تنقید ضرور مگر تعریف بھی ان کا حق ہے - سمیع احمد کلیا

چند اعتراضات اٹھائے جا رہے ہیں کہ وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے پریس کانفرنس کے دوران زینب کے والد کا مائیک کیوں بند کیا؟پولیس والوں کے لیے تالیاں کیوں بجوائیں؟رانا ثناءاللہ نے یہ کیوں کہا کہ ملزم کی سزا کے علاوہ اور کوئی مطالبہ یہاں کرنا اچھا نہیں لگے گا اور یہ لوگ پریس کانفرنس میں مسکرائے کیوں؟ اصل میں یہ وہی سفاک لوگ ہیں جنہوں نے معصوم زینب پر سیاست کی اور اب قاتل کے پکڑے جانے پر ان کی سیاسی ختم ہو گئی۔المیہ یہ ہے کہ جن پولیس والوں نے اپنا گھر بار چھوڑ کر دن رات ایک کر دیے، لاکھوں لوگوں کو چھان مارا، گھر گھر جا کر بندے بندے کی پروفائلنگ کی، لاکھوں کالز ٹریس کر ڈالیں، نیند سے جن کی آنکھیں سوجھ گئیں لیکن انہوں ہمت نہ ہاری اور سفاک درندے کو ڈھونڈ نکالا اور قوم کے سامنے کھڑا کر دیا۔کیا اُن پولیس والوں کےلیے دو تالیاں بجوا دینا جرم ہے؟ ارے ان کےلیے تالیاں نہ بھی بجتیں تو پھر بھی یہ خوش تھے کیونکہ ان کےلیے اس دنیا میں تالیاں نہ بھی بجتیں تو اُس معصوم زینب نے جنت میں بیٹھ کر ضرور تالیاں بجائی ہوں گی اور لازماً کہا ہوگا "شکریہ پولیس والے انکل"۔ ان پولیس والوں کےلیے اس دنیا میں بجنے والی تالیاں عظیم ہوں گی یا جنت میں بیٹھی زینب کی تالیاں؟ اور اگر زینب کی تالیاں ہی اصلی تالیاں ہیں تو اپنی غلیظ سیاست میں پولیس کو کیوں گھسیٹتے ہو؟

یہ کہاں کا انصاف ہے کہ پولیس عام لوگوں کے پتھر بھی اپنے سروں پر کھائے اور قاتل کے پتھر بھی اپنے سینے پر کھائے اور آخر میں دو تالیاں کے حقدار نہ ٹھہرے؟ اور رہی بات پریس کانفرنس میں مسکرانے کی تو اس ڈی جی فرانزک کو سلوٹ پیش کرو کہ بہترین سائنس دان ہونے کے باوجود امریکہ میں اپنی کامیاب زندگی چھوڑ کر ایسی قوم کی خدمت کےلیے آ گیا جس میں معصوم زندگی کا قاتل اسی محلے کا رہائشی تھا لیکن اس قوم کے لوگوں میں اتنی اخلاقی جرات نہ ہو کہ قاتل کے بارے میں بتا دے۔جس کےلیے پوری فرانزک مشینری کو استعمال کرنا پڑا، لاکھوں کا خرچ اٹھانا پڑا۔ ایسے بندے نے اگر کہہ دیا کہ میں ایک سال میں چار، پانچ بار اپنی فیملی سے ملنے جاتا ہوں اور وزیر اعلیٰ آگے سے کہہ دیں کہ نہیں زیادہ دفعہ چٹھی لیکر جاتے ہیں تو اس بات پر سب مسکرا دیں تو تم لوگوں کو اس بات پر بھی تکلیف ہو جاتی ہے؟

یہ بھی پڑھیں:   تحریک انصاف نے بھی اس حمام میں کپڑے اتار دیے - اعزاز سید

آخر ہم لوگ کب تک حساس ایشوز پر اپنی گندی سیاست کرتے رہیں گے اور اگر وزیر قانون نے یہ کہہ دیا کہ ملزم کی سزا کے علاوہ کوئی اور مطالبہ کرنا یہاں ٹھیک نہیں لگے گا تو اس میں ایسی کون سی غلط بات ہے؟ اگر زینب کے والد کا مائیک بات ختم کرنے پر بند کر دیا تو کون سی قیامت آ گئی؟

اس سارے قصے میں اصل بات تو بس یہ تھی کی اس قوم کی معصوم زینب کے ساتھ ظلم ہوا اور ظالم قانون کے شکنجے میں آگیا اور ان شاء اللہ اپنے انجام کو جلد پہنچ جائے گا لیکن جو نفسیاتی لوگ اس ایشو کو الیکشن تک لے جانا چاہتے تھے ان کو مایوسی ضرور ہوئی، اسی لیے ان کو تالیاں بھی بری لگ رہی ہیں اور مسکرانا بھی زہر لگ رہا ہے۔

Comments

Avatar

سمیع احمد کلیا

سمیع احمد کلیا پولیٹیکل سائنس میں گورنمنٹ کالج یونیورسٹی، لاہور سے ماسٹرز، قائد اعظم لاء کالج، لاہور سے ایل ایل بی اور سابق لیکچرر پولیٹیکل سائنس گورنمنٹ دیال سنگھ کالج، لاہور ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.