ڈرون حملے اور نواز شریف کا تازہ بیانیہ - آصف محمود

نواز شریف صاحب کاارشاد تازہ ہے : ’’ میں نے اوباما کو بتا دیا تھا کہ پاکستان ایک خود مختار ملک ہے اور ڈرون حملے برداشت نہیں کیے جائیں گے ۔ میرے دور میں ڈرون حملے بند ہو گئے تھے ، اب پھر شروع ہو چکے ہیں‘‘۔ اوباما کو تو بلا شبہ جناب نواز شریف سے یہ بات بتا دی ہو گی اور چونکہ پرچی سے پڑھ کر بتائی تھی اس لیے ہمیں یہ بھی یقین ہے کہ بتانے میں کسی ’ کامے ‘ یا ’ فل سٹاپ ‘ کی غلطی بھی نہیں کی ہو گی لیکن یہ دعویٰ کوئی کیسے تسلیم کرلے کہ صاحب کے دور میں ڈرون حملے بند ہو گئے تھے ۔ اس خود اعتمادی سے غلط بیانی کا حاصل ایک ہی سوال ہے : نواز شریف ہوشیار بہت ہیں یا عوام کو بہت سادہ سمجھتے ہیں؟

-2013 میں نواز شریف وزیر اعظم بنے۔ اس سال پاکستان میں27 ڈرون حملے ہوئے اور 195 لوگ مارے گئے

- ان کے اقتدار کے دوسرے سال یعنی 2014 میں 25 ڈرون حملے ہوئے اور ان حملوں میں 186 لوگ مارے گئے۔

-2015 یعنی اقتدار کے تیسرے سال میں 13 حملے ہوئے اور 85 لوگ قتل ہوئے۔

-2016 ان کے ا قتدار کا چوتھا سال تھا ، اس میں 3 حملے ہوئے جن میں 12لوگ جاں بحق ہوئے .

-2017 میں 8 حملے ہوئے جن میں43 لوگ مارے گئے۔یعنی اس دورانیے میں کل 76 ڈرون حملے ہوئے جن میں بچوں اور عورتوں سمیت 521 لوگ مارے گئے۔

آپ ہمت اور حوصلہ دیکھیے کہ دائیں ہاتھ پر 76 ڈرون حملوں اور بائیں ہاتھ پر521 لاشوں کے بوجھ کے باوجود میاں صاحب نے کس شان ، کس آن ، کس ادا اور کس اعتماد سے یہ فاتحانہ دعویٰ فرما دیا کہ ان کے دور حکومت میں ڈرون حملے رک گئے تھے؟

جلسوں کا کما ل ہی یہی ہوتا ہے کہ ان کے شرکائے کرام گھر سے طے کر کے آتے ہیں کہ تالیاں بجا بجا کر جمہوریت کو سر بلند کر دینا ہے، اس لیے قائد محترم کو آزادی ہے جس جی میں آئے دعویٰ فرما دیں ۔ البتہ جہاں سوال اٹھنے کا امکان ہوتا ہے ان ’ غیر جمہوری ‘ اور ’ غیر آئینی ‘ محفلوں میں میاں صاحب تشریف ہی نہیں لے جاتے اور آج تک کسی اہم تزویراتی امور پرمیاں صاحب نے آزاد میڈیا کا سامنا نہیں کیا ۔ بلکہ تزویراتی امور تو رہے ایک طرف ، سیاسی امور پر بھی وہ صرف ان سے ہمکلام ہوتے ہیں جن کی نیک چلنی کا ثبوت میاں صاحب کی جیب میں ہو۔بیچ میں کوئی ایک آدھ استثنائی صورت حال جنم لے ہی لے جیسے پانامہ کیس میں احتساب عدالت میں پیشی کے وقت ہوا تو وہاں بھی یہ اہتمام بطور خاص کیا جاتا ہے کہ کوئی کم بخت سوال نہ پوچھ لے چنانچہ جس طرح میاں صاحب نے پرچی سے پڑھ کر اوباما کو کھری کھری سنا دیں، اسی طرح ایک عدد پرچی پڑھ کر صحافیوں سے ہمکلام ہوئے ، خطبہ ارشاد فرمایا اور بغیر کسی سوال کا جواب دیے روانہ ہو گئے۔

نواز شریف اس ملک میں ڈرون حملوں کے ذمہ دار نہیں ۔ بنیادی طور پریہ پرویز مشرف کے نامہ اعمال کی تیرگی ہے ۔ نواز شریف بہت بعد میں وزیر اعظم بنے اور ان سے یہ توقع رکھنا کہ وہ ایک پرانے بندوبست کو کھڑے کھڑے ختم کر دیں گے ممکن نہ تھا ۔ تاہم یہ بھی ممکن نہیں کہ ڈرون حملوں کے خاتمے کا اعلان فتح مبین میاں صاحب سے شان بے نیازی سے فرما رہے ہیں اسے تسلیم کر لیا جائے۔بلکہ اس دعوے سے ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے اور وہ یہ کہ ڈرون حملوں جیسے سامنے نظر آنے والے معاملے میں اگر میاں صاحب اس استقامت اور اعتماد سے غلط بیانی کر سکتے ہیں تو دیگر نسبتاً اوجھل معاملات میں ان کی ’’ ترک تازی‘‘ کا عالم کیا ہو گا؟ کیا سیاست میں کامیابی کا انحصار اب اسی پر ہے کہ کون کس اعتماد اور کس مہارت سے غلط بیانی کرسکتا ہے؟

میاں صاحب کا یہ دعویٰ ان کی نفسیاتی کیفیات کا آئینہ دار بھی ہے ۔ وہ اپنی وزارت عظمیٰ کا تقابل کس سے کر رہے ہیں؟ وہ کسے سنا رہے کہ میرے دور میں تو ڈرون حملے رک گئے تھے اب تم بڑے نا اہل واقع ہوئے ہو کہ تمہارے دور میں یہ پھر سے شروع ہو گئے؟ کیا ملک میں مارشل لاء نافذ ہو گیا ہے اور وہ چیف مارشل لاء ایڈ منسٹریٹر کو نا اہل ہونے کا طعنہ دے رہے ہیں؟ یا تحریک انصاف کی حکومت قائم ہو چکی ہے اور میاں صاحب عمران خان کو یہ بتا رہے ہیں کہ تم بڑے ہی ناکارہ اور بزدل وزیر اعظم واقع ہوئے ہو کہ جو ڈرون حملے میں نے اوباما کو پرچی سے پڑھ کر اپنا جرات مندانہ موقف سنا کر رکوا دیے تھے تم نے اپنی کمزور خارجہ پالیسی سے وہ دوبارہ شروع کروا دیے؟ آخر ان کا مخاطب کون ہے؟

سامنے کی بات یہ ہے کہ ملک میں انہی کی جماعت کی حکومت ہے ۔ وزیر اعظم بھی نہ صرف ان کی جماعت کا ہے بلکہ اس کا انتخاب بھی نواز شریف صاحب نے خود کیا ہے ۔ وزیر اعظم اتنا سعادت مند واقع ہوا ہے کہ میاں صاحب کی ساری کابینہ جوں کی توں ہے ۔ وزیر دفاع میاں صاحب کے خاص اعتماد کا آدمی ہے اور وزیر خارجہ بھی ۔ وہی جماعت بر سر اقتدار ہے ، وہی ٹیم معاملات کو چلا رہی ہے ، پھر میاں صاحب یہ طعنہ کسے دے رہے ہیں؟ کیا وہ اپنے ہی وزیر اعظم پر عدم اعتماد کا اظہار فرما رہے ہیں؟ کیا وہ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ ان کے نا اہل ہونے کے بعد وزیر خارجہ نے کام کرنا چھوڑ دیا ہے؟ یا وہ یہ تاثر دینا چاہتے ہیں کہ پارٹی میں ایک ہی رجل رشید تھا، ایک ہی معاملہ فہم انسان تھا ، ایک ہی زیرک اور بالغ نظر صاحب بصیرت تھا اور جب وہ نا اہل ہو گیا تو معاملات اب نکمے، بے بصیرت اور نا اہل لوگوں کے ہاتھ میں ہاتھ میں آ گئے ہیں؟

میاں صاحب نفسیاتی طور پر خود کو ناگزیر سمجھ رہے ہیں ۔ ان کا خیال ہے کہ ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پر روتی رہی تب جا کر چمن میں میاں صاحب جیسا ایک ہی دیدہ ور پیدا ہوا اور اب جب اسے نا اہل قرار دے دیا گیا ہے توگویا ترقی کا سفر رک گیا ہے۔ اب معیشت بھی زوال پزیر ہے ، ڈرون حملے بھی شروع ہو گئے ہیں اور امن عامہ کی صورت حال بھی درست نہیں رہی ۔ اگر میاں صاحب کا یہ موقف مان لیا جائے تو پھر ایک اور سوال پیدا ہوتا ہے: کیا ان کی جماعت میں ان کے علاوہ کوئی صاحب بصیرت نہیں؟ کیا سب کے سب کھوٹے سکے ہیں؟

نرگسیت بھی کن کن صورتوں میں ظہور کرتی ہے؟ آدمی حیران رہ جاتا ہے۔

Comments

آصف محمود

آصف محمود

آصف محمود اسلام آباد میں قانون کی پریکٹس کرتے ہیں، روزنامہ 92 نیوز میں کالم لکھتے ہیں، روز نیوز پر اینکر پرسن ہیں اور ٹاک شو کی میزبانی کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر اپنی صاف گوئی کی وجہ سے جانے جاتے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */