مثالیں ، پیغام اور مسلم لیگ کا تدبر – کاشف حفیظ صدیقی

سپریم کورٹ پر کی جانے والی تسلسل کے ساتھ تنقید یا دشنام طرازی کا جواب پہلے اشاروں اور استعاروں کے ذریعے دیا جا رہا تھا اور آج نہال ہاشمی کیس کے فیصلے کے ذریعے مثال قائم کرکے واضح پیغام دے دیا ہے۔

علاوہ جلسوں میں ہونے والی تنقید کا جواب حکومت پنجاب کے ہسپتالوں میں انتظامی صلاحیتوں کو چیلنج کرکے دیا اور عوام اپنا مسئلہ حل ہوتے دیکھ کر اسے تحسین کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں۔

اسی طرح سندھ کی حکومت کو پانی ، زمینوں پہ ناجائز قبضوں اوردودھ کی کوالٹی پہ گھیرا گیا ہے ۔ عدالتیں آئی جی سندھ کی پشتیبان بن کر سامنے آئی ہیں ۔ جبھی بلاول بھٹو نے جیوڈیشل کمیشن نہ بلانے پہ تنقید کی ۔ وزیر اعلیٰ سندھ بھی چلتے پھرتے عدالتوں کی وجہ سے اپنی بے بسی کا اظہار کر ہی دیتے ہیں۔

عدالتی فیصلوں پہ کی جانے والی کھلے عام تنقید کے خلاف پہلی مثال نہال ہاشمی کو بنا دیا گیا ہے ۔ باوجود ان کی غیر مشروط معافی کے عدالتوں نے انہیں معاف نہیں کیا بلکہ 5 سال کے لیے نااہل ، جرمانہ اور ایک ماہ کی قید سنا دی۔

یہ سزا ہے یا پیغام؟ اب شام 7 سے رات 12 تک مختلف تجزیہ نگار ٹی وی پر ایران طوران کی کہانیاں سنائیں گے مگر ہم جیسے نکموں کی نظر میں صرف ایک پیغام ہے کہ جب عدالتوں میں مسلم لیگ کے زعما کے خلاف توہین عدالت کا کیس سماعت کے لیے منظور کرلیا گیا ہے تو ایسا مزید لوگوں کے ساتھ بھی ہو سکتا ہے۔

الیکشن کچھ ہی فاصلے پر ہے اس لیے اب لیگی قیادت کو احتیاط برتنی چاہیے، خیال رکھنا چاہیے، الفاظ کے استعمال میں محتاط رہیں۔ آجکل مشکلات میں ضرور ہے لیکن الیکشن کی تیاری کے لیے انہیں ذہنی و اعصابی طور پر میچورٹی ظاہر کرنا ہوگی۔ کچھ تلخ حقائق کو چاہے وہ غلط سمجھیں یا درست، بعینہ ماننا پڑے گا۔

یہ بھی پڑھیں:   کیا بحران ٹل گیا؟ محمد عامر خاکوانی

مسلم لیگ کو چاہیے کہ اب اپنے کام کی بنیاد پر کمپین چلائے، ہوا کے رخ کو دیکھ کر تدبّر کے ساتھ فیصلے کرے، منفی سے زیادہ مثبت سوچ اپنائے، اس میں ان کا ہی بھلا ہے۔