شادی میں عجلت، ایک "غیر مدلل استدلال" - ربیعہ فاطمہ بخاری

وطنِ عزیز میں بدکاری کے بڑھتے ہوئے عفریت کے پیشِ نظر خوفِ خدا رکھنے والے لوگ اکثر یہ کہتے پائے گئے ہیں کہ نکاح کو عام کریں اور آسان بنائیں تاکہ اس طرح کے افعالِ قبیح کا سدِ باب کیا جا سکے،اور ساتھ ہی یہ بھی کہ شادی میں غیر ضروری تاخیر معاشرے میں برائی کا موجب بنتی ہے۔اس استدلال کا رد کرنے کے لیے آج ایک صاحب کی انتہائی غیر مدلل، غیر منطقی، مضحکہ خیز اور بھونڈی تحریر نظر سے گزری۔ صاحبِ تحریر نے انتہائی بھونڈے انداز میں ایک 9 سالہ بچی اور 12 سالہ بچے کی شادی کے نتائج و عواقب آشکار کرنے کی کوشش کی ہے۔

اولاً تو جلدی شادی کا ہرگز ہرگز مطلب نوعمربچی اور بچے کی شادی نہیں ہے۔کوئی بھی معمولی سا بھی عقل اور فہم رکھنے والا انسان یہ سمجھ سکتا ہے کہ جلدی شادی کرنے سے مراد شادی میں غیر معمولی اور بلا وجہ تاخیر نہ کرنا ہے۔جب ایک لڑکی اپنی تعلیم مکمل کر لے یا ایک لڑکا اپنی تعلیم کی تکمیل کے بعد بر سرِ روزگار ہو جائے تو بیٹیوں کو جہیز مکمل کرنے کی غرض سے یا بیٹوں کو نیا مکان اور گاڑی لینے کے انتظار میں شادی میں خواہ مخواہ تاخیر کرنابلاشبہ بہت سے مسائل کا سبب بن سکتا ہے اور یہ چلن ہمارے آج کے معاشرے میں عام ہے کہ لڑکیاں گھر بیٹھے 30،30 سال سے زیادہ کی ہو جاتی ہیں اور لڑکے کیریئر بنانے میں 35،35 سال کی عمر تک کنوارے گھوم رہے ہوتے ہیں، اس رجحان کی حوصلہ شکنی کی جانی چاہیے۔

شادی آسان بنانے کا دراصل مفہوم یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں بدقسمتی سے شادی کرنا ایک نہایت مشکل امر بن چکا ہے۔ ایک معمولی عام سے درجے کی شادی کے لیے آپ کی جیب میں کم ازکم 4سے 5 لاکھ کی رقم ہونا ضروری ہے اور انتہاء پہ لے جائیں تو کروڑوں بھی کم ہیں۔ اس کلچر کی حوصلہ شکنی کی بات کی جاتی ہےکہ اسی کلچر کی وجہ سے ایک تعلیم یافتہ برسرِ روزگار لڑکے کو بھی اپنی شادی کے لیے مطلوبہ رقم اکٹھی کرنے میں سالوں لگ جاتے ہیں ۔

یہی حال لڑکیوں کا ہے کہ اچھے اچھے گھرانوں کی تعلیم یافتہ لڑکیاں یا تو جہیز کی عدم دستیابی کے باعث والدین کے گھروں میں بیٹھی ہیں یا پھر پڑھ لکھ کر اپنا وہ سنہرا وقت، جب انہیں اپنی فیملی بنانی چاہیے، اپنے لیے جہیز بنانے میں ضائع کرتی ہیں۔ جب ہم کہتے ہیں کہ شادی کو آسان بناؤ تو دراصل معاشرے میں اس بڑھتے ہوئے رجحان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں،نہ کہ ہمارا مقصود9اور 12 سال کے بچوں کی شادیاں کروانا ہوتا ہے۔

اسلامی شعائر اور تعلیمات کا مضحکہ اڑائیں، ضرور اڑائیں کہ آپ سے اس کے علاوہ کچھ اور توقع بھی نہیں ہے لیکن خدا را! اس کوشش میں عقل وخرد کا دامن بالکل ہی نہ چھوڑ دیا کریں۔

Comments

ربیعہ فاطمہ بخاری

ربیعہ فاطمہ بخاری

لاہور کی رہائشی ربیعہ فاطمہ بخاری پنجاب یونیورسٹی سے کمیونی کیشن سٹڈیز میں ماسٹرز ہیں۔ تدریس کے شعبے سے وابستہ رہی ہیں لیکن اب ایک خاتونِ خانہ کے طور پر زندگی گزار رہی ہوں۔ لکھنے کی صلاحیت پرانی ہے لیکن قلم آزمانے کا وقت اب آیا ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.