خود کو بدلیے - روبینہ شاہین

انگریزی محاورہ ہے کہ Change is everything۔ اگر دیکھا جائے تو یہ بات بڑی حد تک سچ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو تخلیق فرمایا اور اس کی جبلّت میں بے چینی اور اضطراب رکھ دیا۔ جب وہ مسلسل ایک ہی کیفیت میں رہتا ہے تو اس کے اندر کی بے چینی انگڑائی لیتی ہے اور پھر نت نئی ایجادات ظہور پذیر ہوتی ہیں۔ یہ خوبی بھی حضرت انسان کا وصف ہے کہ وہ باقی جانداروں میں اکیلا جاندار ہے جو ایجادات کرتا ہے۔ مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ انسانوں میں تخلیقی صلاحیت کم ہوتی جا رہی ہے۔ انسان ایک خاص انداز میں سوچنے کے عادی بن چکے ہیں اور اس وجہ سے ترقی کے بے شمار موقع کھوتے جا رہے ہیں۔ نئی چیزوں، نئے آئیڈیاز کو قبول کرنے کی صلاحیت تب جنم لیتی ہے جب پرانی سوچ کو اتار پھینکتے ہیں۔ بقول اقبال

آئین نو سے ڈرنا طرز کہن پر اڑنا

منزل یہی کھٹن ہے قوموں کی زندگی میں

جو لوگ اور جو قومیں بدلتی نہیں وہ اس کھڑے پانی کی طرح ہیں جو کھڑے کھڑے بدبودار ہو جاتا ہے۔ سورہ الرعد میں ارشاد باری تعالیٰ ہے "اللہ تعالیٰ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اسے نہ بدلیں جو ان کے دلوں میں ہے۔ " اسی آیت کو بعینہ شعر میں ڈھالا گیا ہے:

خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی

نہ ہو خیال جسے خود اپنی حالت بدلنے کا

بدلنے کے لیے دماغ کھولنا پڑتا ہے۔ کہا جاتا ہے بند دماغ ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ نئی سوچ تبدیلی لاتی ہے۔ نئی سوچ اس لیے پیدا نہیں ہوتی کیونکہ ہمیں سوچنا آتا ہی نہیں۔ نئی سوچ کی مثال بھی پگڈنڈی جیسی ہے مثلاً آپ ایک کھیت سے گزرتے ہو جہاں پہلے سے راستہ نہیں ہے۔ تو پہلے دن آپ شاخوں سے الجھتے الجھاتے گزریں گے۔ کچھ دنوں کے بعد آپ دیکھیں گے کہ راستہ بننا شروع ہو گیا ہے۔ بالکل سوچ کا بھی یہی معاملہ ہے۔ جب پہلی بار سوچا جاتا ہے تو چونکہ وہ سوچ نئی ہوتی ہے اس لیے اسے راستہ نہیں ملتا۔ بار بار سوچنے سے انسان کی سوچ کو راستہ ملنا شروع ہو جاتا ہے اور بالآخر آپ دماغ کو پٹڑی پر لے آتے ہو۔ ابوالحکم کو ابوجہل اس کی قدامت پسندی نے بنایا کیونکہ وہ نیا سوچنے کو تیار ہی نہیں تھا۔ آیئے دیکھتے ہیں کہ وہ کون سے عوامل ہیں جو تبدیلی کی راہ میں رکاوٹ ہیں؟

یہ بھی پڑھیں:   فارورڈ بلاک کی ہوائی کہانیاں - شہزاد حسین بھٹی

تبدیلی کے راستے کی ایک بڑی رکاوٹ خوف ہوتا ہے۔ خوف انسان کو پابند سلاسل کر دیتا ہے۔ خوف کی حقیقت کو سمجھ جائیں گے تو بے خوف ہو جائیں گے۔ قرآن کہتا ہے کہ ہم ضرور آزمائیں گے بھوک سے، جنگ سے۔ اس سے پتہ چلا کہ انسان کو تین بڑے خوف لاحق رہتے ہیں۔ جان کا خوف، بھوک کا خوف اور غربت کا خوف۔ انسان فقط اتنا یاد رکھنا چاہیے کہ اللہ ہر اس خوف۔ سے بڑا ہے جو انسان کو لاحق ہو سکتا ہے۔ خوف آزمائش ہے۔ بندۂ مومن اگر ان تینوں مواقع پر صبر کا دامن ہاتھ سے نہیں جانے دیتا تو کامیاب و کامران ٹھہرتا ہے۔ نہیں تو ناکامی دونوں جہاں میں اس کا مقدر ٹھرتی ہے۔ کا میابی کی چابی یہ ہے کہ انسان لا خوف ہو کر زندگی گزارے۔ ریسرچ بتاتی ہے کہ 90 فیصد خوف بے حقیقت ہوتے ہیں۔

تبدیلی کے راستے کی ایک بڑی رکاوٹ ناخواندگی ا ور ہمارا نظام تعلیم ہے۔ اوّل تو لوگ پڑھنے کی طرف نہیں آتے اور آ بھی جائیں تو ہمارا تعلیمی نظام اتنا ناقص ہے کہ دماغ سوچنے پر آمادہ ہی نہیں کرتا۔ رٹّا سسٹم میں ڈگری تو مل جاتی ہے مگر تخلیقی صلاحیتیں ختم ہو جاتی ہیں۔ کچھ سالوں سے پاکستانی معاشرے میں ایک اچھی تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے۔ 'سیلف ہیلپ' کا مضمون جو مغرب میں پڑھایا جاتا تھا اب ہمارے ہاں بھی پڑھایا جانے لگا ہے۔ لوگ بڑے شوق سے ان سمینارز میں جاتے ہیں اور سیکھتے ہیں۔

تبدیلی کے راستے کی ایک اور رکاوٹ فکسڈ مائنڈ سیٹ ہے۔ ایسے لوگ چھوٹی چھوٹی چیزیں میں بھی تبدیلی گوارا نہیں کرتے تو بڑی چیزوں میں کیسے کریں گے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ انسانی دماغ اتنا مضبوط ہے اور اس سے بھی مضبوط انسان کا ارادہ ہے اگر انسان تہیہ کر لے تو وہ خود کو بدل سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   عمران خان ایماندار تو ہے - آصف محمود

تبدیلی کے راستے کی ایک بڑی وجہ اندھی تقلید بھی ہے۔ اندھی تقلید والا انسان دماغ سے ماورا ہو کر زندگی گزارتا ہے۔ کیوں ہو رہا ہے اور کیسے ہو رہا ہے؟ سے اسے کوئی مطلب نہیں ہوتا۔ قرآن ایسے لوگوں کو اندھے اور گونگے بہرے کہتا ہے۔

ایک اورعنصر جو ہماری سوچ کو سلب کر رہا ہے ہمارا معاشرتی سیٹ اپ ہے۔ بہت کم لوگ سوسائٹی میں ایسے دکھائی دیتے ہیں جو نئی بات کو سراہتے اور اس کی حوصلہ افزائی کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ معاشرے میں تعلیم کو عام کیا جائے۔ سیلف ہیلپ سپیکرز اس میں بھر پور رول ادا کر سکتے ہیں۔ فکس مائنڈ سیٹ والوں کو آگاہی دی جائے کہ وہ کیسے خود کو تبدیلی پر آ مادہ کر سکتے ہیں۔ لا خوف ہو کر زندگی گزاری جائے۔

مشرق سے ہو بیزار نہ مغرب سے حذر کر

فطرت کا ہے ارشاد کہ ہر شب کو سحر کر

Comments

روبینہ شاہین

روبینہ شاہین

روبینہ شاہین کا تعلق زندہ دلانِ لاہور سے ہے۔ اسلامک اسٹڈیز میں ایم فِل کیا ہے۔ فکشن کم اور نان-فکشن زیادہ لکھتی ہیں۔ پھول، کتابیں، سادہ مزاج اور سادہ لوگوں کو پسند کرتی ہیں اور علامہ اقبالؒ سے بہت متاثر ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.