’’بچوں کو پاکیزہ ماحول دیں‘‘ - محمد عنصر عثمانی

ہم اپنے ارد گرد بہت سے ایسے واقعات اور بہت سے ایسے خوفناک مسائل کا مشاہدہ کرتے ہیں، جن سے ایک پسماندہ معاشرے کی، اور ذہنی غلامی کی بُو محسوس ہوتی ہے۔ مرد وخواتین، نوجوان، بوڑھے سب ہی نے ان اخلاقی، معاشرتی مسائل سے کبوتر کی طرح آنکھیں بند کر رکھی ہیں۔ ہم اجتماعی طور پر ان مسائل کو روکناتو درکنار،افسوس تک کا اظہار نہیں کرتے۔ بس یہ کہہ کر رہ جاتے ہیں کہ اس ملک میں یہی چلتا ہے۔ اگر ہم اور ہمارا نظام درست سمت ہوتا تو ہمیں ذہنی غلامی کی زنجیریں قید نہیں کر سکتی تھیں،لیکن افسوس کہ ہائی لیول اور اونچے طبقے کی ہوس نے ہم سے ہماری حمیّت چھین لی ہے۔

والدین کو غور وفکر کرنا ہوگا کہ انہوں نے کہاں اور کن کن اسلامی اصولوں سے بچوں کی تربیت کی بابت چشم پوشی کی ہے کہ جس کی وجہ سے اولاد اس قدر بے راہ روی کا شکار اور شرمناک ماحول کی دلدادہ ہو چکی ہے؟ اولاد جیسی نعمت مل جائے، تو ہم اس کی درست تربیت نہ کرکے اللہ کی دی ہوئی اس نعمت کی نا قدری کرتے ہیں، اور اگر یہ نعمت نہ ملے تو اس نعمت کو حاصل کرنے کے ناجانے کتنے جتن کرتے ہیں؟ دعائیں کرتے ہیں، وظائف، تعویزات، بزرگوں سے مناجات کرواتے ہیں اور اگر تھوڑا صاحب حیثیت ہوں تو اللہ اور اس کے حبیبؐ کے دربار میں حاضر ہو کر اولاد کی نعمت مانگتے ہیں۔

بچے بہت بڑے نقال ہوتے ہیں۔ یہ جیسا دیکھتے ہیں ویسا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ بچپن سے ہی والدین، گھر کے ماحول کو اور بڑوں کی عادات کو دیکھتے آرہے ہوتے ہیں، بچے ویسا کرنے کی کوشش کرتے ہیں جیسا ہم انہیں دکھاتے ہیں اور کر کے بتاتے ہیں۔حیرت ہوتی ہے ان والدین پر جو چھوٹے بچوں کی ڈانس والی ویڈیوز کو بڑی خوشی سے وائرل کرتے ہیں۔ یہ احساس تک نہیں کرتے ہم اپنے بچوں کو کیا دے رہے ہیں؟

معاشرے میں ہمارے بچوں کی کس طرح کی گیدرنگ ہے؟ اسکول،کالج یونیورسٹی میں کیسے دوستوں میں، کس طرح کے ماحول میں رہتے ہیں؟ ان تمام مسائل کا حل یہ ہے کہ والدین بچوں کو بتائیں کہ ون وہیلنگ کرنا، موٹر سائکل، کار سے ریس لگانا، کسی ڈارامے یا فلمی کردار کی نقل میں ڈانس کرنا، گلو کاروں کی آواز میں گانے گانا، اور پھر کسی ماہر اور مشہور ایکٹر کی نقل میں اس جیسی عادات و اطوار اپنا کر اپنی خود نمائی کرنا، اور اسی کو کامیابی سمجھ لینا بہت بڑی بے وقوفی ہے اور دھوکا ہے۔

والدین کو یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ حقیقی کامیابی اور دیر پا نتائج کی حامل خوشی تو وہ خوشی ہے، جو آپ اپنے اندر پیدا کریں، اور وہی عادات و اطوار اپنی اولاد میں منتقل کرنے کی کوشش کریں۔ والدین سب سے پہلا اسکول، مدرسہ ہوتے ہیں۔اول درس گاہ گھر کا ماحول ہوتا ہے، پہلا کلاس میٹ گھر کا سب سے بڑا بچہ ہوتا ہے۔اگر کسی بچے کو پہلا اسکول و مدرسہ اچھا ملا،اول درس گاہ سے اسلامی و پاک ماحول میسر آیا اور پہلا کلاس میٹ عقل مند سمجھ دار ملا تو وہ بچہ کبھی بھی نا کام نہیں ہوگا۔وہ والدین کے لیے نیک نامی کمائے گا اور وہ کسی بھی تعفن زدہ ماحول سے مرعوب نہیں ہوگا۔

یہ وقت کا تقاضہ ہے کہ بچوں کو اچھا ماحول دیا جائے،برے ماحول، گندی گفتگو،اول فول باتوں سے دور رکھا جائے،ان کی عزت نفس مجروح نہ کی جائے۔ غلطی کرنے پر بجائے اس کے کہ ہم اپنے غصے پر کنٹرول نہ کرتے ہوئے تشدد اور اذیت پر اتر آئیں۔ کوشش کریں کہ زیادہ سے زیادہ انہیں اچھے برے کی تمیز کرنا سکھائیں۔ پیار میں بہت طاقت ہوتی ہے،انسان کی فطرت ہے یہ وہیں اپناسب کچھ لٹا دیتا ہے جہاں اسے پیار ملے۔ہم اکثر مشاہدہ کرتے ہیں کہ دولت مند، امیر گھروں کے بچے اتنے بگڑے ہوئے کیوں ہوتے ہیں؟ہم حیران رہ جاتے ہیں جب چھوٹے چھوٹے بچوں کی زبان سے بڑوں کی بے ادبی سرزد ہوتی ہے اور اگر کسی امیر گھر، دولت مند اشرافیہ کی اولاد میں یہ سب خامیاں نہ ہوں تو وہ بچے گھر میں ضرور کسی اچھے اخلاق والے انسان کی تربیت میں ہوں گے۔وہ کوئی نوکر، مالی، یا خانساماں بھی ہو سکتا ہے۔والدین کی اسی غفلت کی وجہ سے بچے پھر والدین کی صحیح طور پر عزت نہیں کرتے، اور بڑے ہو کر اپنا محسن اس انسان کو سمجھتے ہیں جس نے انہیں زندگی کا فلسفہ سکھایا ہوتا ہے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com