دلہن کا جنازہ - ام محمد سلمان

کچھ عرصہ پہلے کی بات ہے۔ ہمارے دُور کے عزیزوں میں ایک لڑکی کی شادی ہوئی۔ وہ بے پناہ خوش تھی۔ قریبی رشتہ داروں میں ہی اس کا رشتہ طے ہوا تھا۔ دونوں خاندانوں کی آپس میں اچھی انڈرسٹینڈنگ تھی۔ اس لیے دونوں طرف سے ہی خوب خوشیاں منائی جارہی تھیں۔ جہیز اور بری کو شاندار بنانے کے لیے رات دن بڑے بڑے شاپنگ مالز سے خریداری کی گئی۔ لاکھوں کی مالیت کا عروسی جوڑا تیار کروایا گیا۔ آخرکار شادی کا دن بھی آ پہنچا ایک نامور بیوٹی پارلر سے دلہن تیار کروائی گئی۔ دلہن کو لا کر جب اسٹیج پر بٹھایا گیا تو ہر آنکھ میں ستائش تھی۔ مہمانوں کا ایک ہجوم تھا۔ ہر طرف زرق برق آنچل تھے، پھولوں کے ہار اور گجروں کی خوشبوئیں تھیں۔ میوزک سسٹم پر بجتی مدھر دھنوں نے سارے ماحول پر ایک مخصوص سا اثر طاری کر رکھا تھا۔ دلہن کی خوشی دیدنی تھی ۔ وہ آسمان سے اتری کوئی حورلگ رہی تھی۔ رات گئے دلہن کی رخصتی ہوئی اگلے دن ولیمہ کی شاندار تقریب ہوئی۔ عزیز رشتہ دار سب کہہ رہے تھے دلہن کو ایسا خوش پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔

مگر کون جانتا تھا یہ خوشی کتنے دن کی ہے؟ ابھی ہفتہ بھی نہ گزرا تھا، شادی کی رسمیں ابھی تک چل رہی تھیں، دلہن کسی دعوت میں جانے کی تیاری کررہی تھی اچانک طبیعت خراب ہوئی اور ہسپتال جاتے جاتے ہی دم دے دیا۔ انا للہ واناالیہ راجعون!

وہ گھر جو ابھی تھوڑی دیر پہلے تک خوشیوں کا گہوارہ تھا، چاروں طرف قہقہے بکھر رہے تھے، اب وہاں ایک صفِ ماتم بچھ چکی تھی. عزیز و اقارب کے رونے دھونے سے ایک کہرام بپا تھا۔ وہی لڑکی جسے تھوڑی دیر پہلے تک دلہن دلہن کہہ کر پکارا جارہا تھا اب اسے سب لوگ "میت" کہہ رہے تھے۔ اپنے پرائے سب اکٹھے ہوئے، میت کو غسل دیا گیا اور کچھ ہی دیر میں ایک نئی نویلی دلہن کا جنازہ اٹھ گیا۔ میت دفنادی گئی۔ سب لوگ قبر پہ مٹی ڈال کر قبرستان سے اپنے گھروں کو چلے گئے۔ ماں باپ، بہن بھائی، عزیز رشتہ دار چند دن رو دھو کر خاموش ہو گئے۔ دولہے میاں بھی کچھ دن بعد دوسری شادی کر لیں گے۔ ایک نوجوان حسین پڑھی لکھی خوب صورت لڑکی کی زندگی کا باب ختم ہو گیا۔ دنیا اپنی ڈگر پر چلتی رہی، کسی کو کچھ فرق نہ پڑا. وہی کھانا پینا، سونا جاگنا، ہنسنا بولنا اور زندگی کے باقی سارے معمولات برابر چلتے رہے۔

اور میں سوچ رہی تھی واقعی..... کسی کے چلے جانے سے زندگی نہیں رکتی۔ موت سے فرق تو صرف مرنے والے کو پڑتا ہے۔ آج وہ قبر میں تنہا ہوگی۔ اس کے قیمتی لباس اور زیورات یہیں رہ گئے اس کا جہازی سائز بیڈ، مخملیں بیڈ شیٹ، خوب صورت منقش سنگھار میز اس پر سجا میک اپ کا سامان، الماری میں لٹکے قیمتی ملبوسات، ذرا فاصلے پہ رکھا چوڑی دان جس میں رنگ برنگی کانچ کی جھلمل کرتی چوڑیاں ترتیب سے رکھی تھیں، سب کچھ یہیں رہ گیا ساتھ گیا تو صرف ایک کفن!

جہیز کا سارا قیمتی سامان اسے برتنا نصیب نہ ہوا، مہینہ پہلے سے بیوٹی سیلون کے چکر لگ رہے تھے اور جس بدن کو پوری آب و تاب سے نکھارا گیا آج وہی بدن منوں مٹی تلے کیڑوں کی خوراک بن رہا ہے۔

کل نفس ذائقۃ الموت

ہر نفس نے موت کا ذائقہ چکھنا ہے۔ یہ ہے اس زندگ کا اختتام جسے ہم ہر لحظہ سنوارنے میں لگے رہتے ہیں۔

لیکن ٹھہریے! بات یہاں ختم نہیں ہوئی، بات دراصل یہاں سے شروع ہوتی ہے۔ اگر صرف ایک ہفتے پہلے دلہن کو پتا چل جاتا کہ شادی کے چوتھے پانچویں دن ہی اس کی موت آجانی ہے اور پھر اسے آگے جا کر خدائے وحدہ لاشریک کے سامنے پیش ہونا ہے اپنے ایک ایک عمل کا حساب دینا ہے تو کیا پھر بھی وہ اپنی زندگی کے بچے کھچے دن ایسے ہی گزارتی؟

ذرا سوچیے! ایک شدید جھرجھری بدن کا احاطہ کر لیتی ہے جب ہم یہ سوچتے ہیں کہ ہاں یونہی ایک دن ہمیں بھی مر جانا ہے۔ موت سے کسی طرح فرار ممکن نہیں۔

اگر آپ اس کی جگہ ہوتیں تو کیا کرتیں؟

اگر میں اس کی جگہ ہوتی تو کیا کرتی؟

ذرا سی دیر کے لیے تنہائی میں جا کر سوچیے اگر مجھے پتا چل جاتا ہے کہ ہفتے بعد میری موت یقینی ہے تو میں کیا کروں گی؟ اگر مجھے رتّی بھر بھی آخرت کے دن اور اپنے حساب و کتاب پر یقین ہے تو میں اس بچ جانے والی چند روزہ زندگی کا ایک پل بھی ضائع نہیں کروں گی۔

نافرمانیوں سے توبہ کر لوں گی، حقوق و فرائض کی دل و جان سے ادائیگی کروں گی۔

میں لوگوں کے ساتھ اپنے سارے معاملات درست کر لوں گی۔

میری اکڑ میری انا میرا غرور سب کسی کونے میں جا سوئے گا۔

میں رو رو کر اپنے رب کو مناؤں گی کہ میں نے زندگی بہت غفلت میں گزار لی۔ اے میرے رب! اب جبکہ تجھ سے ملاقات کا وقت آہی چکا ہے تو مجھ گنہگار کو معاف کر دے مجھ سے راضی ہو جا۔

میرا ایک، ایک پل قیمتی ہو جائے گا، میں اپنے نامکمل کاموں کو جلدی جلدی پایہ تکمیل تک پہنچاؤں گی۔ میرے دن لوگوں کے ساتھ اپنے معاملات کو اچھا کرنے اور راتیں اللہ کے حضور معافیاں مانگتے اور گڑ گڑاتے گزریں گی۔ کوئی مجھے کچھ کہے گا بھی تو چپ کر کے برداشت کر لوں گی۔ کھانے پینے، اوڑھنے پہننے کی حرص میں ایک دوسرے سے آگے نکل جانے کا ہوش مجھے باقی ہی کب رہے گا؟ بس ایک ہی دھن ہوگی کہ میرا مالک مجھ سے راضی ہو جائے، مجھ پر کسی کا کوئی حق حساب باقی نہ رہے اور میں مرتے ہی اللہ کے نیک بندوں میں شامل کر کے علیین میں پہنچا دی جاؤں۔

مگر... مگر.... یہ سب تو میں اس وقت کروں جبکہ مجھے معلوم ہو جائے کہ ہاں میری موت کا وقت متعین ہو چکا۔

عزیزانِ من! یہیں تو ہم غفلت میں پڑے ہیں۔ یہی یقین تو ہمیں حاصل نہیں کہ آج کسی کی موت ہے تو کل ہماری باری ہے۔ ہم ایسے مطمئن بیٹھے ہیں جیسے موت ہمیں تو کبھی آئے گی ہی نہیں۔

کوئی دیکھا آج تک ایسا انسان جو کہتا ہو کہ اسے موت نہیں آئے گی۔ ساری روحانی جسمانی اور سائنسی ترقیاں موت کے آگے بے بس ہیں۔ موت سے کوئی نہیں بچ سکتا۔ امیر غریب، عوام اور خواص ہر شخص نے موت کا مزا چکھنا ہے تو پھر کس لیے ہم موت کو بھلائے بیٹھے ہیں؟

اپنے انجام سے بے پروا ہیں؟

ہماری ساری دوڑ دھوپ اسی دنیا کی چند روزہ زندگی کے لیے ہے جس کا انجام صرف فنا ہے۔

تو سوچنے کی بات ہے بھلا ہمیں کب پتا ہے کہ موت کس وقت آجائے، تو ہم نے کیا تیاری کی ہے موت کے لیے؟

کبھی ہم یہ سوچتے ہیں آج جن چیزوں کو جمع کرنے میں وقت پیسہ اور اپنی ساری توانائیاں لگا رہے ہیں یہ آخر کب تک ہیں ہمارے پاس ؟

کبھی خیال بھی آتا ہے کہ اس دلہن کی طرح ایک دن ہمیں بھی یہ سب کچھ چھوڑ کر اکیلے ہی اس دنیا سے چلے جانا ہے۔

کیا لوگوں کی موت میں ہمارے لیے کوئی عبرت نہیں؟

ایک بزرگ نے ایک جنازے میں شرکت کے بعد اس کی قبر کے پاس کھڑے ایک آدمی سے پوچھا کہ تمہارا کیا خیال ہے اگر یہ شخص دنیا میں واپس آجائے تو یہ کیا کرنا پسند کرے گا؟

تو اس آدمی نے جواب دیا کہ یہ استغفار، نماز اور نیکی کے کاموں کے علاوہ کچھ نہ کرے گا۔

تو بزرگ نے فرمایا: فوت ہونے والا تو یہ کام نہیں کر سکتا، تم ضرور کر لینا۔

حقیقت یہی ہے کہ اگر ہمیں کسی درجے میں بھی آخرت کا یقین حاصل ہو جائے تو ہم اپنی عمر کا ایک پل بھی ضائع نہ کریں۔

عزیزان من! مرنے والے کبھی اپنے پیچھے چھوڑے ہوئے اہل و عیال اور اپنے قیمتی ساز و سامان پر افسوس نہیں کرتے بلکہ ان کا سارا افسوس اپنے وقت کے ضائع کرنے کا ہوتا ہے کہ کاش ہم نے اپنے وقت سے بہترین فائدہ اٹھایا ہوتا، کاش ہم نے اس آیت کو صحیح وقت پر سمجھ لیا ہوتا

وما الحیوۃ الدنیا الا متاع الغرور (آل عمران ) "اور دنیا کی زندگی سوائے دھوکے کے سامان کے اور کچھ بھی نہیں۔ "

کاش کہ ہم اس دھوکے کی حقیقت کو سمجھ لیں۔

آج ہمارے پاس وقت ہے، فرصت ہے صحت ہے تو اسے اللہ کی فرمانبرداری میں لگائیں۔ نمازوں کی پابندی کریں، فرائض کی ادائیگی کریں، نیکی کے کام کریں، اللہ کا ذکر کریں اور اپنے اخلاق کو بہتر بنا کر لوگوں کی نفع رسانی کا سبب بنیں۔

آخرت کی فکر کرنی ہے ضرور

جیسی کرنی ویسی بھرنی ہے ضرور

عمر یہ اک دن گزرنی ہے ضرور

قبر میں میت اترنی ہے ضرور

ایک دن مرنا ہے آخر موت ہے

کر لے جو کرنا ہے آخر موت ہے

ٹیگز

Comments

Avatar

ام محمد سلمان

کراچی میں مقیم اُمِّ محمد سلمان نے زندگی کے نشیب و فراز سے جو سبق سیکھے، ایک امانت کے طور پر دوسروں کو سونپنے کے لیے قلم کو بہترین ساتھی پایا۔ اُن کا مقصد ایسی تحاریر لکھنا ہے جو لوگوں کو اللہ سے قریب کریں اور ان کی دنیا و آخرت کی فلاح کا سبب بنیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.