نیلی نشیب کی لہر - دعا عظیمی

"ہلکا نیلا، نہیں … تھوڑا سا اور" سفید رنگوں کو باریک سے برش سےباہم ملاتے ہوئے اس نے بار بار تصویر کو دیکھا۔

"کیا سوچ رہی ہو؟" شامی اپنا سامان سمیٹ کر منتطر تھا کہ وہ اپنی تصویر مکمل کرے۔ گروپ کے باقی لڑکے لڑکیاں بھی اپنے اپنے رنگ برش کینوس ایزل سمیٹ رہے تھے کیونکہ اسے سارا کام ایک ہاتھ سے اور وہ بھی بائیں ہاتھ سے کرنا ہوتا تھا اس لیے تھوڑا سازیادہ وقت لگ جاتا تھا۔ پیدائشی طور پر وہ ایک ہاتھ کی انگلیوں سے مکمل طور پر اور دوسرے ہاتھ کی انگلیوں سے جزوی طور پر محروم تھی مگر اس کی محرومی نے قابلیت کا راستہ نہیں کاٹا۔ وہ فائن آرٹس کی مہارت رکھنے والی فنکار طالبہ تھی۔

"یہ پانی نشیب کی طرف کیوں گرتا ہے؟" اس نے سوالیہ نگاہوں سے شامی کو دیکھا جس کی نظر تصویر کے حسن کی باریکی سے نئے نکتے کھول رہی تھی۔

"اے آرٹس کی ماہر طالبہ! سادہ سی بات ہے نشیب کی طرف ہی گرے گا،شاید تمہیں کشش ثقل کا اصول بھول گیا۔ ہائی اسکول تک سائنس نہیں پڑھی؟"

"ہاں! نہیں پڑھی۔" وہ سوال بھول کر پھر سے نشیب کی لہر میں ڈوب گئی۔ شام ہو رہی تھی، پائن کے درختوں میں چھپے پہاڑی کوّے پتھریلے گیت گانے کی مشق کر رہے تھے۔

ریسٹ ہاؤس کا عقبی منظر انتہائی دلفریب تھا۔ فضا کی ٹھنڈک روح میں سکون کا نزول کر رہی تھی۔ پہاڑوں کے حسن میں ایک خاموش سے حسن کی آواز روح کی سماعتوں میں نئے نغمے چھیڑ رہی تھی۔

آج یہاں ان کا آخری دن تھا، دعا کی تصویر مکمل ہونے تک سب کو اسی سپاٹ پر رکنا تھا۔ اس کےبعد رات کا کھانا مال پر کسی اچھے سے ریسٹورنٹ سےکھانے کا منصوبہ تھا۔ نیلے رنگ کی وسعتیں پہاڑوں کی سبز چوٹیا ں سرو ثمن، اخروٹ اور سیب کے درختوں میں چھپے اس قطعہ ارضی پر بار بار جنت کا گمان ہونے لگتا، جہاں بےخار بیریاں، لمبے لمبے ساے، گھنے سکھ، آب خورے، آفتابے، حسین آنکھوں والیاں اور بہتا ہوا پانی ہو گا۔

"چلو اب کہاں کھو گئی ہو؟" شامی نے دعا کو متوجہ کیا۔ وہ ہنسی، کہیں نہیں، گلِ نوبہار چلی۔

"سنو! تم نے میرے سوال کا جواب نہیں دیا۔" وہ اکثر ہی ایسے الجھ جایا کرتی تھی اور ایسے میں شامی کا جواب اسے کسی حد تک مطمئن کر دیا کرتا۔

"سوال کا جواب دے تو دیا تھا میں نے"

"وہ مزے کا نہیں تھا "اس کی آنکھوں میں شرارت اور ذہانت ایک ساتھ کھیلتی تھی۔

"چلو تم ہی بتا دو ، شاید تمہارے خیال میں کوئی بہتر جواب ہو۔"

"ہاں،" وہ کھو گئی دامن کوہ میں میں چھپی خیال کی حسین وادیوں میں، "سنو! شاید پانی نشیب میں اس لیے گرتا ہو کہ زمین کا وہ حصہ پانی کی طلب میں خود کو بہت نیچا کر لیتا ہے، جیسے انسان محبت میں یا علم کی طلب میں۔ پھر جب وہ اتنا نیچا اور اتنا گہرا ہو جاتا ہے تو اس کے دل پر نزول ہوتا ہے، جس کی اس کو طلب ہوتی ہے۔ علم،محبت اور پانی اپنی صفات میں مشترک قدریں رکھتے ہیں۔"

"واہ! تمہارا جواب نہیں۔" ان کے استاد سر خضر بھی دعا کاجواب سن کر محظوظ ہوئے۔ انہیں اپنی ذہین طالبہ بہت پسند تھی۔ وہ سوچتے کہ بعض اوقات ہماری کوئی کمی کس طرح کسی دوسری صلاحیت کو پروان چڑھاتی ہے۔

"میری خواہش ہے دعا! کہ میرے بعد آپ بھی اسی ڈپارٹمنٹ میں استاد بن کر آئیں۔"

"جی سر! میں کوشش کروں گی۔" دعا کو معلوم تھا کہ اس ذہانت کےساتھ اسے اپنی زندگی تنہا ہی گزارنی ہوگی کیونکہ ایک معذوری کبھی کبھار کسی دوسرے کو قبول ہو بھی سکتی ہے مگر کسی تیسرے کو نہیں اور تیسرے کا کردار ہمارے معاشرے میں اتنا غالب ہے کہ پہلے اور دوسرے کی اہمیت ثانوی ہے۔

شامی سوچ رہا تھا کہ وہ اس تصویر میں باقی رنگ اپنے ہاتھوں سے ایسے بھرے گا کہ اسے اپنی محرومی کا احساس تک نہیں ہوگا۔ اس مقصد کے لیے اسے زمین کیسے تیار کرنی ہے؟ تھوڑا مشکل مرحلہ تھا، ناممکن نہیں۔

قذافی اسٹیڈیم کے بالکل سامنے سرخ اینٹوں والی حسین عمارت میں تصویروں کی نمائش میں سب سے خوبصورت تصویر نیلے پانی والی ندی کی تھی۔ واٹر پینٹ سے بنی شاہکار تصویر ان ہاتھوں نے بنائی تھی، خالق نے جسےانگلیوں کے بغیر مکمل کیا تھا یا آزمائشی پروگرام کا کوئی حصہ تھا، جس میں آزمائش ایک فرد کی نہیں پورے معاشرے کی تھی۔ مکمل تصویر تو سب کو ہی بھاتی تھی مزہ تو تب ہے جب دوسرے کی کمی کو رحم کی نظر سے مکمل کر دیا جائے اور رحم بھی ایسا کہ محبت کا گمان ہو۔

"مما! منگنی پر وہ تو مجھے انگو ٹھی پہنائے گی، میں اسے کیا دوں گا؟" شامی کو تھوڑی تشویش ہوئی۔

سبز ساڑھی میں ملبوس مما نے اپنے گلے میں پہنا ہوا ہیرے کا لاکٹ نزاکت سے اتارا، "بیٹا! آپ اسے یہ دل والا لاکٹ پہنانا۔ اس میں میرا لمس اور تمہاری محبت دونوں شامل ہیں۔"

پانی تصویر سے نکل کر روح کے نشیب میں گرنے لگا۔ "دعا! کیامحبت کارنگ ہلکا نیلا سفیدی کی آمیزش لیے ہوئے آسمانی ہے؟" دونوں نے تشکر سے آسمان کو دیکھا اور نگاہ ایک ہو کےزمیں پر سجدہ ریز ہوگئی۔

Comments

دعا عظیمی

دعا عظیمی

دعا عظیمی شاعرہ ہیں، نثرنگار ہیں، سماج کے درد کو کہانی میں پرونے کا فن رکھتی ہیں۔ پنجاب یونیورسٹی سے سوشل سائسنز میں ماسٹر کیا ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.