کوئی ہے جو خادم پنجاب کو گورننس کے بارے میں سمجھائے؟ - محمد عامر خاکوانی

دو دن سے مختلف احباب وہ ٹی وی کلپ بھیج رہے ہیں جس میں میاں شہباز شریف اور ان کے چہیتے ساتھی بیٹی زینب کے قاتل کی گرفتاری پر دانت نکالے تالیاں بجا رہے ہیں۔ اسی فوٹیج میں وزیراعلیٰ پنجاب ہاتھ بڑھا کر زینب کے والد کا مائیک بند کر دیتے ہیں کہ وہ کوئی ایسی بات نہ کہہ دیں جس سے پنجاب حکومت کے کریڈٹ پر فرق آ جائے۔ ان کے ایسا کرتے ہی پیچھے کھڑا ایک وفادارلپک کردکھی دل شخص کے آگے سے مائیک بھی اُچک لیتا ہے۔

یہ منظر اس قدر بے حسی اور ڈھٹائی میں لپٹا ہوا ہے کہ جب بھی اس پر نظر پڑے، کلیجے پر گھونسہ لگتا ہے۔ چند روزپہلے کسی چینل پر پروگرام لگا تھا، زینب سے پہلے نشانہ بننے والی معصوم بیٹیوں میں سے ایک کا والد جو دیکھنے سے ہی سادہ اطوار محنت کش لگ رہا تھا، وہ اپنی بچی کے قتل کی ہولناک تفصیل بیان کر رہا تھا۔ کہنے لگا کہ جب میں نے کہا اس وقت تک اپنی بیٹی کو دفن نہیں کروں گا، جب تک قاتل نہ پکڑا جائے ۔ تب پولیس والوں نے کہا کہ بیٹا تم بچی کو دفن کراؤ، یہ ہماری بچیوں کی طرح ہے، اس کے قاتل ہم فوری گرفتار کر لیں گے، تمہیں انصاف ملے گا۔ یہ تفصیل بتاتے ہوئے اچانک ہی اس کے چہرے کا رنگ بدل گیا، چیخ مار کر وہ کھڑا ہوا اور دھاڑیں مارکر سر پیٹتے ہوئے بولا،”جیسے ہی بچی کی تدفین ہوئی، پولیس والے یکایک یوں بے نیاز ہوگئے کہ قاتلوں کی گرفتاری تو دور کی بات ہے، سلام کا جواب تک نہیں دیتے تھے۔تب ہم غریبوں کا کوئی والی ، وارث نہیں تھا ۔“مظلوم بچی کے والد نے ایسے بے چارگی اور بے بسی سے یہ کہا کہ ہر دیکھنے والے کا دل دہل گیا ہوگا۔

یا وحشت! ایسی بے حمیتی ، سفاکی اور سنگ دلی؟ افسوس کہ اس روز وزیراعلیٰ پنجاب کی پریس کانفرنس میں بھی بے رحمی، تفاخر اور شرمناک حد تک پہنچی بے حسی کی جھلک تھی۔ معصوم بچی کے والدکے دلی جذبات سے بے نیاز ہنستے مسکراتے، ٹھٹا اڑاتا سیاست دان جو یہ سوچ کر مسرور تھا کہ اب اس کی حکومت پر تنقید ختم ہوجائے گی، ویسے ہی بے رحم، کوتاہ اندیش حواری اور ملازمین۔ کہتے ہیں کہ وہاں موجود چند صحافیوں نے تالیاں بجانے میں پہل کی۔ اگر یہ سچ ہے تو ایسے اخبارنویسوں کو چلّو بھر پانی بھیج دینا چاہیے۔

یہ درست ہے کہ قصور میں بربریت اور وحشت کا رقص کرنے والا درندہ پکڑا گیا۔ توقع کرنی چاہیے کہ پولیس نے تمام تقاضے پورے کیے ہوں گے اور ان کے پاس ان تمام سوالات کے جوابات موجود ہیں، جو عدالت میں ممکنہ طور پر پوچھے جا سکتے ہیں۔قاتل کے حوالے سے بعض حلقے شکوک کا اظہار کر رہے ہیں، ہمارے خیال میں ایجنسیوں کو اس معاملے کے ہر پہلو پر غور کرنا چاہیے، کہیں ایسا نہ ہو کہ دباؤ سے بچنے کے لیے پورے نیٹ ورک کے بجائے ایک بندے کو قربانی کا بکرا بنا دیا جائے۔

سردست یہ فرض کر لیتے ہیں کہ یہی عمران نامی بدبخت ہی ان بچیوں کا قاتل ہے۔ ایسی صورت میں بھی وزیراعلیٰ کو پرنم آنکھوں کے ساتھ قوم کے سامنے پیش ہونا چاہیے تھے۔ معذرت خواہانہ انداز میں کہ ان کی حکومت ان مظلوموں کو بچانے میں بری طرح ناکام رہی۔ناکامی تو ایک طرف انہیں صوبے کا وزیراعلیٰ ہونے کے باوجود یہ تک نہیں علم ہوپایا کہ صوبائی دارالحکومت کے پڑوسی ضلع میں پچھلے ایک سال کے دوران درجن بھر بچوں کو زیادتی کے بعد قتل کیا گیا ۔اگر سوشل میڈیا اس ایشو کو نہ پکڑتا اور اس کے دباؤ پر مین سٹریم میڈیا اسے نہ اٹھاتا، سپریم کورٹ مداخلت نہ کر تی، آرمی چیف اس پر ایک سخت بیان جاری نہ کرتے تو سو فیصد یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ زینب والے کیس کا حشر بھی پچھلے گیارہ کیسوں کی طرح ہونا تھا۔ نتیجہ صفر ہی نکلنا تھا۔ بھرپور عوامی دباؤ اور میڈیا کی جانب سے پوری یکسوئی کے ساتھ تعاقب کرنے کی وجہ سے ہی میاں شہباز شریف کو حرکت میں آنا پڑا۔ اپنی اس ناکامی کے بعد قاتل گرفتار پکڑ لینا کسی بھی طرح سے خوش یا مسرور ہونے کا باعث نہیں بن سکتا۔

ہاں! وزیراعلیٰ کی جانب سے یہ کہا جا سکتا تھا کہ جو نقصان عظیم ہونا تھا، وہ تو ہم پورا نہیں کر سکتے، اس کی تلافی ممکن نہیں، ان مظلوموں کے قاتل کو پکڑنا ہماری ذمہ داری تھی، اس میں بہت تاخیر ہوئی، مگر قاتل پکڑا گیا ہے۔ آئندہ کے لیے قوم سے وعدہ کرتے ہیں کہ ایسا فول پروف مضبوط نظام بنائیں گے کہ اس طرح کے واقعات نہ دہرائے جا سکیں وغیرہ وغیرہ۔ “اگر اس طرح کا کوئی معذرت خواہانہ، مگر مستقبل کے لیے پرعزم بیان وزیراعلیٰ دیتے تو اسے مختلف انداز میں دیکھا جاتا۔ اپنی اس پریس کانفرنس میں جو کچھ انہوں نے کیا اور کہا، ا س پر نرم سے نرم الفاظ میں مایوسی اور افسوس کا اظہار ہی کیا جا سکتا ہے، افسوس، صد افسوس!

مسلم لیگ ن پچھلے 21 برسوں سے میاں شہباز شریف کی گڈ گورننس کے گیت گاتی چلی آ رہی ہے ۔ 1997ءمیں وہ پنجاب کے وزیراعلیٰ بنے ،اس وقت مسلم لیگی میڈیا سیل نے گڈ گورننس کی اصطلاح بے دریغ استعمال کرنا شروع کی۔ شہباز شریف صاحب کا ایسا دیوقامت مجسمہ بنایا گیا کہ انہیں قریب سے جاننے والے یہ تماشا دیکھ کر مسکراتے تھے۔ اس وقت تو کسی حد تک ان کا بھرم رہ گیا، اگرچہ مبصرین ان کے ون مین شو سٹائل آف گورننس کو تنقید کا نشانہ بناتے رہے۔ 2008 ءمیں جب وہ دوبارہ وزیراعلیٰ بنے تو کچھ عرصہ میں ان کی گورننس کے پرخچے اڑ گئے۔ ہر خاص وعام پر واضح ہوگیا کہ وہ صرف اپنی شہرت کے بھوکے، ذات کے طلسم میں اسیر ایک خود غرض سیاستدان ہیں، جسے ماڈرن گورننس سٹائل کی اے بی سی بھی نہیں آتی۔ جسے یہ دو سادہ ترین باتیں معلوم نہیں کہ جدید گورننس میں اختیارات سنٹرلائز نہیں بلکہ ڈی سنٹرلائز کیے جاتے ہیں ، اپنے پاس وزارتوں کی بھرمار کرنے کے بجائے دوسروں کو اہم وزارتیں اور اختیار دے کر نتائج لیے جاتے ہیں۔ دوسرا یہ کہ مینیجر وہ نہیں ہوتا جو خود چیز ٹھیک کر کے دکھائے، مینیجر وہ ہوتا ہے جو بتا ئے کہ ٹھیک کام کیا ہے؟ دنیا بھر میں کہیں پر کوئی، گورنر، وزیراعلیٰ، وزیراعظم ، صدر وغیرہ یہ نہیں کرتے کہ خود لانگ بوٹ پہن کر بارش کے پانی میں گھس جائیں اور اپنے ساتھ پوری ٹیم کو بھی پانی میں لیے پھرتے رہیں۔ وہ ایسا سسٹم بناتے ہیں کہ آئندہ اتنا پانی جمع ہی نہ ہو۔ویسے تو لیڈر کو کامن سینس کی یہ بات بھی معلوم ہونی چاہیے کہ اگر رات دو، دو بجے تک میٹنگ چلتی رہے گی تو افسرپھر اگلی صبح سات بجے کی میٹنگ میں نہیں پہنچ سکا۔ سرکاری افسر اورقدیم رومی زمانے کے سزا یافتہ غلاموں میں کچھ فرق تو ہونا چاہیے۔

قصور میں ہونے والی ظالمانہ وارداتیں گورننس کی ناکامی کا پتہ دیتی ہیں۔ میاں شہباز شریف کو مسلسل دس سال پنجاب میں حکومت ملی ہے۔ ان کے پاس بے پناہ وسائل اور اختیارات تھے ، اپوزیشن برائے نام تھی، وہ تنگ بھی نہیں کر سکی۔ اس کے باوجود طویل عرصہ میں کسی شعبہ میں وہ تبدیلی نہ لا سکے۔پولیس میں اصلاحات کے لیے تومعمولی سا کام بھی نہیں کر پائے ۔ پولیس میں تبدیلی لانا آسان نہیں ۔ پنجاب پولیس دنیا کی بدنام ترین فورس میں سے ایک ہے۔ اس کے مزاج کو بدلنا کسی پہاڑکو ہلا دینے سے زیادہ مشکل کام ہے، مگر شکوہ تو یہ ہے کہ شہباز شریف صاحب نے سرے سے کوشش ہی نہیں کی۔ من پسندپولیس افسر تعینات ہوتے رہے۔ راؤ انوار پر ن لیگ کیسے تنقید کرسکتی ہے؟ ہر دور میں ایسے کئی راؤ انوار صوبائی حکومت کے سایہ عافیت میں پلتے رہے۔ ظلم کرنے والے افسروں اور جوانوں کو سزا دینے کاکوئی باقاعدہ سسٹم نہیں۔ جب کبھی دباؤ آئے ، بہت شور مچے تو وزیراعلیٰ سپر مین بن کرخود میدان میں اتر آتے ہیں۔

کاش کوئی انہیں سمجھائے کہ یہ گورننس نہیں ہے۔ زینب بیٹی کے گھر آئی جی پولیس کو جانا چاہیے تھا، ملزم کی گرفتاری کے بعد پریس کانفرنس بھی آئی جی کا کام تھا۔ یہ اس کی ذمہ داری ہے ، اسے ہی نبھانی چاہیے ۔ اس کے لیے مگر ضروری ہے کہ ذوالفقار چیمہ جیسے دیانت دار، اہل افسروں کو ذمہ داریاں سونپی جائیں۔ ایک کروڑ روپے یا اس طرح کے انعامات بھی بنیادی طور پر شہریوں کو ترغیب دینے کے لیے دیا جاتے ہیں، تاکہ وہ کوئی مفید اطلاع دے سکیں۔ پولیس افسروں کو کیس حل کرنے پر یہ انعام کیوں دیا جائے؟یہ تو ان کی بنیادی ذمہ داری اور نوکری کا تقاضا ہے۔ اگروہ کیس حل نہیں کریں گے تو پھر کیا ڈسٹرکٹ ہسپتال سے ڈاکٹر یہ کام کرنے آئیں گے؟

پس نوشت: سپریم کورٹ کی جانب سے ایک معروف اینکر کی جانب سے کیے گئے ”انکشافات“کا نوٹس لینا نہایت خوش آئندہے۔ زینب قتل کے حوالے سے جس طرح کے الزامات پروگرام میں نہایت تیقن کے ساتھ عائد کیے گئے ، اگر وہ درست ہیں تو تہلکہ مچ جائے گا۔ اگر وہ غلط ہیں اور محض ریٹنگ بڑھانے کے لیے اٹکل پچو عائد کیے گئے تو پھر عدالت کوواضح رائے دے کر یہ معاملہ ہمیشہ کے لیے نمٹا دینا چاہیے۔ اس طرح کے کیسز میں میڈیا کو رہنمائی کی ضرورت ہے، امید ہے کہ عدالت اس بارے میں حدود وقیود کو واضح کر دے گی۔

Comments

محمد عامر خاکوانی

محمد عامر خاکوانی

محمد عامر ہاشم خاکوانی کالم نگار اور سینئر صحافی ہیں۔ روزنامہ 92 نیوز میں میگزین ایڈیٹر ہیں۔ دلیل کے بانی مدیر ہیں۔ پولیٹیکلی رائٹ آف سنٹر، سوشلی کنزرویٹو، داخلی طور پر صوفی ازم سے متاثر ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.