من شریف ؟ انا شریف …! - حسیب احمد حسیب

یہ واقعہ ہے "شریف" دور کا ، ٹو تھرڈ مینڈیٹ والے شریف کا نہیں ۔ ذکر ہو رہا ہے شریف مکّہ کے دور کا کہ جب سرزمین عرب سونا نہیں اگلتی تھی، غربت کا دور تھا اور انارکی پھیلی ہوئی تھی۔ جنگ عظیم دوم کے خاتمے کے بعد سورج برطانیہ غروب کے قریب تھا شیخ الحدیث مولانا زکریا رح کی جوانی کا دور تھا۔ آپ سرزمین عرب میں مکّہ اور مدینہ کے درمیان محو سفر تھے۔ عرب بدوی اس وقت کے واحد ذریعہ سفر اونٹوں کے مالک تھے اور جب ان سے ان کے کسی ظلم پر کہا جاتا تمہاری شکایت شریف سے کر دی جائے گی تو وہ جواباً کہتے، ، من شریف ؟ انا شریف " کون شریف؟ میں ہوں شریف "۔

فطرت انسانی کی بوقلمونیاں عجیب و غریب ہیں یہ کمزور سی مخلوق ذرا سی طاقت حاصل ہونے کے بعد" میں خدا ہوں !" کا نعرہ لگانے سے گریز نہیں کرتی۔ مسلسل فنا کی دہلیز پر کھڑی یہ ہستی جانتی ہے اگلا قدم موت کی وادی میں لے جا سکتا ہے لیکن اس کو کوئی پروا نہیں چند لمحے جو ادھار ملے ہیں، ان میں صدیوں کی منصوبہ بندی انسان ہی کا کمال ہے ۔

گروہ بندی اور اجتماعیت انسان بہترین معاشرتی قووتیں ہیں جن کی بنیاد پر تہذیب انسانی ارتقائی منازل طےکرتی ہے کسی بھی گروہ کو جوڑنے والے اور چلانے والے کئی محرک ہو سکتے ہیں، قومی، قبائلی، نظریاتی یا پھر مذہبی عنوانات مگر ان سب کا بنیادی جوہر باہمی مفاد یہ پھر مشترکہ مفادات ہیں ۔ مفادات کی نوعیت مختلف ہو سکتی ہے کہیں خیر اور کہیں شر کے عنوانات واضح ہوتے ہیں اس خیر اور شر کے توازن کے لیے کچھ اصول مرتب کیے جاتے ہیں یا پھر فطری طور پر ہو جاتے ہیں تاکہ نظم اجتماعی قائم رہے ۔ یہ نظم اجتماعی بقاء باہمی کے لیے لازم ترین امر ہے اس کے بغیر بقاء باہمی نا ممکن ہے اگر یہ نظم اجتماعی نہ ہو تو ہر بڑی قوت چھوٹی قوتوں کو کھا جائے اور انسانی معاشرہ جانوروں کا معاشرہ بن کر رہ جائے ۔ یہ اصول اور قوانین مرتب کرنے والی قوت یا تو شعور انسانی ہے، جس میں غلطی کا احتمال انسانی کی فطرت کے تحت عین ممکن ہے یا پھر الله کا نازل کیا ہوا قانون!

وہ تمام معاشرے جو اپنی فطرت سلیم سے ہٹ جاتے ہیں اور کسی بھی قانون کی پاسداری وہاں موجود نہیں رہتی ان معاشروں میں اگر کوئی قانون باقی رہتا ہے تو وہ جنگل کا قانون کہلاتا ہے جس میں بنیادی مقصود اپنی بقاء کی جنگ ہوتا ہے، چاہے اس کے لیے دوسروں کو شکار ہی کیوں نہ کرنا پڑے ایسا معاشرہ ایک وحشی معاشرہ ہوتا ہے ۔

"مافیا" اطالوی زبان کا لفظ ہے جس کی جائے پیدائش سسلی ہے۔ اس کا وجود اٹھارویں صدی کے اواخر اور انیسویں صدی کے اوائل میں ہوا تھا۔ سسلی کا یہ مافیا سب سے پہلے ایک لسانی تنظیم کے طور پر وجود میں آیا جو ہسپانوی نژاد باشندوں کے سیاسی اور معاشی اقتدار کے خلاف بنی۔ ان کی شروع شروع کی کارروائیاں خفیہ تھیں۔ لیکن انہوں نے اپنے آپ کو ایک سیاسی تنظیم کے طور پر پیش کیا جو سسلی کے عوام کے حقوق کی جنگ لڑ رہی ہو۔ ان لوگوں نے اپنی صفوں میں ایسے غنڈے بھرتی کر رکے تھے جو حکومت، سرمایہ داروں اور جاگیرداروں کے خلاف استعمال ہوتے۔ کیونکہ یہ لوگ ایک ایسے شہر میں اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے تھے جو تجارتی مرکز بھی تھا اور بحیرہ قلزم کی ایک اہم ترین بندرگاہ بھی۔ اس لیے انہیں حکومتوں کو دباؤ میں لانا بہت آسان تھا۔ یہ وہ دور تھا جب اس علاقے میں انارکی، قانون کی عدم موجودگی اور حکومتی اختیار کی بے بسی نمایاں تھی۔١٨٤٨ء سے ١٨٦٠ء تک مافیا نے اپنے آپ کو سسلی کا بلاشرکت غیرے مالک بنائے رکھا۔ آج اس مافیا کلچر نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا قانون ہر جگہ لاگو ہے۔ مفادات کی شراکت کے تحت بننے والے ہر گروہ کے ساتھ "مافیا" جڑا نظر آتا ہے۔ پیٹرول مافیا، بھتہ مافیا، سیاسی مافیا، سرکاری مافیا، دودھ مافیا، ذخیرہ اندوز مافیا اور تو اور اب تو ڈاکٹر اور وکیل مافیا بھی میدان میں آ گئی ہیں ۔

افسوس تو یہ ہے کہ وہ معاشرے جو اسلامی کا لاحقہ اپنے ساتھ رکھتے ہیں وہاں بھی "مافیا" اسی آب و تاب کے ساتھ پرورش پا رہی ہیں بلکہ اگر یہ کہا جانے کہ ان کی افزائش دو چند ہے تو غلط نہ ہوگا ۔ گروہی عصبیت ایسی دیمک ہے جو معاشروں کو خاموشی مگر تیز رفتاری سے کھوکھلا کرتی ہے اور لاٹھی کے ٹوٹنے پر معلوم پڑتا ہے کہ دکھائی دینے والی قوت کب کی رخصت ہو چکی تھی ۔

اپنے ارد گرد نظر ڈالیں بہت خلوص سے کھڑی ہونے والی تحاریک کس طرح گزرتے دور کے ساتھ "مافیا" کی شکل اختیار کرتی چلی گئیں اس کا اندازہ آپ کو بخوبی ہو جائے گا۔ مولانا امین احسن اصلاحی مرحوم کا جملہ یاد آ رہا ہے " جماعتیں مقاصد کو لیکر کھڑی ہوتی ہیں لیکن ان کو مغالطہ جب لگتا ہے جب وہ جماعت خود مقصود بن جائے۔ "

انحطاط اور پستی کی انتہا اس وقت دکھائی دیتی ہے جب لسانی اور قومی تحاریک چھوڑ خالص فکری اور دینی تحاریک بھی "مافیا" کی شکل اختیار کر جائیں ۔

اب آئیے ذرا دین حق کا مزاج ملاحظہ کرتے ہیں :

وَ اِنْ طَآىِٕفَتٰنِ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ اقْتَتَلُوْا فَاَصْلِحُوْا بَيْنَهُمَا١ۚ فَاِنْۢ بَغَتْ اِحْدٰىهُمَا عَلَى الْاُخْرٰى فَقَاتِلُوا الَّتِيْ تَبْغِيْ حَتّٰى تَفِيْٓءَ اِلٰۤى اَمْرِ اللّٰهِ١ۚ فَاِنْ فَآءَتْ فَاَصْلِحُوْا بَيْنَهُمَا بِالْعَدْلِ وَ اَقْسِطُوْا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِيْنَ۔ اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ اِخْوَةٌ فَاَصْلِحُوْا بَيْنَ اَخَوَيْكُمْ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَؒ اور اگر مسلمانوں کے دو گروہ آپس میں لڑیں تو ان میں صلح کراؤ پھر اگر ایک دوسرے پر زیادتی کرے تو اس زیادتی والے سے لڑو یہاں تک کہ وہ اللہ کے حکم کی طرف پلٹ آئے، پھر اگر پلٹ آئے تو انصاف کے ساتھ ان میں اصلاح کردو اور عدل کرو، بیشک عدل والے اللہ کو پیارے ہیں، لیکن بات یہاں تک کی ہی نہیں "قسط " کا تقاضہ اس سے بڑھ کر ہے ”اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے تو تحقیق کر لیا کرو، کہیں ایسا نہ ہو کہ تم کسی گروہ کو نادانستہ نقصان پہنچا بیٹھو اور پھر اپنے کیے پر پشیمان ہو۔ خوب جان رکھو کے تمہارے درمیان اللہ کا رسول موجود ہے۔”

بلا تحقیق کسی پر بھی جا پڑنا اور اپنے مفادات کے حصول کے لیے گروہی عصبیت میں اندھے ہو جانا کسی بھی درجہ میں اسلام کا منشا و مقصود نہیں سوال مسلمانوں کے باہمی جدل کا ہی نہیں بلکہ دشمنوں پر بھی ظالم بن کر جا پڑنا "قسط " کے خلاف ہے ۔

میرا خاندان میرا قبیلہ میری جماعت میرا طبقہ میرا گروہ میری قوم یا پھر میرے ہم پیشہ بھائی بند جہاں بھی جس بھی درجہ میں مفادات اصولوں پر فائق ہونگے "مافیاز" جنم لیتے رہیں گی۔

ٹیگز