عورت کو تحفظ کیسے دیا جائے؟ - عادل فیاض

عورتوں کے حقوق کا ایجنڈا اور ڈنڈا آجکل مغرب کی نمائندہ تنظیموں کے پاس ہے۔ جن کو عرف عام میں 'این جی اوز' کہتے ہیں۔

پہلے بھی عرض کی تھی کہ ماحولیاتی آلودگی اور عورتوں بچوں اور انسانی حقوق کا اسلام بھی دعوے دار ہے۔ لہٰذا مذہبی جماعتوں کی یہ بنیادی ذمہ داری بنتی ہے۔ وہ اس کام کو اپنے ایجنڈے میں سر فہرست شامل کریں۔ ایک تو مذہبی جماعتوں کے کام کرنے سے مغرب زدہ تنظیموں کی دکان داری بند ہوجائے گی۔ دوسرا مذہبی جماعتوں کے عمومی تاثر بھی بہتر ہوگا۔ رائے عامہ کے ساتھ ساتھ اہل مغرب میں ان کے لیے نرم گوشہ پیدا ہوگا۔ جو یقیناً اسلام کے لیے مفید ثابت ہوگا۔ لیکن اب میں سمجھتا ہوں کہ عورتوں کے حوالے سے مذہبی جماعتوں کو ایک قدم آگے بڑھ کر ایک کام لازمی کرنا چاہیے۔

پاکستان میں موجودہ صورتحال میں لوگوں نے مخلوط معاشرے اور غیر اسلامی رسومات کی وجہ سے شادی میں تاخیر کے مسائل اپنی دونوں آنکھوں سے دیکھ لیے ہیں۔ لہٰذا یہی وہ وقت ہے کہ گرم لوہے پر ضرب لگائی جائے اور کوئی مذہبی جماعت یہ اعلان کرے کہ ہم عورتوں کو حقوق بھی دیں لیکن تحفظ بھی دیں گے۔

مذہبی جماعتوں کو اپنے منشور میں عورتوں کے لیے الگ سے یونیورسٹیوں، ہسپتال، پارک، شاپنگ ہال اور ٹرانسپورٹ کی بات کرنی چاہیے اور اس نقطہ کو اسلامی سے زیادہ سماجی بنا کر پیش کرنے کی ضرورت ہے۔ لوگوں کو سمجھانا چاہیے کہ اس طرح عورتوں روزگار ملے گا۔ جب یونیورسٹی کی وی سی سے لے کر چوکیدار تک عورت ہی ہوگی تو یقیناً عورتوں کے روزگار کے مواقع زیادہ ہوں گے لیکن اس کے ساتھ ساتھ جو عورت کو سب سے بڑا مسئلہ درپیش ہے، وہ مردانہ ہوس کا ہے۔ لیکن جہاں مرد کے داخلے پر پابندی ہوگی، وہی جگہ ہے جو عورت کے لیے محفوظ ترین ہوگی۔

چونکہ موجودہ دور میں آپ عورت کو گھر میں نہیں رکھ سکتے۔ یہ ہماری سماجی مجبوری بن گئی ہے۔ لہٰذا اسی پر اصرار کرنا کہ عورت کو چاردیواری کے اندر ہی رہنا چاہیے، یہ ناممکن نظر آتا ہے۔ اس کا حل یہی ہے کہ عورت کے لیے محفوظ پناہ گاہیں بنائی جائیں۔

یہ امید اور اپیل اہل مذہب سے اس لیے ہے۔ وہ مخلوط معاشرے کے قائل نہیں اور اہل مغرب چونکہ مخلوط معاشرے کے سب سے بڑے داعی ہیں لہٰذا ان سے یہ امید رکھنا کہ عورت کے تحفظ کے لیے چند پابندیوں کا نفاذ کیا جائے تو یہ محنت لاحاصل ہوگی۔ کیونکہ وہ عورتوں کے حقوق غضب کر لیں لیکن مخلوط معاشرے کو انسانیت کی بقا سمجھ کر اسی پر ڈٹے رہیں گے۔

Comments

عادل فیاض

عادل فیاض

عادل فیاض اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد سے میڈیا سیکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ سیاست، مذہب، کرکٹ، بحث و مباحثہ سے شغف رکھتے ہیں. مستقبل میں میڈیا کو اسلامائز کرنے کا منصوبہ رکھتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.