پنجاب یونیورسٹی معاملہ – امام پانیزئی

پنجاب یونیورسٹی میں کوٹے پر پڑھنے والے 80 فیصد پختون اور بلوچ طالب علم امتحان میں فیل ہوئے ہیں۔میرٹ کے بغیر دیے جانے والے کوٹے کے تحت،طلبا کو فیس،ہاسٹل، میس کے اخراجات کے ساتھ ساتھ تین ہزار روپے وظیفہ بھی دیا جاتا ہے۔سوال یہ ہے کہ ان تمام سہولیات کے باوجود اتنے طلبہ کیوں فیل ہوئے ہیں؟ میرا تعلق بھی بلوچستان سے ہے۔اسی وجہ سے مجھے معلوم ہے کہ وہاں سے پنجاب یا دوسرے مقامات پر پڑھنے جانے والے تمام طالب علم سیاسی تنظیموں سے وابستہ نہیں ہوتے۔ دل لگا کر اور محنت سے تعلیم حاصل کرنے والے کافی طلبہ بھی موجود ہیں۔ مگر ایسے چند شرپسند بھی موجود ہیں جو پڑھائی کے بجائے "قوم پرستی اور صوبائی عصبیت" کو پھیلانے کے لیے سرگرم رہتے ہیں۔ان شرپسندوں کے پروپیگنڈے اور سیاسی عزائم ہی کی وجہ سے عام "پختون اور بلوچ" طالب علم بھی منفی سرگرمیوں میں ملوث ہو جاتے ہیں۔ قلم اور کتاب کے بجائے ڈنڈے اُٹھائے لڑائی میں کود پڑتے ہیں۔بار بار ڈگری سے ڈراپ ہوتے ہیں اور پھر نئی ڈگری میں ایڈمشن لیتے ہیں۔ یوں بلوچستان کے دور دراز علاقوں کے طلبہ پڑھنے کا بہترین موقع منفی سرگرمیوں میں ملوث ہوکر ضائع کر لیتے ہیں۔

"صوبائیت اور نسلی عصبیت" کو پروموٹ کرنے میں سب سے زیادہ کردار نام نہاد پختون قوم پرست پارٹیوں کا ہے۔ شرپسندوں کی سب سے زیادہ فنڈنگ اور سپورٹ یہی پارٹیاں کرتی ہےتاکہ پنجاب یونیورسٹی کے حالات خراب کر کے اپنی سیاست چمکائی جاسکے۔سیاست سے یاد آیا کہ "پختونخواہ پارٹی" ساڑھے چار سال بلوچستان حکومت میں رہی۔ اس دورانیے میں اس نے صوبے کے تعلیمی اداروں کا ستیاناس کیا۔میرٹ کی دھجیاں اڑائیں اور کرپشن کے ریکارڈ توڑ دیے۔بجٹ میں تعلیم کے لیے مختص 22 ارب روپے کہاں گئے؟ کچھ خبر نہیں۔اسی "پختونخواہ پارٹی" کے مشیر تعلیم جب بیرون ملک دورے پر تھے تو ان کو ایک فورم پر تعلیمی نظام پر بات کرنے کے لیے کہا گیا تو موصوف کہنے لگے کہ مجھ سے بات نہیں ہوسکے گی۔

تعلیمی اداروں کے اندر "یونینز" کی بحالی بھی ٹکراؤ کی سیاست ختم کرنے میں معاون ہو سکتی ہے۔اس سے طلبہ کو اپنی لیڈر شپ چننے کی آزادی ہوگی اور وہ پرامن طریقے سے طلبہ کے مسائل اجاگر کرسکیں گے۔مختلف قومیتوں کے درمیان لسانی "عصبیت اور صوبائیت" کے مرض پر فوری قابو پانے کے لیے ضروری ہے کہ تعلیمی اداروں میں "فرقوں اور قوموں" کی بنیاد پر قائم مختلف "کونسلز" پر پابندی لگائی جائے۔

بلوچستان کی قوم پرست سیاسی پارٹیاں طلبہ کے درمیان جھگڑے کے واقعے پر صوبائیت پھیلانے سے گریز کریں۔اپنے صوبے کے تعلیمی اداروں کو بہتر بنائیں تاکہ طلبہ کو اپنے ہی صوبے میں بہترین تعلیم مل سکے۔اگر طلبہ کو اسی طرح نام نہاد قوم پرستی کے کاز کے لیے استعمال کیا جاتا رہا تو نتائج ہمارے سامنے ہیں کہ پنجاب یونیورسٹی میں کوٹے پر پڑھنے والے 80 فیصد پختون اور بلوچ طالب علم امتحان میں فیل ہوئے ہیں۔