زینب کے مجرم کی سزا، از روئے شریعت - ڈاکٹر حافظ حسن مدنی

قصور میں زینب نامی معصوم بچی سے ہونیوالا سانحہ ایک مسلمان معاشرے کے لیے شرم ناک ہے جس کی جس قدر مذمت کی جائے، کم ہے۔ ایسے واقعات کی روک تھام معاشرے میں اسلامی احکام کے فروغ اور ان جرائم کی شرعی سزاؤں کے کامل نفاذ کے ذریعے ہی ہوسکتی ہے۔ اس حوالے سے یہاں فقہی مباحثہ جاری ہے کہ فقہ حنفی یا جعفری میں اس کی سزا کیا ہے؟ اس کے ساتھ ہی وہ اہل علم بھی بحث میں اتر گئے ہیں جو ملت کے مجموعی رجحانات سے قطع نظر نیا عقلی استدلال لے آتے ہیں۔

سب سے پہلے تو اس سانحہ کے بارے میں قرآن وسنت (شریعت اسلامیہ) کا حکم واضح ہونا چاہیے۔ شریعت میں زنا کے جرم کی سنگینی بے پناہ ہے اور اس کی سزائے رجم بھی سنگین ترین سزا ہے۔ تاہم جب اس میں جبر ودہشت شامل ہوجائے اور یہ ایک معصوم بچی کے ساتھ ہو تو اس کی شدت میں کئی گنا اضافہ ہوجاتا ہے۔ اس سنگینی کی بنا پر قصور ایسے واقعے جرم زنا سے تو نکل نہیں جاتے تاہم اس میں بعض مزید جرائم بھی مزید شامل ہوجاتے ہیں۔ اسلامی شریعت میں زنا بالجبر کو جرم کی مستقل اصطلاح کے طور پر تو نہیں لیا گیا، تاہم اس نوعیت کے زنا کے احکام متاثرہ فرد کے لیے عام زنا سے مختلف ہیں۔ زنا بالجبر کے لیے احادیث میں اغتصاب کا لفظ بولا گیا ہے، جیسے الفاظ حدیث ’’غَصَبَها نَفْسَها‘‘ کے بارے میں عربی لغت لسان العرب میں ہے کہ یہ لفظ جبری زنا کے لیے بطور استعارہ استعمال ہوا ہے۔ (مادہ غصب : 1؍648) اور اگر کوئی عورت متاثرہ فرد محض قانونی قرائن (یہاں چار گواہوں کی کوئی بات نہیں) سے یہ ثابت کردے کہ اس پر جبر ہوا ہے تو قرآن کریم کی آیت وقد فصل لکم ما حرم علیکم الا ما اضطررتم علیہ (الانعام: 119) ’’اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے حرام چیزیں بیان کردیں، الّا یہ کہ تم مجبور کردیے جاؤ۔ ‘‘ اور سورۃ النور کی آیت33: ومن یکرہہن فان اللہ من بعد اکراہہن غفور رحیم ’’اور جو مجبور کردی جائیں تو اللہ ان کی مجبوری پر معاف کرنے والا مہربان ہے۔ ‘‘ ان عورتوں کی سزا سے معافی کو ثابت کرتی ہیں اور درج ذیل احادیث رسول کی بنا پر نہ صرف متاثرہ فرد (عورت یا مرد) پر کوئی سزا نہیں بلکہ اس کے خصوصی حقوق ہیں:

1) سیدنا ابن عباس سے مروی ہے کہ نبی کریم نے فرمایا: اللہ تعالی نے میری امت سے خطا ونسیان اور جبر واضطرار کو معاف کردیا ہے۔ (ابن ماجہ: 2045)

2) دور نبوی میں ایک عورت سے جبری زنا کیا گیا تو نبی کریم نے اس سے سزا ساقط فرما دی۔ (جامع ترمذی: 1453)

3) دور نبوی میں ایک عورت سے کسی شخص نے زیادتی کی، جب وہ چلّائی تو ظالم بھاگ نکلا، عدالت نبوی میں معاملہ پیش ہوا تو محض متاثرہ عورت کے کہنے پر، قرائن کی روشنی میں اس کو بری قرار دیا گیا، اور ملزم پر سزائے زنا کے نفاذ کرنے کا فیصلہ ہوا۔ (جامع ترمذی: 1540)

4) سیدنا عمر کے دور میں ایک عورت کو ویرانے میں پانی کو پانے کے لیے ایک چرواہے کے ہاتھ اپنی عزت گنوانا پڑی۔ جب یہ کیس سیدنا عمر کے علم میں آیا تو انہوں نے سیدنا علی سے مشورہ کیا تو انہوں نے جواب دیا کہ وہ تو مجبور تھی، سو سیدنا عمر نے اپںے پاس سے اس عورت کو کچھ مزید دے کر بھیج دیا۔ (سنن بیہقی: 8؍236)

5) جبر کو ثابت کرنے کے لیے چار گواہوں کی ضرورت نہیں بلکہ محض واقعاتی شہادت یا قرائن ہی کافی ہیں، جیسا کہ سیدنا یوسف اور زوجہ عزیز مصر کے قرآنی واقعہ میں قمیض کا پیچھے سے پھٹا ہوا، ان کی برات کے لیے کافی ثابت ہوا۔

جہاں تک جبری زنا کرنے والے کا تعلق ہے تو زنا کی شرعی سزا تو ظالم پر چار گواہوں یا اعتراف کے ذریعے ہی ثابت ہوگی، تاہم جبر وتشدد کی بنا پر اس پر حرابہ یعنی دہشت گردی کی سزا بھی مزید عائد ہوگی، معصوم بچی پر ظلم کی بنا پر حرابہ کی سنگین تر سزا یعنی ظالم کو ٹکڑے ٹکڑے کرنا کو بھی لاگو کرنا چاہیے۔ اگر زنا کے چار گواہ نہ ہوں تو بے راہ روی کے جرم کی تعزیری سزا (سیاستًا) نافذ کرکے، اس پر حرابہ کی سزا کا اضافہ کیا جائے گا۔ سعودی عرب کی کبار علما کونسل کا فتوی بھی اسی کی تائید کرتا ہے: "إن جرائم الخطف والسطو لانتهاك حرمات المسلمين على سبيل المكابرة والمجاهرة من ضروب المحاربة والسعي في الأرض فساداً المستحقة للعقاب الذي ذكره الله سبحانه في آية المائدة سواء وقع ذلك على النفس أو المال أو العرض‘‘ (فتوی نمبر 85، مؤرخہ 11؍11؍1401ھ)

مذكوره تفصيل سے ثابت ہوا کہ قرآن وحدیث میں زنا بالجبر کا شکار ہونے والے پر کوئی سزا نہیں، اور وہ محض قرائن سے جبر کو ثابت کرکے حکومت سے رعایت و تاوان کا بھی حق دار ہے۔ تاہم جبری زنا کرنے والا بدبخت قصور ایسے واقعہ میں زنا کے ساتھ ساتھ دہشت گردی کا بھی مجرم ہے۔ اس کی سزا میں کوئی نرمی نہیں ہونی چاہیے۔ اس سلسلے میں عکل وعرینہ کے نبوی فیصلے کو بھی سامنے رکھنا چاہیے جس میں فساد فی الارض کرنے والوں کے نہ صرف نبی کریم نے ہاتھ پاؤں کٹوائے بلکہ ان کی آنکھوں میں سلائیاں بھی پھروائیں، اور وہ ریت پر منہ مارتے تڑپ تڑپ کر مر گئے۔

جہاں تک فقہی جزئیات کی بات ہے تو فقہاے کرام کی فقہی توجیہات کسی خاص واقعہ، خاص دور اور خاص مناسبت تک محدود ہوتی ہیں۔ جو عصمت قرآن وسنت کو حاصل ہے، وہ فقہ کو حاصل نہیں ہے، اور فقہاے کرام کی رائے مرجوح یا محدود بھی ہوسکتی ہے۔ قرآن وسنت یعنی شریعت میں تعدد نہیں، وہ قیامت تر ہر زمان ومکان کے لیے ہیں، جبکہ یہ خصوصیات فقہ کو حاصل نہیں۔ اس لیے فقہی جزئیات پر الجھنے کی بجائے، قرآن وسنت سے اس مسئلہ کا حل سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ افسوس کہ اس موضوع پر اتنے بہت سارے مضامین میں سب اپنے اپنے فقہی موقف کا دفاع تو کیے جارہے ہیں، لیکن نبی کریم ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام کے موقف کی طرف کسی کی توجہ ہی نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے آپ سےبڑھ کر اسلام کو پیش کرنے کی توفیق مرحمت فرمائیں۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */