ڈاکٹر قیامت مسعود، 35 اکاؤنٹس اور اربوں روپے - سمیع احمد کلیا

اسلام دین حق ہے اور مکمل ضابطہ حیات ہے۔ ہمارے ہاں ایک عمومی سوچ پائی جاتی ہے کہ اسلام بس عبادات کا نام ہے جبکہ حقیقت میں عبادت تو اس کا ایک جزو ہے۔ جو اصل چیز اسلام کو دیگر ادیان سے ممتاز کرتی ہے وہ اس کی معاشرت ہے اور اخلاقیات ہے۔ سید الانبیاؐ نے ہمیں اپنی سنت کے ذریعے بتایا کہ آپ کیسے ایک اچھے باپ، اچھے شوہر، اچھے دوست، اچھے تاجر، اچھے ہمسائے، اچھے ملازم، اچھے حکمران، اچھے سپہ سالار اور اچھے استاد بن سکتے ہیں۔ غرض یہ وہ دین ہے جس کی بنیاد اچھائی پر رکھی گئی ہے۔ اس کی تمام علامات مثبت اور اچھائی پہ مبنی ہیں ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ تم بہترین امت ہو تم نیکی کا حکم دیتے ہو اور برائی سے منع کرتے ہو۔

یہ ساری تمہید باندھنے کا مقصد یہ ہے کہ اسلام کی بنیاد مثبت ہے اور یہ ہر چیز کا مثبت پہلو دیکھنے کی تلقین کرتا ہے۔ اسلام مایوسی کی تعلیم نہیں دیتا۔ وہ روشنی کا راستہ دکھاتا ہے۔ اسی لیے مذکورہ آیت میں نیکی کا حکم یعنی مثبت بات پہلے کی گئی۔ اسی طرح اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآن میں جہاں بھی جنت اور جہنم کا ذکر کیا پہلے جنت کی بات کی ہے۔ کیونکہ دین کی اصل ہے ہی رجائیت پسندی یا امید پروری ہے، جس کو انگریزی میں optimism کہا جاتا ہے۔ اسلام قنوطیت یعنی pessimism کی حوصلہ شکنی کرتا ہے۔ سیدنا عمر فاروقؓ نے دُور سے آگ کا الاؤ دیکھا تو قریب جا کے فرمایا "اے روشنی والو!" یہ نہیں کہا "اے آگ والو" کیونکہ وہ منفی فقرہ ہے۔

اس جیسی بے تحاشا مثالیں ہیں جو ہمیں یہ سکھاتی ہیں کہ برائی کو اچھائی سے ہی ختم کیا جاتا ہے اور زندگی میں ایک اچھا انسان وہی ہے جو برے سے برے حالات میں بھی مثبت سوچ اور رویہ رکھتا ہو۔ لیکن بدقسمتی سے ہم نے وہ تمام تعلیمات اور سنتیں پس پشت ڈال دی ہیں۔ جس کی ایک مثال پچھلے دنوں پاکستان میں پیش آنے والے واقعے میں ہمارے سامنے ہے۔ قصور میں ننھی زینب کے قتل کے واقعہ نے پوری قوم کو ہلا کر رکھ دیا۔ اس واقعے میں ملوث شخص کی گرفتاری کے بعد سوشل میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا پر منفی صحافت کے وہ باب رقم کیے گیے ہیں کہ الامان والحفیظ!

ایک ٹی وی اینکر نے تو منفی صحافت کی ایک ایسی مثال قائم کی کہ پوری قوم کا ریاست کے اس چوتھے ستون سے اعتبار اٹھتا نظر آرہا ہے۔ غیر ذمہ داری کی بھی کوئی حد ہوتی ہے لیکن موصوف تمام حدود کو پھلانگتے چلے گئے۔ ایک عام آدمی بھی یہ جانتا ہے کہ جس بندے کے 3 بینک اکاؤنٹ بھی ہوں اور ان میں صرف 1 لاکھ بھی ہو تو اکاؤنٹ ہولڈر کی یہ حالت کبھی نہ ہوگی اور اگر کوئی گینگ ہوتا تو مجرم عمران علی اب تک زندہ نہ ہوتا۔ پھر بینک اکاؤنٹ کی تصدیق کون سی راکٹ سائنس ہے؟ نجانے حضرت کے پاس ایسی کون سی مصدقہ اطلاعات تھیں جن کے زعم میں اس نے پورے ملک میں سنسنی پھیلا کر رکھ دی؟

ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ پاکستان مسلم ملک ہے۔ اسلام ہمارا قومی مذہب ہے۔ دین ہمیں مثبت رویے اور سوچ کی دعوت دیتا ہے۔ اتنے نازک واقعے کے حوالے سے کسی بھی خبر کی پوری ذمہ داری سے چھان بین کی جانی ضروری تھی۔ اگر ان کے پاس ایسے شواہد ہیں جو کیس کی تفتیش میں معاون ثابت ہوسکتے تھے تو پھر متعلقہ اداروں کو تمام شواہد دیے جاتے تاکہ وہ تفتیش کرتے اور اگر ادارے اپنا فرض ادا نہ کرتے تو ٹی وی پر اعلان کرنے کے بجائے خاموشی سے عدالت کو ثبوت دے دیے جاتے۔ پھر اگر عدالت سمجھتی کہ اس اسٹوری کو میڈیا پر نشر ہونا چاہیے تو نشر کردیا جاتا۔

بحیثیت مسلمان ہماری یہ ذمہ داری ہے کہ ہم اچھائی کو پھیلائیں اور برائی کو دبائیں کیونکہ برائی کی تشہیر جتنی کم ہوگی وہ اتنا ہی کمزور ہوگی۔ اور معاشرے پر اپنے برے اثرات مرتب کرنے میں ناکام ہوگی۔ اور ایک اچھے مسلمان اور انسان کی یہی خصوصیت ہوتی ہے کہ وہ اپنے لوگوں کے لیے آسانیوں کا باعث بنتا ہے اور مشکلات کو دور کرتا ہے۔

Comments

Avatar

سمیع احمد کلیا

سمیع احمد کلیا پولیٹیکل سائنس میں گورنمنٹ کالج یونیورسٹی، لاہور سے ماسٹرز، قائد اعظم لاء کالج، لاہور سے ایل ایل بی اور سابق لیکچرر پولیٹیکل سائنس گورنمنٹ دیال سنگھ کالج، لاہور ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.