پارلیمان کا تقدس - اسامہ الطاف

گزشتہ ہفتے مال روڈ پر اپوزیشن جماعتوں نے ماڈل ٹاؤن واقعہےکے خلاف طاقت کا مظاہرہ کیا۔ شرکاء کی قلیل تعداد کے باجود مقررین کے خطابات میں شعلہ بیانی کا عنصر بدرجہ اتم موجود تھا۔شیخ رشید نے اپنی تقریر میں پارلیمان کے متعلق نامناسب الفاظ استعمال کیے تو عمران خان نے بھی ان تائید کی۔ گو کہ جلسہ کے دوران پیپلز پارٹی کی قیادت بھی اسٹیج پر موجود تھی،لیکن عمران خان کے بیان پر اگلے روز قومی اسمبلی میں پیپلز پارٹی نے انتہائی ناپسندیدگی کا اظہار کیا۔ حکومتی ارکان نے متعلقہ بیانات کے خلاف قرار داد منظور کی اور صحافتی حلقوں میں بھی اس بیان کی مذمت کی گئی۔عوام نے البتہ ان بیانات پر غیر معمولی رد عمل کا مظاہرہ نہیں کیا۔ سوشل میڈیا پر رائے شماری میں اکثریت نے پارلیمان مخالف بیان کی تائید کی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پارلیمان عوام کی نظر میں مقدس نہیں اور اس کی وجہ قومی اسمبلی کی مایوس کن کارکردگی ہے۔

قومی اسمبلی یعنی پارلیمان پاکستان کا اعلیٰ ترین ادارہ ہے۔ قومی اسمبلی میں اکثریت حاصل کرنے والی جماعت ہی وفاق میں حکومت بناتی ہے۔ پارلیمان قانون ساز ادارہ ہے اور آئین میں ترمیم کرنے کا مجاز بھی ہے۔قومی اسمبلی کے ارکان پر مشتمل قائمہ کمیٹیوں میں متعلقہ محکمے کی کارکردگی پر بحث کی جاتی ہے اور ضرورت پڑنے پر محکمہ کے ذمہ داروں کو بھی طلب کیا جاتا ہے۔پارلیمان نے اپنی ان ذمہ داریوں کو کس حد تک پور ا کیاہے؟ اس کا اندازہ مختلف سرکاری و غیر سرکاری اداروں کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ کے اعداد وشمار سے کیا جاسکتا ہے۔

قومی اسمبلی کی سالانہ رپورٹ کے مطابق اسمبلی کے چوتھے پارلیمانی سال (2016-2017ء)میں 102اجلاس ہوئے۔ 340اراکین میں 69اراکین ایسے تھے، جو سال بھر غیر فعال رہے،ان میں سے 47کا تعلق حکمراں جماعت سے ہے۔ ان ارکان نے102اجلاسوں کی کسی کارروائی میں شرکت نہیں کی۔یاد رہے کہ گزشتہ سال ارکان پارلیمان نے اپنی تنخواہوں میں140فیصد اضافے کی منظوری دی تھی،جس کے بعد ہررکن کی تنخواہ ڈیڑھ لاکھ روپے ہوگئی ہے۔ اس حساب سے غیر فعال ممبران پر قومی خزانے سے تقریباً 124ملین روپے خرچ ہوئے۔ چوتھے پارلیمانی سال میں اس وقت کے وزیر اعظم صرف 6اجلاسوں میں حاضر رہے۔ اسمبلی میں قائمہ کمیٹیوں کی تعداد 31ہے۔ گزشتہ پارلیمانی سال میں ان میں سے 22کمیٹیوں کے 10سے کم اجلاس ہوئے۔ کشمیر کمیٹی نے سال بھر میں صرف5پانچ قابل ذکر اقدامات اٹھائے، جس میں وزیر اعظم کی قوام متحدہ میں تقریر پر تعریف اور کمیٹی چیئرمین کی جانب سے کشمیریوں کے قتل پر مذمت بھی شامل ہے۔ قومی اسمبلی میں پارلیمانی سال کے دوران 1174قراردادیں پیش کی گئی جس میں سے صرف 40منظور ہوئیں۔یہ ارکان کی غیر سنجیدگی کی علامت ہے کہ ایسی قرار دادیں پیش کی جو منظوری کے قابل ہی نہیں تھی۔غیر سرکاری ادارے "فافن" کی رپورٹ کے مطابق قومی اسمبلی حکومت کی جانب سے 70قانونی مسودے(بل)پیش کیے گئے،جس میں سے 50منظور کیے گئے،جبکہ ارکان کی جانب 111قانونی مسودے پیش کیے گئے جس میں سے صرف 11منظور ہوئے۔رپورٹ کے مطابق 81قانونی مسودے ابھی زیر التوا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   صرف جماعت اسلامی - آصف محمود

پارلیمان کی یہ کارکردگی اگر مایوس کن نہیں تو کم از کم سست ضرور ہے،اس سستی پر مزید برآں پارلیمانی کارروائیوں میں حکومتی عدم دلچسپی اور ارکان کی مفاد عامہ سے صرف نظر نے عوام کی نظر میں پارلیمان کی وقعت کم کی ہے۔حکمراں جماعت کا طرز حکمرانی پارلیمانی روایات سے میل نہیں کھاتا، اس میں شخصیت پسندی کا عنصر غالب ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عدالت عظمیٰ کی جانب سے پابندی سے قبل بعض اوقات کابینہ کوبھی "بائی پاس"کرکے فیصلے کیے جاتے رہے۔

یہاں ایک تاریخی حوالے کا ذکر مناسب ہوگا۔ انقلاب فرانس کو یورپ کی جدید تشکیل میں مرکزی اہمیت حاصل ہے،سالہا سال سے جاری نظریاتی تعلیم کا پہلا باغیانہ عملی نتیجہ انقلاب فرانس تھا جو کہ بعد ازاں یورپ میں کئی اہم احداث پیش خیمہ ثابت ہوا۔الغرض، انقلاب فرانس کے وقت فرانس میں پارلیمان نما ایک ادارہ قائم تھا،لیکن اس ادارے کی عوامی افادیت نہ ہونے کی وجہ سے عوام بپھر گئے اور انہوں نے اشرافیہ کے ساتھ عوامی نمائندگی کا بھی مطالبہ کیا اور مطالبہ ماننے پر حکومت کو مجبور کیا۔لہٰذا محض پارلیمان کی موجود گی کافی نہیں ہے،عوام کا اعتمادبحال کرنے کے لیے پارلیمان کو عوامی مفاد کے لیے اقدامات اٹھانا بھی ضروری ہے،تاکہ پارلیمان پر زبان درازی کی کسی کو جرات نہ ہو۔