محبت کا بل گیٹس - اختر عباس

جانے ان نگاہوں میں کیا تھا۔ قمر کو لگا جیسے جشن ِ تاج پوشی ہو اور اسے تخت پر بٹھا دیا گیاہو۔ آدمی عزت اور اس سے زیادہ محبت کا آرزو مند ہوتاہے۔ اور یہ دونوں نعمتیں جب دولت کے بغیر حاصل ہوں تب ہی اصل دولت کالطف دیتی ہیں۔ اس لمحے قمر اس دولت کا ’’بل گیٹس‘‘ تھا۔ سب سے نمایاں، سب سے منفرد۔ اس کی جھولی میں محبت کے ساتھ احترام کے کئی ارب ڈالروں کا ڈھیر تھا۔شاید وہ دنیا کا سب سے زیادہ مالدار شخص تھا۔

مریضوں والی سفید چادر اوڑھے قمر نے ثمر کوآتے دیکھ کر اٹھنا چاہا تو ثمر سے پہلے نرس بول پڑی ’’آپ پلیز لیٹے رہیں۔ ہلنے سے ٹانکے کھل سکتے ہیں۔ بلیڈنگ شروع ہو جائے گی اور آپ کے لیے تو قطرہ قطرہ بہت زیادہ اہم ہے۔ ‘‘

’’قمر یہ تو نے کیا کیا؟ ‘‘ سوال کم تھا آنسو زیادہ تھے۔ ’’تیری توپہاڑ سی زندگی پڑی ہے۔‘‘ ثمر کے آنسو باقاعدہ بول رہے تھے۔

’’توکیا چیز ہے؟ کیا ہے تیرے اندر، جو تو ہم سب کے دلوں میں سماگیا تھا۔ ساری محبت پاگیا تھا۔ تو تو بِن تخت کا حاکم ہے۔ بے تاج بادشاہ ہے۔ اس حاکم سے بڑا، جو تخت نشین ہو، حکم صادر کرے اور رعایا اس کے اشاروں پر کٹ مرے۔

تمھیں یہ مرتبہ کیسے مل گیا۔ کسی وراثت، کسی زور زبردستی کے بنا، دولت وحشمت کے خزانوں کی ملکیت کے بنا، دل و روح کے ہر خزانے کا تو مالک کیسے بن گیا۔ تو کیسے جانے۔ تو نے کیا کیا؟ بے دام خرید لیا مجھے ……میری ماں کو۔ ‘‘

ثمر مسلسل بول رہا تھا۔

’’تیری ماں!۔۔۔۔قمر نقاہت سے صرف آدھا جملہ بول سکا تھا۔

’’وہ کب سے صرف تیری ماں ہوگئی۔‘‘

’’میں دو دن سے تڑپ رہا تھا۔ اس مسیحا کو دیکھنے کے لیے۔ جس نے ڈاکٹر سے کچھ نہ بتانے کا وعدہ لے لیا تھا۔ اور چپ چاپ اپنی آدھی زندگی ماں کے نام کردی تھی۔‘‘ ثمر نے اپنے بیٹے کو ساتھ چمٹاتے ہوئے کہا۔ ’’بیٹے یہ دیکھ! انسانوں میں کے ٹو جیسے پہاڑ دیکھنے ہوں تو یاد رکھنا، ان کی شکلیں اس کے سوا کچھ اور ہو نہیں سکتیں ‘‘۔

قمر کے ہونٹ یوں تھے جیسے سکاچ ٹیپ سے بند۔ اس سے بولا نہیں جاتا تھا۔ اس نے بولنا چاہا مگر ہونٹ یوں بند ہوئے تھے جیسے تھکن سے چور آنکھیں بند ہوتی ہیں۔ آپوآپ۔

اس کا بہت جی چاہا کہ بولے او رکہے۔

’’ثمر تم کیا جانو! دکھ کیا ہوتاہے۔ میں نے تو دکھ کا سمندر عبور کیا ہے۔ لمحہ لمحہ جلا ہوں موم کی طرح، پگھلا ہوں سیسے کی طرح۔ میرے تو آنسوؤں کی جھلار بھی تم نے نہ دیکھی ہوگی۔ تم اس دکھ کو جان ہی کیسے سکتے ہو، جو تم پر بیتانہ ہو، جس کا تم کو تجربہ نہ ہو، جو بول نہ سکے، اظہار نہ کرسکے، احتجاج نہ کرسکے۔ کوئی جو دکھ کے سمندر سے نکلنے پر ہی قادر نہ ہو۔ وہ روئے نہ تو کیا کرے۔ تمہیں کیسے سمجھاؤں کہ مجبور آدمی، ہارے ہوئے آدمی سے زیادہ دکھی اور محروم ہوتا ہے۔ جو اس کا ہاتھ تھام لے، اس کے دکھ کو پہچان لے،پھربے شک عمر بھراسے اپنے چمڑے کے جوتے بنا بنا کر بھی پیش کرنے پڑیں تو وہ خوشی اور خوش دِلی سے کرے گا۔

میں اس دن کو کیسے بھول سکتاہوں جب گھر سے یہ سوچ کر نکلا تھاکہ سکول سے فارغ ہوکرگھر واپسی نہیں ہو گی۔ سیدھا ریلوے لائن پر جاؤں گا او رکسی آتی جاتی ٹرین کے نیچے سر دے کر سارے دکھ سے نجات پا جاؤں گا۔ کئی دنوں کی تھوڑی تھوڑی بھوک اور بہت سی دکھی کرنے والی گالیوں کی سوغات کے سوا میرے پاس اورکچھ بھی نہ تھا۔ اور یہ میں اپنے حصے کی آگ کی طرح ان دکھوں کو ساتھ ساتھ لیے پھر ا تھا۔ تب مجھ ایسا تنہا، پوری دنیا میں کہا ں ہو گا۔ ایسے میں چاروں طرف آوازوں کے شور اور انسانوں کی رونق کا، دل کی تنہائی اور بے رونقی سے کوئی تعلق کب ہوتا ہے۔ اس صبح گھر سے نکلا تو پیٹ بھوک سے، بازو مار کی اذیت سے اور دل گالیوں کی کڑواہٹ سے بھر ا پڑ اتھا۔ تائی نے جی بھر کر مارا تھا۔ رات ورکشاپ سے اتنا تھک کر آیا تھاکہ کچن میں پڑے گندے برتن نہ دھوسکاتھا۔ وہ سستی یا کام چوری نہ تھی۔ اس طرف خیال بھی نہ جاسکا۔ جاتا بھی کیسے، گھرآتے ہی تو ننگی چارپائی پر گر گیا تھا۔ اگلی صبح ہوش آئی تو مار پڑ رہی تھی۔ تائی کے کہنے پر ورکشاپ میں نوکری کی تھی۔ پیسے بھی لاتاتھا۔ میں تو بھول ہی گیا تھاکہ مجھ اکیلے اور تنہالڑکے کے لیے کبھی کوئی نرم اور مہربان لفظ بھی کیوں کہا جائے گا! قمر نے بند آنکھوں کے پپوٹوں کو کھولنے کی ناکام کوشش کی اس کی خود کلامی مگر جاری تھی۔

’’ثمر !تمہیں کیا معلوم، دکھ کیا چیز ہوتے ہیں۔ جیسے کوئی سالوں سے پیاسے ریت کے ذروں کی طرح پڑا ہو اور بادل کے ٹکڑے ہر بار برسے بناہی وہاں سے گزرجائیں۔ جیسے کوئی بہار کے موسم میں سر سبز پتوں کے بیچوں بیچ کسی کے مسلنے سے سوکھ جائے۔ اپنا رنگ اور تازگی کھودے اور پھر خزاں رسیدہ پتے کی طرح ٹوٹ کر حسرتوں بھری زمین پر جا گرے۔

اس روز جب میں زندگی کی ٹہنی سے ٹوٹ گرنے کو تھا۔ آخری کلاس سے پہلے پیریڈ میں، صرف جینے کے آخری گھنٹے میں جی رہا تھا،تم میرے پاس آئے تھے اور مسکر ا کر پوچھا تھا۔ ’’خیریت ہے ناں !‘‘تم نے بن مانگے مجھے مسکراہٹ دی تھی اور میں نے بن بولے سر ہلا دیا تھا۔

’’ہوں، میں ٹھیک ہوں۔ ‘‘

تب تم پاس آکر بیٹھ گئے تھے۔

’’دوپہر کو کھانا نہیں کھایاناں۔ ‘‘

پھر جواب کے انتظا ر کے بغیر ہی تم نے کہا تھا۔ ’’پتا ہے میں نے بھی نہیں کھایا۔ صبح جلدی میں بھول آیا تھا۔ پیریڈ ختم ہوتو اکٹھے کھاآتے ہیں۔ یہ ساتھ تو میرا گھرہے‘‘۔

بارہ تیرہ سال عمر ہی کیا ہوتی ہے۔ اس عمر کی برداشت بھی چھوٹی سی ہوتی ہے۔ بندہ جلدی ہار جاتا ہے۔ میں بھی بھوک سے ہارا بیٹھا تھا۔ تم نے گھر جاکر اپنی امی سے میرا تعارف یوں کروایا تھا۔ ’’امی !یہ میرا بہترین دوست ہے، قمر‘‘ میں تو صرف تمہار اکلا س فیلو تھا۔ ملاقات کیا، بات بھی کم کم ہوتی تھی ہماری۔ اب تمہاری امی نے میرے ماتھے پر پیار کیا تھا۔ میرے ماتھے پر کیا ہو ا وہ پیار آج بھی اپنی پوری مٹھاس کے ساتھ میری روح میں محفو ظ ہے۔ وہ بولی تھیں ’’تم بہت بہادر بیٹے ہو۔ ہمت والے ہو۔ یہ ثمر ساراسارا دن تمہاری باتیں کرتاہے۔ تمہاری ہمت اور حوصلے پر ناز کرتاہے۔ پر ہے بڑ اشرمیلا۔ تم سے کبھی نہیں کہہ سکا۔ تمہارا گھر میں اتنا ذکر ہوتاہے کہ اگر میرا کوئی دوسرا بیٹا ہوتاتواتنا ذکرشاید اس کابھی نہ ہوتا۔‘‘

میں اس روز شام تک تمہارے گھر میں ٹھہرا تھا ثمر۔ شام تک نہ مار کا خوف آیا، نہ ڈانٹ کا۔ اس توجہ او رمحبت نے، ہر غم اور خوف کو بھلادیا تھا جو تمہاری امی کے لفظوں میں تھی حتیٰ کہ اس روز مرنے کے فیصلے کو بھی۔ پھرمیں ہفتے میں کئی بار تمہارے گھر آنے لگا۔ دوستی مضبوط ہو تی گئی۔ میں مضبوط ہو تاگیا۔ مجھے احساس رہنے لگا کہ کوئی مجھ سے محبت کرتاہے۔ کوئی میرے لیے بھی دعا کرتا ہے۔ تم میرا یقین بنے اور سچ پوچھو تو یہ یقین میرے بہت کام آیا۔ تمہار ے خیال سے ہی مجھے ہمت ملنے لگتی۔ میری بے بسی او ربے کسی کے لمحوں میں ماں کے نرم لفظ مجھے یوں تھام لیتے جیسے ڈوبتے کو تھامتے ہیں۔ ‘‘ اس لمحے کمرے میں نرس دوڑتی ہوئی آئی تھی۔ اسے لگا تھا میرے دل کی دھڑکنیں ڈوب رہی ہیں۔ مگر وہ نہیں جانتی تھی جس دل میں آرزوئیں جاگ جائیں وہ جلدی نہیں مرتا۔

یہ آرزوئیں بانس کے پودے جیسی کیوں ہوتی ہیں؟ کہاں سے دل میں اُگ آتی ہیں؟ پہلے سر نکالتی ہیں پھر اپنا آپ دکھانے اور منوانے لگتی ہیں؟ میں بھی چاہنے لگا تھا، آرزو کرنے لگا تھا کہ کاش یہ میرا گھر ہوتا، یہ میری ماں ہوتی،ثمر تم میرے بھائی ہوتے۔ انہی دنوں میری تائی نے ایک روز یہ کہہ کر گھرسے نکال دیاتھاکہ’’ تم جیسے ناکارہ کا بوجھ ہم سے نہیں اٹھایا جاتا۔ تمہارا گھر بھی سنبھالو او رتم کو بھی پالو۔ ماں باپ خود مر گئے اور مصیبت ہمارے لیے چھوڑ گئے۔ ‘‘ انھوں نے میرا گھر رکھ لیا او رمجھے نکال دیا۔ وہ گھر اور گھر والے شاید میرے کبھی تھے ہی نہیں۔ تبھی تو میرے وہاں سے نکالے جانے پر نہ کوئی افسردہ تھا نہ کوئی غمزدہ۔ نہ کوئی آنکھ نم ہوئی نہ کوئی ہونٹ وا ہوا۔

اگریہ سچ ہے کہ آدمی پر آنے والا غم اس کی برداشت سے کبھی بڑ انہیں ہوتا، تو یہ بھی سچ ہے کہ غم کا کوئی وطن نہیں ہوتا، کوئی گھر نہیں ہوتا۔ یہ ظالم بولائی ہوئی آوارہ ہوا کی طرح بھرے شہر میں، خالی ریگستان میں کہیں بھی آدھمکتاہے، پوری بد لحاظی کے ساتھ۔ تب مجھے لگتا تھایہ اولڑاغم صرف مجھ غریب پر ہی اترا ہے۔ میری جان لے کر ہی رہے گا۔ بے گھر بے در آدمی کا غم بھی بے کنار ہو تا ہے۔ اندیشے اور خوف کی طرح ہر طرف پھیلا ہوا۔

ایسے میں تمہا ری امی نے کہا تھا۔ ’’بیٹے قمر !اندیشے اور خوف کی عمر بہت تھوڑی ہوتی ہے۔ بس ان کے بیان کرنے تک۔ اندھیری رات کے آخری پہر میں ایک ننھی منی سی کرن اسے مات دے دیتی ہے۔‘‘

ثمرتمہاری والدہ سمندرکے بیچوں بیچ مضبوط پتھر ا ور اینٹوں سے بنا وہ مینار تھیں جو لائٹ ہاؤس کہلاتاہے۔ اندھیرے اور مایوسی میں یہاں سے چمکنے والی روشنی کی معصوم سی کرنیں کتنے ہی جہازوں اور جہاز رانوں کو راستہ اور مسافروں کو زندگی دیتی ہیں۔ کون جانے اس مینار کی اپنی گہرائی او رمضبوطی کتنی ہے؟ کہ گہرے بے رحم پانیوں میں جس کی موجودگی دوسروں کے لیے جینے کی وجہ اور آسرا بنتی ہے۔

میری باقی عمر تمہارے ساتھ تمہارے گھر میں گزری۔ کبھی اس شہر او رکبھی اس شہر میں۔ تمہارے امی ابو کے اب ہم دو بیٹے تھے۔ سکول مکمل ہو ا پھر کالج میں داخل ہوئے۔ ہم دونوں کی ماں نے کس قدر چاہت سے ہماری شادیاں کی تھیں۔ ایک گھر سے دو نئے گھروں نے جنم لیا تھا۔ اس بیچ میں کون سا دن ہے، کون سا لمحہ ہے جو میں بھول پاؤں۔ گھر میں ہم دو ہی بیٹے تھے۔ نام بھی ایک جیسے اور سلوک بھی ایک جیسا۔ تبھی میں نے ایک شام اپنے مولاسے ہاتھ پھیلا کر دعا کی تھی …… الٰہی ! مجھے اُس دروازے جیسا بنا دے جو ہمیشہ اس گھر کے مکینوں کی خوشی کے لیے کھلے۔

چند روز ہوئے یہ دروازہ اسی گھر کی خوشی کے لیے اس وقت کھلا تھا۔ جب ڈاکٹر نے ایک نامعلوم کال سنی، اوربتایا تھاکہ مریضہ کی حالت اتنی نازک ہے کہ کوئی معجزہ ہی انھیں بچا سکتاہے۔ سارے اخباروں میں اشتہار بھی دیے جاچکے ہیں۔ اس کے دونوں بیٹے اپنے دوستوں، جاننے والوں سے بھی کوشش کر چکے۔ مگر اب وہ اپنی ماں کی زندگی کی ڈور کو ٹوٹنے سے نہ بچا سکیں گے۔ کہیں سے ایک گردے کا انتظام ہی نہیں ہوپارہا۔ ایک آدھ دن کی بات ہے۔ یہ انتظام نہ ہو پائے گا اور ہمارا بیڈ، مریضہ کو دوبارہ نہ دیکھ پائے گا۔ تب اس نامعلوم آدمی نے کہا تھا۔ ڈاکٹر صاحب میرے سارے ٹیسٹ ہوچکے۔ میں ایک گردہ دیتا ہوں مگر اس شرط پر۔۔۔۔جب تک گردہ ٹرانس پلانٹ نہ ہو جائے کسی کو خبر نہ ہو۔ نہ میرے گھر، میری بیوی او ربچوں کو، اور نہ مریضہ کے گھر، ان کے بچوں کو۔

اب تو گردے کی ٹرانس پلانٹیشن مکمل ہوچکی ہے۔ میں اپنے بیڈ پر اور مریضہ اپنے بیڈ پر آرام سے ہیں اور کوئی دن جاتا ہے ہم اپنے گھر جاسکیں گے ان کی حالت اب کافی سٹے ایبل ہے دو چار روز میں آپ گھر لے جا سکیں گے یہی وہ لمحہ تھا جب ثمر نے آگے بڑھ کر اس کا ماتھا چوم لیا تھا۔ وہ دھیرے سے بولا تھا یہ تم نے کیا کیا قمر! میں نے آنکھیں بمشکل کھولیں اور بے اختیار بولاتھا۔’’ تم ثمر!تم کہتے ہو۔ میں نے کیا کیا !

میر ی تو ساری زندگی تمہاری اور تمہاری ماں کی وجہ سے ہے۔ میں تو کب کا مر گیا ہوتا۔ جو اپنے آپ کو مارنے نکل کھڑا ہو کہ اسے کوئی محبت نہیں کرتا،اسے کوئی کیسے بچاپاتا مگر یہ کام تمہاری دوستی او رماں کی محبت اور شفقت نے کر دکھایا تھا۔

میرا دل تو تم لوگوں کے سکھ اور خوشی کے ساتھ بندھا ہے۔ جب تک وہاں دھڑکنیں ہیں یہ تمھارے لیے دھڑکتا رہے گا، جیتا رہے گا۔

تُو کیا جانے ماتھے پر دیے گئے ماں کے اس بوسے کی لذت آج بھی اپنی پوری مٹھاس سمیت میرے اندر موجود ہے۔ یہ ایک گردہ اسی بوسے کی نذر کیا ہے۔ بیتے لمحوں کی باتیں، ان لمحوں کے ساتھ ہی بیت نہیں جاتیں۔ ہمارے اندر زندہ رہتی ہیں۔ مجھے پتاہے اب تم پوچھو گے قمر !تم ہم سے اس قدر محبت کرتے ہو!

اس کا میں کیا جواب دوں ثمر۔۔۔۔ میں تو لمحہ موجود میں محبت کی دولت کا ’’بل گیٹس ‘‘ہوں۔ بس اتنا جان لو کہ اس قدر تو صرف اقرار کر پایا ہوں۔۔۔۔ کہ یہی میری دعا او روفا کا وہ دروازہ ہے جواتنے عرصے بعد پہلی بار اس گھر کے مکینوں کی خوشی کے لیے کھلاہے۔ ‘‘

جانے ثمر کی نگاہوں میں ایسا کیا تھا کہ قمر کو لگا جیسے جشنِ تاج پوشی ہو اور اسے تخت پر بٹھا دیا گیاہو۔ اور سامنے ثمر سر جھکائے ایک سوال کر رہا ہو۔ مگر وہ سوال کم تھا، آنسو زیادہ تھے اور آنسوؤں کا بھلا کوئی کیا جواب دے سکتا ہے۔ قمر سے تو ویسے بھی بولا نہیں جا رہا تھا۔

ٹیگز

Comments

اختر عباس

اختر عباس

اختر عباس مصنف، افسانہ نگار اور تربیت کار ہیں۔ پھول میگزین، قومی ڈائجسٹ اور اردو ڈائجسٹ کے ایڈیٹر رہے۔ نئی نسل کے لیے 25 کتابوں کے مصنف اور ممتاز تربیتی ادارے ہائی پوٹینشل آئیڈیاز کے سربراہ ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.