گلاب جامن - اُمِ شافعہ

افق کے مغربی کونے میں بیٹھی نارنجی شام نے اٹھکیلیاں کرتے پرندوں کو آنکھیں دکھائیں تو وہ جلدی جلدی اپنے گھونسلوں میں جانے کے لیے پر تولنے لگے،جیسے انہیں یقین ہو کہ بھٹک گئے تو راہ میں کوئی جگنو نہیں ملے گا۔ جلد ہی درختوں پہ بنے گھونسلے پرندوں سے بھر گئے، تو رات نے چمگادڑ کی طرح اپنے پر چار سو پھیلا دیے اورگاؤں، جہاں زندگی سر شام ہی اپنا آنچل سمیٹے رات کی آغوش میں جا دبکتی ہے، وہاں کافی دیر سے دو آنکھیں جاگ رہی تھیں۔ کٹورے جیسی دو بھوری آنکھیں جن میں اس وقت گلاب جامن سمائے ہوئے تھے۔

مٹی والے گھر کی دیوار کے ساتھ لگی چارپائی پہ ٹانگیں لٹکائے بیٹھے ننھو کے اردگرد اس وقت ستاروں کا جھمگٹا لگا ہوا تھا اور وہ ان کے درمیان معتبر بنا کسی چاند کی طرح چمک رہا تھا۔ صحن کے وسط میں لگے پپپل کے بوڑھے درخت پہ جا بجا بنے گھونسلوں سے چڑیوں کا غول اڑا اور منڈیر پہ قطار لگائے جا بیٹھا۔ ننھو کی اتنی بڑی خوشی میں وہ کیسے پیچھے رہتے؟ سو چلے آئے۔ سامنے میز پہ پڑی تھال سے ننھو کی نظریں ہی نہیں ہٹ پا رہی تھیں۔ ہوا کی سروں بھری تال پہ چڑیوں نے نغمے گانا شروع کر دیے تو ستارے اس کو مبارکباد دینے لگے۔ مبارکبادیں قبول کرتا ننھو کپڑے جھاڑتا، سینہ پھلائے کھڑا ہوا اور چاشنی میں ڈوبے گلاب جامنوں سے بھری تھال کی طرف بڑھا۔ اردگرد کھڑے تاروں سے پھوٹتی روشنی، ننھو کی آنکھوں میں آئی چمک سے مات کھا رہی تھی۔ اس نے تھال کو اٹھایا، نتھنوں میں میٹھی میٹھی خوشبو اتارتے اسے اپنے قریب کیا، مبارکبادوں کا شور اونچا ہوا، چڑیوں کے نغمے بلند ہوئےکہ اچانک کھوں کھوں کی آواز اس حسین شوروغل کے درمیان کسی عفریت کی طرح ابھری اور تھال ننھو کے ہاتھ سے چھوٹتا زمین پہ جا گرا۔ یوں لگا تھا کہ جیسے گاؤں کے پرانے کنویں کے پاس سالوں سے بند رہٹ اچانک چل پڑا ہو۔ گلاب جامن زمین پہ ادھر ادھر لڑھکتے دور جا گرے اور ان سے ٹپکتی، رسیلی چاشنی مٹی میں قطرہ قطرہ ہو کر جذب ہونے لگی۔ بالکل ایسا لگا تھا جیسے گلاب جامن بھی اپنی اس بےقدری پہ افسوس کے ساتھ آنسو بہا رہے ہوں اور کہہ رہے ہوں " یار ننھو!اس میں ہمارا کیا قصور؟"

تاروں کا جھرمٹ بکھر گیا اور وہ واپس آکاش کی سمت بھاگ گئے۔ منڈیر پہ بیٹھی چڑیاں ماتم کرتیں، گھونسلوں میں جا کر آنسو ٹپکانے لگیں اور ہوا نے حیرت زدہ ہو کر موجودہ صورتحال پہ پیپل کے ساتھ سرگوشیاں شروع کر دیں۔ سارا منظر تاریک ہوگیا۔ ننھو کی آنکھوں کی اس بغاوت کو اماں تاجو کی بےڈھنگ کھانسی لگام نہ ڈالتی تو شاید آج وہ تصور میں گلاب جامن کھا بھی لیتا... مگر عین وقت پہ کھانسی یوں وارد ہوئی تھی جیسے بیچ دھوپ میں بادل گرج پڑے ہوں۔

تو سویا نہیں پتر ابھی تک...؟ اماں تاجو نے جھلنگی نما چادر سے خود کو مکمل ڈھانپتے ہوئے سوال کیا... اور وہ جو تھال کے گرنے پہ ابھی تک سوگوار تھا، آواز کو سنبھالتے بولا۔

نہیں اماں، نیند نہیں آ رہی.... آنسو بہاتے گلاب جامن پھر سے نگاہوں کے سامنے عود آئے۔

لے پتر... یہ نیند بھی آتی تھوڑی ہے، لانی پڑتی ہے۔ تو جب میری عمر کو پہنچے گا نا؟ تو.... اپنی بات کی سنگینی کو محسوس کرتے وہ فوراً چپ ہو گئی۔ ننھو کو اتنی سی عمر میں بھی نیند کیوں نہیں آتی، اتنی سی عمر جس میں پلکوں کی جھالر بستر پہ لیٹتے ہی آنکھوں کو ڈھانپ دیتی ہے، اتنی سی عمر میں وہ ابھی تک جاگا ہوا تھا اور وجہ اماں تاجو سے بہتر کون جان سکتا تھا؟ بوڑھی دادی اور اس کا اکلوتا چھوٹا سا پوتا... جو روزانہ دیہاڑی لگاتا اور چند پیسے اس کے جھریوں والے ہاتھ پہ لا رکھتا۔ یہی تو کہانی تھی... یہی تو وجہ تھی۔ اماں تاجو نے دکھ بھری آہ سے فضا کو مزید بوجھل کیا اور سر موڑ کر ننھو کی طرف دیکھا جو چمگادڑ کے پروں میں نجانے کیا تلاش کر رہا تھا؟

ننھو اب ننھا نہیں رہا تھا۔ ماں باپ کے بعد اک دادی ہی تو تھی جس کی پوپلی مسکراہٹ میں اسے زندگی نظر آتی تھی مگر روزانہ کام سے واپسی پہ گاؤں سے ذرا پرے جس دوائی والی دوکان سے وہ اماں تاجو کی کھانسی کی دوا خریدتا، وہیں پاس ہی تو وہ مٹھائی والا چھوٹا سا ٹھیلا تھا جس پہ ریوڑیاں، جلیبیاں،اور لڈوؤں کی ڈھیریاں لگی ہوتیں... مگر اسے ایک ہی چیز نظر آتی... گلاب جامن! جن کے اوپر کہیں کہیں چاندی کا ورق جھانکتا نظر آتا۔ انہیں دیکھ کر ننھو کو یوں لگتا جیسے زندگی اماں تاجو کے پوپلے ہونٹوں سے نکل کر ان لڈوؤں میں جا بیٹھی ہو۔ اس کا دل کرتا گلاب جامن کی ایک ڈھیری وہ گھر لے جائے جو ایک لمبے عرصے تک ختم نہ ہو، بالکل شہرزاد کی کہانیوں کی طرح۔ مگر اسے معلوم نہیں تھا، غریب کی زندگی میں کوئی بھی ایک ہزار ایک ویں رات نہیں ہوتی جو ہر روز کی جانے والی نفسیاتی و جسمانی مشقت کی تکمیل کا مژدہ سنائے۔

اماں تاجو کی آنکھیں ابھی تک اس پر لگی ہوئی تھیں۔ اس کی نظروں کی تپش محسوس کرنے پر ننھو نے غیر محسوس طریقے سے منہ دیوار کی طرف موڑ لیا۔ اپنے تئیں اس نے شور مچاتی آنکھوں کو چپ کرانے کی کوشش کی تھی۔ جلد ہی نیند سے کٹورے بوجھل ہونے لگے، ننھو کے پپوٹے بند ہوئے اور گلاب جامن بھی ساتھ ہی کہیں پس منظر چلے گئے۔

(چند ہفتوں بعد)

صبح صبح سورج نے اپنی نرم و گرم حرارت زمین کی طرف ارسال کی تو اماں تاجو کے صحن میں لگے پیپل سے لے کر اطراف میں دود دور تک پھیلے درخت جو ٹھنڈ سے ٹھٹھرے کھڑے تھے، خوش ہو کر جھومنے لگے تھے۔ سردیوں کی چمکیلی دھوپ میں بڑی بوڑھیاں کپڑوں کو سینکنے کا سنہری موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتیں۔ اماں تاجو نے بھی جب سورج کو نرم گرمائش بکھیرتے محسوس کیا تو کمرے کے کونے میں چارپائی کے نیچے رکھے صندوق کے پاس جا بیٹھی...گھسیٹ کے اپنی طرف کیا...اس صندوق میں اس نے کپڑوں کے چند جوڑوں کو ننھو کے لیے بڑے چاؤ سے سی کر رکھا ہوا تھا۔ رنگ برنگی کڑھائی کیے پھولوں والا غلاف اتار کر بڑے پریم سے اس نے نیچے رکھا تو چند تڑے مڑے نوٹ بھی ساتھ گھسٹتے زمین پہ جا گرے۔ انہیں اٹھا کر حیرانی سے دیکھنے لگی۔ سہہ پہر کے وقت ننھو کی واپسی پہ تڑے مڑے نوٹ سوالیہ نشان بنے اس کی جھولی میں پڑے تھے۔ اماں کے استفسار پر وہ صرف اتنا کہہ سکا..وہ گلاب جامن... اور ساری بات اماں تاجو کی سمجھ میں آگئی۔

تو پتر تو نے مجھ سے کیوں نہیں کہا؟ میں خود تجھے میٹھی سویاں بنا کر دیتی... اماں لاڈ سے بولی ۔

پر مجھے گلاب جامن کھانے ہیں۔ اسی لیے تو پیسے جمع کر رہا تھا۔ وہ للچاتے ہوئے بولا۔ چھوٹے سے گھر کا اکیلا چھوٹا سا کمانے والا...! اماں کیسے منع کر پاتی اس چھوٹے سے باہمت بونے کو؟

اچھا چل جیسے تیری خوشی... کل واپسی پہ گلاب جامن لے آئیں۔ اماں نے اجازت دی تو اسے یوں لگا جیسے ولایت جانے کی ٹکٹ مل گئی ہو۔

نہیں، میں ابھی چلا جاؤں؟ گلاب جامن آنکھوں کے آگے ادھم مچانے لگے۔

نہیں پتر، شام کا ویلا ہونے کو آیا۔

اماں، رات کو نیند نہیں آئے گی، وہ منمنایا۔

پرسوچ انداز میں سر ہلاتی اماں "تیری مرضی" کہتے اٹھ کھڑی ہوئی... اور وہ اٹکھیلیاں بھرتا دروازے کی طرف دوڑا۔ خوشی میں پیسے اٹھانا بھی بھول گیا... چوکھٹ پار کرنے پہ یاد آیا تو واپس پلٹا، جیب میں پیسے اڑسے اور دوڑ لگا دی۔ وہ چاہتا تھا کہ ٹھیلے والے کے جانے سے پہلے وہ وہاں پہنچ جائے۔ پگڈنڈی پہ بھاگتے دور سے ہی اسے ٹھیلے والا نظر آیا تو اس کی جان میں جان آئی۔ سر شام واپسی پہ چھوٹے سے پلاسٹک کے تھیلے میں چار پانچ گلاب جامن ہاتھ میں پکڑے، خوشی خوشی اس نے مکان کی دہلیز سے پاؤں اندر رکھے،مگر اندرونی کمرے سے آنے والی آواز نے اسے تشویش میں مبتلا کر دیا۔ جلدی سے اندر گیا۔

اماں تاجو کھانسی کے ساتھ اب خون بھی اگل رہی تھی۔ اسے بدحواسی نے گھیر لیا۔ گاؤں کے اکلوتے حکیم سے دوا لینے کا خیال فوراً سے پیشتر آ دھمکا۔ ہاتھ میں پکڑے پلاسٹک کے تھیلے کو تیزی سے کمرے کے دروازے پہ لگی کنڈی کے ایک سرے میں لٹکایا اور دوڑ لگا دی۔ تھوڑی دیر بعد ہانپتا کانپتا گھر واپس پہنچا تو سامنے کا منظر دیکھ کر اس کا اوپر کا سانس نیچے جانا بھول گیا۔ متغیر چہرہ اور پھٹی آنکھیں لیے اس کا منہ کھل گیا۔ پلاسٹک کے تھیلے کے چیتھڑے کنڈی میں اٹکے اپنی داستان رسوائی بیان کر رہے تھے اور گلاب جامن غائب۔ اماں تاجو کی کھانسی کی آواز اس افسوسناک منظر میں پس منظر چلی گئی۔ حیرت و غصے کی ملی جلی کیفیت میں اس کی نظریں گھومتی، زمین پہ پڑے گلاب جامنوں کے کچومر پہ پڑیں۔ جنہیں دیوار پہ بیٹھی بلی گوشت کے لالچ میں ادھیڑ بیٹھی تھی۔ کمرے کے اندر سے آتی پیلے بلب کی بیمار زدہ روشنی میں بلی کی مونچھوں سے چاشنی کے قطرے ٹپکے اور مٹی میں دفن ہو گئے۔ بلی نے اسے دیکھا اور زبان ہونٹوں پہ پھیرتی اسے معصوم نگاہوں سے دیکھنے لگی، جیسے کہہ رہی ہو، "یار ننھو! اس میں میرا کیا قصور...؟" ننھو نے کھانستی اماں تاجو کو دیکھا۔ پھر تصور میں خود کو ایک بار پھر صندوق کے پاس پیسے جمع کرتے دیکھا، اور صدمے سے گھٹنے ٹیکتے وہیں پہ زمین پہ بیٹھتا چلا گیا... !

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com