پدماوت: خوبصورت فلم، تاریخی آرٹسٹک فراڈ - اختر عباس

چند برس قبل ہندوستان کے شہر چندی گڑھ میں ایک میڈیاکانفرنس کے بعد منتظمین شہر کے ایک صاف ستھرے اور بارونق علاقے میں واقع ایک نئے سنیما ہال میں فلم دکھانے لے گئے۔ فلم کا نام ویر زارا تھا اور یہ ۴۸۔۱۹۴۷ء میں ایک پاکستانی لڑکی کی ہندوستانی پائلٹ لڑکے سے محبت کی داستان تھی۔ وہ لاہور اسے ملنے آتا ہے اور منگیتر صاحب دھوکے اور پولیس کی مدد سے اسے جیل بھیج دیتے ہیں جہاں وہ معصوم اور بے گناہ ہیرو اپنی پوری جوانی جیل کی کالی دیواروں کے پیچھے گزار دیتا ہے۔ پھر ایک پاکستانی وکیل لڑکی اس کا کیس ہائی کورٹ میں لڑتی ہے اور عدالت قوم کی طرف سے اس کے بائیس سال ضائع کرنے پر معذرت کرتے ہوئے اسے رہا کر دیتی ہے اور وہ واپس اپنے پنجاب چلا جاتاتھا۔ اس دوران دو چار بڑے ہی کمال کے گانے بھی گاتا ہے اور جاتے ہوئے ہیروئن کو بھی ساتھ ہی لے جاتا ہے، فلم مکمل ہوجاتی ہے۔ شاہ رخ، پریتی زنٹا، رانی مکھرجی اور امیتابھ بچن کے ساتھ ہیما مالینی اس کی سٹار کاسٹ تھی۔ ہمدردی کا تمام ووٹ اس کے ساتھ ہوتا ہے، اس لیے فلم دیکھنے والے اس پر خوب تالیاں بجاتے ہیں، فلم ختم ہوئی تو میزبانوں نے تاثرات جاننے چاہے۔ میرے لیے تو وہی صاف ستھرا سینما ہی حیران کیے دیتا تھا جس کی کرسیوں کے بازو میں کافی کے کپ کی جگہ بھی تھی اور ماحول اس قدر نیٹ اور کلین تھا کہ یقین نہیں آتا تھا اسے آلودہ کرنے والی کوئی سیٹی، کوئی نعرہ اور پاؤں میں پھینکا ہوا کوئی ریپر تک نہیں تھا۔ہمارے ایک دو نیک قسم کے صحافی دوستوں نے فلم اور اس کے موضوع پر نہیں بلکہ پاکستانی لڑکی کے ہیروئن ہونے پر اعتراض کیا کہ ان کی غیرت کے لیے یہ قابل اعتراض تھا، باقی انہیں فلم سے کوئی پرابلم نہیں ہوا۔ فلم یہاں وہاں خوب چلی اور اس نے ہمدردی اور پیسہ بٹورا۔

دیکھا جائے تو ہم بحیثیت مجموعی ایسے ہی کھلے دل کے ہیں اورفلم کو فلم ہی لیتے ہیں، ہم نے پدماوت کے لیے بھی یہی کیا ہے ہمارے سنسر بورڈ نے پہلے چار ایک اعتراض لگائے مگر پھر فلم کی خوبصورتی دیکھ کربنا کچھ کاٹے اسے پاس کر دیا اور سینماؤں میں ریلیز کرنے کی بخوشی اجازت دے دی۔ البتہ ا سی فلم پر ہندوستان میں ایک غدر مچا ہوا ہے۔ ہدایت کار کا سراور ہیروئن دپیکا پدوکون کا ناک کاٹنے پر اکاون لاکھ روپے کا انعام بھی رکھا گیا ہے، ایک ہندو انتہا پسند تنظیم کے سربراہ نے ہدایت کار کی ماں کے نام پر اسے تکلیف پہنچانے کے لیے ’’لیلا کی لیلا ‘‘کے نام سے فلم بنانے کا بھی اعلان فرما دیا ہے۔ دو صوبوں میں سپریم کورٹ کے حکم کے باوجود فلم ریلیز نہیں ہو سکی۔ جلاؤ گھیراؤ، آگ لگاؤ قسم کی مہم پورے راجپوتانہ میں چل رہی ہے، میوار اجمیر اور چتوڑ میں اس کا زور زیادہ ہے۔ انتہا پسند ہندو دباؤ میں آکر وہاں کے سنسر بورڈ نے فلم کا نام تک بدل دیا اور اسے پدماوتی سے پدماوت کر دیا،اس کے بے شمار سین کاٹ دیے، اسے ریلیز کرنے میں قسم قسم کی پابندیاں لگیں۔ بالآخر سپریم کورٹ نے مداخلت کی اور اسے سینما گھروں کی سکرینوں تک آنے کی اجازت ملی۔ اپنی ریلیز کے پہلے ہی دن اس نے ایک محتاط اندازے کے مطابق اٹھارہ سے بیس کروڑ روپے کا کامیاب بزنس کیا۔ امید کی جا رہی ہے کہ یہ جلد ہی سو کروڑ کمانے والی فلموں کے کلب میں شامل ہو جائے گی۔

یہ ساری دلچسپ باتیں ہیں اور ہم اس کی کہیں زیادہ تفصیل آئے روزاخبارات کے صفحات میں دیکھیں گے مگر فلم دیکھنے کے بعدمیرے لیے اصل غور و فکر کا ایشو ہی کچھ اور ہے، اور وہ ہے مسلمان ناظرین اور تماش بینوں کا رویہ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ہمارے اہل دانش کا معاملہ بھی کچھ مختلف نہیں ہے، اس سے قبل کہ تاریخ کے صفحات پر لکھے حقائق کی طرف جائیں پہلے آپ کو یہ بتا دوں کہ رام لیلا بھنسالی ایک باہنر اور باذوق ہدایت کا ر ہے، اس کی فلموں کے موضوعات کی سلیکشن، فلم کی عمدہ عکاسی اور کرداروں کے لیے مہنگے اورشاندار لباس یا کاسٹیوم سے لے کر مہنگے تاریخی سیٹ بنانے اور لگوانے کی مہارت نے اسے فلم میکنگ میں بہت منفرد اور نمایاں مقام دے رکھا ہے، فلم دیکھ کر اس کی تحسین کیے بنا نہیں رہا جا سکتا۔ اس قدر خوبصورت اور جاذب فلم کہ آپ اسے بھلا نہ سکیں۔ یہی اس کا کمال ہے کہ فلم دیکھنے والے اس کی مرضی سے تاریخ دیکھتے ہیں۔ علاؤ الدین خلجی جیسا بھی کامیاب بادشاہ رہا ہو، اسے لوگ سکندر ثانی کہتے رہے ہوں اور اس نے منگولوں کو چھ بار شکست دے کر قندھار اور غزنی تک پر قبضہ کر کے وحشی منگول حملوں کا مستقل سدباب کر دیا ہو،پہلی بار دہلی میں مارکیٹ بنائی ہو اور قیمتوں کا تعین کیا ہو کہ مہنگائی ختم کر دی ہو، ۳۵ برس بہترین حکمرانی کی ہو، بے شمار فلاحی کام کیے ہوں، شراب بنانے اور پینے پر پابندی لگائی، مضبوط مرکزی حکومت بنائی ہو، اس فلم میں ایک جنگلی، وحشی اور درندہ قسم کا انسان ہے اور ایک عورت کی خاطر ہر رشتے اصول اور قاعدے کو چیونٹی کی طرح مسل کے رکھ دیتا ہے۔ اس کی بے رحم، بے لحاظ کینہ پرورآنکھیں، لمبے بال،جنگلیوں جیسی عادتیں کسی وحشی منگول یا کسی تاریک دور کے بادشاہ اور حاکم جیسی نظر آتی ہیں۔ اس کی اداکاری ایسی کہ مسلمان ناظرین ہر ہر سین کے بعدشرمندگی سے سر جھکاتے جائیں، اپنی تاریخ پر شرمندگی سے زمیں میں دھنستے جائیں اور ہندو رانی پدماوتی کی بہادری، غیرت اور ذہانت کے گن گانے لگیں اور راجپوت راجہ کی شیردلی اور اساطیری رویّے پر عش عش کر اٹھیں۔

میں گزشتہ کئی روز سے تاریخ میں سے پدماوتی ڈھونڈ رہا ہوں۔ خلجی خاندان کے اس سلطان کی حیوانیت کے قصے تلاش کر رہا ہوں جو ہر خوبصورت لڑکی پر ریجھ جاتا ہوگا، ایک بدنگاہ پنڈت راگھو چیتن جو جادوگر بھی تھا اور جسے راجہ نے چتوڑ گڑھ سے نکال دیا تھا سے راجپوت راجہ کی رانی پدما وتی کی خوبصورتی کے قصے سن کر اسے حاصل کرنے نکل کھڑا ہو، کسی کی بیاہتابیوی پر بری نگاہ رکھنے اور اسے ایک رات کے لیے اٹھانے اور اپنے حرم کا حصہ بنانے کے لیے مہینوں چتوڑ کے قلعے کے باہر بیٹھا اور بندے مرواتا رہا ہو،مجھے آپ سے معذرت کر لینی چاہیے کہ میری تمام کوششیں ناکام ثابت ہوئی ہیں اور میں یہ سب ڈھونڈنے میں ناکام رہا ہوں۔

یہ درست ہے کہ پرانے ادوار کے بادشاہ بہت سے ناروا اور ناگوار کام کرتے رہے ہیں ان ادوار میں ان کو روا سمجھا جاتا رہا ہوگا مگر تاریخ کی بے رحم آنکھوں سے تو کوئی بھی ایسا کام اور حکمران نہیں بچ پاتا۔ یہ خلجی صاحب نے تاریخ دانوں کو کیا رشوت تھما دی کہ اس کے عہد میں ایسی کوئی کہانی نہ لکھی گئی، نہ معروف اور مشہور ہوئی،حتیٰ کہ ایس لال نے بھی علاؤ الدین خلجی پر اپنی تاریخی کتاب میں اس واقعہ کا سرے سے ذکر ہی نہ کیا ہو؟ اور پورے دو سو سال بعد ایک شاعر ملک محمد جائثی اپنے ہندو راجہ کے لیے ایک تصوراتی نظم لکھیں کہ جس کا نام پدماوت ہو اور محبت اور رومانس کے جذبات سے بھری ہو، اور یہ کہانی سات سو برس پرانے کسی عہد کی ہو مگر پدماوت نام سے [جو اب فلم کا نام ہے]ایسی مقبول زبان دی ہو کہ وقت کے ساتھ ساتھ اسے ایک تاریخی حقیقت جان لیا جائے اور ایک فرضی خوبصورتی پر ایک پورا افسانہ بنا کر عوام الناس کے جذبات سے کھیلا جائے؟

اگر دیکھا جائے تو اس موضوع پر جذبات تو مسلمانوں کے بھڑکنے چاہیے تھے کہ ان کی تاریخ کو بگاڑا گیا اور ان کے ایک بادشاہ کی یوں بے عزتی اور رسوائی کی گئی، مگر ہم تو سدا کے سادھو اور بے نیاز ٹھہرے۔ ایک آواز تک بلند نہیں ہوئی، الٹا اسے درست مان کر سنیماہال سے باہر نکلتے ہیں اور افسردہ اور شرمندہ شرمندہ گھروں کی راہ لیتے ہیں۔ پھر بھی کہتے ہیں ہم انتہا پسند ہیں؟ ویسے معاف کیجیے یہ بے حسی بھی ہو سکتی ہے، بے علمی بھی اور بے نیازی بھی۔ اس کا ایک نتیجہ یہ بھی نکلے گا کہ آپ کی ساری نئی نسل جو آج کی فلموں اور ان کے اداکاروں کی فین اور دلدادہ ہے، اسے حقیقت جان کر اپنی ہی تاریخ کو سیاہ باب سمجھنے لگے گی۔ یہ سوچے بنا کہ فلم تو ایک فلم ساز کے دماغ میں آئے ایک خیال کی عکاسی ہوتی ہے ہاں اگر وہ خیال آپ کی تاریخ کو مسخ کر کر خوبصورت بنتا اور توجہ پاتا ہے تو اس پر کچھ ردعمل تو بنتا ہے، ورنہ تو عملی صورت حال یہ ہے کہ جن کو فائدہ ہوا ہے جن کی تاریخ کو گلیمر ملا ہے اور جن کی پدماوتی تو کئی سو سال بعد بھی عزت احترام اور وقعت حاصل ہوئی ہے کہ اس کو گلیمرائز کرنے کے لیے ہدایت کار نے اسے چار سوکلوسونا اس کے زیورات اور ملبوسات میں استعمال کر ڈالا ہو، اسی کو ماننے والے ہندو انتہا پسند اپنی انتہا پسندی سے باز نہیں آرہے اور سنیما ہی نہیں جلا رہے، لوگوں کی املاک بھی نشانہ بنا رہے ہیں کہ ہماری رانی پدماوتی کا نام بھی کیوں لیا؟

تاریخ کا ایک واحد معتبر حوالہ خواجہ حسن نظامی مرحوم کے وہ حواشی ملے جو انہوں نے راج کمار ہردیو کی فارسی کتاب چہل روزہ پر لکھے ہیں یہ اصل میں راجکمار کی یادداشتیں ہیں اور تب سے ہیں جب علاؤ الدین مانک پر صوبے کا گورنر تھا اور ملک پر جلال الدین خلجی کی حکومت تھی۔ علاؤ الدین سلطان کا داماد ہی نہیں بھتیجا بھی تھا اور اس نے ایک دوسرے چچا کے ساتھ مل کر جلال الدین خلجی کو قتل کیا تھا۔ ’’چہل روزہ ‘‘میں ۱۲۹۵ء میں دیو گڑھ پر حملہ کا ذکر توہے، چتوڑ پر حملے کا نہیں۔ یہی لکھاری راجکمار ہر دیو علاؤ الدین کے بیٹے سلطان قطب مبارک کے خسرو خان کے ہاتھوں قتل اور ناصرالدین کے نام سے مرتدوں کی حکومت کے دوران موجود تھا اور دیپالپور سے تعلق رکھنے والے نئے بادشاہ ملک غازی المعروف غیاث الدین تغلق کے بیٹے محمد بن تغلق کے زمانے میں وزیر بنا اور بعد میں خان جہاں کے خطاب کے ساتھ وزیر اعظم، اس نے بھی کسی پد ما وتی کا کوئی ذکر نہیں کیا۔ البتہ اس نے خلجی عہد کے چار بڑے کام گنوائے ہیں اول مضبوط حکومت، دوم بے شمار فلاحی کام، سوم منگولوں کے حملوں کا سد باب اور چہارم رعایا کا آرام اور قیمتوں پر قابو۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ اس موضوع پر بھارت سے چلنے والی کتنی ہی سائٹس پر کلپس موجود ہیں اور اس تصریح کے ساتھ کہ پدماوتی ایک فرضی کردار ہے، جس ’’جوہر‘‘ یااجتماعی خود کشی کے واقعہ کا ذکر ہے اس کی تفصیل خلجی عہد سے سات سو برس قبل کے دور کی ہے۔ یاد رہے تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ راجپوتوں کی اس روایت کو چتوڑ گڑھ میں ہی سات بار استعمال ہوا۔ جب جب ان کو شکست ہوئی، ان کی افواج ہار گئیں تو رانیوں اور سب داسیوں اور باندیوں نے اپنے آپ کو ستی کر لیا۔ بقول رانی پدماوتی راجپوتی کنگن کی طاقت اتنی ہی ہے جتنی راجپوتی تلوار کی۔

علاؤ الدین کو اس فلم میں بدنامی اور رانی پدما وتی ہمراہی عورتوں کے جلے بدنوں کی بد بو کے علاوہ کچھ حاصل نہ ہوا تھا۔ یہی ان کے مطابق اس کی ہار اور رانی کی جیت تھی اور راجپوت اسی پر فخر کرتے ہیں، یہ ان کی ’’folklore ‘‘ اورعزت اور غیرت کا حوالہ ہے۔ ستی یا اجتماعی خودکشی کو اس قدر’’ glorify‘‘ اس سے قبل کبھی نہیں کیا گیا۔ یہ بالکل ممکن ہے کیونکہ ۱۹۴۷ء میں ایسے کتنے ہی واقعات مسلمان عورتوں کے ساتھ بھارتی پنجاب میں پیش آئے۔

اس قدر گلیمرائزڈ کہانی کے باوجود ہندوؤں کا احتجاج کیوں تھا کہ بی جے پی کے راہنما بھی اس میں کود پڑے اور اپنی مذہبی کتاب رامائن کے ایک کردار جس کی غلطی پر ناک کاٹ دی گئی تھی، بے چاری دپیکا پدوکون کو بھی یہی سزا سنا دی؟ اس انتہا پسندی کی جڑیں ہندو معاشرے میں بہت گہری ہیں،اسی لیے کرنی سینا والے راجپوت گروپ تو جنوری ۲۰۱۷ سے احتجاج پر ہیں حالانکہ اس فلمی،تاریخی آرٹسٹک فراڈ پر مسلمانوں کو سراپا احتجاج ہوناچاہیے تھا۔ لیکن وہ نہ اپنی تاریخ پڑھتے ہیں اور نہ اس کی اچھائی برائی سے واقف ہیں۔ ہمارے ہی ایک لکھاری دوست حنیف سحر نے تو علاؤ الدین خلجی سے اس سے زیادہ نفرت کا اظہار کر ڈالا ہے جو بھنسالی صاحب کروانا چاہتے تھے۔ ایک بادشاہ کی بجائے ایک barbarianاور monster کو کوئی کیسے قبول کر سکتا ہے جبکہ اپنے پسندیدہ ڈائریکٹر نے یہ سب کہا ہو کہ خلجی کے اس قدر ڈراؤنے اور گھناؤنے کردار کے باوجود احتجاج کیوں ہو رہا ہے؟ میرے لیے اس سوال کا جواب ڈھونڈنا بہت ضروری تھا ۔

تحقیق کی تو پتا چلا کہ ہمارے افواہ سازوں کے سرخیل جناب ڈاکٹر شاہد مسعود کی طرح وہاں بھی کسی نے یہ افواہ اڑا دی کہ بے شک علاؤ الدین خلجی پدماوتی سے مل پایا، نہ چھوپا یا اور نہ ہی اسے اپنے حرم میں شامل کر پایا مگر سنجے لیلا بھنسالی نے بادشاہ کو خواب میں رانی چندراوتی سے ملاقات کی ساری خواہشیں پوری کرا دی ہیں، جو پدماوتی کا اپمان یا بے عزتی کے مترادف ہے۔ یوں جو سین فلمایاہی نہ گیا تھا، وہی سارے فساد کی جڑ بن گیا۔

ہندوستان کی فلمی تاریخ میں متنازع ہو کر مقبولیت پانے والی اس تازہ ترین فلم کے ایک کردار مہاراول رتن سنگھ کو شاہد کپور نے دس کروڑ روپے لے کر ادا کیا اور اپنی اداکاری کی ساکھ کو بہت بہتر بنایا۔ اسی کردار کو کرنے کے لیے شاہ رخ کو ساٹھ کروڑ روپے آفر کیے گئے تھے جبکہ اس نے نوّے کروڑ روپے مانگے تھے۔ فلم کی مقبولیت کے بعد اب چاہے اسے افسوس ہی ہو، رنویر سنگھ نے علاؤ الدین خلجی کا کردار ادا کیا اور اس کے بقول اتنا اچھا کیا ہے کہ لوگ اس سے نفرت بھی کرنے لگیں تو جائز ہوگا۔

علاؤ الدین خلجی نے ہندوستان پر قریباً ۳۵ برس حکومت کی۔ وہ خلجی خاندان کا سب سے مضبوط حکمران جانا جاتا تھا، اس کے عہد میں لوگ خوشحال تھے، کوہ نور ہیرا بھی اسی کے زمانے کا ہے۔ ۱۳۳۰ ء میں چتوڑ گڑھ پر حملہ ہوا مگر یہ یقینی نہیں ہے کہ رانی پدماوتی اس کا باعث تھی۔ ملک جائثی نے ۱۵۴۰ء میں پدماوت پر یہ نظم لکھی۔ کہا جاتا ہے کہ اس سے بہتر نظم بعد کے ادوار میں بھی نہیں لکھی گئی۔

اصل بات جو آپ بھی جانتے ہیں کہ کہانی لکھتے لکھتے ہوئے سچ کہاں اور کب ختم ہو جاتا ہے اور شاعر یا مصنف کی مرضی اور خواہش کہاں شروع ہو جاتی ہے؟ اس کا فیصلہ ہمیشہ مشکل ہوتا ہے، مبالغے کا اندیشہ ہی نہیں یقین ہوتا ہے۔ اسی طرح تاریخ لکھتے ہوئے اور تاریخی فلم بناتے ہوئے ہمیشہ اس اندیشے کا سامنا رہتا ہے کہ لکھنے والا اپنی مرضی اور ضرورت کا صرف آدھا اور ادھورا سچ لکھتا اور فلماتا ہے۔ کیا کبھی کوئی غیر جانبدار ہوکر یہ نہیں کر سکے گا کہ تخلیقی قوت کے ساتھ تاریخ کے کسی تاریخی واقعے پر مکمل سچ لکھ اور فلما سکے؟ ۱۹۸۹ء میں بھی اسی موضوع پر ایک فلم بنائی گئی تھی اس میں امریش پوری نے علاؤ الدین خلجی کا کردار نبھایا تھا اور سچ کہوں تو اس کے مقابلے میں بالکل بچگانہ سی فلم لگتی ہے بلکہ کو ئی ٹی وی سیریل ہی کہیے۔ رام لیلا بھنسالی کی مہارت پر تو کوئی دو رائے ہے ہی نہیں، جو بندہ فلم کی ہیروئن کے ملبوسات اور پہناووں کے لیے چار سو کلوسونا استعمال کرنے کی ہمت کر سکتا ہے،اس کی فلم کا ایک پوسٹر دیکھنے پہلے دن سوشل میڈیا پر ۲۰ ملین لوگ کیوں نہیں متوجہ ہوں گے؟ اس فلم میں ایک واحد سافٹ کردار خلجی سلطان کی بیوی مہرالنساء کا ہے جسے ادیتی راؤ حیدری نے بڑی ہی معصومیت اور کامیابی سے ادا کیا ہے۔ اپنے باپ جلال الدین اور بھائی کو اپنی آنکھوں کے سامنے مرتے دیکھا اور بالآخر رانی پدماوتی کی مدد کر کے اسے فرار کرواتی ہے۔ اس کے والد جلال الدین خلجی نے اس خاندان کی بنیاد رکھی تھی اور وہ تغریٰ خان کے بیٹے، سلطان بلبن کے پوتے کیقباد کوقتل کر کے دلّی کے تخت پر بیٹھا تھا، علاؤ الدین خلجی ۶۶ برس کی عمر میں جنوری ۱۳۱۶ء میں ملک نائیک کے ہاتھوں مارا گیا، وہ دہلی کے قطب کمپلیکس میں دفن ہے اگر انتہا پسندوں کے ہاتھوں اس کی قبر تباہی سے بچ گئی تو۔ تاریخ یہ بتاتی ہے کہ سلطان علاؤ الدین خلجی کملا دیوی کا بیٹا تھا اور تاریخ کے بدترین اور مکروہ بادشاہ قطب الدین مبارک شاہ کا باپ تھا جس کا ذکر ہی تاریخی صفحات کو کراہت سے بھر دیتا ہے۔ اس کا تفصیلی ذکر میں نے خشونت سنگھ کی دہلی اور جناب اشفاق احمد کی کتاب سفر در سفر میں بھی پڑھا تھا۔ علاؤالدین اپنے غلام ملک کافور کی قربت کی وجہ سے بھی تاریخ دانوں کی تنقید کا نشانہ بنتا رہا ہے ۔ کبھی کبھی تو مجھے لگتا ہے تاریخ کے اس گڑبڑ گھوٹالے کی وجہ سے اچھا ہے ہم بلا وجہ احتجاج نہیں کرتے۔ جن سلاطین نے اپنے عہد میں خود اپنی عزت اور وقار کا خیال نہیں کیا کوئی بعد میں کیسے ان کے لیے لڑ سکتا ہے؟ ہاں جو واحد خواہش ہے کہ کبھی کوئی ہمارا فلم ساز اور ہدایت کار بھی کوئی پڑھا لکھا اور تاریخی کام کرے، جوہماری نئی نسل کی خوشی اور اطمینان کا باعث ہو، جن کا ذکر وہ بھی احساس تفاخر سے کر سکیں۔ ورنہ دوسروں کی فلمیں انہی کے سینماؤں میں دیکھ کر ہم بھی دل پشوری کے لیے ویر زارا کی پاکستانی لڑکی کے ہیروئن ہونے پر اعتراض اٹھاتے رہیں گے۔

یارو ! ہماری تاریخ میں کوئی دوچار لوگ اور واقعات تو ایسے ضرور ہوں گے جن پر بنی فلم دیکھ کر کوئی راحت ہمارے اندر بھی اترے۔

Comments

اختر عباس

اختر عباس

اختر عباس مصنف، افسانہ نگار اور تربیت کار ہیں۔ پھول میگزین، قومی ڈائجسٹ اور اردو ڈائجسٹ کے ایڈیٹر رہے۔ نئی نسل کے لیے 25 کتابوں کے مصنف اور ممتاز تربیتی ادارے ہائی پوٹینشل آئیڈیاز کے سربراہ ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

  • بہت اچھا لکھا ، اگر آپ نے شکست کھائی ہو تو اسے بھی بہادری سے تسلیم کرنا چاہئے ایسا نہ کرنا بے شرمی اور ڈھٹائی ہے لیکن اس سے بڑی بے شرمی یہ ہے کہ آپ شکست کو فتح لکھنا شروع کردیں انڈیا میں ہندوازم گزشتہ ایک ہزار سالہ تاریخ کا بدلہ مسلمانوں اور انگریزوں سے فلموں کے ذریعے لے رہا ہے کیا کرے اسکے پاس کوئی سچے واقعات اور اصل ہیرو ہیں ہی نہیں اس لئے گھڑنے پڑتے ہیں ۔

  • ریلیز سے قبل کہا جارہا تھا کہ ’’پدماوت‘‘میں رانی پدمنی کی ناصرف تذلیل کی گئی ہے بلکہ تاریخی حقائق کو بھی مسخ کیا گیا ہے لہٰذا یہی جواز بناکر انتہا پسند فلم پر پابندی کا مطالبہ کررہے تھے۔ تاہم فلم ریلیز ہونے کے بعد کچھ اور ہی کہانی سامنے آئی۔فلم میں دراصل مسلمان حکمران علاؤالدین خلجی کی غلط تصویر پیش کی گئی اور اسے ایک ظالم اور جابر حکمران کے طور پر دکھایا گیا ہے۔ فلم میں بعض مقامات پر ان کےکردار کو مزید خوفناک بنانے کے لئے انہیں کچا گوشت کھاتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔پاکستان میں فلم کی نمائش تو جاری ہے تاہم ملائیشیا کے نیشنل فلم سنسر شپ بورڈ (ایل پی ایف) نے مسلمانوں کے جذبات مجروح ہونے پر فلم ’’پدماوت‘‘کو ریلیز ہونے سے روک دیا ہے۔ ایل پی ایف کے چیئرمین محمد زمبیری عبدالعزیز کا کہنا ہے کہ ملائیشیا ایک مسلم ملک ہے جہاں مسلمانوں کی آبادی دیگر افراد سے زیادہ ہے اور یہاں کی مسلم برادری کو فلم’’پدماوت‘‘ کے مرکزی خیال پر شدید اعتراضات ہیں کیونکہ ’’فلم کی کہانی اسلام کے حساس پہلوؤں کو متنازعہ انداز میں پیش کرتی ہے

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */