مسلم لیگ میں نظریاتی تبدیلی - قیصر راجہ

دنیا میں دو غالب سیاسی نظریات ہیں، دایاں بازو اور بایاں بازو۔ بائیں بازو کا نظریہ رکھنے والے لوگ آزادی،لبرل ازم، انفرادیت اور من چاہی زندگی پر یقین رکھتے ہیں جبکہ دائیں بازو کا نظریہ معاشرتی اقدار، اجتماعیت اور معاشرتی ضابطوں کے تحفظ پر زور دیتا ہے۔ دونوں ہی نظریات کی اپنی اپنی انتہائیں ہیں۔ پاکستان میں عام طور پر سیاسی جماعتوں کو دائیں یا بائیں بازو کے لیبلز نہیں دیے جاتے مگر حقیقت میں پاکستانی جماعتیں ہمیشہ سے ان نظریات میں منقسم رہی ہیں۔

مثال کے طور پر جماعتِ اسلامی، مسلم لیگ اور دیگر مذہبی جماعتیں دائیں بازو کی جماعتیں ہیں جبکہ تاریخی طور پر پیپلز پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی بائیں بازو کی جماعتیں رہی ہیں۔ پاکستان کے سیاق وسباق میں ان نظریات اور سیاسی جماعتوں کی اہمیت یہ ہے کہ مغرب اپنے نظریات، جو کہ بائیں بازو پر مشتمل ہیں، کو ان جماعتوں کے ذریعے پھیلاتا ہے جو اپنے مزاج میں بائیں بازوں کے نظریے کے لیے نرم گوشہ رکھتی ہیں۔ پھر ان سیاسی جماعتوں کے لیے سپورٹ کا ایک میکانزم موجود ہوتا ہے جو این جی اوز اور میڈیا پر مشتمل ہوتا ہے۔ مزید یہ کہ انتہائی باصلاحیت لوگوں کو میڈیا پر جگہ دی جاتی ہے اور میڈیا ان شخصیات کے ذریعے معاشرے کی ذہن سازی کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ ان شخصیات میں عاصمہ جہانگیر، ماروی سرمد اور فرزانہ باری جیسی ہستیاں شامل ہیں۔ ان کوششوں کی روک تھام وہ جماعتیں کرتی ہیں جو نظریاتی طور پر دائیں بازو کی ہوتی ہیں۔ وہ میڈیا کی صفائی کرتی ہیں اور میڈیا کی عمومی پریکٹس کو بھی درست رکھتی ہیں۔

جن احباب کو 90 کی دہائی یاد ہے، ان کو علم ہوگا کہ مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی کی حکومتوں میں تبدیلی کے ساتھ پی ٹی وی پر خواتین نیوز کاسٹرز کے سروں پر دوپٹہ آتا اور جاتا رہتا تھا۔ مسلم لیگ دوپٹے کو قائم رکھتی تھی جبکہ پیپلز پارٹی کے دور میں وہ اتر جاتا تھا۔ اب تک کی تحریر سے یہ واضح ہو جانا چاہیے کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) نظریاتی طور پر دائیں بازو کی جماعت رہی ہے۔ لیکن انتہائی افسوس سے یہ بات احاطہ تحریر میں لانا پڑ رہی ہے کہ مسلم لیگ میں بھی اب نظریاتی تبدیلی آ رہی ہے۔ یہ جماعت بھی اب بائیں بازو کی جماعت بنتی جارہی ہے۔ اگر مسلم لیگ کے حالیہ کارناموں پر نظر دوڑائی جائے تو مندرجہ ذیل چیزیں نظر آئیں گی:

•ختمِ نبوتؐ پر ایمان والی قانونی شِق پر ناقابلِ فہم تبدیلی اور پھر اس کا انتہائی بھونڈا دفاع

•افواجِ پاکستان پر کھلی اور مغربی بیانیے کو تقویت دینے والی تنقید

•ٹرمپ کے ٹوئیٹ پر سابق وزیرِاعظم کا کہنا کہ ہمیں اپنا گھر بھی ٹھیک کرنا ہوگا

•ناقابلِ فہم حد تک بھارت کی طرف جھکاؤ

•ریکارڈ شکن قرضہ ( بیرونی قرضہ لینے کا مطلب اپنی خارجہ پالیسی کو گروی رکھنا ہوتا ہے)

اگر اوپر بیان کردہ سپورٹ میکانزم، یعنی این جی اوز، میڈیا اور ذہن ساز شخصیات، کا جائزہ لیا جائے تو ایک مخصوص میڈیا ہاؤس جو اپنے نیلے پیلے رنگ، بھارت نوازی اور تصویرِ ثقافت میں سے رنگِ حیا کو نکالنے کی وجہ سے جانا جاتا ہے، مسلم لیگ کی پشت پر نظر آتا ہے۔ محترمہ ماروی سرمد جیسی ہستیاں بھی اس وقت اس جماعت کے ساتھ بھرپور تعاون کرتی نظر آرہی ہیں۔ یہ بات سمجھنے کی ہے کہ پاکستان میں فعال موم بتی مافیا کی اپنی کوئی رائے اور موقف نہیں ہوتا۔ یہ صرف انگلیوں کے اشاروں پر حرکت کرتی ہے۔ ان کی مسلم لیگ (ن) کو سپورٹ کرنے والی حرکت بلا وجہ نہیں، بلکہ انتہائی منظم اور کسی کے اشارے کا نتیجہ ہے۔ان واضح ثبوتوں کے باوجود میں دعا گو ہوں کہ میرا مشاہدہ غلط ہو۔ مسلم لیگ بہرحال پاکستان کی ایک جماعت ہے اور اس میں اس طرح کی نظریاتی تبدیلی کبھی اچھی خبر نہیں ہو سکتی۔

Comments

قیصر احمد راجہ

قیصر احمد راجہ

قیصر راجہ یونیورسٹی آف بیڈفورڈ شائر میں قانون اور بزنس مینجمنٹ کے لیکچرر ہیں۔ مذہب اور سیاست میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ بزنس کنسلٹنسی کے حوالے سے Udemy پر آپ کا کورس بھی جاری ہو چکا ہے جبکہ نیو جورنال آف یورپین کرمنل لاء میں بھی تحقیق شائع ہو چکی ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.