط نکلاکیونکہ وہ خاکہ سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظرآنے والے درندے سے بالکل مختلف ہے۔اس حوالے سے قصور پولیس کا موقف ہے کہ خاکہ اہل علاقہ کی مدد سے جلدبازی میں تیار کیا گیا۔پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کے بعد 67 مشتبہ افرادکے ڈی این اے ٹیسٹ پنجاب فرانزک لیبارٹری بھجوائے گئے ہیں اور ملزم کی نشاندہی پر وزیراعلی پنجاب شہباز شریف کی جانب 1کروڑ روپے کا انعام کا اعلان بھی کیا گیا ہے جبکہ ایڈیشنل آئی جی ابوبکر خدابخش کی سربراہی میں اس واقعے کی تحقیقات کے لئے جے آئی ٹی کا بھی اعلان کیا گیا تاہم زینب کے والد محمد امین کی جانب سے جے آئی ٹی کے سربراہ پر تحفظات کا اظہار سامنے آیا ہے، جس کے بعد وزیراعلی پنجاب کو ازخود ایڈیشنل آئی جی ابوبکر خدابخش کو اس ذمہ داری سے فارغ کر دیناچاہئے)۔زینب کی بے حرمتی اور قتل کے خلاف قصور سمیت پاکستان بھر میں مظاہرے جاری ہے (قصور میں مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپ میں دو افراد بھی اپنی جان گنو ا بیٹھے جن کی نماز جنازہ ادا کر دی گئی ہے جبکہ مظاہرین پر فائرنگ کے الزام میں پولیس اور سول ڈیفنس کے دو ،دو اہلکار زیر حراست ہیں۔مقتویلین کے بھائیوں کی مدعیت میں 16پولیس اہلکاروں کے خلاف مقدمے درج کیے گئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   بری سوچ بری نظر کا طعنہ اور امریکہ و یورپ کے چشم کشا حقائق - شمس الدین امجد

بطور قوم ہماری سنجیدگی کو بھی ملاحظہ کیجیے کہ زینب کی بے حرمتی اور قتل کے بعد ایک نوجوان کی ویڈیو سوشل میڈیا ویب سائٹ فیس بک کے ذریعے وائرل ہو گئی جس کو زینب کے قتل میں ملوث بتایا جا رہا ہے، حالانکہ ایسی کوئی بات نہیں تھی۔ بیچارے نوجوان کو ویڈیو پیغام کے ذریعے یہ وضاخت دینی پڑی کہ اس کا اس تمام واقعے سے کوئی تعلق نہیں۔ حدیث نبوی ﷺ کامفہوم ہے کہ" جب تک کسی بات کی تصدیق نہ کرلو تب تک وہ بات آگے نہ پھیلاو"مگر ہم ٹھہراے جذباتی اورجلد باز قوم جو بغیر کسی تحقیق کے کسی بھی بات پر یقین کرنا اور اسے آگے پھیلانا اپنے ایمان کا جزو سمجھتے ہیں۔

زینب کا واقعہ قصور میں ہونے والا اس قسم کا پہلا واقعہ نہیں بلکہ اس سے قبل بچوں کے ساتھ زیادتی ، بلیک میلنگ اور ان کی ویڈیوز غیرملکی پورن ویب سائٹس کو بیچے جانے کا میگا سکینڈل بھی قصور ہی میں ہوا تھا ۔جنسی درندگی کے یہ تمام واقعات سال 2006ء اور 2014ء کے درمیان ہوئے تھے اور درندگی کا یہ میگا سکینڈل 2015ء میں منظر عام آیا تھاجس میں 20 سے 25 نوجوانوں کے ایک گروپ نے کم ازکم 280 سے 300 مختلف بچوں کے ساتھ زبردستی جنسی زیادتی کی، ان کی ویڈیوز بنائی اور اس عرصے کے دوران ان کو اور ان کے خاندانوں کو بلیک میل کیا جا تارہا۔ کہا جا تاہے کہ ان شرمناک جرائم کو چھپانے میں قصور پولیس او رپنجاب کی صوبائی اسمبلی کے رکن ملک احمد سعید برابر کے ذمہ دار تھے جن کا تعلق مسلم لیگ ن سے ہے۔ اُس وقت کے وزیر قانون پنجاب رانا ثناء اللہ نے اس حوالے سے اپنے ردعمل میں اس قسم کے واقعات کا سرے سے انکار کیا اور کہا کہ اس قسم کا کوئی بھی واقعہ رونما نہیں ہوا بلکہ اسے دو گروپوں کے مابین زمین کی ملکیت کا معاملہ قرار دیا۔ دوسری جانب وزیراعلی پنجاب شہباز شریف نے جنسی درندگی کے اس میگا سکینڈل کی تحقیقات کے لیے چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کو جوڈیشل کمیٹی بنانے کی استدعا کی مگر اس جوڈیشل کمیٹی کے قیام سے لے کر اس کی رپورٹ تک سب کچھ راز کے دبیر پردوں کے پیچھے ہے۔ اگر اُس وقت قصور سکینڈل کے ملزمان کو قرار واقعی سزا دی جاچکی ہوتی تو آج کوئی زینب دوبارہ درندوں کی بھینٹ نہ چڑھتی۔

یہ بھی پڑھیں:   بری سوچ بری نظر کا طعنہ اور امریکہ و یورپ کے چشم کشا حقائق - شمس الدین امجد

ایک اور بات ذہن میں آرہی ہے کہ جب تک ہم خون بہا لیتے رہیں گے، شاہ زیب اور زینب جیسے معصوم قتل ہوتے رہیں گے۔ خدارا خوں بہا کے قانون کا غلط استعمال ترک کر دیجیے اور ایسے ملزموں کو قرار واقعی سزا دلوائیے تاکہ آئندہ کے لیے وہ نشان عبرت بنے۔گزشتہ دنوں ایران میں بچی سے بدفعلی اور قتل کے الزام میں ایک مجرم کو سرعام پھانسی دی گئی، اسی طرح کی سزائیں پاکستان میں بھی لاگو ہونی چاہیے۔