موٹیویشنل اسپیکرز کی بھرمار - روبینہ یاسمین

کسی کام کو کرنے کی آمادگی یا خواہش نہ ہو تو وہ کام یا تو ہوتا نہیں یا مکمّل نہیں ہو پاتا۔ یہ آمادگی یا تو اپنے اندر سے آتی ہے یا پھر ہمیں کسی سے ترغیب لینی پڑتی ہے۔ ہما رے بچپن میں جن بچوں میں نظم و ضبط کا فقدان ہوتا تھا ان کے لیے والدہ محترمہ کی ہلکی پھلکی مار پیٹ اور والد صاحب کا رعب ہی کافی ہوتا تھا ۔ اب زمانہ بدل گیا ہے والدین دوست بن گئے ہیں اور بچوں کو پھول کی چھڑی سے چھونا بھی ممنوع قرار پایا ہے۔ پھر لازمی جھاڑ پونچھ کی عدم موجودگی میں ازلی سستی کا کیا علاج ہو ۔ شاید اسی لیے ہر اینٹ اٹھانے پر ایک motivational speaker بر آمد ہونے لگا ہے۔ ان کا کام ہے آپ کو ترغیب دے کر اچھے اچھے کام کرنے پر آما دہ کرنا لیکن ان کی بہتات نے بھی سوالیہ نشان اٹھا دیا ہے۔ کیا واقعی ہم اتنے سست ہو گئے ہے کہ ہمیں گھنٹوں بیٹھ کر یہ لیکچر سن کر motivate ہونا پڑتا ہے اور پھر کیا ہم واقعی ان کا اثر بھی لیتے ہیں؟

کسی نے کہا تھا کہ میں امتحان میں ناکام نہیں ہوا، میں نے ناکا م ہونے کے 100 طریقے دریافت کیے ہیں ۔ بات یہ ہے کہ مشق انسان کو ماہر ضرور بناتی ہے پر غلط طریقے سے مشق کرنا کسی کا م نہیں آتا۔ کامیابی کا کوئی شارٹ کٹ نہیں ایک ایک سیڑھی چڑھنی ہوتی ہے ۔ یہ سیڑھی اپنی محنت سے ہی چڑھنی ہے ۔ کوئی زبردستی نہیں چڑھا سکتا ۔ یہ ترغیب انسان کے اپنے اندر سے ہی آتی ہے جو محنت شاقہ پر آما دہ کرتی ہے۔

کوئی بھی شخص ہروقت کام کرنے پر آمادہ نہیں رہ سکتا لیکن کوئی لیکچر سن کر اپنے آپ کو کام پر آما دہ کرنے کے بجاۓ وقت مقررہ پر کام کرنا شروع کر دیں چاہے آپ کام کرنا چا ہ رہے ہیں یا نہیں ۔ چاہے آپ motivated ہیں یا نہیں، اپنا مقصد حاصل کرنے کے لیے آپ کو آمادگی سے زیادہ ضرورت اس بات کی ہے کی آپ با قاعدگی سے کام کرنا شروع کر دیں ۔ اپنا ضابطہ زندگی ایسا بنا ئیں جو آپ کو با قاعدہ اور پابندی سے کام کرنے میں سہولت دے ۔ آمادگی کا انتظار کرتے رہنا مناسب نہیں۔ انسان فطرتاً سست واقع ہوا ہے اپنی فطرت پر قابو پانے کے لیے اپنے کمفرٹ زون سے با ہر آ کر کام کا آغاز کرنا ہو گا اس سے آہستہ آہستہ آپ ایک خاص رفتار سے کام کرنے کے قابل ہو جائیں گے ۔ جب آپ اس مقام پر آ جائیں گے تو آپ کرشمے دکھانے کی صلا حیت حاصل کر لیں گے ۔

با نو قدسیہ بتاتی ہیں کہ اشفاق احمد نے انہیں کہا کہ وہ روز ایک وقت مقررہ پر لکھا کریں خیالات خود ہی اسی وقت آنا شروع ہو جائیں گے ۔ اگر بانو قدسیہ جیسی خاتون جو گھر داری میں بھی مصروف رہتی تھیں، لکھنے کے لیے مناسب وقت کا انتظار کرتی رہتیں تو ان کے شہرۂ آفاق ناول تخلیق نہ ہو پاتے۔

آج ایک کرسمس ٹری پر نظر پڑی جو موسم کی صعوبتوں کی باوجود ڈٹا ہوا تھا، بس ہمیں بھی اس درخت کی طرح ڈٹے رہنا ہے اور پابندی اور با قا عد گی سے اپنے کام پر حاضر رہنا ہے۔ یقین مانیں ہمیں کسی motivational وڈیو کی ضرورت نہیں ہے ۔