ہماری پاکستانیت کہاں گم ہوتی جارہی ہے؟ - خرم علی راؤ

چند روز پہلے ایک بڑی مارکیٹ کے بڑے اسٹور پر جانے کا اتفاق ہوا۔ ٹریٹ بلیڈ کا پیکٹ اور کچھ دیگر سامان خریدنا تھا۔ سامان کے ساتھ جب میں نے بلیڈ مانگا تو دکان دار کہنے لگا کہ ٹریٹ تو ختم ہو گیا ہے، میں آپ کو انڈین بلیڈ کا پیکٹ دے دیتا ہوں، پاکستانی بلیڈ سے زیادہ سستا اور اچھا ہے۔ میں نے اس سے کہا کہ بھائی، آپ الحمداللہ پاکستانی ہیں،آپ صرف یہ بھی کہہ سکتے تھے کہ انڈین بلیڈ ہے وہ لے لیں اچھی کوالٹی کا ہے، آپ نے یہ کیوں کہا کہ پاکستانی بلیڈ کی کوالٹی خراب ہے؟ آپ کو تو ایک محب وطن کی طرح کسی اور کی تعریف کرتے ہوئے اپنے ملک کی پروڈکٹ کو نیچا دکھانا زیب نہیں دیتا۔ وہ اچھا بندہ تھا، تھوڑی بہت حجت کرنے کے بعدمان گیا۔ میں اپنے دوست کے ساتھ جارہا تھا سگنل بند ہوا تو ہم سگنل کے بالکل قریب تھے۔ میں نے کہا کہ گاڑی روکو، سگنل بند ہو گیا ہے۔ وہ ہ ہنسا اور بے پروائی سے سگنل توڑتے ہوئے بولا، "راؤ صاحب! پاکستان میں سب چلتا ہے۔" یہ فقرہ بھی ہم اور آپ اکثر سنتے رہتے ہیں کہ پاکستان نے ہمیں دیا ہی کیا ہے؟

ایسے کتنے ہی واقعات ہمارے گرد و پیش میں رونما ہوتے رہتے ہیں، ہر سطح پر یعنی انفرادی،اجتماعی، قومی اور بین الااقوامی سطح پر رونما ہوتے رہتے ہیں جن سے دانستہ یا نا دانستہ وطن کے کھلے ہوئے دشمنوں کے ساتھ ساتھ ہم خود بھی اپنے وطن کی تضحیک ہوتے دیکھتے ہیں اور خاموش رہتے یا ہاں میں ہاں ملانے والوں میں شامل ہوتے ہیں،کیوں؟ ہماری پاکستانیت کہاں چلی گئی ہے؟ پاکستان زمینوں، دریاؤں،پہاڑوں جنگلات، میدانوں، عمارتوں کا نام نہیں ہے بلکہ میں اور آپ ہی پاکستان ہیں۔بجائے اپنے معاملات ہر شعبے میں درست کرنے کے، بجائے انفرادی اور اجتماعی طور ہر اپنی اصلاح کے لیے کوشش اور جد و جہد کرنے کے اگر ہم خود ہی اپنے ملک کی تضحیک کریں گے یا تضحیک ہوتے دیکھ کر خاموشی یا ہمنوائی اختیار کریں گے تو کیا ہم ایک سچے محب وطن کہلانے کے حقدار ہیں؟ میں نے آج تک کسی امریکی، برطانوی، بھارتی علی ہذالقیاس کو اپنے ملک، اپنی ریاست کی برائی کرتے نہ دیکھا نہ سنا۔ یہ منفرد اعزاز بھی ہم پاکستانیوں کو ہی حاصل ہے کہ قولاً و عملاً خود اپنے ملک کی توہین و تضحیک کرتے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ سچے پاکستانی ہونے کا دعویٰ بھی ہاتھ سے نہیں جانے دیتے، یعنی

رند کے رند رہے ہاتھ سے جنت نہ گئی

دراصل ہم حکومت اور ریاست کا فرق فراموش کر دیتے ہیں۔ حکومتوں، پر اور اداروں پر تنقید ہر ملک میں ہوتی ہے اور ٹکا کر ہوتی ہے، پر ریاست پر تنقید کو کوئی بھی محب وطن گوارا نہیں کرتا۔ بس ہم ہی ہیں جو اپنے جوش تنقید میں اپنی مادر وطن کو بھی گالی دینے سے نہیں چوکتے۔ہم ایسی ایسی باتیں روانی اور بے پروائی سے کر جاتے ہیں کہ جنہیں کرنے سے پہلے ہمیں سو بار سوچنے کی ضرورت ہونا چاہیے۔

اس رویّے کی بہت سی وجوہات ہیں، بہت سے عوامل ہیں جیسا کہ عمومی غربت اور اس کے نتیجے میں اس کی کوکھ سے جنم لینے والی عمومی جہالت،تعصب اور جھوٹ اورطیش، دولت چند خاندانوں اور لوگوں میں مرتکز ہونا اور عوام میں احساسِ محرومی اور نفسیاتی مسائل کا پیدا ہونا، روز افزوں کرپشن کے جلوے، وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم اور دیگر کئی عوامل، مگر ان کا مطلب یہ تو نہیں کہ ہم بجائے ان عوامل کی اصلاح کے ہم اپنی مادر وطن کو ہی تضحیک کا نشانہ بنائیں؟ دشمن ہر طرح سے ہر حربے آزما رہے ہیں کہ کسی طرح خاکم بدہن اس ملک خداداد کو دنیا کے نقشے سے غائب کر سکیں جس میں وہ توان شاء اللہ العزیز قیامت تک ناکام ہی رہیں گے مگر بحیثیت پاکستانی ہماری بھی کچھ ذمہ داری ہے اور وطن سے محبت تو ایمان کا بھی حصہ قرار دیا گیا ہے۔

خدارا! اپنی اس گم گشتہ جنت کو، اس پاکستانیت کو دوبارہ واپس لائیں اور اس بات پر فخر و ناز پیدا کریں کہ آپ اس عظیم ملک کے باشندے ہیں جو ریاستِ مدینہ کے بعد تاریخِ عالم میں ایسی دوسری ریاست ہے جو کفر و اسلام کے معیا ر و مقابلے کے نتیجے میں وجود میں آئی ہے بقول جمیل الدین عالی مرحوم

موج بڑھے یا آندھی آئے دیا جلائے رکھنا ہے

گھر کی خاطر سو دکھ جھیلیں گھر تو آخر اپنا ہے