سوچیے اور امیر ہو جایئے (4) - شہاب رشید

پچھلی قسط

یہ انتہائی تکلیف دہ ہے کہ انسان مایوس ہو جائے اور خود کو حالات کے سپرد کر دے۔ہمیں اپنی منفی سوچ کو بدلنا ہو گا۔ دنیا میں جن لوگوں نے کچھ کر دکھایاوہ اپنی مثبت سوچ، کامیابی کی شدید خواہش، متعین مقصد، مسلسل محنت، ماسٹر مائنڈ،ثابت قدمی کی بدولت ہی ایسا کر پائے۔انسان پر اچھا بر ا وقت آتا رہتا ہے مگر کامیاب وہی ہوتا ہے جو صبر سے کام لیتا ہے اور انتھک محنت کرتا رہتا ہے۔ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی ذات میں شامل کمیوں و کمزوریوں کو دور کریں اور تجزیہ ذات کے سوالات کا جواب پوری ایمانداری سے دیں۔ آپ کی سہولت کی خاطر ان سوالات کو درج کر رہا ہوں، آپ کا کام یہ ہے کہ ان سوالات کا جواب لکھیے اور پوری ایمانداری سے جوابات کا جائزہ لیں اور خود کو بدلنے کی کوشش کریں۔یہ ممکن ہی نہیں کہ اگر آپ خود پر محنت کریں، خود کو تبدیل کریں، اپنی کمزوریوں کو دور کریں،کامیابی کی شدید خواہش رکھیں اور ایک مقصد کو حاصل کرنے کے لیے آپ دن رات ایک کر دیں اور آپ کامیاب نہ ہوں۔

تجزیہ ذات کے سوالات:

• کیا آپ اکثر اداس رہتے ہیں؟ اگر ایسا ہے تو اس کی وجہ کیا ہے؟

• کیا آپ ہر وقت لوگوں میں خامیاں ڈھونڈتے رہتے ہیں؟

• کیا آپ ہر وقت اپنے کام میں غلطیا ں کرتے ہیں،اگر ایسا ہے تو اس کی کیا وجہ ہے؟

• کیا آپ لوگوں پر طنزکرتے ہیں؟

• کیا آپ زندگی کو بیکار اور مستقبل کو تاریک سمجھتے ہیں؟ ایسا ہے تو کیوں؟

• کیا آپ کو اپنا پیشہ پسند ہے؟اگر نہیں تو کیوں؟

• کیا آپ اپنے آپ پر ترس کھاتے ہیں؟اگر ایسا ہے تو کیوں؟

• کیا آپ اپنی ناکامی کی وجہ دوسروں کو سمجھتے ہیں؟

• کیا آپ اپنے سے برتر لوگوں سے حسد کرتے ہیں؟

• کیا عمر کے بڑھنے کے ساتھ ساتھ آپ کی خود اعتمادی میں اضافہ ہو رہا ہے؟

• کیا آپ اپنی غلطیوں سے سبق سیکھتے ہیں؟

• کیا آپ ہر وقت خیالوں کی دنیا میں رہتے ہیں؟

• آپ سب سے زیادہ کس سے متاثر ہیں اور اس کی وجہ کیا ہے؟

• کیا آپ اپنے حالات سے پریشان ہو کر کثرت شراب نوشی، سگریٹ نوشی یا کسی اور نشہ میں مشغول رہتے ہیں؟

• کیا آپ ہر وقت چڑچڑے پن اور بدمزاجی میں مبتلا رہتے ہیں؟

• کیا آپ بیان کردہ چھ بنیادی خدشات یا خوف کا شکار رہتے ہیں؟

• کیاآپ کے پاس کو ئی ایسا طریقہ ہے جس سے دوسروں کے منفی تنقید و اثرات سے اپنا تحفظ کر سکیں؟

• کیا آپ اپنے ذہن کو مثبت بنانے کے لیے خود ایمائی /خود کلامی کا استعمال کرتے ہیں؟

• کیا آپ اپنی رائے کے برخلاف دوسروں کی رائے کو فوقیت دیتے ہیں؟

• کیا آج کے دن آپ نے کچھ نیا سیکھا یا اپنے علم میں اضافہ کیا؟

• کیا آپ حالات کا مقابلہ کرتے ہیں یا ذمہ داری سے جان چھٹراتے ہیں؟

• کیا آپ اپنی کچھ انتہائی نقصان دہ کمزوریوں کی نشاندہی کر سکتے ہیں؟ اور ان کو دور کرنے کے لیے آپ کیا کر سکتے ہیں؟

• کیا آپ لوگو ں کی تعریف و حوصلہ افزائی کرتے ہیں؟

• کیا آپ کا ہر آنے والا دن آپ کے گزرے دن سے بہتر ہے؟

• کیا آپ نے منفی اثرات کو اپنے ذہن میں داخل ہونے سے روکنا سیکھ لیا ہے؟

• کیا آپ کا پیشہ آپ کو اعتماد اور امید بخشتا ہے؟

• کیا آپ دوسروں کی پریشانیوں میں شریک ہوتے ہیں؟

• کیا آپ اپنے دوستوں کو اپنے لیے مفید خیال کرتے ہیں؟اور کیا آپ کے دوستوں کی کمپنی آپ پر مثبت اثر ڈالتی ہے؟

• کیا ایسا ممکن ہے کہ آپ کا جس کو اپنا دوست سمجھتے ہوں جو منفی اثرات وہ آپ کے ذہن میں ڈالتا ہے اس کی وجہ سے آپ کا بدترین دشمن ہو؟

• کیا آپ کے پاس کوئی اصول ہیں جن سے یہ پتا چلے کہ کون سا شخص آپ کے لیے مفید اور کون سا ضرر رساں ہے؟

• کیا آپ کے دوست آپ سے کم ذہنی صلاحیتوں کے حامل ہیں؟

• چوبیس گھنٹوں میں آپ کتنا وقت فضول کاموں میں صرف کرتے ہیں؟

• کیا آپ کا کوئی ایسا دوست ہے جو آپ کو خبردار کرتا ہو، آپ کی ہمت بندھاتا ہو یا دیگر طریقوں سے آپ کی سب سے زیادہ مدد کرتا ہو؟

• کیا آپ کی کوئی شدید خواہش ہے اور اس کو حاصل کرنے کے لیے آپ روزانہ کتنا وقت وقف کرتے ہیں؟

• کیا آپ باربار اپنا ذہن تبدیل کرتے ہیں؟

• کیا آپ جو کام شروع کرتے ہیں اس کو انجام تک پہنچاتے ہیں؟

• کیا آپ دوسروں کے کاروبار،ان کے پیشہ، ڈگریوں یا دولت سے با آسانی متاثر ہو جاتے ہیں؟

• کیا آپ دوسرے جو آپ کے بارے میں سوچتے یا کہتے ہیں اس کا اثر لیتے ہیں؟

• کیا آپ کا کوئی آئیڈیل ہے اور کس پہلو سے آپ اس کو برتر سمجھتے ہیں؟

ان تمام سوالات کو باربار پڑھ کر ان کا جواب تلاش کرنے کی کوشش کریں۔ ہو سکے تو ان سوالات کا جواب فوری نہ دیں کم از کم اس پر ایک دن ضرور لگائیں۔ ان سوالات کا جواب آپ نے پوری ایمانداری اور سچائی سے دینا ہے اور اگر کسی سوال کا جواب دینے میں آپ کو مشکل کا سامنا کرنا پڑے تو آپ ان لوگوں سے مدد لے سکتے ہیں جو آپ کو اچھی طرح جانتے ہیں۔خاص طور پر ایسے لوگ جو آپ کے بارے میں مخلص اور آپ کی بہتری چاہتے ہوں۔

ناکام رہنے والے اشخاص میں ایک قدر مشترک ہے وہ یہ کہ وہ اپنی ناکامی کی کو ئی نہ کوئی جواز پیش کرتے ہیں اور اس جواز میں “اگر” کا استعمال ہوتا ہے۔ چند کو حقائق کی روشنی میں جائز بھی قرار دیا جا سکتا ہے، تاہم عذروں کو پیسے کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ نپولین ہل نے ان عزرات کی ایک فہرست مرتب کی ہے جس کی تفصیل نیچے بیان کی گئی ہے اس فہرست کو پڑھ کر اپنی ذات کا جائزہ لیں اور دیکھیں کہ ان میں سے کتنے حیلے آپ استعمال کرتے ہیں؟

• اگر میرے پاس وسائل ہوتے۔

• اگر میں بہتر تعلیم یافتہ ہوتا۔

• اگر مجھے ملازمت مل جائے۔

• اگر میری صحت اچھی ہوتی۔

• اگر میرے پاس وقت ہوتا۔

• اگر وقت میرے لیے بہتر اور موزوں ہوتا۔

• اگرمیں بیرون ملک سیٹل ہو سکتا۔

• اگر میرے ملک میں حالات اچھے ہوتے اور اگر میرا ملک ترقی یافتہ ہوتا۔

• اگر میں ماضی میں جا کر اپنی غلطیاں درست کر سکتا۔

• اگر مجھے دوسرے لوگ کیا کہیں گے کی فکر نہ ہوتی۔

• اگر مجھے مواقع ملے ہوتے۔

• اگر میں نوجوان ہوتا۔

• اگر میں قرضدار نہ ہوتا۔

• اگر میرا خاندان امیر ہوتا۔

• اگر میں خوش نصیب ہوتا۔

• اگر میرا ماضی برا نہ ہوتا۔

• اگر میرا اپنا کاروبار ہوتا۔

کاش اور اگر ایسے الفاظ ہیں جن کو ہمارے ملک میں ہر ناکامی کے بعد اکثر یا د کیا جاتا ہے۔یہ الفاظ ہمارا قومی ورثہ بن چکے ہیں، ان الفاظ کا سہارا لے کر ہم اپنی ہر ناکامی کے پیچھے چھپنے کی کوشش کرتے ہیں اور ان کا سہارا لے کر ہم ایسے ایسے بہانے تراشتے ہیں کہ ہم خود حیران رہ جاتے ہیں، ہم اپنے دل کو تسلی دیتے ہیں اور ناکامی کی کاری ضرب کھا کر ان الفاظ کو بطور مرہم استعمال کرتے ہیں۔کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ ہم ان الفاظ کو اپنی زندگی سے نکال کر دور پھینک دیں بصورت دیگر ہم کاش اور اگر کی دلدل میں ہی پھنسے رہیں گے۔

میں نے اپنی تحریر میں کوشش کی ہے کہ اس کتاب کا نچوڑ بیان کر سکوں مگر ابھی بھی اس کتاب میں ایسا بہت کچھ ہے جو اس تحریر میں درج ہونے سے رہ گیا ہے۔ ذاتی طور پر میں سمجھتا ہوں کہ “سوچیے اور امیر ہو جائیے” ایک ایسی کتاب ہے جو ہر گھر میں ہونی چاہیے اور گھر کے ہر فرد پر فرض ہے کہ کم از کم اس کو دو یا تین بار ضرور پڑھے۔ آپ کو یہ کتاب کسی بھی اچھی بک شاپ سے انگریزی زبان کے ساتھ ساتھ اردو میں بھی مل سکتی ہے، جس کے مترجم تجمل شیخ صاحب ہیں اورانہوں نے اس عظیم کتاب کا ترجمہ اس انداز میں کیا ہے کہ قاری کو محسوس ہی نہیں ہوتا کہ یہ کتاب انگریزی زبان میں لکھی گئی ہے۔امید ہے کہ آپ اس کتاب کو خرید کر اپنی لائبریری کا حصہ بنائیں گے اور مترجم کی اس کاوش اور احسان کا بدلہ ضرور دیں گے جو انہوں نے ہم پر کیا ہے۔

Comments

شہاب رشید

شہاب رشید

شہاب رشید ہے وکالت کے شعبہ سے منسلک ہیں، اور سول کے ساتھ کارپوریٹ اور ٹیکس لاء میں پریکٹس کرتے ہیں۔ اردو ادب سے گہری وابستگی ہے۔ حالات حاضرہ، اردو افسانہ و ڈرامہ پسندیدہ موضوعات ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.