ڈاکٹر مشتاق احمد اور ترجمان ’المورد‘ کی خدمت میں - ڈاکٹر حافظ حسن مدنی

قصور کے واقعے میں اندوہناک طریقے سے ہلاک کی جانے والی بچی زینب کے مجرم کی سزا پر اپنا موقف میں اس سے قبل لکھ چکا ہوں۔ اس واقعے کے حوالے سے یہ بحث یہاں جاری ہے کہ اس کو حرابہ کا جرم کہا جائے یا زنا کا؟ اور پھر کس جرم کے تقاضے اور اس کی سزا عائد کی جائے؟ تو راقم کو ڈاکٹر مشتاق احمد اور برادرم عمار خاں ناصر کی اس رائے سے اتفاق نہیں کہ وہ اس کو صرف حرابہ یعنی دہشت گردی کا جرم ہی قرار دے رہے ہیں اور فقہ حنفی کی ایک توجیہ کی بنا پر نابالغ بچی سے زیادتی کو بعض صورتوں میں ناممکن قرار دیتے ہوئے اس سے صرفِ نظر کر رہے ہیں۔

ظاہر ہے کہ قرآن وسنت میں زنا کی سزا بیان کرتے ہوئے اس طرح کی کوئی تفصیل یا شرط عائد نہیں کی گئی بلکہ اگر کوئی مجرم ڈھٹائی سے ایک مشکل الوقوع جرم کا ارتکاب کرتا ہے تو اس سے جرم کی شدت میں مزید اضافہ ہوجاتا ہے۔ چنانچہ کسی بدبخت کے ایسے جرم کو کیا کہا جائے گا جب وہ چھ سالہ بچی سے زیادتی کی درون خانہ کوشش کرے، نہ تو اس کو قتل کرے اور نہ ہی علانیہ اس جرم کا ارتکاب کرے تو کیا ایسی صورت میں محض شرمگاہوں کا ناجائز طور پر مل جانا، زنا کی سزا کا موجب نہیں ہوگا، جب مجرم زنا کا خود اعتراف بھی کرلے۔

زنا کے جرائم کو، زنا کے دائرہ عمل سے نکال کر فساد فی الارض یعنی حرابہ کے تحت لے آنا اور اس کے تقاضے پورے کرنا عقلی رجحانات کا شاخسانہ ہے۔ بعض اوقات کسی کیس میں دو جرائم اکٹھے ہوجاتے ہیں۔ چنانچہ اس وقت دونوں جرائم کی سزا دی جاتی ہے۔ یہی صورت حال معصوم زینب کے واقعے میں ہے، جہاں بدکاری، قتل، علانیہ جرم کا ارتکاب کرکے زنا، قصاص اور حرابہ کے سزائیں لاگو کی جانی چاہیئں۔یہی صورت حال اہانت رسولﷺ کے مسئلہ میں بھی ہے کہ اہانت رسول ایک مستقل جرم ہے، اور اس کا تکرار سے یا علانیہ طور پر ارتکاب اس میں فساد فی الارض کے جرم کا بھی اضافہ کردیتا ہے۔ تو ایسے شاتم کو دو جرائم کی سزا دینی چاہیے۔ اس کی ایک اور مثال یہ ہے کہ شراب نوشی کے کسی واقعہ میں، دنگا فساد اور فائرنگ بھی ہو تو اس سے وہ کیس شراب نوشی کے جرم سے نکل کر فساد انگیزی میں داخل نہیں ہوجائے گا، بلکہ اس میں دونوں جرم پائے جانے پر دونوں جرائم کی سزائیں علیحدہ جاری کی جائیں گی۔ بالفرض زینب کے کیس میں مجرم اعترافِ زنا نہیں کرتا، اور چار گواہیاں بھی پوری نہیں ہوتیں تو پھر زنا کی بجائے بے راہ روی کے جرم کا اندراج کرکے، اس کی تعزیری سزا (سیاستاً)، جو بھی حاکم وقت نے جاری کررکھی ہے، اس کو لاگو کیا جائے گا،اور قتل و فساد کی سزا اپنی جگہ پر باقی رہے گی۔

میرے موقف کا خلاصہ یہ ہے کہ شریعت میں واضح طور پر بیان کردہ ہرجرم اپنی اپنی جگہ شرعی نظام کے تحت دیکھا جائے گا، اور مزید جرائم کی صورت میں پہلا جرم، دوسرے جرم سے مختلط ہوکر اپنے تقاضے تبدیل نہیں کرے گا۔ ہاں اس منصوص جرم پر دوسرے جرم کا اضافہ ہوسکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی طے کردہ سزاؤں کا نظام خالص الوہی ہے، جس میں تبدیلی کرنے کا کوئی مجاز نہیں۔ مجھے اُمید ہے کہ یہ وضاحت زیر بحث مسئلہ میں کافی سمجھی جائے گی۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */