کچھ نااہلی کے بارے میں - عمران زاہد

آج شروع ہونے والے مقدمے میں نوازشریف سمیت تمام متاثرہ افراد اور عام عوام کو بھی سماعت میں حصہ لینے کے لیے مدعو کیا گیا تھا۔ اس مقدمے میں فیصلہ کیا جائے گا کہ باسٹھ تریسٹھ کے تحت نااہلی تاحیات ہونی چاہیے یا اس کی کوئی مخصوص مدت ہونی چاہیے۔ ہم نہیں جانتے کہ متاثرہ پارٹیوں کو بلانے کا کیا مقصد ہے یا عوام کو سماعت میں مدعو کرنے میں کیا حکمت ہے؟ لیکن میاں نوازشریف کوبلانے کا شاید یہ مقصد ہو کہ ان کا آنا ایک طرح سے اپنی نااہلی کے فیصلے کو تسلیم کرنا ہو گا۔ اس طرح سے ان کا فیصلے کے خلاف تندو تیز رویہ مدھم پڑ جائے گا۔

نوازشریف نے اس مقدمے میں نہ آ کر بالکل درست فیصلہ کیا ہے۔ اُسے اوّل و آخر اس فیصلے کو رد کرنا چاہیے اور اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرنا چاہیے۔ جس طرح سے نوازشریف کھلے عام اس فیصلے کے میرٹس کو تنقید کا نشانہ بنا رہا ہے وہی اس کو فائدہ دے گا۔ نوازشریف ہی کیا؟ اکیڈیمیا، قانون دان ، دانشور، ماہرین اور عام عوام بھی نااہلی کے اس فیصلے کی بنیاد کو سمجھنے سے قاصر ہے۔ یہ فیصلہ کم ایک پہیلی زیادہ ہے کہ جو کمپنی الیکشن سے تین ماہ قبل ختم ہو گئی ہو، اس کی غیر وصول شدہ تنخواہ کیسے قابلِ وصول بن کر اثاثہ قرار پائی؟ اثاثے کی یہ تعریف ہی غلط ہے۔ خیر اس پر ماہرینِ حسابات ہم سے بہتر اپنی رائے دے سکتے ہیں۔ کس قانون کے تحت تین ماہ بعد کے کاغذاتِ نامزدگی میں اس کا ظاہر کرنا ضروری ہوا جبکہ تمام بینک اکاؤنٹس مع اقامہ ظاہر کیے گئے۔ بہرحال اس فیصلے کی چمک دمک ہماری توقع سے بھی پہلے اتر گئی اور عدلیہ کے اپنے ہاتھوں حدیبیہ فیصلے میں اتری۔ بہت سے دوسرے شواہد کی بنا پر یہ بھی یقین کیا جاتا ہے کہ عدلیہ کا یہ فیصلہ اسٹیبلشمنٹ اور عدلیہ کی ملی بھگت کا نتیجہ ہے۔نوازشریف اسی بیانیے کو پوری قوت سے پھیلا رہا ہے اور عوام کی ایک بہت بڑی تعداد اس پر یقین رکھتی ہے۔

میاں نوازشریف میری امیدوں سے بھی زیادہ استقامت دکھا رہا ہے۔ مجھے لگتا تھا کہ اب کی بار بھی نوازشریف کسی سمجھوتے کو قبول کر لے گا، خاموش ہو جائے گا یا بیرون ملک کسی کنجِ عافیت میں جا بیٹھنا پسند کرے گا۔ لیکن اس کی مزاحمت نے مجھے بہت حیران کیا ہے۔ بے حد حیران کیا ہے۔ یہ پرانے والا نوازشریف لگتا ہی نہیں ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ مجھے نوازشریف کبھی پسند نہیں رہا، نہ کبھی اسے ووٹ ڈالا، نہ ہی حمایت کی ۔۔ بلکہ دل کی اتھاہ گہرائیوں سے اس کی مخالفت کی ہے … لیکن اسٹیبلشمنٹ کے خلاف اس کے موجودہ موقف کی میں دل و جان سے حمایت کرتا ہوں۔ میں سمجھتا ہوں کہ اسٹیبلشمنٹ کو اپنی چالیں اب بس کر دینی چاہئیں۔ وہ اپنی چالوں سے باز نہیں آئیں گے تو عوام میں اپنی رہی سہی ساکھ بھی کھوتے چلے جائیں گے۔ آج وہ کسی حیلے سے غالب بھی آ جائیں گے تو بہت جلد انہیں سنگھاسن سے اترنا پڑے گا۔ ان کی کوئی دال اب گلنے والی نہیں ہے ۔ یہ نوشتہ دیوار وہ جتنی جلدی پڑھ لیں، اتنا ہی اچھا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   ورکشاپ کا چھوٹا - سید طلعت حسین

حالاتِ حاضرہ پر نظر ڈالی جائے تو لگتا ہے کہ نوازشریف کے خلاف فیصلہ اس کے حق میں چلا گیا ہے۔ اس فیصلے سے قبل نوازشریف اور نون لیگ بالکل ایک کومے کی کیفیت میں چلے گئے تھے۔ عوام میں ان کی ہمدردی تیزی سے کم ہو رہی تھی۔ نون لیگ کے اپنے کارکن گومگو میں تھے۔ یوں لگ رہا تھا کہ نون لیگ کے حصے بخرے ہونے والے ہیں۔بہت سے مبصر یہ کہنے پر مجبور تھے کہ اگلی پارلیمنٹ میں کسی جماعت کی اکثریت نہیں ہو گی۔ ٹیکنوکریٹس کی حکومت کی باتیں ہو رہی تھیں۔ لیکن جیسے ہی یہ فیصلہ آیا، سوکھے دھانوں گویا پانی پڑ گیا۔ ایک مزاحمت کی لہر اٹھی جس کا نتیجہ یہ ہے کہ مذہبی دھرنوں، الزامات، میڈیا ہائپ کے باوجود نون لیگ مجتمع ہے، سینیٹ الیکشن کے شیڈول کا اعلان ہو گیا ہے، اپوزیشن استعفوں کا اعلان کر کے بھی استعفے دینے کی ہمت نہیں کر پائی ۔۔۔ بلکہ مال روڈ کے جلسے کے بعد سے اپوزیشن پاتال میں غوطے کھا رہی ہے۔ استعفوں کا فیصلہ اور قادری صاحب کے دھرنے موخر ہو گئے ہیں۔ قصور سانحے کے سیاسی استعمال کا فیصلہ بھی بیک فائر کر گیا ہے۔ اس سب کے لیے ہمیں اسٹیبلشمنٹ کا شکریہ ادا کرنا چاہیے کہ ان کی کوششوں سے سیاسی موت مرتا ہوا نوازشریف پھر سے زندہ ہو گیا۔

میری شروع سے رائے رہی ہے کہ جس طرح سے پانچ سال زرداری کو دے دیے گئے جس کی وجہ سے پیپلز پارٹی سیاسی انجام تک پہنچ گئی۔ اب وہ ایڑی چوٹی کا زور بھی لگا لے، پارلیمنٹ میں اکثریتی پارٹی نہیں بن سکتی۔ اسی طرح نوازشریف کی سیاسی موت کے لیے اسے پانچ سال دینے ضروری تھے۔ اس کے علاوہ ہر طریقہ اسے سیاسی شہادت سے تو ہمکنار کر سکتا ہے، سیاسی موت نہیں دے سکتا۔ اسٹیبلشمنٹ کو پانچ سال والا فارمولا اپنی کلیات میں اب ہمیشہ کے لیے لکھ لینا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں:   ایک نہیں دو استعفے - حبیب الرحمن

اس مقدمے کے حوالے سے میری رائے ہے کہ صادق و امین نہ ہونے کی صورت میں نااہلی تاحیات ہونی چاہیے۔ لیکن نااہلی کا عمل ایسا شفاف ہونا چاہیےکہ اس پر کوئی انگلی نہ اٹھا سکے۔حالیہ مقدمات میں جس طرح سے ایک ہی طرح کے معاملے پر دو الگ فیصلے آئے ہیں، ان فیصلوں کو بھی صداقت و امانت کی ترازو پر ناپنا چاہیے۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ایک کیس میں کوئی اثاثہ ظاہر نہ کرنا بدنیتی قرا ر پائے (جبکہ اثاثے کی اختیار کی گئی تعریف متنازعہ فیہ ہو)اور دوسرے کیس میں اثاثہ ظاہر نہ کرنا محض انسانی غلطی قرار پائے؟

صادق و امین ہونے کی شرط ججوں، جرنیلوں، صحافیوں اور تمام سرکاری افسروں پر بھی لاگو ہونی چاہیے۔ ججوں پر تو خاص طور پر لاگو ہونی چاہیے۔ کیا ہم چاہتے ہیں کہ حکومت کرنے کے لیے ہمیں انتہائی صادق و امین لوگ میسر آئیں اور نظام چلانے بلکہ نظام کو چلتا کرنے والے لوگ جیسے مرضی ہوں؟ اگر سب کے لیے یہ شرط لاگو کرنا ممکن نہیں تو پھر اس شرط کو سیاستدانوں سے بھی ہٹا لینا چاہیے۔ انصاف کا تقاضہ تو یہی ہے۔

آخر میں یہ عرض کروں گا کہ نوازشریف کی نااہلی کے فیصلے سے قبل میں کہتا رہا ہوں کہ اول تو نوازشریف نااہل نہیں ہوگا، ہو بھی گیا تو نظرثانی میں بحال ہو جائے گا۔ فیصلے کی نظرِ ثانی میں تو یقیناً وہ بحال نہیں ہوا ۔۔ لیکن آپ دیکھتے رہیئے کہ غیر آئینی قوتوں نے جس طرح سے اس نااہل قرار دلوایا تھا، اس کی مزاحمت اور استقامت کے نتیجے میں اسے خود ہی واپسی کا راستہ بھی دیں گے۔ شرط صرف اتنی ہے کہ نوازشریف اپنے موقف میں لچک مت لائے اور بھرپور مزاحمت کرے۔ جہاں ستر سالوں میں ان قوتوں نے بہت کچھ سیکھا ہے وہاں سیاسی قوتوں نے بھی بہت کچھ سیکھ لیا ہے۔ بالفرض اس جدوجہد کے نتیجے میں بحالی نہ بھی ہوئی تو یہ بازی مات نہیں ہے۔ جس طرح سے ترکی والوں نے اپنی مسلسل جدوجہد سے ان جونکوں سے نجات پائی ہے، آج نہیں تو کل ان شاءاللہ ہم بھی پا ہی لیں گے۔