معاشرے کا المیہ - کائنات صادق

بچپن سے ہی سنتی آئی کہ جب میں پیدا ہوئی تو بہت خوبصورت تھی بڑی بڑی آنکھیں گورا رنگ سب مجھے بہت شوق سے اٹھا تے تھے۔پھر جب بڑی ہونے لگی اور تعليم كے میدان میں قدم رکھا تو باتوں کا موضوع بدلتا گیا۔ میں بہنوں میں دوسرے نمبر پر تھی میری ایک بڑی بہن تھی بڑی بہن بہت ذہین تھی۔ یہ بات مجھے تب پتا چلی جب وہ فرسٹ پوزیشن لاتیں اور میں تھرڈ اور خاندان میں اس کے چرچے ہونے لگے جبکہ مجھے خاندان والوں سے یہ سننے کو ملتا 'یہ اتنا نہیں پڑھے گی گھر کے کام ہی کرے گی۔' بہرحال، زندگی گزرتی رہی اور پڑھائی ہوتی رہی لیکن خاندان والوں کی باتوں کے اثر سے احساس کمتری کا شکار ہونے لگی اور مزید باتیں کہ چڑ چڑی ہے، غصہ بہت کرتی ہے وغیرہ سننے لگی۔

شعور کے میدان میں قدم رکھا تو عقل نے ساتھ دیا اور ان سب باتوں کو حوصلہ افزائی اور قوت ارادی کے طور پر لیتی گئی اور لوگوں کی باتوں کا اثر لیے بغیر آگے بڑھتی گئی آج جبکہ میں تعلیم کے میدان میں باعزت طالبہ ہوں اور کامیاب ہوں، مگر پھر بھی میرے اندر کہیں نہ کہیں وہ ڈری سہمی احساس کمتری کا شکار بچی موجود ہے۔

بچپن انسان کی زندگی کا وہ دور ہوتا ہے جب اسے باتوں اور تربیت کے ذریعے جو گھول کر پلایا جائے اس کے دماغ میں وہ چیزیں نقش کر جاتی ہیں اور اگر بچے کی حوصلہ افزائی نہ کی جائے تو اس کی قابلیت نکھرنے کے بجائے دب جاتی ہے۔

ہمارے معاشرے کا المیہ یہ ہے کہ وہ انسانوں کو اپنی سوچ اورعقل کے زاویے پر پرکھتا ہے جبکہ دوسرے کی سوچ اور عقل مختلف ہوتی ہے۔ ہمیں دوسروں کی زندگیوں میں شر نہیں خیر بننا ہے۔ سوچیں کہیں کسی کی منفی سوچ میں همارا کردار تو نہیں؟