“ نواں رولا “ - امجد طفیل بھٹی

اکثر ہم لکھنے والے لوگ یہ بات لکھتے رہتے ہیں کہ پاکستان میں ہر نیا دن ایک نئی کہانی کے ساتھ شروع ہوتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ ہم سب بشمول پرنٹ میڈیا، الیکٹرانک میڈیا اور سوشل میڈیا پچھلی باتوں کو بالکل ذہنوں سے نکال کر ہاتھ دھو کر نئی خبر کی تہہ تک پہنچنے کی تگ و دو میں اس طرح مصروف ہو جاتے ہیں کہ ہمیں پھر اپنے ارد گرد کی خبر تک نہیں رہتی۔ اس بات کی سب سے بڑی مثال آجکل چلنے والی “ ڈارک ویب “ کے حوالے سے خبروں کی ہے، جس میں معروف ٹی وی اینکر ڈاکٹر شاہد مسعود کے سنسنی خیز انکشافات بھی شامل ہیں۔ ڈاکٹر صاحب کی خبروں میں کتنے فیصد حقیقت ہوتی ہے؟ کوئی نہیں جانتا مگر وہ جو بھی خبر بریک کرتے ہیں وہ چونکا دینے والی ضرور ہوتی ہے۔ اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے آج کل ہماری تمام تر توجہ اس بات پر ہے کہ آخر اس خبر کا نتیجہ کیا نکلے گا؟ ظاہر ہے اس میں تجسس کا پہلو ذرا زیادہ نمایاں ہے کیونکہ ہم تیسری دنیا کے ایک ترقی پذیر اور تقریباً نا خواندہ معاشرے کا حصہ ہیں جس میں یہ باتیں حیران کُن اور سنسنی خیز شمار کی جاتی ہیں۔

اس سارے معاملے کو دیکھتے ہوئے یہ بات کہنا غلط نہ ہوگی کہ ہم سب زینب کی موت اور اس کے ساتھ ہونے والے ظلم کو فراموش کر کے ایک نئی کہانی کے نتیجے کی تلاش میں لگ گئے ہیں جو کہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ہم لوگ صرف ایکشن اور تجسس ہی کو دیکھنے کے شوقین ہیں نہ کہ کسی بھی مسئلے کی تہہ تک پہنچنے کے۔

نئی بحث یہ ہے کہ اگر ڈاکٹر صاحب کے سارے دعوے جھوٹے نکلتے ہیں تو عدالت اس پہ کیا رد عمل دیتی ہے اور کیا ایکشن لیتی ہے؟ کیونکہ پوری قوم کا اور سرکاری اداروں کا قیمتی وقت یوں ضائع کرنے کا کسی کو قطعاً کوئی حق نہیں پہنچتا اور اگر ڈاکٹر شاہد مسعود کے دعوے سچ ثابت ہوتے ہیں کہ ملزم کے اتنے زیادہ بینک اکاؤنٹس ہیں اور اس کے پیچھے وزراء، سرکاری افسران اور بااثر لوگ شامل ہیں جو کہ اپنے ذاتی مفاد کی خاطر کسی حد تک بھی گر سکتے ہیں تو یہ بات بحیثیت مسلمان اور بحیثیت قوم ہمارے لیے ڈوب مرنے کا مقام ہوگا کہ جہاں کے قانون ساز اور قانون کے رکھوالے خود ہی قانون توڑتے پھر رہے ہیں۔ پھر ایسی جمہوریت، ایسی پارلیمنٹ اور ایسے جمہوری سیاسی نظام کا پاکستان کو رتی برابر بھی فائدہ نہیں ہے بلکہ ہمارا یہ گلا سڑا جمہوری سیاسی نظام اُلٹا ساری دنیا میں جگ ہنسائی کا موجب بن رہا ہے۔

اب ذرا سوچیے کہ اس مسئلے کی تہہ تک پہنچنا ملکی مفاد میں ہے یا پھر اس وقت ملکی عدالتوں میں چلنے والے کرپشن کے کیسسز کا منطقی انجام تک پہنچانا زیادہ ضروری ہے؟ لیکن نہ جانے ہمارا میڈیا اپنی ریٹنگ اور بریکنگ نیوز کی خاطر ہر ضروری مسئلے کو ہی پسِ پُشت ڈال دیتا ہے۔ سب لوگ ذرا ذہنوں پہ زور ڈالیں کہ کہاں گیا ایان علی کا منی لانڈرنگ کا کیس؟ کہاں گیا ایان علی کو پکڑے والے کسٹم انسپکٹر کا کیس؟ کہاں گیا شرجیل میمن کی پانچ ارب کرپشن کا کیس؟ کہاں گیا ڈاکٹر عاصم کا کیس؟ کدھر تک پہنچا اوگرا کے چیئرمین توقیر صادق کی 85 ارب کرپشن کا کیس؟ کدھر ہیں رینٹل پاور اور نندی پور کے منصوبوں میں کرپشن کے کیسسز؟ کدھر ہے بلوچستان کے سیکریٹری خزانہ کی مبینہ اربوں روپے کی کرپشن کی تحقیقات؟ اس کے علاوہ بے شمار ایسے کیس ہیں کہ جن کا تعلق براہ راست ہمارے ملکی مفاد کے ساتھ ہے مگر بدقسمتی سے ہر کیس کے پیچھے ہمارے یہی سیاستدان، بیوروکریٹ اور مختلف مافیاز ہیں جو کہ ہمیشہ اپنے آپ کو پاکستان کے آئین اور قانون سے بالاتر سمجھتے آئے ہیں، یہی وجہ ہے کہ نہ تو یہ بڑے مگر مچھ قانون کی گرفت میں آتے ہیں اور نہ ہی کرپشن اور بدعنوانی کا خاتمہ ہو سکا ہے۔ دوسری طرف ہم بحیثیت قوم ہر کیس کو ہی انٹرٹینمنٹ سمجھ کر نئے رولوں میں پڑے رہتے ہیں۔ اس لیے ڈاکٹر شاہد مسعود کے حالیہ انکشافات کو ہم بلا شبہ ایک “ نیا رولا “ کہہ سکتے ہیں کہ جس نے ساری قوم کا رُخ موڑ کر دوسری طرف کر دیا ہے۔

“ نواں رولا “ تو یہ تھا کہ ڈاکٹر صاحب نے سارے پاکستان بلکہ ساری دنیا میں تہلکہ مچا دیا تھا اور بقول اُن کے کہ پاکستان میں بھی اتنا بھیانک اور سنگین جرم کا ارتکاب ہو رہا ہے۔ لیکن اس ساری کہانی میں لگتا ہے بہت موڑ آنے والے ہیں کیونکہ موصوف ابھی تک اپنی طرف سے لگائے گئے الزامات کا ایک بھی ثبوت عدالت میں پیش نہیں کر سکے ہیں اور نہ ہی کوئی ثبوت دینے کا وعدہ کیا یا ٹائم لائن دی ہے بلکہ ابھی تک قوم کا اضطراب برابر برقرار ہے کہ نہ جانے اس کیس کا اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا؟ خیر یہ چند دن کی بات ہے کوئی نہ کوئی کیس یا پھر خبر پھر سے ایک “ نواں رولا “ بن کر ہماری خبروں کا مرکز بن جائے گی۔

یوں ہم پچھلی خبروں، قصوں، واقعات اورحادثات کو بھُلا دیں گے، اور پھر سے کبھی ان کا ذکر تک نہ کریں گے، یعنی نہ پرانے واقعات پہ تحریریں لکھیں گے، نہ بریکنگ نیوز بنیں گی، نہ فیس بک پہ پوسٹیں آئیں گی اور نہ ہی ٹویٹر پر “ ٹاپ ٹرینڈ “ بنے گا۔ بلکہ ہم میں سے ہر ایک ہی اپنی روٹین کی زندگی میں واپس چلا جائے گا، نہ کسی نے پوچھنا ہے کہ زینب کے والدین کس حال میں ہیں؟ نہ ہی شاہزیب کے اہل خانہ کی فکر ہوگی، اور نہ ہی قصور کی باقی زیادتی کے بعد قتل ہونے والی بچیوں کا نام تک میڈیا پر آنا ہے۔ تمام کی تمام این جی اوز بھی اپنی شہرت کی خاطر نئے سے نئے واقعہ کی تلاش میں رہتی ہیں کیونکہ نئے اور سنسنی خیز انکشافات کے بعد ہی قومی اور بین الاقوامی میڈیا پر پزیرائی ملتی ہے نہ کہ کسی پرانی ظلم کی کہانی کو پھر سے منظرِ عام پر لایا جائے۔ بنیادی طور پر ہم لوگ ہر واقعہ کو ایک خبر کے طور پر ہی لیتے ہیں، اس خبر کی اہمیت اور اس کے معاشرے پر اثرات کو ذہن میں نہیں رکھتے، بس یہی اس زینب قتل کیس کے بعد ایک ٹی وی اینکر کے انکشافات کی خبر کے بعد دیکھا گیا کہ ہم لوگوں نے اصل ظالم اور مظلوم پر سے توجہ ہٹا کر خود کو “ نویں رولے “ میں ڈال دیا ہے۔

Comments

Avatar

امجد طفیل بھٹی

امجد طفیل بھٹی پیشے کے لحاظ سے انجینئر ہیں اور نیشنل انجینیئرنگ سروسز (نیس پاک) میں سینئر انجینیئر کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ آپ مختلف اردو روزناموں اور ویب سائٹس کے لیے سماجی و سیاسی موضوعات پر لکھتے رہتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.