میرے بھائی - عظمیٰ ظفر

روٹیاں توے پر سے اتارتے اتارتے اچانک گرم بھاپ میرے ہاتھ پر لگی اور اُف کی ہلکی سی آہ نکلی۔ حرارت پاتے ہی اتنا حصہ سرخ ہوگیا تھا اور اس کی تکلیف میں ذہن بہت دور لے گیا۔ اس دن بھی ہاتھ جل گیا تھا تو روٹی ایک طرف ڈال کر رونا شروع کردیا۔

"اماں مجھے نہیں بنانی "

"کیسی روٹیاں بناتی ہے ہماری بہن! کرکٹ کی پچ جیسی اطراف سے موٹی کچی کچی اور بیچ سے سخت،" چھوٹا بھائی میرا مذاق اڑا رہا تھا "کچھ سیکھ لو! سسرال جاکر کام آئے گا۔"

"تم مت کھانا میں تو ایسی ہی بناؤں گی "

اس بھائی کی محبت بھری چھیڑ چھاڑ ہمیشہ یاد رہتی ہے۔ بھائی بہنوں کی محبتیں شفقت سمیٹتے ہوئے ایک گھر سے رخصت ہوکر دوسرے گھر آ بسی۔ وقت کبھی ماضی کے جھروکوں سے کچھ منظر دکھاتا ہے تو کبھی لب مسکرا اٹھتے ہیں، کبھی آنکھیں جھلملا اٹھتی ہیں۔

ایک دن سورہ نحل کی تفسیر پڑھتے ہوئے بیٹی کی اہمیت کا اندازہ ہوا۔ بیٹی کے لیے قرآن پاک میں لفظ بشریٰ استعمال ہوا، جس کے معنی خوشخبری کے ہیں جبکہ سورہ النحل کا ایک اور نام نعم بھی ہے یعنی اللہ کی نعمت۔

یوں بیٹی اللہ کی نعمتوں میں سے ایک نعمت ہے رحمت کی شکل میں۔ زمانۂ جاہلیت میں عربوں کے کچھ قبیلے، کچھ لوگ بیٹی کی پیدائش کو بہت براسمجھتے تھے۔ اس کی آمد کو ذلت، بوجھ، نفرت کے قابل سمجھتے تھے، اسے فقرو فاقہ کا سبب سمجھتے یا اسے ساری زندگی کما کر کھلانا پڑے گا اور وہ مال و دولت میں حصے دار ہوگی جو دوسرے گھر چلا جائے گا۔ الغرض، بیٹی کا وجود اتنا گراں گزرتا کہ وہ اس خبر سے لوگوں سے چھپتے پھرتے، بعض سنگ دل اسے زندہ دفن کردیا کرتے۔ غصے سے ان کا چہرہ کالا پڑ جاتا، دل گھٹ جاتے۔ یہ صورتحال صدیوں پہلے کی تھی۔ مگر … آج بھی… اس ترقی یافتہ دور میں بھی جاہل ویسے کے ویسے ہی ہیں۔ رویّے بدلے نہیں، نظریں بدلی نہیں، ساس بہو کو طعنہ دیتی ہے، شوہر بیوی کو طلاق تک دے دیتا ہے محض بیٹیاں ہونے کے باعث جبکہ جنیٹکلی وہ اس کا سبب خود ہوتا ہے۔ عورت کا اس میں کوئی قصور نہیں ہوتا۔ اس کے برعکس عورت تو ماں ہے، بیٹی ہے، بہن ہے، بیوی ہے اور تو اور حضرتِ آدم علیہ السلام کی خواہش پر بنائی گئی ذی روح بھی عورت ہے۔ ناقدرا انسان اللہ کی تعلیمات سے اتنا دور ہے کہ اسے اس نعمت کی عظمت کا پتہ نہیں چلتا۔

حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں ذکر ملتا ہے کہ ایک کنیز دوڑتی ہوئی بیت اللہ کی طرف آئی اور بیٹی کی ولادت ک خبر رسولِ پاک صلی اللہ علیہ وسلم کو دی۔ ان کا چہرہ مبارک گلاب کی طرح کھل اٹھا۔ بیت اللہ میں شکرانہ ادا کیا اور گھر ک طرف دوڑے بیٹی کو گود میں لیا اسے چوما ۔ سبحان اللہ!

مجھے خیال آیا ہم بھی تو ماشاءاللہ پانچ بہنیں اور چار بھائی ہیں، ہم نے کبھی اپنے والدین سے اپنے لیے بوجھ یا ذلّت کا لفظ نہیں سنا۔ والد صاحب میری دو بہنوں کی شادی کے فرض سے سبکدوش ہونے کے بعد حیات نہیں رہے۔ پھر بھائیوں نے جس طرح والد کی جگہ لے کر ہماری تعلیم وتربیت اور شادی کے فرائض اپنی ذمےداری سمجھ کر ادا کیے، آفرین ہے ان پر، ان کے احسانات ناقابل فراموش ہیں۔ ہم بہنوں کو بھی بیٹی سمجھ کر فرائض منصبی اس عمدگی سے ادا کیے کہ والد کمی محسوس ہونے نہیں دی۔ خصوصاً چھوٹی بہن ہونے کے ناطے میں تو خوب لاڈ اٹھائے، ہر بات منوائی، خوب محبتیں سمیٹیں، اچھی تعلیم سب کے حصے میں نہیں آئی مگر مجھے یہاں بھی بھائیوں کی بدولت کامیابی ملی یہاں تک کہ میرے لیے جس شریک حیات کا انتخاب کیا وہ انعام بھی اللہ نے بھائیوں کے ذریعے مجھے عطا کیا۔ سورت کے حوالے سے جب احادیث پڑھنے لگی تو اپنے دل میں بھائیوں کی محبت اور عظمت اور بڑھ گئی۔

بیٹی کی پرورش جنت میں جانے کا ذریعہ، حضرت ابو سعد خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جس شخص کی تین بیٹیاں یا تین بہنیں ہوں اور وہ ان کے ساتھ احسان اور سلوک کا معاملہ کرے ان کے ساتھ اچھا برتاؤ کرے ان کے وجود کو اپنے لیے ذلت اور خواری کا باعث نا سمجھے تو اس کی بدولت وہ جنت میں داخل ہوگا۔ (ترمذی)

بیٹی جہنم سے بچنے کا ذریعہ، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتی ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص پر لڑکیوں کی پرورش اور دیکھ بھال کی ذمہ داری ہو اور وہ اس کو صبر و تحمل سے انجام دے تو یہ لڑکیاں اس کے لیے جہنم سے آڑ بن جائیں گی۔ (ترمذی)

میں یہ احادیث دل کی آنکھوں سے پڑھ رہی تھی اور تشکر سے آنکھیں نم ہو رہی تھیں کہ اللہ رب العزت! آپ گواہ رہیے گا میرے والد اور میرے بھائیوں نے اپنے اس فرض کو بخوبی ادا کیا ہے۔ شفقت ہی شفقت، محبت ہی محبت پائی دل چاہا کہ ابھی پنکھ لگ جائیں اور اڑ کر میکے پہنچ جاؤں اور ان کی عظمتوں کو سلام کر آؤں۔ چونکہ یہ فوری ممکن نہیں تھا اس لیے سچے دل سے ان کے لیے دعائیں مانگ لیں۔

حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی معیّت، حضرت انس رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جس شخص کی دو یا تین بیٹیاں ہوں اور وہ ان کی اچھے انداز سے پرورش کرے اور جب وہ شادی کے قابل ہو جائیں تو ان کی شادی کردے تو میں اور وہ شخص جنت میں اس طرح داخل ہوں گے جس طرح یہ دونوں انگلیاں ملی ہوئی ہیں ۔(ترمذی)

اپنے احساسات اور جذبات کا اظہار تو شاید ہی کبھی کر پاتی۔ میں نے سوچا جب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم بہن اور بیٹی کی پرورش کرنے والے کو اپنے قریب کرنا پسند فرماتے ہیں تو کیوں نا میں ان ہی لفظوں کے استعمال سے اپنی گواہی قلمبند کرلوں؟ کہ یہ سچ ہے کہ میرے بھائیوں نے اپنی بہنوں کا حق و فرض ادا کرکے جنت واجب کرلی ہے۔ ان شاءاللہ

Comments

Avatar

عظمیٰ ظفر

عظمیٰ ظفر روشنیوں کے شہر کراچی سے تعلق رکھتی ہیں۔ اپلائیڈ زولوجی میں ماسٹرز ہیں ، گھر داری سے وابستہ ہیں اور ادب سے گہری وابستگی رکھتی ہیں۔ لفظوں کی گہرائی پر تاثیر ہوتی ہے، جو زندگی بدل دیتی ہے، اسی لیے صفحۂ قرطاس پر اپنی مرضی کے رنگ بھرتی ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */