نوید لنگڑا – عامر اشفاق

گھر سے ہاسٹل جانے کا درد اور راحتیں وہی لوگ سمجھ سکتے ہیں جنہوں نے اپنی زندگی کے قیمتی پل ہاسٹل کے ایک چھوٹے سے کمرے میں اجنبی لوگوں کے ساتھ گزارے ہوں۔ نرالا یہی کہتا ہے جسے سماج سے نفرت کا قاعدہ پڑھانا ہو اسے جیل میں اور جسے محبت کرنا سکھانی ہو اسے ہاسٹل میں داخل کرادیں۔ میرے ہاسٹل کے اولین دن زیادہ اچھے نہیں گزرے۔ گاؤں سے نکل کر ملتان جیسے بڑے شہر میں ضد کرکے جانا اور "فولنگ" کے خوف سے کالج کے ہاسٹل کے بجائے پرائیویٹ ہاسٹل میں رہنا وہ لوگ تو آسانی سے برداشت کر سکتے ہیں جو پہلے بھی گھر سے باہر رہتے رہے ہوں۔ لیکن میری طرح کے دیہاتی لوگوں کو ہاسٹل کا کھانا بھی ہضم کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔

سونے پہ سہاگہ یوں ہوا کہ میرا ہاسٹل فیلو ایک ایسا لڑکا تھا جو تھوڑا سا لنگڑا کر چلتا تھا۔ شروع میں تو میری اس سے زیادہ نہ بنی لیکن پھر سلام دعا بڑھی تو کافی سارے معاملات سلجھنے لگے۔ لیکن اس دوران میں اپنی جگت بازی کی عادت کی وجہ سے اکثر اسے نوید لنگ کہہ بیٹھتا تھا۔ اس کا لنگڑا پن تقریباً نامعلوم سا تھا لیکن کوئی بہت توجہ سے اسے چلتا ہوا دیکھتا تو پتا چل جاتا۔

شروع میں تو اس نے محسوس نہیں کیا۔پھر ایک دن میں خود ہی اسے تیمور لنگ کے کارنامے سنارہا تھا کہ وہ ایسا لنگڑا بادشاہ تھا،جس نے کئی سلطنتوں کے مستقبل کے فیصلے اپنے گھوڑے پر بیٹھ کر کیے۔اسے ایک پاؤں میں تیر لگ گیا تھا جس کی وجہ سے وہ لنگڑا کر چلتا تھا اور اس لیے لوگ اسے تیمور لنگ کہہ کر بلاتے تھے۔نوید جلدی سے بولا اس لیے تم مجھے نوید لنگ کہتے ہو؟ اس کے چہرے پر کرب کی کیفیت نمودار ہوئی۔ لیکن میں نے پھر مذاقاً کہا، ہاں یار میں تمہیں بھی تیمور کی طرح عظیم سمجھتا ہوں۔ اس وقت وہ خاموش ہوگیا۔ وقت گزرتا گیا فرسٹ ایئر کی کلاسیں ختم ہوگئیں لیکن میں نے اسے نوید لنگ کہنا نہ چھوڑا۔ اس کا نام بھی میں نے اپنے موبائل میں نوید لنگڑا کے نام سے ہی محفوظ کیا ہوا تھا۔

سیکنڈ ائیر کی کلاسیں شروع ہونے سے پہلے میں،کافی عرصہ گھر رہا۔جب دوبارہ کلاسیں شروع ہوئیں،تب میں پہلے سے تین گنا صحت مند ہوچکا تھا۔صحت مند تو خیر پہلے ہی تھا،لیکن اب موٹاپے کی جغرافیائی حدود بھی پھلانگ چکا تھا اور پھر نوید کو جیسے ہی لنگ بھائی کہا،اس نے مجھے موٹی بھینس کہنا شروع کردیا۔غصے کی وجہ سے میرا خون کھول کر رہ گیا۔ لیکن میں نے سدھرنے کے بجائے اسے زیادہ تنگ کرنا شروع کردیا۔جب وہ کبھی کبھار مجھے موٹی بھینس کہتا تو میرے تن بدن میں آگ لگ جاتی۔ پھر اپنی حالت سدھارنے کے لیے میں نے صبح جاگنگ بھی شروع کردی۔

یہ بھی پڑھیں:   خودپسندی اور تکبر - ملک شاہ زیب احمد

چار پانچ مہینے میں میرا وزن کافی کم ہوچکا تھا۔ اب میں موٹاپے سے دوبارہ نکل چکا تھا۔ ایک دن قمیض اتار کر آئینے کے سامنے میں اپنا جسم دیکھ رہا تھا تو محسوس ہوا کہ اگر ایک مہینہ اور جاگنگ کرتا رہوں تو کافی حد تک سمارٹ ہوجاؤں گا۔ اس دوران نوید بھی مجھے دیکھ رہا تھا۔ جب میں کافی دیر زاویے بدل بدل کر اپنے آپ کو آئینے میں دیکھتا رہا تو اس نے آواز لگائی۔ بھینسا چلا وچھے (بیل) کی چال اپنی بھی بھول گیا۔

پھر وہ اور ہمارا تیسرا روم میٹ ایک ساتھ ہنسنے لگے۔میں نے غصے نوید کو کہا کہ آجاؤ لنگڑے آج مقابلہ کر لیتے ہیں۔ دیکھ لیتے ہیں کون بھینسا ہے اور کون لنگڑا؟ اس کے چہرے کا رنگ پل پل تبدیل ہو رہا تھا۔اس سے پہلے کہ ہماری لڑائی شروع ہوتی ہمارے تیسرے روم میٹ ندیم نے زور سے کہا ٹھیک ہے۔ آج شام کو عامر اور نوید کی ریس ہوگی۔میں نے بھی کہا ہاں! ڈن ہوگیا، ہارنے والا کڑھائی کھلائے گا۔ پھر میں تولیہ اٹھا کر نہانے چلا گیا۔

دن میں کئی بار نوید نے مجھے مقابلہ ختم کرنے کے لیے کہا۔ مگر میں نے اسے بری طرح جھڑک دیا کہ اب جو بات بھی ہوگی شام میں ہی ہوگی۔میں سارا دن سوچ رہا تھا کہ اسے ذلیل کیسے کرنا ہے۔شام ہوئی تو میں نے ٹراؤزر شرٹ پہن کر جوگر پہنے اور ندیم کو کہا کہ چلو، مجھے امید نہیں تھی کہ نوید چلے گا لیکن خوشی ہوئی جب دیکھا کہ وہ بھی ساتھ چلنے کو تیار ہو رہا تھا۔ گھڑی کی سوئی سوا پانچ سے آگے گامزن تھی جب ہم گراؤنڈ کے ایک سرے پر کھڑے ہوئے تھے ہم گراؤنڈ کے ہر کونے میں دو دو اینٹیں رکھ آئے تھے کہ ایک چکر لگانا ہے اور ان کونوں سے ان اینٹوں اندر سے گزرنا ہے اور جو پہلے ندیم کے پاس رکھی اینٹوں تک پہنچے گا وہ جیت جائے گا۔ دوڑ شروع ہوئی میں سوچ رہا تھا کہ نوید کو بچوں کی طرح بھگاؤں گا لیکن یہ دیکھ کر حیرانی ہوئی کہ وہ بڑی تیزی سے آگے بڑھ رہا تھا اور یوں لگ رہا تھا کہ وہ مجھ سے آگے نکلنے والا ہے۔اس کی لنگڑاہٹ تو جیسے ختم ہوچکی تھی۔ہار کے خوف سے میں نے رفتار زیادہ تیز کر دی لیکن وہ میرے ساتھ ہی دوڑ رہا تھا۔

پہلی بار مجھے نوید سے خفت ہو رہی تھی۔ ہارنے کا ڈر زیادہ ستانے لگا تو رفتار میں پوری قوت لگا دی جلد ہی میں نے نوید کو پیچھے چھوڑ دیا تھا جب آگے کونا آیا تو مجھے رفتار کم کرنا پڑی،پھر نوید کی طرف دیکھا تو وہ پھر ساتھ پہنچ چکا تھا۔ اب تو میرا غصہ اور بڑھنے لگا کہ ایک لنگڑا میرا مقابلہ کر رہا ہے؟ یہ سوچ کر اپنی پوری قوت کو مجتمع کیا اور دوڑ لگادی جلد ہی میں دوبارہ نوید کو پیچھے چھوڑ چکا تھا۔ دوسرا کونا آچکا تھا میں نے مڑ کر نوید کو دیکھا وہ ابھی تھوڑا سا پیچھے تھا۔

یہ بھی پڑھیں:   خودپسندی اور تکبر - ملک شاہ زیب احمد

لیکن پیچھے دیکھنے کے دوران میں نے کونے میں رکھی اینٹوں کو نظر انداز کر دیا تھا دوسرے ہی لمحے میرا پیر ایک اینٹ پر پڑا اور توازن بگڑا اور جتنی تیزی سے بھاگ رہا تھا اتنی تیزی سے میرے ہاتھ حرکت نہ کر پائے اور میرا منہ زمین سے ٹکرایا اور سر کسی سخت چیز میں لگا آنکھیں بند ہونے سے پہلے میرا منہ خون کا ذائقہ چکھ چکا تھا اور نوید میرے اوپر جھکا، عامر بھائی! عامر بھائی! پکار رہا تھا۔

اور پھر میں نے ندیم کو نیم وا آنکھوں سے اپنی طرف آتے دیکھا جب میری آنکھ کھلی تو خود کو بیڈ کے اوپر پایا میں ہسپتال میں تھا ساتھ ہی نوید اور ندیم بیٹھے تھے۔ میں نے کراہتے ہوئے پانی کا کہا نوید اٹھ کر پانی لینے چلا گیا۔ ندیم میرے پاس آگیا۔ میرے منہ پر پٹیاں تھیں چہرے کی ایک سائڈ پر چھوٹی چھوٹی پٹیاں لگی تھیں۔ اگلے دن ہم ہاسٹل واپس آچکے تھے۔اسپتال کا بل بھی نوید نے ادا کردیا تھا۔میرے اصرار کے باجود اس نے پیسے لینے سے انکار کردیا۔

بھوک لگ رہی ہوگی؟ نوید نے پوچھا۔ چلو میں دلیا بنالیتا ہوں۔ ابھی سخت غذا کھانا مناسب نہیں ہوگا اور واقعی میرا منہ درد کر رہا تھا۔ ایسے لگ رہا تھا جیسے دانت اپنی جگہوں سے ہل چکے ہوں۔ میں نے ندیم سے اپنا موبائل فون مانگا۔ دوڑ شروع کرنے سے پہلے ہم نے اپنے موبائل ندیم کو دے دیے تھے۔ اس نے موبائل مجھے دے دیا اور بتایا آپ کے پاپا کی کال آئی تھی ہم نے کہہ دیا کہ عامر سو رہا ہے۔

میں نے کانٹیکٹس کھولے اور نیچے انگلی چلانے لگا کہ پاپا کا نمبر ڈھونڈوں اور پھر مجھے نوید لنگڑا لکھا ہوا نظر آیا۔میرے ہاتھ خودبخود رک گئے ۔ اگلے لمحوں وہاں نوید بھائی لکھا ہوا نظر آرہا تھا۔ مجھے اپنی سوچ پر افسوس ہو رہا تھا، نوید تو جسمانی طور پر ہلکا سا لنگڑا تھا اور میں اتنے عرصے تک شاید ذہنی طور پر لنگڑاہٹ کا شکار رہا تھا۔