کیا اجماع حجت نہیں؟ - محمد زاہد صدیق مغل

نئے خیالات کی جگہ بنانے کے لیے پرانے خیالات کو غیر متعلق یا غیر ثابت شدہ بتانا لازم ہوتا ہے۔ اس کی ایک صورت یا تو "اجماع کے انکار" کی ہوتی ہے اور یا پھر اس کے "حجت نہ ہونے" کی۔ چنانچہ ایک گروہ کا خیال ہے کہ یہ جسے "اجماع" کہتے ہیں اس کا کوئی وجود نہیں۔ جب انہیں کہا جائے کہ ایک "متفق علیہ" مخصوص اعمال کی لسٹ تو آپ کے یہاں بھی موجود ہے تو اس کے جواب میں ایک پیچیدہ علمی نظریہ تعمیر کیا جاتا ہے جس کی رو سے جسے "اجماع بطور شرعی حجت" کہا جاتا ہے اس کا تعلق "فہم دین" سے ہے (کہ مثلاً قرآن کی فلاں آیت کا کیا مطلب ہے اور کیا نہیں؟) اور ہم اسی کے منکر ہیں۔ رہی بات امت کو بعض اعمال بطور سنن منتقل ہونے کی، تو اس معنی میں اجماع ایک "انسانی ذریعہ علم" ہے جو یہ بتاتا ہے کہ "خبر کیسے منتقل ہوئی"۔ پس رسول اللہﷺ کے جو اعمال امت کو تواتر کے ساتھ منتقل ہوئے ان کی حیثیت گویا ایسی ہے جیسے مثلاً امت کو الفاظ قرآنی منتقل ہوئے۔ ان کے خیال میں اجماع کو حجت کہنے والے یہ اہم "علمی فرق" پہچاننے سے قاصر ہیں۔

اس پر تبصرے سے قبل یہ ذہن نشین رہے کہ اس نظریے کے مطابق امت کو قرآن کے الفاظ تو تواتر کے ساتھ منتقل ہوئے البتہ اس کے معنی منتقل نہیں ہوئے۔ یہ نظریاتی پوزیشن اس لیے اختیار کی جاتی ہے تاکہ متن کو "کسی بھی طرح کے امکانی معنی" پہنانے کی آزادی میسر آسکے (وہ الگ بات ہے کہ ہر نیا گروہ اس پر کچھ حد بندی کرتا ہے، خیر اسے فی الوقت اگنور کریں)۔

جاننا چاہیے کہ "اجماع بطور حجت و اجماع بطور ذریعہ انتقال" کا یہ نظریہ خود ان کے اپنے تصورات کی رو سے ایک لغو بات ہے کیونکہ جن اعمال (سنن) کو یہ متواتر مانتے ہیں وہ محض اعمال کی صورتیں (pure form) نہیں بلکہ ان کے ساتھ لازمی طور پر پیوست (embedded) اور انہیں معنی دینے والے تصورات (meaning) کا نام ہے اور ان تصورات کے بغیر نہ صرف یہ کہ ان صورتی اعمال کا سرے سے کوئی معنی ہی نہیں بلکہ ان کی منتقلی بھی کوئی بامعنی چیز نہیں۔ مثلاً یہ جسے صلٰوۃ کہتے ہیں تو یہ صرف اس چیز کا نام نہیں ہے کہ مسلمان دن میں پانچ مرتبہ چند خاص اوقات پر خاص مقدار میں خاص طرز کی حرکات و سکنات کرتے ہیں بلکہ یہ مخصوص تصورات کا مجموعہ ہے (مثلاً پنجگانہ نماز فرض ہے، ہر نماز کے ہر عمل کی شرعی و فقہی حیثیت کیا ہے، یعنی فرض سنت وغیرہ)۔ نماز کے ساتھ پیوست ان تصورات کا ماخذ کیا نماز کی منتقل شدہ صورتی شکلیں ہیں؟ ہرگز نہیں، بلکہ ان کا ماخذ "نصوص کا فہم" ہے جو ان اشکال کے ساتھ ہی امت کو منتقل ہوا ہے۔ مخصوص طرز کے عمل سے تو بس یہ پتہ چلا کہ امّت اسے یوں ادا کرتی چلی آئی ہے، اس کا فرض ہونا نص کے فہم پر مبنی ہے نہ کہ بذات خود عمل کی صورت میں۔ تو یہ جسے نماز کہتے ہیں، یہ "اپنے اندر و ساتھ" فرائض، سنن، مستحبات کی ایک لسٹ کے ساتھ منتقل ہوئی ہے اور ان تمام امورکا تعلق خبر کی طرز پر انتقال عمل سے نہیں بلکہ "انتقال فہم" سے ہے، اس انتقال فہم کو حجت مانے بغیر صلوۃ کو کوئی معنی (meaning) دینا ناممکن ہے۔ چنانچہ یہ لوگ جب اجماع کو اپنے تئیں "قول و عمل کے نقل" تک محدود قرار دے کر "فہم" کو اس سے خارج قرار دے رہے ہوتے ہیں تو دراصل یہ خود اپنی بات سمجھے بغیر ہی کچھ contentless اعمال کو منتقل کرنے کی بات کررہے ہوتے ہیں (بالکل اسی طرح جیسے "بغیر معنی الفاظ کی منتقلی")۔

"فہم" کو اجماع کے دائرے سے باہر قرار دے کر "عمل کی منتقلی" کو حجت سمجھنا ایک لغو بات ہے۔ یہ جن متفقہ اعمال کی لسٹ آپ اپنے ہاتھ میں تھامے گھوم رہے ہیں، یہ "نصوص کے فہم کے اجماع" کا ہی نام ہے، اسے محض "انتقال ذریعہ" سمجھنا ناسمجھی ہے۔ تو اگر کسی کا خیال یہ ہے کہ اجماع نامی کسی شے کا نہ تو وجود ہے اور نا ہی وہ حجت ہے، تو اس کے سامنے فرضیت نماز کے انکار کا راستہ کھلا ہے۔

Comments

محمد زاہد صدیق مغل

محمد زاہد صدیق مغل

محمد زاہد صدیق مغل نسٹ یونیورسٹی کے شعبہ اکنامکس میں تدریس کے فرائض سر انجام دیتے ہیں۔ قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد سے معاشیات میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ ملکی و غیر ملکی جرائد و رسائل میں تسلسل کے ساتھ تحقیقی آراء پیش کرتے رہتے ہیں۔ ان کی تحقیق کے خصوصی موضوعات میں معاشیات، اسلامی فنانس وبینکنگ اور جدیدیت سے برآمد ہونے والے فکری مباحث شامل ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */