میاں صاحب کا پڑوسی - فیاض راجہ

ایک شخص کی کلہاڑی کھو گئی۔ اس کے دل میں شک بیٹھ گیا کہ کلہاڑی اس کے پڑوسی نے چرائی ہے اس نے پڑوسی کی چال کا بغور جائزہ لیا تو اس کی چال بالکل چوروں جیسی لگی۔ اس نے پڑوسی کے چہرے کے تاثرات دیکھے وہ بھی چوروں جیسے تھے۔ اس نے پڑوسی کا انداز گفتگو دیکھا وہ بھی بالکل چوروں جیسا تھا۔ مختصر یہ کہ پڑوسی کی ساری حرکات و سکنات چور ہونے کی چغلی کھاتی تھیں۔ ایک دن وہ آدمی کسی کام سے اپنے گھر کے کباڑ خانے میں گیا تو اسے وہاں کلہاڑی پڑی نظر آئی۔ اس کے بعد اسے اپنے پڑوسی کی تمام حرکات و سکنات میں "معصومیت" نظر آنے لگی۔

بات تو کوئی ساڑھے 36 برس پرانی ہے مگر یاد کرانی اس لئے بھی ضروری ہے کہ تاریخ درست رہے اور حامل ہذا کے مطالبے پر دہرائی بھی جاسکے۔ سال 1981 کا تھا، مہینہ اپریل اور تاریخ 26، ملک کے اخبارات میں ایک جلی سرخی لگی۔ " پنجاب کی نو رکنی کابینہ حلف اٹھالیا۔” حلف لینے والے فوجی وردی میں ملبوس گورنر پنجاب کا نام جنرل غلام جیلانی تھا اور حلف اٹھانے والے نو " چنے ہو ئے" وزرا میں ایک نام ملک کے سابق نااہل وزیرعظم نواز شریف کا تھا۔ تین بار ملک کے وزیراعظم کے عہدے پر پہنچنے کا منفرد ریکارڈ رکھنے والے میاں نوز شریف نے اپنے سیاسی سفر کا آغاز آج سے ساڑھے 36 برس قبل, 25 اپرل 1981 کو کیا تھا۔ پنجاب کی نو رکنی کابینہ میں میاں صاحب کو خزانہ، ایکسائز اور ٹیکسیشن کا قلمدان سونپا گیا تھا۔ یوں ان کو گویا پنجاب کے سرکاری خزانے کی "چابیاں" عنایت کی گئی تھیں۔

تاریخ گواہ ہے کہ ملک کے سابق نااہل وزیراعظم نواز شریف نے اپنے سیاسی سفر کا آغاز آمر مطلق، سابق صدر، جنرل ضیاالحق کی چھتری تلے، سابق گورنر پنجاب جنرل غلام جیلانی کے "دست شفقت" سے کیا تھا۔ان کی واحد سیاسی قابلیت ذوالفقار علی بھٹو کی مخالفت اور آمر جنرل ضیاالحق کے مارشل لا کی حمایت تھی۔ یہ میاں صاحب کی سیاسی زندگی کا پہلا چھکا تھا جس میں بلاشبہ " امپائر" کے فیصلے اور اس کی کھڑی کی ہوئی "انگلی" کا پورا کردار تھا۔ میاں صاحب کی سیاسی زندگی کا دوسرا چھکا بھی اتفاق سے اپریل ہی کے مہینے میں لگا جب 9 اپریل 1985 کو پنجاب کے سابق صوبائی وزیر میاں نواز شریف نے پنجاب کے وزیراعلی کے عہدے کا حلف اٹھایا۔ میاں صاحب کے واضح حریف مخدوم ذادہ حسن محمود تھے جنہیں اپنے برادر نسبتی پیر صاحب پگارا کی حمایت بھی حاصل تھی مگر میاں نواز شریف، صدر جنرل ضیاالحق اور گورنر پنجاب لیفٹنٹ جنرل غلام جیلانی کی"سرپرستی" سے وزارت اعلی کا عہدہ حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔

29 مئی 1988 کو صدر جنرل ضیاالحق نے قومی اسمبلی اور وفاقی کابینہ توڑنے اور وزیراعظم محمد خان جونیجو کو معزول کرنے ک اعلان کردیا۔ بجا طور پر، وزیراعظم محمد خان جونیجو کی جانب سے اوجڑی کیمپ کمیشن کی تحقیقات کی تہہ تک پہنچنے کے ارادے اور صدر جنرل ضیا الحق سے اختیارات حاصل کرنے کے وعدے کے باعث آمر مطلق نے انتقامی کارروائی میں یہ قدم اٹھایامگر اس دور میں میاں صاحب کا یہ بیان اخبارات کی زینت بنا۔ " 29 مئی کا ایکشن کیوں ہوا، میں اس کی تفصیل میں نہیں جانا چاہتا۔ مجھے اس کی وجوہات کا علم ہے تاہم اس کے تذکرے کی ضرورت نہیں مگر صدر نے جو اقدام اٹھایا ان کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ کار بھی نہیں تھا۔ "

اکتوبر 1988 میں اسٹیبلشمنٹ نے پیپلز پارٹی اور محترمہ بے نظیر بھٹو کا راستہ روکنے کا منصوبہ بنایا تو ایک بار پھر ان کی "نظر کرم" میاں نوازشریف پر ہی پڑی۔ پیپلز پارٹی کے خلاف نو سیاسی اور دینی جماعتوں نے اسلامی جمہوری اتحاد کے نام سے ایک نیا سیاسی اتحاد بنانے کا اعلان کیا۔ اتحاد کا سربراہ غلام مصطفی جتوئی کو، سیکرٹری جنرل پروفیسر غفور احمد کو مقرر کیا گیا تاہم اس کی تمام تر سیاست میاں نواز شریف کی شخصیت کے گرد گھومتی رہی۔ اتحاد پیپلز پارٹی کو شکست تو نہ دے سکا مگر امپائر کی انگلی کا اشارہ سمجھنے کی "صلاحیت"کے باعث ہی 1988 کے عام انتخابات کے نتیجے میں میاں صاحب کے "حصے" میں ایک بار پھر پنجاب کی وزارت اعلی آگئی۔

اکتوبر 1990 میں ہونے والے عام انتخابات میں پیپلز ڈیموکریٹک الائنس کے مقابلہ حسب سابق اسلامی جمہوری اتحاد سے تھا جس کے سربراہ میاں نواز شریف تھے۔ یہ انتخابات اس نگران حکومت کے تحت منعقد ہورہے تھے جس کے سربراہ غلام مصطفی جتوئی تھے اور جن کی کابینہ میں چوہدری شجاعت حسین سے لیکر عابدہ حسین تک سبھی ایسے لوگ شامل تھے جو اور کچھ بھی ہوں، غیر جانبدار بہرحال نہیں کہلا سکتے تھے۔ اسٹیبلشمنٹ نے صوبائی حکومتوں کی تشکیل میں بھی یہ " بنیادی مقصد " کسی بھی لمحے اوجھل نہیں ہونے دیا کہ پیپلز پارٹی کی ایک موثر سیاسی قوت کی حیثیت کو تباہ وبرباد کرنا ہے۔ چنانچہ ان انتخابات کا نتیجہ وہی نکلا جو نکلنا چاہیے تھا۔ پیپلز پارٹی ان انتخابات میں 1988 کے عام انتخابات کی نسبت 5 لاکھ زیادہ ووٹ حاصل کرکے بھی قومی اسمبلی کی فقط 44 نشستیں ہی حاصل کرسکی جبکہ اسلامی جمہوری اتحاد جس نے پیپلز پارٹی کے حاصل کردہ مجموعی ووٹوں سے فقط ایک لاکھ 13 ہزار ووٹ زیادہ حاصل کئے تھے، قومی اسمبلی کی 106 نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب ہوگیا۔دلچسب بات یہ تھی کہ جن حلقوں میں پیپلز پارٹی کے امیدوار کامیاب ہو ئے ان میں ووٹروں کا ٹرن آوٹ کم و بیش وہی تھا جو 1988 کے عام انتخابات میں رہا تھا جبکہ جن حلقوں سے اسلامی جمہوری اتحاد کے امیدوار کامیاب ہو ئے ان میں ووٹروں کا ٹرن آوٹ حیران کن طور پر 10 فیصد بڑھا ہوا تھا۔

برسوں بعد مشہور زمانہ اصغر خان کیس نے ان انتخابات کی " حقیقت " سپریم کورٹ میں واضح کردی تھی مگر یہاں بھی " امپائر کی انگلی " کام آئی اور میاں صاحب سمیت کئی جرنیل "بے گناہ "قرار پائے۔بہر حال ان انتخابات کے نتیجے میں جو قومی اسمبلی وجود میں آئی اس کی "بانی " وہ طاقتیں جنہوں نے بے نظیر بھٹو کو راستے سے ہٹایا تھا ۔ آئی جے آئی کو بنوایا اور پھر " کامیاب " بھی کروایا تھا،میاں نواز شریف ہی کو برسر اقتدار دیکھنا چاہتی تھیں۔ چنانچہ ان طاقتوں کی کوششیں بار آور ثابت ہوئیں اور میاں نواز شریف 6 نومبر 1990 کو بالآخر وزارت عظمی کے منصب سے " فیض یاب" ہوگئے۔

میاں صاحب کی سیاسی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو وہ پہلی بار صوبائی وزیر، پہلی بار وزیراعلی پنجاب اور پہلی بار وزیراعظم،" امپائر" کے فیصلے اور اس کی "انگلی" کی مدد ہی سے بنے۔ عرض صرف اتنا ہے کہ میاں صاحب کبھی اپنے گھر کے تاریخی کباڑ خانے کا بھی " وزٹ " کریں۔ شاید انہیں وہاں امپائر کی "تصویر"، امپائر کے دائیں ہاتھ کی شہادت کی "انگلی" اور امپائر کے بائیں ہاتھ کے "دستانے" کے علاوہ وہ" کلہاڑی" بھی نظر آجائے جو ہمارے میاں صاحب اقتدار ملنے کے چند عرصے بعد، ہر دو چار مہینوں کو، اپنے پیروں پر مارنے کا دلفریب مظاہرہ کرتے رہے ہیں۔ شاید گھر میں موجود، تاریخ کے کباڑ خانے میں، کلہاڑی ملنے سے، میاں صاحب کو اپنے "پڑوسی" کی حرکات و سکنات میں کچھ نہ کچھ "معصومیت" نظر آنے لگے۔

Comments

فیاض راجہ

فیاض راجہ

محمد فیاض راجہ ڈان نیوز کے نمائندہ خصوصی ہیں۔ 16 برس سے شعبہ صحافت سے وابستگی ہے۔ نوائےوقت، جیو نیوز، سما ٹی وی اور 92 نیوز کے ساتھ کام کر چکے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.