نور نظر، خبر اور خرگوش - دعا عظیمی

اس کی غزل کہتی آنکھیں ایک ٹک آسمان کو دیکھے جاتیں، ان بلوری آنکھوں کو کیا ہوا، تشویش نہیں تھی، دکھ تھا، اس کی بیماری کا. ابھی کل تک تو ٹھیک تھی، ایک دن میں ایسا کیا ہوا کہ وہ مریضہ ہوگئی. سنو پلکیں جھپکو، میری طرف دیکھو نا، سنو دیکھو ناں بہتے پانی کو، کھلتے پھولوں کو، ہرے میدانوں کو، کل تک سب تمھیں اچھے لگتے تھے، تم ان پر نظمیں کہتی تھیں.

میں نے تہیہ کیا کہ اسے اچھے ڈاکٹر کو دکھاؤں گا، وہ ٹھیک ہو جائے گی، وہ میری منکوحہ تھی،
اسے نفسیاتی معالج کے پاس لے گیا، سیشن لیے گئے.
اس کا کہنا تھا، مجھے آسمان اچھا لگتا ہے، آسمان جو انسان کے کرموں سے دور ہے
مجھے زمین کی طرف نہیں دیکھنا، زمین بےگناہوں کے لہو سے لال ہے
ملاوٹ، حرص اور لالچ سے گدلی ہے، اگر میں اسے دیکھوں گی تو میری آنکھوں سے خون جاری ہو جائے گا، مجھے آسمان دیکھنے دو، جہاں سفید بادلوں میں خوشیوں کے قافلے ہیں، جہاں چاندنی ہے، تاروں کی لو ہے، مرجھائے ہوئے پتوں کی قسم زمین پامال ہے۔

ڈاکٹر کا کہنا ہے مریضہ لا علاج ہے، شاید اسے بہت جلد پاگل خانے کے کسی بستر پر منتقل کرنا پڑے گا، ایسا بستر جس کے سرہانے ایسی کھڑکی کھلی ہو جہاں سے صرف آسمان نظر آئے، اسے زمین پر ہیولے نظر آنے لگے تھے، بگولے نظر آنے لگے تھے.

نور نظر میری چچا زاد تھی، چآچا چاچی اسلام آباد سے لاہور آرہے تھے، وہ شہرکے مشہور لکھاری تھے، جانے ایسا کون سا سچ لکھ بیٹھے جس کی پاداش میں گولیوں سے چھلنی کر دیے گئے. کچھ اس طرح سے جنازے اٹھے کہ فرش کانپا اور عرش دہلا ،اس روز مغرب سے لال اندھیری چھوٹی، تب بے گناہوں کے قتل پر ایسے ہی لال اندھیریاں چھوٹا کرتی تھیں. آسمان کے لال ہونے سے پتہ چلتا تھا کہ کہیں کوئی قتل ہوا ہے، فاختائیں سہم جایا کرتی تھی، بلبلیں اپنے نغمے روک لیتی تھیں، مینڈک اور جھینگر سانس گم کر کے پانی میں غوطہ کھا جاتے تھے، ہوا زور سے چلتی، پتے بین کرتے اور بڑی بوڑھیاں تسبیح پھرولنے لگتی تھیں. ایسے میں نور نظر کا حساس ہونا فطری بات تھی، وہ ہمارے گھر میں پلی بڑی تھی، وہ تب بھی ٹھیک رہی جب ہم آئس کریم کھانے گئے اور پرانی انار کلی میں چند فٹ کے فاصلے پر دھماکہ ہوگیا اور خون کے فوارے چھوٹے اور ہمارے کپڑے خون میں تر بتر ہو گئے، جان بچ گئی، زخم بھر گئے، اس حادثے کا اثر ہم پہ ایک سا ہوا، بہت دنوں تک چپ کا موسم قریہ جان پہ آ کے ٹھہر گیا، جیسے قبرستان کی ہوک بھری خاموشی، جیسے لب کبھی ہنسی سے آشنا نہ ہوئے ہوں، مگر کچھ دنوں کے بعد بڑے بھیا کی شادی کی تاریخ مقرر ہوئی، وہ ہنگامہ اور رونق مچی کہ الاماں، سب کے دل خوشی سےسرشار ہو اٹھے۔

پھر ہمارا نکاح ہوا اور ایک ماہ بعد ہماری شادی کی تاریخ پکی ہو گئی، مگر نور نظر اچانک بیمار ہوگئی. ڈاکٹر کیس ہسٹری لیتا ہے اور مجھ سے تفصیلات طلب کرتا ہے، کیا بتاؤں کہ آج کل وہ خبر یں بہت سنتی تھی. میں اسے کہتا تھا کہ نور نظر! تو صرف کہانیوں کی کتابیں پڑھا کر، طرح مصرع میں کھوئی رہا کر، مگر خبر تک نہ جایا کر، اب ایک دم بےخبر اور بے نیاز وہ کوئی غیر ہوتی یا ہوتا تب بھی اس کی فکر مجھے چین نہ لینے دیتی. نور نظر سے تو میرے بہت سے رشتے تھے، خون کے، قلب کے، احساس کے، فکر کے، ذکر کے، نظر کے، ماضی حال اور مستقبل کے، اگر مالک اسے بلا لیتا تو صبر بنتا تھا، مگر اسے اس حال میں دیکھنا سوہان روح تھا. بہت سے غمگساروں کی ہمدردیاں ہمارے ساتھ تھیں، دوائی اثر کرتی تھی نہ کونسلنگ، جانے بوری بند لاش کی خبر تھی یا معصوم پھولوں کے مسلنے کی، اوپر نیچے بےگناہ جوان بچوں کی ماں کا کوئی بین تھا، باپ کی ٹوٹی کمر کا کوئی نشان تھا، انتظار، نقیب کی ہنستے ہوئے لاشے تھے جو انصاف مانگ رہے تھے، کراچی کی پرچیوں پہ موت کے نشان تھے، سو بچوں کے قتل کی داستان کی بازگشت تھی، سانحہ پشاور کے معصوموں کا خون تھا، زینب اسما اور قصور میں ہونے والے ظلم کا قصور تھا، میری زندگی کے چاند کو تو گہن لگ چکا تھا.

اب میرے پاس دو راستے تھے، ایک تو یہ کہ زندگی کے اس بوجھ کو کاٹ کے خود سے الگ کر دوں، نور نظر کو کسی بھی بحالی نفسیات کے ادارے میں جمع کرا کے سکھ کی زندگی گزارنے کے لیے کسی صحت مند لڑکی کا انتخاب کروں اور اسے ہی اپنی تقدیر سمجھوں یا پھر نور نظر کے صحت یاب ہونے کا انتخاب کروں.

ابا چاہتے ہیں کہ میں اس کے ساتھ بندھا رہوں کیونکہ نور کے نام تین مربع زمین ہے، اسے طلاق دینے کی صورت میں اس سے ہاتھ دھونے پڑیں گے. ڈاکٹر ماں چاہتی ہے کہ اسے چھوڑ کے صحت مند لڑکی سے شادی کروں تاکہ اگلی نسل میں بیماری کے جراثیم منتقل نہ ہوں. کوئی نہیں سوچتا کہ نور کے حق میں کیا بہتر ہے؟ ہم رشتے بھی فائدے اور نقصان کے تناظر میں نبھائیں گے۔ ادھر وہ ہے کہ سوتی ہے نہ جاگتی ہے ایک ٹک آسمان کو گھورے جاتی ہے۔

میں اپنے ہاتھوں سے اس کی آنکھوں کو بند کرچکا ہوں، مگر وہ پلک نہیں جھپکتی، ڈاکٹرز نے بولا ہے اسے کسی پرفضا مقام پر لے جائیں جہاں دکھ، لالچ، قتل کی خبر نہ ہو. میرا اختیار ہوتا تو میں نور نظر کو پل بھر میں ایسی جگہ لے جاتا جہاں کائناتی توانائی اسے شفا عطا کرتی، پھر ہم شہر سے بہت دور اپنی آبائی حویلی میں چلے آئے، یہاں جہاں ہم نے اپنا بہت سا وقت گزارا تھا مرغیوں، کبوتروں، اور خرگوشوں کے ساتھ۔ مجھے معلوم تھا نور نظر کو خرگوش بہت بھاتے تھے، جب وہ ان کو توجہ نہیں دیتی تھی تو وہ اس کے چپل کو سونگھتے، چھیڑتے، اور بار بار توجہ پانے کے لیے اپنی برہمی کا اظہار کرتے، اور جب وہ ان کی نرم فری گردن پہ ہاتھ پھیرتی تو وہ خوشی کااظہار کرتے، آنکھیں موندتے پٹپٹاتے.

نور نظر وہ دیکھو وہ سفید خرگوش کتنا پیارا ہے، بالکل جیسے ہمارے بچپن میں جس سے ہم کھیلتے تھے، اس علاقے کی روح میں سکون تھا، اس کے چہرے کے کھچاؤ میں کمی آئی تھی، میری چھوٹی بہن اپنے تعلیمی سال کو داؤ پر لگا کر اس کی خدمت پر کمر بستہ تھی، خرگوش کی طرف متوجہ ہوئی، اس کی نظر خرگوش کا تعاقب کرنے لگی، دو نہیں تین ہیں، اس نے پلک جھپکی، شعور کی دستک پلٹی. ہماری مہربان فطرت ہمیں صحت اور خوشی کی نوید سنا رہی تھی، سفیدے کے اونچے درختوں سے ہٹ کر وہ سبزے میں سفید شرارتی خرگوشوں کو ڈھونڈ رہی تھی.

نور نظر خبر کے دکھ سے نکل کر واپسی کے سفر میں تھی، شاید وہ بھی ایک خرگوش تھی۔ مجھے لگا خرگوش اس دنیا کی سب سے خوبصورت مخلوق تھے۔ ان سے مثبت لہريں نکلتی تھیں.

Comments

دعا عظیمی

دعا عظیمی

دعا عظیمی شاعرہ ہیں، نثرنگار ہیں، سماج کے درد کو کہانی میں پرونے کا فن رکھتی ہیں۔ پنجاب یونیورسٹی سے سوشل سائسنز میں ماسٹر کیا ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.