ربڑ مِلا آٹا اور سوشل میڈیا - انعام حسن مقدم

ہمارا معاشرہ جھوٹی من گھڑت باتوں اور افواہوں کو پھیلانے میں اپنی مثال آپ اور بے نظیر ہے۔ ہماری دیگر معاشرتی برائیوں کی طرح ہماری اس برائی کی نظیر بھی دوسرے معاشروں میں بہت ہی کم ملتی ہے۔ انتہائی پڑھے لکھے پاکستانیوں کی سوشل میڈیا سرگرمیاں بھی اس بات کی گواہ ہیں کہ وہ کسی بھی بات کی تصدیق کیے بغیر یا سوچے سمجھے بغیر کسی بھی قول یا فعل کو، دینی، سماجی یا سیاسی نوعیت کی خبر تصویر یا ویڈیو کو بس فوراً ہی فارورڈ یا شیئر کرنا ضروری اور اپنا حق سمجھتے ہیں۔

واضح حدیث موجود ہے کہ "کسی شخص کے جھوٹا ہونے کےلیے اتنا ہی کافی ہے کہ سُنی سنائی بات کو بغیر تحقیق کیے آگے بڑھادے" اس کے باوجود جب حال یہ ہو کہ خود دینی طبقہ بھی موضوع، من گھڑت اور ضعیف الاسناد روایات کو اپنی ترہیب و ترغیب اور فضائل میں شوقیہ بکثرت استعمال کرتا ہو حالانکہ صحیح احادیث ہی دین کی تبلیغ و تفہیم کے لیے کچھ کم نہیں ہیں تو پھر عوام الناس اور جہلاء تو جو بھی کریں وہ کم ہے؟

آج کل "آٹے میں ربڑ" کے عنوان سے بے شمار وڈیوز واٹس ایپ، فیس بک اور سوشل میڈیا کی زینت بنی ہوئی ہیں۔ کُچھ ویڈیوز میں تو باقاعدہ کاروباری دشمنی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مختلف برانڈز کے بار بار نام لے کر ان کی مذمّت بھی کی گئی ہے جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ معاملہ آٹے میں ربر کا نہیں ہے بلکہ معاملہ کاروباری رقابت کا ہے یا ان لوگوں کا ہے جو یہ چاہتے ہیں کہ امیر طبقہ اب آٹا بھی امپورٹڈ کھانا شروع کردے کیونکہ غریب طبقے کے لیے تو مقامی گندم اور آٹا خریدنا بھی کوئی آسان کام نہیں ہے۔ ان ویڈیوز میں دکھایا گیا ہے کہ آٹے کے پیڑے کو پانی سے بار بار دھویا جائے تو آخر میں ربڑ کا سا ملغوبہ (گولہ یا پیڑا) بچ جاتا ہے اور اُسے دکھا کر یہ لوگ مضرِ صحت ملاوٹ کا شور مچاتے نظر آتے ہیں۔ یہ ربڑ کیا ہے؟ ذیل میں ہم اس کی وضاحت کریں گے:

۱- بڑی عمر کے قارئین کو پہلے سے معلوم ہوگا اور جو کم عمر ہیں وہ اپنے گھروں میں اگر بزرگ موجود ہوں تو ان سے معلوم کرسکتے ہیں کہ پہلے زمانے میں جب گھروں میں جلد سازی (book binding) کی جاتی تھی تو اکثر آٹا، میدہ یا اراروٹ (سنگھاڑے کا آٹا) اتنا پکایا جاتا تھا کہ وہ گاڑھا ہو کر بالکل لئی یا پگھلے ہوئے ربڑ یا پیسٹ کی شکل اختیار کر لیتا تھا اور انتہائی مضبوطی اور جوڑنے میں پکّا ہوتا تھا۔

۲- پہلے زمانے میں جب ہر چیز خالص ہوا کرتی تھی اور آٹے میں ملاوٹ کا نام و نشان بھی نہیں ہوتا تھا۔ سگھڑ خواتین گندم کو خود صاف کر کے چکی پر پسواتی تھیں اُس آٹے سے بھی بالکل اسی طرح دھو دھو کر ربڑ جیسا مادّہ نکال کر اس سے حلوہ بنایا جاتا تھا۔

۳- جن لوگوں کو کبھی گندم کے کچے دانے کھانے کا اتفاق ہوا ہو اُنہیں یاد ہوگا کہ نرم نرم دانے چباتے رہنے سے ان کا دودھیا سا رس ختم ہو جاتا تھا اور آخر میں یہی چیونگم سا منہ میں رہ جاتا تھا۔ جن کے علم میں نہ ہو وہ اب تجربہ کر سکتے ہیں۔

۴- بعض شوقیہ یا سگھڑ خواتین جنہیں فالودہ گھر میں بنانا آتا ہے وہ بھی جانتی ہیں کہ میدہ کو پانی میں گھول کر جب بہت دیر تک پکایا جائے تو وہ بالکل ربر کی شکل اختیار کرلیتا ہے پھر اُسے فوراً ہی باریک چَھنّیوں سے گذار کر موٹے دھاگوں کی صورت میں کسی صاف جگہ پر پھیلا کر سُکھا لیا جائے تو اس طرح گھر میں فالودہ بنایا جاسکتا ہے۔

۵- یہ پلاسٹک یا ربڑ نما ملغوبہ یا گلوٹین گندم کا قدرتی حصہ ہے اور کسی جعل ساز نے اسے کسی کی صحت برباد کرنے کے لیے آٹے میں نہیں ڈالا۔

۶- گلوٹین ایک طرح کا پروٹین ہوتا ہے جو کافی سارے اناج میں خاص طور پر گندم اور جو میں بڑی مقدار میں پایا جاتا ہے۔ گلوٹین کی وجہ سے ہی روٹی میں ایک لوچ (لچک ) اور نرمی آتی ہے۔

۷- کسی کو گلوٹین سے الرجی بھی ہوسکتی ہے اور کچھ لوگ گلوٹین intolerant بھی ہوسکتے ہیں۔ پاکستان میں اس مرض کی شرح کم و بیش ایک فیصد بیان کی جاتی ہے۔ اگر والدین میں سے کسی کو گلوٹین intolerance ہے تو آئندہ نسل میں اس کے منتقل ہونے کے امکانات ہوتے ہیں۔ اس مرض میں علاج سے زیادہ احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے۔

آپ سب سے درخواست ہے کہ سوشل میڈیا پر موجود مواد پر آنکھیں بند کر کے اعتبار مت کیا کریں۔ نجانے کیوں، جان بوجھ کر یہ فساد پاکستانی معاشرے کو مزید پریشان کرنے اور انجانی فکروں میں مبتلا رکھنے کے لیے دن بدن پھیلایا جا رہا ہے؟ دنیا کے بے شمار ترقی یافتہ ممالک کے خالص آٹے میں بھی یہی مادہ گلوٹین موجود ہوتا ہے اور تحریر بھی ہوتا ہے کیونکہ ان ممالک میں خوراک کے کسی بھی آئٹم پر اس کے تمام اجزا تحریر کرنے کے قانون پر سختی سے عمل درآمد ہوتا ہے اور ممنوعہ اجزا کی ملاوٹ خلاف قانون ہے جبکہ گلوٹین سے احتیاط کرنے والے صارفین کے لیے گلوٹین فری آٹا بھی دستیاب ہے۔

Comments

انعام حسن مقدم

انعام حسن مقدم

کراچی سے تعلق رکھنے والے انعام حسن مقدم مختلف مذاہب، اقوام اور سماجی طبقات کے باہمی تعلقات، رواداری اور عزت نفس کے احترام کا قائل ہیں۔ عرصہ 25 سال سے مختلف مقامی و کثیر القومی انشورنس کمپنیز اور بینکس سیلز، مینجمنٹ، آپریشنز، مارکیٹنگ اور دیگر خدمات انجام دے رہے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

  • السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ،
    بہت خوب محترم بھائی ، اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر عطاء فرمائے ، اور قارئین کو آپ کی بات پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطاء فرمائے ، والسلام علیکم۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */