ڈاکٹر صاحب اور دھبڑ دوس - محمد طلال خالد

مجھے یاد پڑتا ہے میموگیٹ اسکینڈل کے دور میں روز رات کو شاہد مسعود صاحب زرداری صاحب کی حکومت "دھبڑ دوس" کر کے سوتے تھے لیکن صبح وہ حکومت پھر قائم ہوتی تھی۔ کچھ عرصے بعد، عمران خان صاحب کے الزام 35 پنکچر کی تائید کرتے ہوئے شاہد مسعود نے کہا، "ایک ٹیپ ہے وہ جلد منظرِ عام پر آجائے گی۔ " بعد ازاں کوئی ٹیپ منظر عام پر نہیں آئی اور 35 پنکچر کے خالق عمران خان نے یہ الزام واپس لے لیا، پھر ڈاکٹر صاحب کی یہ خبر خود دھبڑ دوس ہوگئی۔

پھر راوی چین لکھنے لگا تھا کہ شاہد مسعود صاحب کو پتا چلا سندھ کے چیف جسٹس نے رشوت لی ہے، جس پر شاہد صاحب پر کیس بھی چلا اور ان سے ثبوت بھی مانگے گئے۔ لیکن شاہد صاحب ثبوت فراہم نہیں کرسکے اور اس طرح یہ خبر بھی بالآخر دھبڑ دوس ہو گئی۔ کچھ دن امن سکون رہا لیکن اچانک پھر ان کے باوثوق ذرائع نے خبر دی کہ جی ایچ کیو میں دو وفاقی وزرا کو بلا کر سخت سرزنش کی گئی ہے لیکن اس خبر کی تردید بھی عسکری و سول حکام نے کردی یوں ڈاکٹر صاحب کی یہ خبر بھی دھبڑ دوس ہو گئی۔

لیکن اس دفعہ ڈاکٹر صاحب نے کسی رشوت زنی یا عسکری حکام کے متعلق نہیں بلکہ بین الاقوامی پورنو گرافک ریکٹ کے متعلق خبر دی ہے۔جس پر وزیر اعلیٰ نے ایک کمیٹی بنائی اور چیف جسٹس صاحب نے ازخود نوٹس لیا۔ ڈاکٹر صاحب نے عمران نامی ملزم کے 37 بینک اکاؤنٹس کی ایک لسٹ فراہم کی جس کے بعد اس خبر کی صداقت معلوم کرنے کی کوشش کی گئی تو پتا چلا کہ اس شناختی کارڈ پر کسی اکاؤنٹ کا وجود ہی نہیں۔ جس کی تصدیق بعد ازاں اسٹیٹ بینک نے بھی کر دی۔یوں ڈاکٹر صاحب کا یہ دعویٰ بھی دھبڑ دوس ہوگیا۔

موصوف نے الزام لگایا تھا کہ عمران کئی بار ملک سے باہر جاچکا ہے لیکن نادرا کی طرف سے خبر آئی کے اس کا پاسپورٹ ہی نہیں بنا۔ ڈاکٹر صاحب کا یہ دعویٰ بھی دھبڑدوس۔ 25 جنوری کو ڈاکٹر صاحب نے الزام لگایا تھا کہ ان کے پاس 80 سے زائد اکاؤنٹ کی لسٹ موجود ہے، جس پر یہی نام اور پتہ درج ہے اور عمران اس نامعلوم ریکٹ کا بہت فعال رکن ہے۔ لیکن 26 جنوری کی شام وہ کہتے نظر آئے، "نہیں ابھی تو مجھے پتا بھی نہیں ہے، یہ وہی علی عمران ہے یا نہیں، دیکھوں گا تو پتا چلے گا۔ "اس طرح یہ دعویٰ انہوں نے خود دھبڑ دوس کردیا۔

ڈاکٹر صاحب نے شعلہ بیانی کرتے ہوئے دعویٰ کیا، " یہ کوئی مزدور مستری بھی نہیں ہے یا سیریل کلر بھی نہیں ہے۔ "جبکہ تحقیقات بتاتی ہیں کہ ملزم خود 5 سے 6 سال کے عرصے میں پچاس سے زائد بار زیادتی کا شکار ہوا ہے اور ایک نفسیاتی مریض ہے۔ ایک اور دعویٰ دھبڑ دوس!

پھر شاہد مسعود صاحب نے کہا، "مجھے وزیرِ اعلیٰ کی بنائی کمیٹی کی طرف سے کوئی کال یا نوٹس نہیں آیا۔" بعد ازاں صوبائی حکومت کے ترجمان نے اسی پروگرام میں وہ نوٹس بھی فراہم کر دیا جو ان کے گھر کے پتہ پر بھیجا گیا تھا اور بالآخر ان کا ایک اور دعویٰ دھبڑ دوس۔ ڈاکٹر صاحب یہ بھی کہتے ہیں کہ اس کے اکاؤنٹ ختم کیے جا رہے ہیں، لیکن میں حیران ہوں بینک اکاؤنٹ بند تو ضرور کرسکتے ہیں لیکن ان کی تفصیل بینک کے پاس موجود رہتی ہے اور عمران تو پولیس کی حراست میں ہے، وہ اپنے بینک اکاؤنٹ کیسے بند کرواسکتا ہے؟ ایک اور دعویٰ دھبڑ دوس؟

بقول شاہد مسعود کے ان کے خلاف اڑھائی ارب کی میڈیا کمپین چلائی جا رہی ہے لیکن ثبوت دھبڑدوس۔ایک مشہور کہاوت میرے ذہن میں مسلسل گردش کر رہی ہے جس کا کام اسی کو ساجھے، صحافت جب ڈاکٹر کریں گے تو یقیناََ انجام بھی یہی ہوگا۔ خیر ڈاکٹر صاحب کا صحافت سے کوئی تعلق بھی نہیں کیونکہ ان پر پابندی کے دور میں ان کے حق میں ہونے والے احتجاج میں یہ خود شریک نہیں ہوئے تو ان سے ایک کولیگ نے وجہ پوچھی تو موصوف فرمانے لگے۔ "یار میں اینکر ہوں صحافی تھوڑی ہوں۔ "

اب بابا رحمتا کہہ تو چکے ہیں، اگر یہ خبر جھوٹی ثابت ہوئی تو اس پر سخت سزا دی جائے گی۔اس لیے ہمیں صبر و امید کا دامن تھامے رکھنا چاہیے کہ بابا جی اپنی تقریروں اور وعدوں کے مطابق حق اور سچ پر مبنی فیصلہ کریں گے۔ ورنہ پھر وہی دھبڑ دوس ہوتا رہے گا۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */