"علاجِ غم نہیں کرتے فقط تقریر کرتے ہیں" - عبدالباسط ذوالفقار

قصور واقعہ کا درد ابھی تک ویسا ہی تازہ ہے۔ ننھی بٹیا کا چہرہ بار بار سامنے آتا، ملامت کرتا ہے۔ بار بار گریبان سے پکڑ کر سوال کرتا ہے مجھے انصاف کب ملے گا؟ اس دلخراش واقعہ کے بعد شور غوغا ہوا، عوام و خواص کے دلوں میں غم و غصّےکی لہر اٹھی، میڈیا پر بھانت بھانت کی آوازیں سنائی دیں۔ "زینب کو انصاف دو" زبان زد عام تھا۔ سوچا اب حکمران جاگ جائیں گے۔ اربابِ اختیار عملی اقدامات کرکے آنے والی نسل کی حفاظت کریں گے۔ اگرچہ امید اُن سے نہیں تھی، مگر پھر بھی دکھایا ہوا خواب آنکھوں کے سامنے لہرایا، باتوں میں آگیا۔ مگر کفِ افسوس ہی مل رہا ہوں۔ کیوں کہ ویسی ہی دلخراش خبریں اردگرد سے سنائی دے رہی ہیں۔

قصور واقعہ کے بعد جنوبی پنجاب میں پانچ ایسے، دل دہلا دینے والے جنسی تشدد کے واقعات رپورٹ ہوئے۔ مردان سے دلخراش خبر آکر پہاڑ بن کر گری۔ آج بھی ایسی ہی ایک خبر پڑھی کہ راولپنڈی میں دو روز قبل اغوا ہونے والے بچے کو جنسی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ ملزم تاحال آزاد ہے۔ میرا تو ماتم کرنے کو مَن کرتا ہے۔ میں تو بے سدھ ہوگیا کہ میں آخر کررہی کیا کر سکتا ہوں؟ فقط باتیں…فقط نعرے…؟

اس وقت بھی نعرہ بلند ہوا تھا بھیڑیے کو سزا دیں۔ ہر دوسرے شخص کی زبان پر ایک ہی نعرہ تھا کہ قاتل کو سرِ عام لٹکایا جائے۔ حکمران اپنی بِلوں سے نکلے، انصاف دلانے کے وعدے کیے، مگرمچھ کے آنسو بہائے، کمیٹی تشکیل دی۔ بچوں سے زیادتی اور قتل کے واقعات کی روک تھام کے لیے اقدامات کرنے کے سندیسے دیے۔ اہلِ قانون نے انگڑائی لی، ازخود نوٹس لیا۔ سپہ سالار کی طرف سے مجرم کو پکڑنے میں تعاون کا پیغام ملا۔ قومی اسمبلی اجلاس کے دوران پارلیمانی سیکرٹری برائے انسانی حقوق نے ایوان میں وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے قومی کمیشن برائے اطفال ایکٹ 2017ء نافذ کیا گیا۔

زینب قتل کیس کی تحقیقات کی جارہی ہیں۔ تحقیقات کے متعلق ایوان کو آگاہ رکھا جائے گا۔ تب ہی ایوان کے سامنے ایک رپورٹ پیش کی گئی جس کے مطابق 2سال کے دوران پنجاب میں انسانی حقوق کی 514٬ سندھ میں255٬ خیبرپختونخوا میں 185 بلوچستان میں 42٬ اور اسلام آباد میں 27 واقعات پیش آئے۔ دس رکنی کمیٹی بنی۔ دن گزرتے گئے یہ واقعات سیاست کی گرد میں اٹتے گئے۔ سیاسی نعروں کی مٹی میں دبتے گئے۔ میڈیا و سوشل میڈیا پر ہم لوگ چار دن کا ڈھنڈورا پیٹ کر کونے کھرچے میں چپ سادھے بیٹھ گئے۔ ساتھ ساتھ حکمرانوں کے بھاشن بھی جاری رہے۔ واقعے کی آڑ میں حکمران ایک دوسرے کو استعفوں کی پیشکش کرنے لگے۔

ایک پارٹی کے رہنما نے مردان واقعہ پر استعفیٰ دینے کا مشورہ دیا اور کہا ہم بھی غور کریں گے۔ دوسرے وزیر نے امید ظاہر کی کہ، ٹائم فریم تو نہیں دے سکتے مگر زینب کا قاتل پکڑا جائے گا۔ ساتھ ہی سوال بھی پوچھا کہ بچی کے قتل پر احتجاج کی روایت چل پڑی تو کیا مردان جا کر احتجاج شروع کر دیں؟ دوسرے وزیر نے کہا: ہم مردان واقعہ پر سیاست نہیں کرنے دیں گے۔

ایک وزیر کا کہنا تھا ہم زینب کے قاتلوں تک ہفتوں نہیں، دنوں میں پہنچیں گے۔ لیکن ابھی تک قصور واقعہ کا سیریل کلر گرفتار نہ ہو سکا۔ البتہ عدالت نے قصور واقعہ کی تفتیش کرنے والی ٹیم پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے مزید 72 گھنٹوں کی مہلت دے دی۔ دنوں میں گرفتار کرنا تھا ناں تب ہی مہلت طلب کی تھی۔ یہ الگ بات ہے کہ ہفتے گزر گئے۔

عوام کا وہ نعرہ "مجرم کو سرِ عام لٹکایا جائے" بھی بھانت بھانت کے شور غوغا میں گم ہو گیا۔ مجرم گرفتار تو نہ ہوا البتہ وزیراعظم صاحب نے مجرم کی سزا جزا کا معیار طے کرتے ہوئے کہہ دیا کہ "زینب کے قاتل کو سرِ عام نہیں لٹکایا جاسکتا"۔ زینب کے والدین کے درد پر آنسو بھی بہائے(معلوم نہیں مگرمچھ کے تھے یا؟) اور کہا کہ قاتل کو آئین کے مطابق سزا دیں گے۔ محترم وزیر اعظم صاحب! پہلے مجرم کو گرفتار تو ہو لینے دیں۔ وہ چھلاوہ بن چکا ہے اداروں کے لیے پکڑائی میں نہیں آرہا اور ادارے فقط ڈی این اے پر انحصار کیے بیٹھے ہیں۔ مجرم کو کڑی سزا اگر ملے گی تو ہی کوئی مجرم بننے سے پہلے سوچے گا۔

میں نے کہیں پڑھا تھا کہ 1981ء میں لاہور باغبانپورہ میں بچہ اغوا ہوا۔ ضیاء الحق صاحب کا زمانہ تھا۔ قاتلوں کو گرفتار کر کے تین دن سزا کا فیصلہ سنا کر صبح سے شام،پورے ایک دن تک لٹکائے رکھا۔ دس سال تک پھر ایسا واقعہ نہ ہوا۔ لیکن یہاں تو کان یہ خبر سننے کو ترس گئے کہ مجرم، درندہ، قاتل پکڑا گیا۔ لیکن وہ تو پکڑنے میں ہی نہیں آرہا۔ وثوق سے کہا جارہا ہے کہ مجرم بااثر ہے اور اس کی تانیں اس قدر الجھی ہیں کہ اگر سلجھ گئیں تو اس حمام میں سب ننگے ہیں کے مصداق بڑے بڑے نام سامنے آنے کا حدشہ ہے۔ شاید اسی لیے ہماری پولیس حیص بیص اور پس و پیش سے کام لے رہی ہے۔

حکمران روز ایک نیا بیان دے کر اس بیان کو توڑ مروڑ کر عذر لنگ پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایک قول جو کہ خاصا مشہور ہے، ایک بڑے ولی اللہ سے منسوب کہ جس مقتول کا قاتل معلوم نہ ہو، اس کا قاتل حکمران ہوتا ہے۔ لیکن ہمارے ہاں تو یہ بھی ابھی طے کرنا باقی ہے کہ ہمارے حکمران ہیں کون؟ کیوں کہ حکومت میں شامل ہر سیاسی رہنما یہی شکایت لیے پھرتا ہے کہ حکمرانوں کی پالیسیاں ٹھیک نہیں، حکمران قاتل کو گرفتار کرکے سزا دیں۔ وغیرہ۔

"قاتل کو سزا ملے گی یا نہیں" یہ ایک الگ سوال ہے۔ لیکن اتنا ضرور کہیں گے کہ جناب! رحم، قاتل پر نہیں انسان پر۔ وگرنہ تو دنیا بے رحم قاتلوں کو جو سزا دیتی ہے وہ سب کے سامنے ہے۔ کہ چند سال قید اور پھر آزاد، پھر قید پھر آزاد، اس دوران وہ جو کچھ کرتا ہے کھلی چھوٹ ہے۔ اب بتائیں بھلا ہم کس کو کہیں اور کیا کہیں؟ یہاں یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ یہ گرگے، "علاج غم نہیں کرتے فقط تقریر کرتے ہیں۔"

اس صورت حال میں ہمیں سیانوں کی طرح اپنا معالج خود بننا ہو گا۔ اپنے لیے صحیح راستے کا انتخاب کرتے ہوئے اپنے بچوں کی خود حفاظت کرنی ہو گی۔ انہیں آگاہی دینی ہوگی انہیں بنیادی تعلیم سے آشنا کرنا ہوگا۔ ان کے گرد حفاظتی حصار باندھنا ہوگا۔ اور خود اپنے لیے لائحہ عمل طے کرنا ہوگا۔ وگرنہ رونے دھونے کے علاوہ کچھ ہاتھ نہیں آئے گا۔

Comments

عبدالباسط ذوالفقار

عبدالباسط ذوالفقار

عبد الباسط ذوالفقار ضلع مانسہرہ کے رہائشی ہیں۔ سماجی موضوعات پر لکھی گئی ان کی تحاریر مختلف اخبارات، رسائل و جرائد میں شائع ہوتی رہتی ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.