تعلیمی سیمسٹر کے آغاز پر طلبہ اور اساتذہ کو نصائح - خطبہ جمعہ مسجد نبوی

فضیلۃ  الشیخ ڈاکٹر عبد اللہ بن عبد الرحمن بعیجان حفظہ اللہ نے  09 جمادی اولی 1439 کا خطبہ جمعہ مسجد نبوی میں "تعلیمی سیمسٹر کے آغاز پر طلبہ اور اساتذہ کو نصائح"  کے عنوان پر ارشاد فرمایا جس میں انہوں نے کہا کہ اللہ تعالی نے انسان کو اس دھرتی پر اپنا خلیفہ بنایا اور علم اور عقل سے نوازا، انہی دونوں کی بدولت انسانیت کو اشرف المخلوقات اور احکامات کا پابند بھی بنایا، آج کل طلبا اور طالبات حصولِ علم کے مراحل طے کرتے ہوئے نئے تعلیمی سیمسٹر میں داخل ہو چکے ہیں، اس پر انہیں مبارکباد ہو؛ کیونکہ علم   ہی معرفت الہی اور دینی تعلیمات جاننے کا واحد ذریعہ ہے، علم کی اہمیت اس سے بھی اجاگر ہوتی ہے کہ سب سے پہلی وحی بھی حصولِ علم  کیلیے تھی، نیز علم ہی ایک ایسی چیز ہے جس میں اضافے کی دعا کا نبی ﷺ کو حکم دیا گیا، قرآن کریم نے اہل علم کا مقام واضح انداز میں بیان فرما یا، انہیں اللہ تعالی نے اپنے ہمراہ فرشتوں کے ساتھ ذکر کیا اور کہا کہ اہل علم اور بے علم افراد برابر نہیں ہیں،  بلکہ لوگوں کو اپنے معاملات کیلیے اہل علم کی جانب رجوع کرنے کی تلقین بھی فرمائی، دوسری جانب رسول اللہ ﷺ نے حصولِ علم کیلیے کی جانے والی کوشش کو حصولِ جنت میں آسانی کا ذریعہ بتلایا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ: تعلیم و تعلم ایسا مشغلہ ہے کہ یہ صدقہ جاریہ اور نیکیوں کا بحر بے کنار ہے؛ چنانچہ اتنے عظیم عمل کیلیے جد و جہد بھی اسی قدر ضروری ہے، لہذا طلبہ اور اساتذہ کو سخت محنت، جان فشانی  اور اخلاص نیت کی ضرورت ہوتی ہے، طلبہ کو حسن اخلاق کا مرقع ہونا چاہیے تا کہ گفتار سے پہلے کردار کے ذریعے دوسروں کو عمل کی دعوت دیں، انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر طلبہ کی دنیاوی علوم حاصل کرتے ہوئے نیت اچھی ہو تو وہ بھی دینی علوم کیلیے وارد شدہ فضیلت حاصل کر سکتے ہیں،  دوسرے خطبے میں انہوں  نے کہا کہ: اساتذہ انبیائے کرام کے جا نشین ہوتے ہیں، قوم اور ملت کا مستقبل بھی وہی تیار کرتے ہیں، اس لیے ان کا احترام انتہائی ضروری ہے اگر انسان ہونے کے ناتے ان سے کوئی لغزش ہو بھی جائے تو ان سے صرف نظر کرنی چاہیے، پھر انہوں نے اساتذہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کے ذمے قوم اور ملت کی بہت بڑی ذمہ داری ہے اگر آپ طلبہ کی تربیت کرتے ہیں تو پہلے خود عملی نمونہ بنیں، آپ یہ ذمہ داری خوش اسلوبی سے نبھائیں تو دونوں جہانوں میں کامیابیاں سمیٹو گے، بصورت دیگر قوم اور ملت کے بھی مجرم ٹھہرو گے، آخر میں انہوں نے ایک بار پھر طلبہ کو موسی اور خضر علیہما السلام کے واقعہ کو مشعل راہ قرار دیا کہ کس طرح موسی علیہ السلام نے آداب شاگردی کا سپاس رکھتے ہوئے خضر علیہ السلام سے علم حاصل کرنے کی کوشش کی، پھر انہوں نے سب کیلیے جامع دعا کروائی۔

خطبہ کی عربی آڈیو، ویڈیو اور ٹیکسٹ حاصل کرنے کیلیے یہاں کلک کریں۔

پہلا خطبہ

یقیناً تمام  تعریفیں اللہ کیلیے ہیں، اسی نے قلم کے ذریعے علم سکھایا، انسان کو وہ چیزیں بھی سکھائیں جن کا اسے علم نہیں تھا، میں تمام نعمتوں اور عنایتوں پر اسی کی حمد خوانی کرتا ہوں، اس نے جو بھی ہم پر فضل و کرم کیا  اس کا شکر ادا کرتا ہوں، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ بر حق نہیں، اس کا کوئی شریک نہیں، اور یہ بھی گواہی دیتا ہوں جناب محمد  -ﷺ-خاتم الانبیاء و الرسل  ہیں، اللہ تعالی نے آپ کو تمام مخلوقات پر فوقیت دی اور آپ کو عرب و عجم سب کے لیے رحمت بنا کر بھیجا، آپ نے پیغام رسالت پہنچایا، امانت ادا کر دی اور امت کی خیر خواہی کے ساتھ کما حقہ جہاد بھی کیا حتی کہ آپ اس جہان سے چلے گئے، اللہ تعالی آپ پر آپ کی آل، صحابہ کرام ،آپ کی ہدایات اور سنتوں پر چلنے والوں پر روزِ قیامت تک ڈھیروں رحمتیں، سلامتی اور برکتیں نازل فرمائے۔

حمد و صلاۃ کے بعد:

قرآن مجید سب سے سچا کلام  اور اللہ کے ہاں دین  اسلام ہے، ترین طرزِ زندگی جناب محمد ﷺ کا ہے، {يَاأَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمْ وَاخْشَوْا يَوْمًا لَا يَجْزِي وَالِدٌ عَنْ وَلَدِهِ وَلَا مَوْلُودٌ هُوَ جَازٍ عَنْ وَالِدِهِ شَيْئًا إِنَّ وَعْدَ اللَّهِ حَقٌّ فَلَا تَغُرَّنَّكُمُ الْحَيَاةُ الدُّنْيَا وَلَا يَغُرَّنَّكُمْ بِاللَّهِ الْغَرُورُ} لوگو ! اپنے پروردگار سے ڈرتے رہو اور اس دن سے ڈر جاؤ جب نہ تو کوئی باپ اپنے بیٹے کے کچھ کام آئے گا اور نہ بیٹا باپ کے۔ اللہ کا وعدہ یقیناً سچا ہے لہذا یہ دنیا کی زندگی تمہیں دھوکہ میں نہ ڈال دے اور نہ کوئی دھوکے باز تمہیں اللہ کے بارے دھوکہ میں ڈالے ۔[لقمان: 33]

اللہ کے بندو!

اللہ تعالی نے انسان کو اس دھرتی پر اپنا خلیفہ چنا اور اسے علم سے نوازا، اسی علم کے ساتھ کارکردگی اور اشرف المخلوقات ہونے کے اعزاز منسلک  ہیں، نیز انسان کو عقل بھی دی  اور اسی عقل کی بنا پر اللہ تعالی نے اسے مخاطب کیا اور احکامات کا پابند بھی بنایا، فرمانِ باری تعالی ہے: {وَإِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلَائِكَةِ إِنِّي جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةً قَالُوا أَتَجْعَلُ فِيهَا مَنْ يُفْسِدُ فِيهَا وَيَسْفِكُ الدِّمَاءَ وَنَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِكَ وَنُقَدِّسُ لَكَ قَالَ إِنِّي أَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُونَ} اور جب تیرے رب نے فرشتوں سے کہا بیشک میں زمین میں ایک جانشین بنانے والا ہوں۔ انھوں نے کہا کیا تو اس میں اس کو بنائے گا جو اس میں فساد کرے گا اور بہت سے خون بہائے گا اور ہم تیری تعریف کے ساتھ ہر عیب سے پاک ہونا بیان کرتے ہیں اور تیری پاکیزگی بیان کرتے ہیں۔ فرمایا بیشک میں جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔ [البقرة: 30]

اس کے بعد اللہ تعالی نے یہ بھی بتلا دیا کہ علم  کی وجہ سے افضلیت اور اعزاز انسان کو ملا ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: {وَعَلَّمَ آدَمَ الْأَسْمَاءَ كُلَّهَا ثُمَّ عَرَضَهُمْ عَلَى الْمَلَائِكَةِ فَقَالَ أَنْبِئُونِي بِأَسْمَاءِ هَؤُلَاءِ إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ (31) قَالُوا سُبْحَانَكَ لَا عِلْمَ لَنَا إِلَّا مَا عَلَّمْتَنَا إِنَّكَ أَنْتَ الْعَلِيمُ الْحَكِيمُ (32) قَالَ يَاآدَمُ أَنْبِئْهُمْ بِأَسْمَائِهِمْ فَلَمَّا أَنْبَأَهُمْ بِأَسْمَائِهِمْ قَالَ أَلَمْ أَقُلْ لَكُمْ إِنِّي أَعْلَمُ غَيْبَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَأَعْلَمُ مَا تُبْدُونَ وَمَا كُنْتُمْ تَكْتُمُونَ} اور اللہ تعالی نے آدم کو تمام نام سکھا کر ان چیزوں کو فرشتوں کے سامنے پیش کیا اور فرمایا، اگر تم سچے ہو تو ان چیزوں کے نام بتاؤ  [31] ان سب نے کہا اے اللہ! تیری ذات پاک ہے ہمیں تو صرف اتنا ہی علم ہے جتنا تو نے ہمیں سکھا رکھا ہے، پورے علم و حکمت والا تو تو ہی ہے۔ [32] اللہ تعالی نے آدم سے فرمایا تم ان کے نام بتا دو۔ جب انہوں نے بتا دیئے تو فرمایا کہ کیا میں نے تمہیں (پہلے ہی) نہ کہا تھا کہ زمین اور آسمانوں کا غیب میں ہی جانتا ہوں اور میرے علم میں ہے جو تم ظاہر کر رہے ہو اور جو تم چھپاتے تھے۔ [البقرة: 31 - 33]

اللہ تعالی نے اپنی ساری مخلوق پر انسانوں کو علم اور عقل کے باعث فضیلت سے نوازا، اور اسی علم کی بنا پر ان سے احکامات کی تعمیل اور ان پر عمل کرنے کا مطالبہ فرمایا۔

مسلم اقوام!

ان دونوں میں طلبا اور طالبات کا نیا تعلیمی سیمسٹر  شروع ہو چکا ہے، تو مبارک ہو بھر پور جد و جہد کرنے والوں کو ، کامیابی کے لیے اپنی وسعت کے مطابق کوشش کرنے والوں کو؛ کیونکہ حصول علم  بنیادی ترین ضرورت  ہے، علم کی بنا پر انسان دین پہچانتا ہے، یہی وہ ذریعہ ہے جس کے ذریعے انسان اپنے پروردگار کی اطاعت کا طریقہ سیکھتا ہے، جبریل  ہمارے رسول ﷺ کی جانب جو اولین حکم لائے تھے وہ حصولِ علم کا ہی تھا اور وہ سب سے پہلے نازل ہونے والی آیت {اقْرَأْ} [العلق: 1] ہے۔

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ: رسول اللہ ﷺ پر وحی کا ابتدائی دور سچے خوابوں سے شروع ہوا۔ آپ خواب میں جو کچھ دیکھتے وہ روزِ روشن کی طرح سچا ثابت ہوتا۔ پھر آپ تنہائی پسند ہو گئے اور آپ ﷺ نے غار حرا میں خلوت اختیار فرما لی اور کئی کئی دن اور رات وہاں مسلسل عبادتِ الہی میں مشغول رہتے۔ جب تک گھر آنے کو دل نہ چاہتا توشہ ہمراہ لیے ہوئے وہاں رہتے۔ آپ کا یہی طریقہ رہا یہاں تک کہ آپ کے پاس حق آ گیا ، آپ غار حرا ہی میں تھے کہ اچانک جبرئیل آپ کے پاس آئے اور کہنے لگے: "پڑھو!" آپ ﷺ نے فرمایا: (میں پڑھنا نہیں جانتا) ، آپ ﷺ نے فرمایا: (کہ فرشتے نے مجھے پکڑ کر اتنے زور سے بھینچا کہ میری طاقت جواب دے گئی) پھر  فرشتے نے مجھے چھوڑ کر کہا : "پڑھو!" ، میں نے پھر وہی جواب دیا کہ میں پڑھا ہوا نہیں ہوں۔  تو آپ ﷺ نے فرمایا: اس فرشتے نے مجھ کو دوسری بار نہایت ہی زور سے بھینچا کہ مجھ کو سخت تکلیف ہوئی، پھر اس نے کہا کہ "پڑھو!" میں نے کہا کہ میں پڑھا ہوا نہیں ہوں۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا: اس فرشتے نے مجھے تیسری بھی بار نہایت زور سے بھینچا کہ مجھ کو سخت تکلیف ہوئی، پھر اس نے کہا : {اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ (1) خَلَقَ الْإِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ (2) اقْرَأْ وَرَبُّكَ الْأَكْرَمُ (3) الَّذِي عَلَّمَ بِالْقَلَمِ (4) عَلَّمَ الْإِنْسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ}  پڑھو اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا (1)اور انسان کو خون کے لوتھڑے سے بنایا (2)پڑھو اور آپ کا رب بہت ہی مہربانیاں کرنے والا ہے(3) جس نے قلم کے ذریعے سکھایا (4) انسان کو وہ کچھ سکھایا جس کا اسے علم ہی نہیں تھا۔[العلق: 1 - 5]

یہ بھی پڑھیں:   خواجہ صاحب کی جے - سعدیہ مسعود

اللہ کے بندو!

قرآن کریم نے حصول علم کی ترغیب دلائی ہے، بلکہ نبی ﷺ کو علم کے علاوہ کسی بھی چیز میں اضافے کی دعا کرنے کا حکم نہیں دیا گیا، اللہ تعالی کا فرمان ہے: {وَقُلْ رَبِّ زِدْنِي عِلْمًا} اور کہہ دے: میرے رب، میرے علم میں اضافہ فرما۔ [طہ: 114]

پھر علمائے کرام کا مقام و مرتبہ واضح کرتے ہوئے فرمایا: {إِنَّمَا يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمَاءُ}  اللہ سے اس کے وہی بندے ڈرتے ہیں جو علم رکھتے ہیں ۔[فاطر: 28]

نیز وحدانیت الہی کی گواہی کے سلسلے میں علمائے کرام کو اللہ تعالی نے اپنے  ہمراہ فرشتوں کے ساتھ ذکر فرمایا اور کہا: {شَهِدَ اللَّهُ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ وَالْمَلَائِكَةُ وَأُولُو الْعِلْمِ قَائِمًا بِالْقِسْطِ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ} اللہ تعالی، فرشتے اور اہل علم اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور وہ عدل کو قائم رکھنے والا ہے، اس غالب اور حکمت والے کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔ [آل عمران: 18]

ان کی شان مزید عیاں کرتے ہوئے فرمایا: {قُلْ هَلْ يَسْتَوِي الَّذِينَ يَعْلَمُونَ وَالَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ} کہہ دے: کیا جو لوگ جانتے ہیں وہ اور جو نہیں جانتے برابر ہو سکتے ہیں؟ [الزمر: 9]

لوگوں کو اہل علم کی جانب رجوع کرنے کی تلقین کرتے ہوئے فرمایا: {فَاسْأَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ إِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ} پس اہل ذکر سے پوچھو اگر تم نہیں جانتے۔[النحل: 43]

حصولِ علم کیلیے رسول اللہ ﷺ نے بھی ترغیب دلائی اور بتلایا کہ علم در حقیقت اللہ تعالی کے ارادۂ خیر کی علامت ہے، آپ ﷺ کا فرمان ہے: (اللہ تعالی جس شخص کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرما لے تو اسے دین کی سمجھ عطا فرماتا ہے)

نیز آپ ﷺ کا یہ بھی فرمان ہے: (جو شخص حصولِ علم کیلیے راستے پر چلے تو  اللہ تعالی اِس کی وجہ سے اس شخص کیلیے جنت کا راستہ آسان فرما دیتا ہے)

اس لیے آپ سب حصولِ علم کیلیے وقت نکالیں، اپنے بچوں کو حصولِ علم کیلیے ترغیب دلائیں؛ کیونکہ علم تربیت کا مفید ترین ذریعہ اور تزکیہ نفس کا یقینی راستہ ہے، علم ہی انسان کو فتنوں سے تحفظ  دیتا ہے اور مشکل حالات میں ثابت قدمی کا باعث بنتا ہے، مصیبت کے وقت میں دلاسا دیتا ہے، حصولِ علم بہت بڑی نیکی، عظیم ترین بندگی اور بلند درجات  کا حامل عمل ہے۔

مسلم اقوام!

(اللہ تعالی جس شخص کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرما لے تو اسے دین کی سمجھ عطا فرماتا ہے، دورِ جاہلیت میں تمہارے نامور افراد اسلام میں بھی نامور ہو سکتے ہیں اگر وہ دین سمجھ لیں، اور علما انبیائے کرام کے وارث ہیں)

تعلیم و تعلم کی مصروفیت ابدی اور سرمدی نیکیوں میں سے ہے، یہ مصروفیت مرنے کے بعد صدقہ جاریہ بن جاتی ہے اور مسلسل ثواب کا ذریعہ بنتی ہے؛ چنانچہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: (جس وقت انسان فوت ہو جائے تو اس کے تین اعمال کے علاوہ سب منقطع ہو جاتے ہیں: صدقہ جاریہ، علم  جس سے لوگ مستفید ہو رہے ہوں، یا نیک اولاد جو اس کیلیے دعائیں کرے)

 علم کو دل جمعی، وقت، محنت، جاں فشانی اور قربانی کی ضرورت ہوتی ہے؛ کیونکہ رفعت بہ قدر  محنت ہی  ملتی ہے۔

طلبہ کو اخلاص نیت، پختہ عزم اور تزکیۂ نفس کی ضرورت ہوتی ہے، جبکہ رکاوٹوں  اور دیگر حائل ہونے والی چیزوں سے بچنا ضروری ہوتا ہے؛ کیونکہ بستر پر پڑے رہنے والا آسمان نہیں چھو سکتا {وَمَا كَانَ الْمُؤْمِنُونَ لِيَنْفِرُوا كَافَّةً فَلَوْلَا نَفَرَ مِنْ كُلِّ فِرْقَةٍ مِنْهُمْ طَائِفَةٌ لِيَتَفَقَّهُوا فِي الدِّينِ وَلِيُنْذِرُوا قَوْمَهُمْ إِذَا رَجَعُوا إِلَيْهِمْ لَعَلَّهُمْ يَحْذَرُونَ} مومنوں کے لئے یہ ممکن نہیں کہ وہ سب کے سب ہی نکل کھڑے ہوں۔ پھر ایسا کیوں نہ ہوا کہ ہر فرقہ میں سے کچھ لوگ دین میں سمجھ پیدا کرنے کے لئے نکلتے تاکہ جب وہ ان کی طرف واپس جاتے تو اپنے لوگوں کو (برے انجام سے) ڈراتے۔ اسی طرح شاید وہ برے کاموں سے بچے رہتے۔ [التوبہ: 122]

طلبہ کو شرعی آداب کی ضرورت بھی رہتی ہے تا کہ طلبہ دوسروں کے لیے عملی نمونہ اور اچھی مثال بن کر سامنے آئیں اور دین اسلام کا پیغام آگے پہنچانے کے قابل بنیں، نیز امت کے بہترین لوگوں میں شامل ہوں؛ نبی ﷺ سے صحیح ثابت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: (اس علم کو ہر پیش رو سے صادق اور امین لوگ حاصل کریں گے، وہ اس دین سے غلو کاروں کی تحریف ، باطل لوگوں کے اعتراضات، اور جاہلوں کی تاویلیں مٹائیں گے)

ان تمام تر تفصیلات کے بعد،  اللہ کے بندو!

تمام کے تمام مفید علوم  شرعی طور پر جائز ہیں، چاہے ان علوم کا ماخذ قرآن و سنت ہوں، جیسے کہ عقیدہ، تفسیر، حدیث، فقہ اور دیگر دینی علوم یا چاہے ان علوم کا ماخذ زندگی میں حاصل ہونے والا تجربہ اور مشاہدہ ہو؛ جیسے کہ طبی علوم، حیاتیات اور ہندسہ وغیرہ ہیں، چنانچہ اگر کوئی شخص ان علوم کو حاصل کرتے ہوئے بھی اپنی نیت خالص رکھے تو مجھے اللہ تعالی سے امید ہے کہ وہ بھی نبی ﷺ کے اس فرمان میں شامل ہو گا: (جو شخص حصولِ علم کیلیے راستے پر چلے تو  اللہ تعالی اِس عمل کی وجہ سے اس شخص کیلیے جنت کا راستہ آسان فرما دیتا ہے)

أَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيْمِ: {هُوَ الَّذِي بَعَثَ فِي الْأُمِّيِّينَ رَسُولًا مِنْهُمْ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَإِنْ كَانُوا مِنْ قَبْلُ لَفِي ضَلَالٍ مُبِينٍ (2) وَآخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ (3) ذَلِكَ فَضْلُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ وَاللَّهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ} وہی تو ہے جس نے ان پڑھ  لوگوں میں انہی میں سے ایک رسول بھیجا جو انہیں اللہ کی آیات پڑھ کر سناتا ہے ان کی زندگی سنوارتا اور انہیں کتاب و حکمت  کی تعلیم دیتا ہے۔ اگرچہ وہ اس سے پہلے صریح  گمراہی میں پڑے تھے  [2] اور انہی کے کچھ دوسرے لوگوں (کی طرف بھی بھیجا) جو ابھی ان سے  نہیں ملے اور وہ زبردست ہے حکمت والا ہے  [3] یہ اللہ کا فضل ہے جسے چاہتا ہے دیتا ہے اور اللہ بڑے فضل والا ہے [الجمعہ: 2 - 4]

دوسرا خطبہ

تمام تعریفیں اللہ کیلیے ہیں   جیسے اس کے جلال کے لائق ہوں، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ بر حق نہیں، عظمت و کمال میں وہ یکتا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے بندے اور رسول  ہیں، اللہ تعالی ان پر ، ان کی آل اور صحابہ کرام پر رحمتیں  اور ڈھیروں سلامتی روزِ قیامت تک نازل فرمائے۔

یہ بھی پڑھیں:   خواجہ صاحب کی جے - سعدیہ مسعود

اللہ کے بندو!

کچھ لوگ علم کے خادم ہوتے ہیں جو علم محفوظ کرتے ہیں، اس کی حفاظت کرتے ہیں، علم سیکھ کر آگے پہنچاتے ہیں، اساتذہ علم کے لیے خدمات پیش کرتے ہیں، ان کے ذریعے سے علوم نسلوں تک پھیلتے چلے جاتے ہیں اور ان کی کاوشوں سے کائنات کے گوشوں میں موجود لوگ ان سے مستفید ہوتے ہیں۔

مسلم سماج!

استاد اپنی تربیتی اور تعلیمی ذمہ داری نبھاتے ہوئے انبیائے کرام اور علمائے عظام  کا جا نشین ہوتا ہے، استاد پوری قوم کی خدمت کرتے ہوئے قوم کو مستقبل کے معمار  تیار کر کے دیتا ہے، قوم کے نوجوانوں  میں دینی اور دنیاوی زندگی  خوشحال بنانے کے طریقے ودیعت کرتا ہے، اس لیے استاد کا لحاظ اور سپاس انتہائی ضروری ہے، استاد کی عزت اور وقار کا احترام کرنا چاہیے، ان کی غلطیاں معاف اور لغزشوں کو درگزر کر دینا چاہیے۔

مرد و خواتین اساتذہ اور تربیت کنندگان:

آپ عملی نمونہ بنیں، علم اور آداب سے آراستہ و پیراستہ ہوں، آپ اپنے طلبہ کی نگاہوں میں بہت عظیم شخصیت ہو، طلبہ ہمیشہ تمہاری نقل اتارنے اور تمہارے نقش قدم پر چلنے کے دلدادہ ہوتے ہیں، اس لیے ان کے سامنے عملی نمونہ بن جائیں۔

اگر آپ انہیں سچ بولنے کی تلقین کرتے ہیں تو آپ سچے بن کر دکھائیں، اور اگر آپ انہیں صبر کی تلقین کرتے ہیں تو آپ صابر بن کر دکھائیں۔

اِبْدَأْ بِنَفْسِكَ فَانْهَهَا عَنْ غَيِّهَا

فَإِذَا اِنْتَهَتْ عَنْهُ فَأَنْتَ حَكِيْمُ

اپنے آپ سے ابتدا کرو اور نفس کو سرکشی سے روکو، اگر نفس اس سے رک جائے تو تم دانا ہو

فَهُنَاكَ يُقْبَلُ مَا تَقُوْلُ وَيُقْتَدىٰ

بِالْعِلْمِ مِنْكَ وَيَنْفَعُ التَّعْلِيْمُ

یہاں آپ کی ہر بات مانی جاتی ہے اور تم سے علم لیکر اس پر عمل کیا جاتا ہے، تو اچھی تعلیم دینا مفید عمل ہے

لَا تَنْهَ عَنْ خُلُقٍ وَتَأْتِيَ مِثْلَهُ

عَارٌ عَلَيْكَ إِذَا فَعَلْتَ عَظِيْمٌ

تم کسی بات سے روک کر خود اس کا ارتکاب مت کرو؛ کیونکہ یہ بری بات ہے اور تمہارا ارتکاب زیادہ سنگین  ہے۔

مرد و خواتین اساتذہ کرام!

آپ کی ذمہ داری بہت بڑی ہے، آپ کے کندھوں پر ڈالی گئی امانت  بہت اہم ہے، اس لیے مستقبل کا نوجوان آپ کے ذمے ہے، پوری امت اور قوم  کی امانتیں آپ کے اختیار میں ہیں، ان کا مستقبل بھی آپ کی کارکردگی سے منسلک ہے، اس لیے جس چیز کا آپ لوگوں کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے ان کے متعلق اللہ سے ڈریں؛ کیونکہ (تم میں سے ہر ایک ذمہ دار ہے اور پھر تم سے تمہاری ذمہ داریوں کے بارے میں پوچھا جائے گا)

اگر تم اچھی کارکردگی دکھاؤ گے -آپ سے امید بھی اسی چیز کی ہے- تو اللہ تعالی کے ہاں تمہارے لیے بہت بڑا مقام ہے، بصورت دیگر تم اپنا بھی برا کرو گے اور پوری قوم اور ملت کا بھی ۔

محترم طلبہ اور طالبات!

ذرا میری بات غور سے سننا، کان لگا کر سماعت کرنا، یہ بات تم سے محبت اور تمہارے خیر کی جانب سے تمہارے لیے خاص ہے کہ: استاد کا احترام شرعی ادب، اخلاقی فریضہ، علمی اور تربیتی کامیابی کا راز بھی ہے۔

اللہ کے نبی موسی علیہ السلام کے خضر علیہ السلام کے ساتھ سفر کے واقعے میں عبرتیں، نصیحتیں اور یاد دہانیاں ہیں، چنانچہ موسی علیہ ا لسلام نے شاگرد بن کر خضر علیہ السلام سے فرمایا تھا: {هَلْ أَتَّبِعُكَ عَلَى أَنْ تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمْتَ رُشْدًا} کیا میں آپ کے ہمراہ چل سکتا ہوں؟ کہ آپ مجھے رہنمائی سکھا دیں جو آپ کو سکھائی گئی ہے۔ [الكهف: 66] تو اس پر استاد نے جواب دیا: {قَالَ إِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِيعَ مَعِيَ صَبْرًا (67) وَكَيْفَ تَصْبِرُ عَلَى مَا لَمْ تُحِطْ بِهِ خُبْرًا} کہا: آپ میرے ساتھ ہرگز صبر نہیں کر سکتے[67] اور صبر کر بھی کیسے سکتے ہیں آپ کو ان چیزوں کا علم ہی نہیں دیا گیا۔[الكهف: 67، 68] تو موسی علیہ السلام نے انہیں بتلانے کی کوشش کی کہ وہ استاد کے احترام اور تعلیمی مرحلے کی مشقتوں کو سمجھتے ہیں اور: {قَالَ سَتَجِدُنِي إِنْ شَاءَ اللَّهُ صَابِرًا وَلَا أَعْصِي لَكَ أَمْرًا} کہا  ان شاء اللہ آپ مجھے صبر کرنے والا پائیں گے اور میں آپ کے کسی حکم کی عدولی نہیں کروں گا۔[الكهف: 69]

استاد کی بہت زیادہ فضیلت ہے، استاد کی محنت، تگ و دو اور جد و جہد  کا بدلہ اچھائی کے ساتھ ہی ممکن ہے، اس لیے اپنے آپ کو استاد  کی بے ادبی سے دور رکھنا، کیونکہ استاد کی بے ادبی ناقص تربیت، اخلاقی گراوٹ، اور گرا ہوا سلوک ہے، ایسی حرکت صرف کمینہ شخص ہی کرتا ہے۔

سلف صالحین ہمارے لیے اس حوالے سے بھی عملی نمونہ ہیں، چنانچہ امام شافعی کے شاگرد ربیع رحمہما اللہ  کہتے ہیں کہ: "امام شافعی کی ہیبت کی وجہ سے میری اتنی جرأت کبھی نہ ہوئی کے ان کے سامنے پانی پی لوں"

اس لیے اپنے اساتذہ کی عزت کرو، ہر شخص کو اس کا مقام دو، ہر شخص کو اس کے پورے حقوق دو، اللہ تعالی آپ سب کو کامیاب فرمائے، تمہیں علم نافع اور عمل صالح سے نوازے۔

یا اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ عطا فرما۔ یا اللہ! اپنے موحد بندوں کی مدد فرما۔ یا اللہ! اس ملک کو اور تمام مسلم ممالک کو پر امن اور مستحکم بنا۔

یا اللہ! ہمیں ہمارے ملکوں میں امن عطا فرما، یا اللہ! ہمیں ہمارے ملکوں میں امن عطا فرما، یا اللہ! ہمارے ممالک کی قیادت کو مزید بہتر بنا۔

یا اللہ! ہمارے حکمران خادم حرمین شریفین کو  خصوصی توفیق سے نواز، ان کی خصوصی مدد فرما، یا اللہ! انہیں اور ان کے ولی عہد کو تیری رضا کے حامل کام کرنے کی توفیق عطا فرما، یا اللہ! ان کی نیکی اور تقوی کے کاموں کے لیے رہنمائی فرما، یا اللہ! ان دونوں کو با صلاحیت  اور خیر خواہ وزیر و مشیر عطا فرما۔

یا اللہ! ہماری سرحدوں پر مامور فوجیوں کی حفاظت فرما، یا اللہ! ان کی خصوصی حفاظت فرما، انہیں اپنا خصوصی اہتمام عطا فرما، یا اللہ! ان میں سے جو بیمار ہیں انہیں شفا یاب فرما، زخمیوں کی صحت عطا فرما، فوت شدگان کو اپنے ہاں شہدا میں قبول فرما، یا اللہ! ان کے درجات بلند فرما، پسماندگان کو مکمل تحفظ عطا فرما، یا اللہ! ان کے ساتھ ہمیں بھی بخش دے، یا رب العالمین!

یا اللہ! تیرے علاوہ کوئی معبود بر حق نہیں، تو ہی معبود حقیقی ہے۔ یا اللہ! تیرے علاوہ کوئی معبود بر حق نہیں، تو ہی معبود حقیقی ہے، یا اللہ! تو ہی غنی ہے اور ہم فقیر ہیں، یا اللہ! تو ہی غنی ہے اور ہم فقیر ہیں، یا اللہ! تو ہی غنی ہے اور ہم فقیر ہیں، یا اللہ! ہمیں بارش عطا فرما، یا اللہ! ہمیں بارش عطا فرما، ہمیں مایوس مت فرما، یا اللہ! بارش نازل فرما، یا اللہ! بارش نازل فرما، یا اللہ! بارش نازل فرما۔

یا اللہ! ایسی بارش ہو جو برکت والی، بے ضرر، زر خیز، موسلا دھار، بڑے بڑے قطروں والی، بھر پور ، ساری زمین پر ہونے والی مفید اور نقصانات سے مبرّا بارش عطا فرما۔

یا اللہ! بارش کے ذریعے دھرتی کو لہلہا دے، شہروں اور دیہاتوں سب کیلیے اس بارش کو مفید بنا دے،  یا اللہ! شہروں اور دیہاتوں سب کیلیے بارش کو مفید بنا دے۔ یا ارحم الراحمین!

یا اللہ! اپنے بندوں اور دیگر جانداروں کو بارش سے نواز، یا اللہ! اپنے بندوں اور دیگر جانداروں کو بارش سے نواز، یا اللہ! اپنے بندوں اور دیگر جانداروں کو بارش سے نواز، یا اللہ! اپنی رحمت نچھاور فرما دے، اور قحط زدہ خطے کو آباد فرما دے، یا ارحم الراحمین!

اَللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، وَعَلَى آلِهِ وَأَصْحَابِهِ أَجْمَعِيْنَ.

 

پی ڈی ایف فارمیٹ میں ڈاؤنلوڈ / پرنٹ کرنے کیلیے کلک کریں۔

Comments

شفقت الرحمن مغل

شفقت الرحمن مغل

شفقت الرحمن جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ سے بی ایس حدیث کے بعد ایم ایس تفسیر مکمل کر چکے ہیں اور مسجد نبوی ﷺ کے خطبات کا ترجمہ اردو دان طبقے تک پہنچانا ان کا مشن ہے. ان کے توسط سے دلیل کے قارئین ہر خطبہ جمعہ کا ترجمہ دلیل پر پڑھتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.