دو پیغامات -مفتی ابولبابہ شاہ منصور

کل ترکی کے لیے دعا اور اُخوتِ ایمانی کے اظہار کے لیے لکھے گئے کالم کے حوالے سے ترکی سے دو صوتی پیغامات آئے ہیں۔پہلے میں کہا گیا ہے کہ ترک افواج کو جب یہ علم ہوا کہ پاکستانی بچے ان کے لیے قرآن پاک پڑھ کر دعا کررہے ہیں تو اُن کی خوشی اور ایمانی مسرت کی انتہا نہ رہی۔

پاکستانئ طلبہ قرآن شریف پڑھ کر ترک افواج کی فتح ونصرت کے لئے دعا کررھے ھیں۔

بچوں کی دعا کی ویڈیوز بغور دیکھ کر ان کا مورال کہیں سے کہیں پہنچ گیا جبکہ ترک عوام اپنے ساتھ ایسی بھائی چارگی ۔۔۔۔۔ محسوس کررہے ہیں جس کااظہار جنگِ عظیم اوّل میں مسلمانانِ برصغیر نے کیا تھا اور ترک آج تک اسے نہیں بھولے۔ جابجا، موقع بموقع اس کااظہار کرتے اور پاکستان والوں کی محبت اور تعاون کا قرض اتارنے کے لیے بے چین رہتے ہیں۔ ترک خبر رساں ایجنسی اناضول نےاسے خصوصی خبر کے طور پر شائع کیا ہے۔ پاکستانی بھائی پاکستان کے لیے ا یک بہترین دوست کی دوستی حاصل کرنے کے لیے اس موقع پر سوشل میڈیا کا بھرپور استعمال کریں۔

دوسرے پیغام میں کہا گیا ہے کہ آپ نے کل کے کالم میں ''کردملیشیا'' کے خلاف ترک افواج کی جنگ کا ذکر کیا ہے۔ اہلِ ایمان کرد ہمارے بھائی ہیں، ہمارے ملک کی انٹیلی جنس کا چیف کرد ہے، صدر اردگان کے قریب لوگوں میں سے آدھے افراد کرد ہیں، کرد جسم کی طرح ا یمان سے بھی بہت مضبوط ہیں، ہم سے زیادہ اچھے مسلمان ہیں، ہم ان سے جنگ نہیں کرتے، ہماری جنگ ان کردوں سے ہے جو اسرائیل کے ورغلانے پر اس کے ساتھ اور شامی کردستان کے مظلوم مسلمانوں کے خلاف ہوگئے ہیں۔ انہوں نے دہری عقیدہ قبول کرلیا ہے۔ وہ اللہ کے منکر اور مسلمانوں کے دشمن ہوگئے ہیں۔

یہ جنگ ترک فوج اور کرد ملیشیا کے درمیان نہیں، مظلوم مسلمانوں کے حامی اور کمزور مسلمانوں کے دشمن کے خلاف ہے۔ ہم ترکی کے لیے نہیں، اللہ کی رضا کے لیے لڑ رہے ہیں۔دونوں پیغامات اپنی اپنی جگہ پر مفید اور سبق آموز ہیں۔ راقم تمام قارئین کی طرف سے یہ پیغام بھیجنے والے ترک دوستوں کا شکریہ ادا کرتا ہے۔

عفرین میں شہادت کا جام پینے والا پہلا ترک جوان.
اس نوجوان نے وصیت کی تھی کہ اگر وہ شہید ہو جائے تو اس کی شہادت پر حکومت کی جانب سے ملنے والی تمام امداد عراق کے علاقے تلعفر کے یتیموں میں تقسیم کر دی جائے
ترک افواج حملے کی تیاری اور صلاة الحاجت کے دوران