ترکوں کو دعاؤں میں یاد کیجیے-مفتی ابولبابہ شاہ منصور

کرد قوم چار ملکوں کی سرحد پر آباد ہے۔ ایران، عراق، شام اور ترکی۔ قوم یہود کا دعویٰ ہے کہ کرد بنی اسرائیل کا بچھڑا ہوا بارہواں قبیلہ ہے۔ اسرائیل ترکوں کو ہر طرح کی امداد دے کر اول الذکر ملک کے علاوہ تینوں ملکوں میں شورش برپا کرنے اور ’’آزاد کردستان‘‘ قائم کرنے کے لیے ورغلاتا رہا ہے اور جب اسرائیل ساتھ ہو تو بڑے میاں کیوں پیچھے ہوں؟ اس لیے امریکا کا بھر پور تعاون ان کردوں کو حاصل ہے جو اس وقت مذہباً کٹر کمیونسٹ ہیں۔ یہودیت سے ان کا ذرا بھی واسطہ نہیں۔ عراقی کردستان پر ان کا قبضہ ہوچکا ہے۔شامی کردستان کے بعد ترک کردستان کی باری تھی۔ اتنے میں ترکی کے صدر نے ترکی میں ان کی کمر توڑ کر اب شام میں ان کا تعاقب شروع کیا ہے، کیوں کہ ترکی میں سازشوں کا مرکز یہی علاقہ تھا۔

دو ہفتے قبل ایک ذمہ دار ترک نے کہا: ’’مولوی صاحب! دعا کریں عنقریب معرکہ شروع ہونے والا ہے۔‘‘ کل جب ترک فوج نے شام میں کرد شورش پسندوں پر حملہ شروع کیا تو اس نے پیغام بھیجا: ’’مولانا! سوڈان میں ہمارے لیے قرآن پاک پڑھ کر دعائیں ہورہی ہیں، پاکستان میں تو اس سے زیادہ ہورہا ہوگا۔‘‘ پھر پہلے شہید کی تصویر اس نے بھیجی کہ ’’دیکھو اس کو جنت نظر آرہی ہے یا شہید صحابہ سے ملاقات ہوئی ہے کہ چہرے کی مسکراہٹ مدھم ہی نہیں ہو پارہی۔ شہید کے چہرے پر مدھ بھری مسکان گواہ ہے کہ ترکی درست سمت میں جارہا ہے اگرچہ اکیلا ہے۔ ترکی کو سب سے زیادہ روحانی تعاون کی امید پاکستان سے ہے۔‘‘

جب راقم الحروف نے اس ساتھی سے کہا کہ ہمارے ہاں تشویش پائی جاتی ہے کہ امریکا آپ کو جنگ میں گھسیٹ کر اقتصادی طور پر نقصان پہنچائے گا۔ اس نے کہا: ’’یار! آپ پاکستانی معلوم نہیں امریکا کو اتنی اہمیت کیوں دیتے ہو؟ امریکا تو لٹیروں کی باقیات ہے۔ ہم عثمانیوں کے وارث ہیں۔ ہم خوب جانتے ہیں ایسے لوگوں کو کیسے جواب دیا جاتا ہے؟‘‘

یہ بھی پڑھیں:   اٹھاکے ایڑیاں چلنے سے قد نہیں بڑھتے - ارشد زمان

ترکی کیسا جواب دیتا ہے، یہ تو سامنے آہی جائے گا، اہم بات یہ ہے کہ ترکی جو پوری امت کا ادھار اتارے جارہا ہے، ہم اس کی امیدوں پر کتنا پورا اترتے ہیں؟ اسرائیل اگر اپنا بارہواں قبیلہ نہیں بھولا تو ہمیں بھی ترکوں کو اپنی دعاؤں اور نیک تمناؤں میں نہیں بھلانا چاہیے۔ ہوسکے تو فیس بک پر ترکی کو اخوت سے بھر پور پیغامات بھیجئے، کیوں کہ ہم ایک ہی قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں۔