چند سوالات ، چند گزارشات - محمد بھٹی

قصور کی زینب ہو یا فیصل آباد کے مدرسہ کا فیضان ، ہر دو کے ساتھ رچی گئی بربریت اور بعد ازاں سیاسی و مذہبی بنیاد پر مچائی گئی دھماچوکڑی سماج کی سفاکیت اور بے حسی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ہم من حیث المجموع اس قدر بے حس ہو چکے ہیں کہ ہر المناک واقعہ کو اپنا اپنا منجن بیچنے کا ذریعے بناتے ہیں اور معاشرے کو مزید پراگندگی و تشتت کی طرف دکھیلتے ہیں۔ زندہ اقوام تو ایسے روح فرسا،دلخراش سانحات پر وحدت کا مظاہرہ کرتے ہوئے آئندہ ایسے المیات کے جنم کی روک تھام کے لئے منصوبہ بندی کرتی ہیں اور اندوہناک سانحات کے ذمہ دار خبثاء کو منطقی انجام تلک پہنچاتی ہیں۔

زینب و فیضان تو قصہ ماضی اور تاریخ کا دردناک سبق بن چکے لیکن ارباب بصیرت غور کیوں نہیں کرتے کہ ان دو معصوموں کے ساتھ پیش آنے والی سفاکیت اور جنسی درندگی کا محرک و سبب کیا ہے ؟ کیا ہم کو معلوم نہیں کہ ہمارے شہر و دیہات اور عصری و دینی تعلیمی مراکز میں جنسی بھیڑیے اب بھی دندنا رہے ہیں ؟ آخر ہم مستقبل کے دھندلکوں میں دیکھ کر آئندہ پیش آنے والے واقعات کا عالم شہود میں رونما ہونے سے قبل چشم بصیرت سے جائزہ کیوں نہیں لیتے تاکہ ان کا سدباب کیا جائے ؟

ہم میں سے بعض افراد تو فقط فرنگی تعلیم گاہوں میں مرد و زن کے باہمدگر اختلاط پر نکتہ چیں ہیں جبکہ بعض اپنے ازلی بغض کی بنا پر ناوک الزام کا رخ مدارس کی جانب کیے ہوئے ہیں غرضیکہ ہر دو نےاپنے حلقہ میں پائی جانے والی برائی سے آنکھیں موند رکھی ہیں۔ایک دوجے پر زبان طعن دراز کرنے کی بجائے کیا یہ بہتر نہ ہوگا کہ اپنی اپنی "منجھی" کے نیچے "ڈانگ" پھیری جائے اور اپنے دامن پہ لگے داغ کو دھویا جائے ؟ ناقدانِ مدارس عصری تعلیم گاہوں میں پائی جانے والی تلویثات سے آخر اغماض کیوں برت رہے ہیں جبکہ شبانہ روز بچشم خود شہوت کے ننگے ناچ کا مشاہدہ بھی کرتے ہیں ؟ کیا سکول و کالج میں جاری بے ہودگیوں اور ڈیٹ کلچر سے وہ یکسر نا آشنا ہیں یا تجاہل عارفانہ کا مظاہرہ ان کی طینت کا جزو لاینفک بن چکا ہے؟

یہ بھی پڑھیں:   ہم سا وحشی کوئی جنگل کے درندوں میں نہیں - رابعہ انعم

اگر دوسری جانب نظر دوڑائی جائے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر مرد و زن کے باہمدگر اختلاط پر تقاریر جھاڑنے والے مولوی صاحبان بعض اقامتی مدارس میں نوعمروں کے بے جا اختلاط پر مہر بلب کیوں ہیں ؟! آئے روز خبروں کی زینت بننے والے جنسی تشدد کے واقعات کیا اسی بے اعتدالی کا نتیجہ نہیں ؟! تو پھر اس اختلاط کا جواز کیونکر نکلتا ہے ؟!

اے صاحبان عقل! ہوش کے ناخن لینے ہونگے اور طعن و تشنیع کی بجائے ایسے اسباب کا در مسدود کرنا ہوگا جن کا مسبب سفلانہ اطوار کی بھیانک صورت میں برآمد ہو رہا ہے ۔ نہ تو مسٹر حضرات مرد و زن کے اختلاط کا دفاع کریں اور نہ ہی مولوی صاحبان امردوں کے بے جا اختلاط کے لئے عذر لنگ تراشیں۔ اب عہد کرنا ہوگا کہ اپنے اپنے حلقہ اثر میں اس بے ہودگی کے خلاف نہ صرف آواز ہی بلند کریں گے بلکہ عملی اقدامات کی جانب پیش قدمی بھی ہو گی یہانتکہ ہم اپنے نونہالوں کو ایک محفوظ مستقبل دے سکیں۔