جائیداد اور بیٹی کی وراثت - بشارت حمید

برصغیر پاک و ہند میں کافی حد تک جوائنٹ فیملی سسٹم یعنی مشترکہ خاندانی نظام رائج ہے۔ جہاں اس کے بہت سارے فوائد ہیں، وہیں کئی لحاظ سے منفی پہلو بھی رکھتا ہے۔ عموماً اس نظام کے تحت سب بہن بھائی اپنے والدین کے ساتھ ایک ہی گھر میں رہتے ہیں، یہاں تک کہ بھائیوں کی شادیاں ہو جانے کے بعد بھی اسی ایک گھر میں سب کو ایڈجسٹ ہونا پڑتا ہے۔ وہی گھر جس میں والدین ساری زندگی گزارتے ہیں وہی عموماً مشترکہ جائیداد ہوتا ہے جس میں سب بہن بھائیوں کو حصہ ملنا ہوتا ہے۔ لہٰذا والدین کی زندگی میں اس کو بیچنے اور تقسیم کرنے کا تصور بھی ایک جرم سمجھا جاتا ہے لیکن جیسے ہی والدین کی آنکھ بند ہوتی ہے، بیٹے اس گھر پر قابض ہو جاتے ہیں۔ تب بہن اور بیٹی کو جہيز کی رسم کے لیے دیا جانے والا سامان ہی اس کی وراثت قرار دے دیا جاتا ہے اور یوں جائيداد میں اس کا حصہ صفر ٹھہرتا ہے۔

دین اسلام وراثت کے مال کو، چاہے وہ کم ہو یا زیادہ، ہر صورت میں تقسیم کرکے حق داروں تک پہنچانے کا حکم دیتا ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے وراثت کے قانون کو بہت تفصیل سے بیان فرمایا ہے۔ احادیث میں بھی وراثت کی تقسیم کے احکامات بصراحت موجود ہیں۔ لیکن افسوس کی بات ہے کہ ہمارے ہاں خود کو دیندار کہلانے والے گھرانوں میں بھی وراثت کی تقسیم کے دوران حیلے بہانوں سے کام لیا جاتا ہے اور بیٹیوں کو ان کے حق سے محروم رکھا جاتا ہے۔ اس کے لیے بیٹیوں پر دباؤ ڈال کر بیٹوں کے حق میں دستبردار کروا لیا جاتا ہے اور پھر بھی کوئی بیٹی اصرار کرے تو اس کا خاندانی بائیکاٹ کردیا جاتا ہے۔ حالانکہ اس کا حق اللہ نے مقرر کیا ہے اور بحیثیت مسلمان یہ حق خوش دلی سے ادا کرنا چاہیے لیکن جہاں دینداری کا محض لبادہ ہو، درحقیقت اپنے مفادات کا تحفظ مقدم ہو، وہاں بہنوں اور بیٹیوں کو بھلا کون حق دے گا؟

حرص و ہوس کے شکار ہوکر ہم اپنی عاقبت اور انجام بھول جاتے ہیں۔ یہ نہیں سوچتے کہ ہماری یہ ساٹھ ستر سال کی زندگی ایک دن ختم ہو گی، تو یہ ناحق جمع کیا ہوا مال و دولت کس کام آئے گا اور روز قیامت اللہ کے سامنے اس حق تلفی کا کیا عذر پیش کریں گے؟

آج المیہ یہ ہے کہ ایک ہی والدین کے ہاں جنم لینے والے اور ایک ہی چھت کے نیچے پلنے بڑھنے والے بہن بھائی ہی زندگی کے کسی موڑ پر الگ ہو جاتے ہیں، اگر اس میں کوئی خاندان استثنا رکھتا ہو تو ان کی آنے والی نسلیں یہ کام کر کے ہی دم لیتی ہیں۔ گھرانوں اور خاندانوں کا الگ ہونا اس زندگی کا حصہ ہے اور یہ ہو کر رہتا ہے۔ بہتر یہ ہوتا ہے کہ یہ علیحدگی افہام و تفہیم اور خوش اسلوبی سے ہو تا کہ بعد میں بھی تعلقات برقرار رہیں۔ لیکن ہمارے معاشرے میں بڑھتی ہوئی مادّہ پرستی اور پیسے کی ہوس ہمیں ایک دوسرے کی حق تلفی پر اکساتی ہے اور اکثر اس کا شکار ہو جاتے ہیں۔ یہ یاد رکھنا چاہیے کہ جو بھی دوسرے کی حق تلفی کرے گا اس کی جوابدہی اسے ہی کرنی پڑے گی، چاہے یہ حق تلفی والدین کریں یا بہن بھائی۔

Comments

بشارت حمید

بشارت حمید

بشارت حمید کا تعلق فیصل آباد سے ہے. بزنس ایڈمنسٹریشن میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی . 11 سال سے زائد عرصہ ٹیلی کام شعبے سے منسلک رہے. روزمرہ زندگی کے موضوعات پر دینی فکر کے تحت تحریر کے ذریعے مثبت سوچ پیدا کرنے کی جدوجہد میں مصروف ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */