ناکام ازدواجی زندگی کی وجوہات اور مسائل - امجد طفیل بھٹی

آج کل ہم اگر اپنے ارد گرد نظر دوڑائیں تو سینکڑوں ایسی مثالیں مل جائیں گی کہ مرد نے عورت کو طلاق دے دی یا پھر عورت نے مرد سے خلع لے لی اگرچہ پاکستان میں خلع لینے والی خواتین کی تعداد مغربی ممالک کی نسبت بہت ہی کم ہے اور اس کی وجوہات ہمارا خاندانی نظام، رکھ رکھاؤ اور خواتین کا کم تعلیم یافتہ ہونا ہیں۔ ناکام ازدواجی زندگی کی وجوہات کی بات اگر کی جائے تو ان گنت وجوہات ہم گن سکتے ہیں۔ سب سے بڑی وجہ صرف اور صرف ایک ہی ہے یعنی کہ امیدوں کا پورا نہ ہونا۔ اکثر اوقات شوہر یا بیوی ایک دوسرے سے اس قدر امیدیں وابستہ کر لیتے ہیں کہ جب وہ پوری نہیں ہوتیں تو پھر تلخیاں بڑھتی جاتی ہیں اور نتیجہ علیحدگی تک جا پہنچتا ہے اور جو کہ اللہ کے نزدیک جائز کاموں میں سے سب سے ناپسندیدہ عمل ہے۔

علیحدگی کی تمام وجوہات کو چند الفاظ میں قید کرنا نا ممکن ہے کیونکہ چھوٹی چھوٹی وجوہات اس قدر زیادہ ہیں کہ گننا مشکل ہے۔ مثلاً ایک وجہ دونوں میاں بیوی کی عمر میں فرق بھی ہے کیونکہ جب بھی دونوں میں سے ایک زیادہ بڑا ہو گا تو وہ دوسرے پارٹنر سے بھی وہی ذہنی پختگی کی توقع رکھے ہوئے ہوتا ہے لیکن جب بھی دونوں کی عمر میں زیادہ فرق ہوتا ہے تو پھر ذہنی ہم آہنگی کا فقدان علیحدگی کا سبب بن جاتا ہے۔ علیحدگی کی ایک وجہ ہمارا مشترکہ خاندانی نظام بھی ہے کیونکہ جب بھی ایک لڑکی کی شادی دوسرے خاندان یا پھر ایسے گھر میں ہوتی ہے جہاں پر مشترکہ خاندانی نظام لاگو ہوتا ہے تو وہ کبھی بھی اس میں ضم نہیں ہوپاتی جس وجہ سے تلخیاں بڑھتے بڑھتے بات علیحدگی تک جا پہنچتی ہے۔ ایک اور سب سے بڑی وجہ جو کہ طلاق کا سبب بنتی ہے وہ ہے معاشی مسئلہ کیونکہ آج کل مہنگائی اور بے روزگاری اس قدر بڑھ چکی ہے کہ کسی بھی متوسط روزگار یا مزدوری والے شخص کا اپنے گھر کے اخراجات پورے کرنا مشکل ہی نہیں ناممکن بھی ہے اس لیے اخراجات پورے نہ ہونے کی وجہ سے آئے روز سینکڑوں گھروں میں لڑائی جھگڑے معمول کی بات ہے جس کا حتمی نتیجہ اکثر اوقات طلاق یا خلع تک پہنچ جاتا ہے۔

اکثر سیانے کہتے ہیں کہ شادی بنیادی طور پر compromise یعنی مصالحت کا دوسرا نام ہے۔ یہ ایک ایسا رشتہ ہے جس میں دو مختلف صفات کے حامل انسانوں کو اکھٹے رہنا ہوتا ہے اور یہ تو کبھی بھی نہیں ہوسکتا کہ کوئی بھی انسان خامیوں سے پاک ہو اس لیے دونوں کو ایک دوسرے کی خامیوں، غلطیوں اور کوتاہیئوں کو نظرانداز کرنے سے ہی پُر سکون زندگی کا اہتمام کیا جا سکتا ہے۔ دونوں کو ایک دوسرے کو سمجھنا انتہائی ضروری ہے۔

اور ایک دوسرے کو سمجھنے کے لیے کچھ وقت آپس میں اکھٹے گزارنا بہت ضروری ہوتا ہے کیونکہ عُجلت میں کیے گئے اکثر فیصلے صحیح نہیں ہوتے اور پچھتاوے کا باعث بنتے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں علیحدگی اختیار کرنے والوں چاہے مرد ہوں یا خواتین ہوں کی زندگی پر یہ ایک دھبے کی طرح لگ جاتی ہے اور اس کے بعد خاص طور پر خواتین کو دوبارہ شادی کرنے کے لیے بے شمار مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور ان گنت چبھتے سوالات کا جواب دینا پڑتا ہے کیونکہ ہمارے ہاں اکثر طلاق کی وجہ لڑکی کی غلطی یا نقص ہی قرار پاتی ہے اور دوبارہ شادی کی خواہش اگر پوری ہو بھی جائے تو پھر کبھی بھی اپنی پسند کا رشتہ اسے نہیں مل سکتا، جبکہ دوسری طرف لڑکے کے لیے بھی دوبارہ شادی ایک مسئلہ ضرور ہے مگر اتنا زیادہ نہیں کیونکہ اکثر اوقات ہمارے ہاں لوگ روپے پیسے، رہن سہن اور ظاہری شان و شوکت کو دیکھتے ہیں کیونکہ کہتے ہیں ناں کہ پیسہ ہر عیب چھُپا لیتا ہے۔

ہمارے معاشرے میں طلاق اور خلع کی وجوہات میں ایک اور وجہ جو قابلِ ذکر ہے وہ ہے نا خواندگی یعنی تعلیم کی کمی، کیونکہ جب تعلیم کی کمی ہوگی تو پھر بے بنیاد باتوں اور توہمات کی وجہ سے بھی رشتے ٹوٹ جاتے ہیں مثلاً اکثر اوقات اگر کسی شادی شدہ جوڑے ہاں اولاد نہ ہو رہی ہو تو گھر کی بڑی بوڑھیاں لڑکی پر اُنگلی اٹھانا شروع کر دیتی ہیں کہ اولاد کا نہ ہونا لڑکی کی وجہ سے ہی ہے اور بغیر چیک اپ کرائے کہ میڈیکل مسائل لڑکے کے ساتھ ہیں یا پھر لڑکی کے ساتھ۔ بس اس وجہ کو لے کر اور کوئی علاج کرائے بغیر گھر کے افراد لڑکے کو دوسری شادی پہ اُکسانا شروع کر دیتے ہیں جو کہ آہستہ آہستہ میاں بیوی کے درمیان دوریاں بڑھانے کا سبب بنتی ہیں۔ اگر معاشرے میں تعلیم عام ہو تو بجائے اس کے کہ اتنی چھوٹی سی وجہ کو دو انسانوں کی زندگیاں تباہ بننے دیا جائے کوئی قابل عمل حل نکالا جا سکتا ہے۔

بات اگر توہم پرستی کی کی جائے تو بعض اوقات ایک کامیاب ازدواجی زندگی بھی ناکام ہوجاتی ہے کیونکہ ہمارے ہاں ابھی تک لوگ یہ سوچتے ہیں کہ اُن کی زندگی میں مصیبتیں، پریشانیاں اور معاشی تنگی بھی اُن کی شریکِ حیات کی وجہ سے ہی ہے اور اس توہم کو مزید تقویت اُس وقت ملتی ہے جب دوسرے لوگ اُن کی زندگی میں بے جا مداخلت کے ذریعے عموماً مرد حضرات کو اس بات پر قائل کر لیتے ہیں کہ بیوی سے چھُٹکارے کے بعد اسکی زندگی پُرسکون ہوجائے گی۔

اسی طرح ایک شادی کی ناکامی دو افراد کی زندگی کی ناکامی نہیں ہے بلکہ اگر انکے بچے ہوں تو اُن بچوں کا مستقبل بھی دوراہے پر کھڑا ہوجاتا ہے اور اُن کی زندگی کبھی بھی ایک نارمل انسان کی طرح نہیں گُزر سکتی بلکہ کوئی نہ کوئی کمی ایسی ضرور ہوتی ہے جو کہ عُمر بھر اُن بچوں کو یہ احساس دلاتی رہتی ہے کہ اُنکے ماں باپ کی لڑائی میں اُنکا کیا قصور تھا جو اُنکو اتنی بڑی سزا بھُگتنا پڑ گئی؟ کیونکہ وہ کسی نہ کسی رشتہ دار کے رحم و کرم پر زندگی گزارتے ہیں یا پھر اپنے سوتیلے ماں یا باپ کے ساتھ۔ اور کبھی بھی سوتیلے ماں یا باپ اُنہیں وہ توجہ نہیں دے سکتے جو سکتے والدین دے سکتے ہیں۔ اس لیے کسی بھی علیحدگی کے فیصلے سے پہلے اگر بچوں کی زندگی کو اپنی انا اور خواہشات پہ فوقیت دی جائے تو بہت سارے انسانوں کی زندگی تباہ ہونے سے بچ سکتی ہے۔

Comments

Avatar

امجد طفیل بھٹی

امجد طفیل بھٹی پیشے کے لحاظ سے انجینئر ہیں اور نیشنل انجینیئرنگ سروسز (نیس پاک) میں سینئر انجینیئر کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ آپ مختلف اردو روزناموں اور ویب سائٹس کے لیے سماجی و سیاسی موضوعات پر لکھتے رہتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com