جو تار پہ بیتی ہے وہ کِس دل کو پتہ ہے؟ - اسماعیل احمد

کہا جاتا ہے کہ ایک بیٹی کو باپ کی ضرورت اس لیے بھی ہوتی ہے کہ وہ جان سکے کہ دنیا کے سارے مرد اس کو تکلیف پہنچانے والے نہیں ہیں۔ باپ اور بیٹی کی محبت کےسلسلے اِس کائنات کی محبتوں کے خوبصورت ترین سلسلوں میں سے ایک ہیں۔ انسان اگر زمانہ قبل از اسلام کے عربوں کی طرح وحشی نہ ہو تو بیٹی اس کے لیے فطرت کے عطا کردہ تحفوں میں سےسب سے بڑا تحفہ ہے۔ ایک بیٹی ماضی کی خوبصورت یاد، حال کی خوبصورت خوشی اور مستقبل کی خوبصورت امید ہوتی ہے۔ باپ کو اپنی ساری اولاد ہی پیاری ہوتی ہے مگر بیٹی اور باپ کا رشتہ بھی عجب ہے۔

سیرت کی کتابوں میں اس کا ذکر ملتا ہےکہ ایک دفعہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کعبہ میں حالتِ سجدہ میں تھے جب ابوجہل اور اس کے ساتھیوں نے ان پر اونٹ کی اوجھڑی ڈال دی۔ حضرت فاطمہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہا کو خبر ملی تو آپ نے آ کر ان کی کمر پانی سے دھوئی حالانکہ آپ اس وقت کم سن تھیں۔ اس وقت آپ روتی تھیں تو حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان کو کہتے جاتے تھے کہ اے جانِ پدر! رو نہیں، اللہ تیرے باپ کی مدد کرے گا۔ روایتوں میں آتا ہے کہ نبی اکرمؐ کو حضرت فاطمۃ الزہراؓ سے بہت محبت تھی جب حضرت فاطمہ الزہراؓ تشریف لائیں تو نبی اکرمؐ کھڑے ہو جاتے، ان کا ہاتھ تھام لیتے اور پیشانی کو بوسہ دیتے۔ آپ کے لیے اپنی چادر مبارک بچھا دیتے۔ رسول اللہؐ جب بھی سفر پر تشریف لے جاتے تو سب سے آخر میں حضرت فاطمۃ الزہراؓ سے رخصت اور واپسی پر سب سے پہلے آپ سے ملنے جاتے۔

ننھی پری زینب کے دلخراش واقعے کے بعد زینب کی یاد نے سب کو ستایا مگر ہم میں سے بہت سوں نے اس ساری کہانی میں دو کرداروں کو یکسر نظر انداز کیے رکھا اور وہ تھے زینب کے دکھیارے ماں باپ۔ ان کے دلوں پر کیا بیتتی ہوگی؟ ہمارے لیے اس کا تصور بھی محال ہے۔ گزشتہ روز جب زینب کے سفاک قاتل کو پکڑا گیا اور اس کامیابی پر شہباز شریف کامیابی کی داد سمیٹ رہے تھے تو ساتھ ہی حاجی امین انصاری بھی موجود تھے جن کا مائک دوران گفتگو" بوجوہ" خود شہباز شریف نے بند کروا دیا۔ پریس کانفرنس کے بعد گفتگو کرتے ہوئے زینب کے والد کا کہنا تھا کہ انہیں پوری بات کرنے کا موقع نہیں دیا گیا۔ عمران نامی شخص نے زینب کا منہ بند کرانے کے لیے اس کی سانسیں چھین لیں جب کہ محترم شہباز شریف نے اس کے والد کا منہ بند کرانے کے لیے اس کا مائک بند کرا دیا۔ اس دھرتی پر غریب اور مجبور لوگ اس طرح کی منہ بند کی ہوئی زندگی گزارتے آئے ہیں اور جانے کب تک گزارتے رہیں گے۔ فیض نے نجانے کسے آواز دے کے کہا تھا

یہ بھی پڑھیں:   اسلامی تعلیمات تو یہی ہیں مگر - حبیب الرحمن

بول کے لب آزاد ہیں تیرے

یہاں تو لبوں پر قفل چڑھا دیے گئے۔ یہاں رہنے والوں کا قبیلہ کوئی اور ہے جسے عرف عام میں عوام بھی کہا جاتا ہے اور یہاں اقتدار کے مزے لوٹنے والے اور مائک بند کرنے کا حق رکھنے والے "خواص" کا تعلق انسانوں کی کسی اور قسم سے ہے۔ بظاہر ہم میں سے بہت سے اسے معمول کا کوئی واقعہ سمجھیں گے لیکن کم از کم داد و تحسین کے ڈونگروں اور اپنی ہی انا کو سجدہ کرنے والوں کی تقریروں کے دوران اس غریب کی بات کو دو چار منٹ سن لیا جاتا تو کوئی قیامت نہیں آجانی تھی۔ وہ باپ ہی تو تھا، معصوم زینب کا باپ۔ اس کی گفتگو سے کون سا شہباز شریف کی مسند اقتدار ہل جانی تھی؟ اس غریب کے دو چار منٹ میڈیا اور عوام کے سامنے اظہار غم سے"شریفانہ" حکومتوں کو کون سا زوال آ جا نا تھا؟ لیکن شہباز شریف بھی آخر شہباز شریف ٹھہرے۔ اس اچھی خبر کو بیان کرتے ہوئے بھی اتنی بھونڈے پن کا ثبوت چھوڑ گئے جو اس واقعہ کے فیصلہ کن انجام کی طرف بڑھتے ہوئے تکلیف اور دکھ کی شدت کو ہو ا دیتا رہے گا۔

آپ حکمرانوں کی صاحبزادیاں تو بیکری نہ کھول کے دینے پر غریب ورکروں کو پٹوا دیتی ہیں اور ہمارے بیٹیاں ہر پل آپ کے دورِ اقتدار میں اپنی آبرو کی حفاظت کے ڈر میں سسک سسک کر گزار دیتی ہیں۔ آپ کی صاحبزادیاں انٹرویوز میں عوام کو بتاتی ہیں کہ ہمارے خاندان میں فیصلہ ہوگیا پاکستان پہ اقتدار حاصل کرنے کے لیے قرعہ فال میرے نام نکلا ہے جبکہ ہماری بیٹیاں محکوم ہیں۔ اس لیے کہ ان کے باپ حاجی امین انصاری ہوتے ہیں، شہباز شریف نہیں۔ ہمارے وزیراعلیٰ بلاوجہ حاجی امین انصاری کی نہ ہوسکنے والی گفتگو سے خوفزدہ ہو گئے۔ آپ کے اقتدار میں تو اتفاق کا سریا شامل ہے۔ ایک غریب باپ نے اس کا کیا بگاڑ لینا تھا؟ شاید وہ اپنی بیٹی کی کوئی بات کرتا، اس کی کتابوں کی، اس کے کھلونوں کی، اس کی شرارتوں کی یا شاید ان چیخوں کی جو اس کے منہ سے نکلنے سے پہلے ہی ایک شقی القلب نے بند کرا دیں۔

یہ بھی پڑھیں:   عمران خان کی پکنک اور مولانا کا دھرنا - امتیاز عالم

زینب جیسی ہیریں کبھی ڈولی چڑھتے وقت ایسی چیخیں مار دیتی ہیں اور کبھی چیخیں مارے بغیر ہی اِس خانہ خرابے سے چلی جاتی ہیں۔ ڈولی چڑھدیاں ماریاں ہیر چیکاں، مینوں لے چلے بابلا لے چلے وے میرا آکھیا کدی نہ موڑدا سئیں، اوہ سمیں بابل کتھے گئے چلے وے، اس طرح کے واقعات میں ہماری عادت ہے ہم اپنے اپنے نظریات کا پرچم اٹھائے، اپنی اپنی سیاستوں کے خبثِ باطن میں مبتلا ہو کر نکل آتے ہیں۔ کسی کو ان واقعات کے تناظر میں سیکس ایجوکیشن یاد آتی ہے اور کسی کو اپنی حکومتوں کی شاندار کارکردگی۔ مگر ہمارے کراچی، لاہور، اسلام آباد کے پوش علاقوں میں رہنے والے دانشورانِ ملت ان کروڑوں بیٹیوں اور ان کے کروڑوں باپوں کو بھول جاتے ہیں جنہوں نے کم اور نہ ہونے والے وسائل کے اندر رہتے ہوئے اپنی بچیوں کواس زمانے میں زندہ بھی رکھنا ہے اور ان کی حفاظت بھی کرنی ہے۔ جو ساز سے نکلی ہے وہ دُھن سب نے سنی ہے جوتار پہ بیتی ہے وہ کِس دل کو پتہ ہے؟

Comments

اسماعیل احمد

اسماعیل احمد

کمپیوٹر سائنس میں بیچلرز کرنے والے اسماعیل احمد گورنمنٹ کالج آف ٹیکنالوجی ٹیکسلا میں بطور انسٹرکٹر کمپیوٹر فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔ ساتھ ہی یونیورسٹی آف سرگودھا سے انگلش لٹریچر میں ماسٹرز کر رہے ہیں۔ سیاست، ادب، مذہب اور سماجیات ان کی دلچسپی کے موضوعات ہیں مطالعے کا شوق بچپن سے ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.