عمران خان اور خبروں میں رہنے کا فن - پروفیسر جمیل چودھری

کوشش توہر سیاست دان یہی کرتا ہے کہ کسی نہ کسی حوالے سے وہ میڈیا کی زینت بنارہے۔ لوگ سمجھتے رہیں کہ ہمارا لیڈر کسی نہ کسی سرگرمی میں مصروف ہے۔ منفی یا مثبت کی تقسیم تو عوام نے کررکھی ہے۔ ورنہ سیاستدان کی تو سوچوں میں بھی منفی سرگرمی نہیں ہوتی۔

پرانے لیڈر چاہے وہ آصف زرداری ہوں یا نواز شریف، وہ خبروں میں ہونے کا کبھی نہ کبھی وقفہ کرلیتے تھے لیکن جب سے نئی نسل کے جواں ہمت اور روشن خیال لیڈر میدان سیاست میں آئے ہیں، اپنا یہ فرض وہ بخوبی نبھا رہے ہیں۔ ابھی ایک نیک اور روحانیت کے اعلیٰ مرتبہ پر فائز خاتون سے نکاح کی بات ہی ہورہی تھی۔ بات پیغام سے آگے نہیں بڑھی تھی کہ نئی نسل کے لیڈر کو مال روڈ لاہور پر اپنی خطابت کے جوہر دکھانے کا موقع ملا اور پوری پارلیمنٹ لعنت کی مستحق ٹھہری۔ خود سمیت اپنے باقی30رفقاء پر بھی عتاب نازل ہوا۔ جب دوسرے دن اعتراضات ہوئے تو اسے پھر رد کردیاگیا اور ایک عدد پریس کانفرنس میں اپنے لعنت بھیجنے کے موقف کو دور جدید کا قولِ فیصل قرار دے دیا گیا۔ قومی اسمبلی قرار داد پاس کرے یا سندھ اسمبلی میں پوری تحریک انصاف پر لعنت اچھالی جائے، اس سے قولِ فیصل پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔

آئندہ میڈیا میں کیسے رہنا ہے؟ آج کل اس پر سوچ بچار کے لیے دبئی میں محفل لگی ہوئی ہے۔ استعفوں کے بارے سوچ بچار ہورہی ہے کہ ہم29 جنوری سے پہلے استعفے دیں یا بعد میں؟ 29 جنوری کے بعد کی تاریخ اس لیے بہتر محسوس ہوگی کہ اس کے بعد ضمنی الیکشن کا کھڑاک نہیں ہوسکے گا۔ راولپنڈی کے افلاطون اپنی گہری دانائی کا اظہار کررہے ہوں گے۔ یہ بات سوچی جارہی ہوگی کہ30ممبران تحریک انصاف کے ساتھ جب شیخ بھی استعفے دیں گے تو ملک میں کس نوعیت کا طوفان آئے گا؟ تحریک انصاف کے حق میں پبلک کس طرح پلٹے گی؟

دوسرا پہلو یہ ہوگا کہ قومی اسمبلی کے استعفوں کے بعد ہم پر دباؤ آئے گا کہ صوبائی اسمبلی سے بھی استعفے دیے جائیں، پھر سینیٹ کے الیکشن پر غور۔ ایک کے بعد دوسرے اور تیسرے آپشن کے فوائد اور نقائص زیر غور ہوں گے۔ سینیٹ میں زیادہ ممبروں کے ہونے اور نہ ہونے پر غور ہورہا ہوگا۔ لعنت تو پوری پارلیمنٹ پر بھیجی گئی ہے، اس لیے وفاق کا نمائندہ ادارہ بھی لعنت کے عذاب سے نہیں بچا۔

میرے نزدیک نئی نسل کے لیڈر کی انٹری اکتوبر2011ء میں ہوئی تھی۔ لڑکے اور لڑکیاں ذرا زیادہ تعداد میں اپنے لیڈر کو سننے آگئے تھے۔ بس اسی سے لیڈر نے اپنے آپ کو پاکستان کا آئندہ وزیراعظم سمجھا تھا اور میری یادداشت کے مطابق ضروری سمجھا گیاتھا کہ سپر پاور کے دارالحکومت واشنگٹن میں جاکر اپنے آئندہ ملنے والے عہدہ کا اعلان کردیاجائے تاکہ واشنگٹن والے ابھی سے خبردار ہوجائیں اور پروٹوکول کاخیال رکھیں۔ لیکن ووٹ چونکہ زیادہ پرانی نسل کے ہوتے ہیں انہوں نے نئی نسل کے لیڈر کالحاظ نہ کیا اور بات بنتے بنتے رہ گئی۔ پھر ایک سال بعد ہی کچھ نادیدہ قوتوں کے اشارے پر اسلام آباد میں میدان سجالیاگیا۔ ہر طرح کا ناٹک رچایاگیا لیکن وزیراعظم کا استعفیٰ نہ ملنا تھا اور نہ ملا۔ آرمی سکول پشاور کے حملے نے لیڈر کی لاج رکھ لی اور حق دار وزیراعظم پشاور جاکر میٹنگ میں شریک ہوئے۔

اس کے بعد بھی ایسے ناٹک کئی دفعہ دکھائے گئے لیکن دل کی کلی کھلی نہیں۔ 28 جولائی2017ء کے بعد نئی نسل اور کچھ دیگر لوگوں کی توقعات یہ تھی کہ اب ہمارا لیڈر انتہائی سنجیدہ سیاست کرے گا کیونکہ اب تو بڑی اور اصل رکاوٹ ہٹ گئی ہے اور کرسی اب صرف ایک جست کے فاصلے پر ہے۔ لیکن سنجیدہ سیاست تو اپنی قسمت میں ہی نہیں۔ آئندہ بھی ایسا ہی ہوگا جیسا 2014ء کے دھرنے سے شروع ہوا تھا۔ جب تصور اسلام آباد دھرنے کا آتا ہے تو فوراً یہاں سے شروع کی جانے والی سول نافرمانی کی تحریک یاد آ جاتی ہے۔ پھر مختلف سروسز کے بل جو جلائے گئے، دوسری طرف بل ادا بھی ہورہے تھے۔

بات میڈیا میں رہنے سے شروع ہوئی تھی اور پوری امید ہے کہ میڈیا میں رہنے کے لیے ایک دو دن میں کوئی نہ کوئی نیاناٹک ضرور عوام کے سامنے پیش کیاجائے گا۔ عوام کو زیادہ دن انتظار نہ کرنا پڑے گا۔ نئی نسل کو نیالیڈر مبارک ہو! ابھی کالم یہاں تک لکھاگیاتھا کہ ٹی وی نے خبر دی نئی نسل کا امام عمران خان دبئی سے واپس آگیا ہے اور آتے ہی اس نے میڈیا کے سامنے پیش ہوکر اپنافرض منصبی شروع کررکھاہے۔ اب نئی نسل کے امام کی طرف سے ختم نبوت کے مسٔلے کا اعلان بھی کیاگیاہے۔ اس عمران خان کی طرف سے دور کی کوڑی ہی کہاجائے گا۔ استعفے دینے میں تاخیر کا یہ جواز پیش کیاگیا کہ قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے ممبروں سے مشورہ نہیں ہوا۔ عمران خان کے امام شیخ رشید نے استعفوں میں تاخیر کی وجہ عمران خان کو ہی قرار دے دیا کہ جونہی وہ استعفے پیش کریں گے میں بھی اس نیک کام سے پیچھے نہیں رہوں گا۔ دبئی سے واپس آنے کے فوراً بعد انہوں نے میڈیا کے سامنے پیش ہوکرابتداء میں کہی ہوئی بات پھر ثابت کردی ہے۔ دونوں کی خواہش ہے کہ وہ 24 گھنٹے میڈیا کے سامنے موجود رہیں۔ سوتے میں بھی کوئی انوکھا خیال دماغ میں آسکتا ہے۔ میڈیا کی موجودگی میں وہ بھی ریکارڈ ہوجائے گا۔ ہمارے جیسے پرانے لوگوں کو میاں ممتازدولتانہ، شوکت حسین، ولی خان، نورالامین، پروفیسر غفوراحمد، قاضی حسین احمداور نواب زادہ نصراللہ خان یاد آجاتے ہیں۔ ان حضرات کی زندگیوں کا مقصد ہر وقت میڈیا کے سامنے رہنا نہیں تھا اور یہ لوگ کوئی گری ہوئی بات جلسوں میں نہیں کرتے تھے۔ نئی نسل کے لیڈر کو بھی ایسے لوگوں کی زندگیوں پر نظرڈال لینی چاہیے۔