امریکہ چاہتا کیا ہے؟ - قادر خان یوسف زئی

ٹرمپ انتظامیہ نے پاکستان کی فوجی امداد روکنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ تب تک منجمد رہے گی جب تک پاکستان افغان طالبان اور حقانی نیٹ ورک کے خلاف ’’فیصلہ کُن‘‘ کارروائی نہیں کرتا۔ امریکی حکام کا مزید کہنا تھا کہ رقوم کی فراہمی میں بندش سے ایک ارب ڈالر کے فوجی آلات کا معاملہ متاثر ہوگا؛ جب کہ انسداد دہشت گردی آپریشنز پر اٹھنے والے اخراجات کے حوالے سے 90 کروڑ ڈالر کی ادائیگی کے معاملے پر بندش لگا دی گئی ہے۔ اس سے قبل، محکمہ خارجہ کی ترجمان، ہیدر نوئرٹ نے بتایا تھا کہ اس سے پہلے اگست میں پاکستان کو فوجی ساز و سامان خریدنے کے لیے دی جانے والی 25 کروڑ 55 لاکھ ڈالر کی مالیت کی امداد بھی روک دی گئی تھی۔ اُنھوں نے کہا کہ امداد کا تعلق ’سکیورٹی اسسٹینس‘ سے ہے، ’’اور یہ کہ، جب تک پاکستان حقانی نیٹ ورک اور افغان طالبان کے خلاف فیصلہ کُن کارروائی نہیں کرتا تب تک یہ معاونت بند رہے گی‘‘۔

پاکستان کے لیے یہ فیصلہ کرنا مشکل ہوتا جارہا ہے کہ امریکہ کو حلیف سمجھیں یا حریف۔ گو کہ پاکستان اس بات کو بہت اچھی طرح جانتا ہے کہ اُسے امریکہ سے فائدے سے زیادہ نقصانات ملے ہیں لیکن جہاں فواہد بھی حاصل ہوئے تو اس کے ثمرات سے عوام مستفید نہیں ہوسکے ہیں۔ ماضی میں پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں رسہ کشی کی کئی وجوہات رہیں۔ تاہم اُس وقت تک پاکستان کے لیے دوسری پٹری میسر نہیں تھی کہ وہ اپنی ڈگر پر روانہ ہوکر امریکہ پر انحصار ختم کردیتا۔ لیکن اب پاکستان کے لیے دنیا سے بہتر تعلقات کے لیے کئی آپشن کھلے ہوئے ہیں۔

بدقسمتی سے پاکستان کو خود انحصاری کی پالیسی پر مربوط ہونے کی راہ میں امریکہ سے زیادہ ہمارے اُن ارباب اختیار کا ہاتھ ہے جو اپنی ہوس اقتدار و کرپشن کے لیے عوام سے زیادہ فروعی مفاد کو زیادہ عزیز رکھتے رہے ہیں۔ پاکستان اپنی جغرافیائی اہمیت سے بخوبی آگاہ ہے اس لیے موجودہ کشیدہ حالات سے خائف نہ ہونا خود اعتمادی کا نتیجہ سمجھا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ پاکستان کو قدرت نے معدنی وسائل کے ساتھ ساتھ زراعت اور بڑی افرادی قوت سے بھی نوازا ہے لیکن یہ پاکستان کی بد قسمتی ہے کہ مفاد عامہ کی پالیسیاں بنانے سے ہمیشہ اجتناب برتا گیا۔ امریکہ کا تلخ اور غیر سفارتی رویہ عام پاکستانی کے لیے ناقابل برداشت ہے۔ امریکی فوجی امداد میں اس کٹوتی سے پاکستان کو کوئی خاص فرق نہیں پڑے گا۔ 700ملین ڈالرز کے قریب کی رقم ہیں، جس میں زیادہ تر رقوم کوالیشن سپورٹ فنڈز اور ٹریننگ کی ہیں۔ بقیہ کچھ ملٹری ہارڈویئر کی ہے۔ کوالیشن سپورٹ فنڈز کے بغیر اپنے وسائل سے جنگ لڑنے کا پاکستان اعلان کرچکا ہے۔ ٹریننگ کا تعلق ہے تو پاکستان خود گیارہ سال سے حالتِ جنگ کہن مشق ہوگئے ہیں بلکہ پاکستان دنیا کی ستّر فوجوں کے اہلکاروں کو اس حوالے سے تربیت بھی دے رہا ہے۔ ملٹری ہارڈ ویئر ترکی اور دوسرے ممالک سے یہ لے سکتے ہیں۔ اس طرح کی کٹوتیاں ماضی میں پاکستان کو متاثر کرتی تھیں کیونکہ ہمارا امریکا پر بہت زیادہ انحصار ہوا کرتا تھا لیکن اب ایسا نہیں ہے۔ شہری فنڈز کا بھی 65 فیصد امریکا نے پاکستان کے بجائے این جی اوز کو دیا۔

امریکہ پاکستان سے آخر ایسا کیا چاہتا ہے جو بقول اُسے نہیں مل رہا؟ امریکہ کے مطالبات واضح ہیں۔ اُس کا سب سے بڑا مطالبہ حقانی نیٹ ورک کے حوالے سے پاکستان کی جانب سے مبینہ’ نرمی کے خاتمے‘ کا مطالبہ ہے۔ کیونکہ امارات اسلامیہ افغانستان کے نائب امیر پاکستان میں پرورش پائے جانے والے حقانی گروپ کے سربراہ جلال الدین حقانی کے صاحبزادے ملاسراج الدین حقانی ہیں۔ ملا سراج الدین حقانی کو ملا اختر منصور سے بھی زیادہ خطرناک تصور کیا جاتا رہا ہے۔ امریکہ پہلے ہی ملا سراج الدین حقانی کے بھائی پر بھی پابندیاں عائد کرچکا ہے۔ ملا اختر منصور کے بعد اس بات کا قوی امکان تھا کہ ملا سراج الدین حقانی کو افغان طالبان کا سربراہ (امیر) مقرر کردیا جائے گا۔ لیکن افغان طالبان شوریٰ نے متفقہ طور پر شیخ ہیبت اللہ اخند زادہ کو امیر بنانے کی منظوری دے دی۔ ملا سراج الدین حقانی پر کابل میں 31 مئی کے ٹینکر ٹرک بم حملے کا الزام لگا تھا۔ یہ مہلک ترین بم دھماکہ جو افغان دارالحکومت کے انتہائی قلعہ بند وزیر اکبر خان سفارتی سیکٹر میں واقع ہوا، جس کے بعد کابل میں ایک جنازے کے اجتماع پر تین خود کش حملے ہوئے، جب کہ اس سے ایک ہفتہ قبل ہرات کے مغربی شہر کی ایک مسجد میں بم حملہ کیا گیا۔ اِن تین حملوں میں کم از کم 180 افراد ہلاک جب کہ سینکڑوں زخمی ہوئے۔ تقریباً اِن تمام حملوں میں ہلاک ہونے والے عام شہری تھے۔ سراج الدین حقانی نے اس الزام کی سختی سے تردید اور زور دے کر کہا تھا کہ ''جس کسی نے بھی اِن کی منصوبہ سازی کی اور اُن کی شہ پر ہوئے، وہ یقینی طور پر اسلامی امارات (طالبان) کی کارستانی نہیں تھی، نا ہی وہ (ملک میں) کہیں بھی ایسی حرکات کریں گے، جن سے بے گناہ (افغان) شہریوں کو نقصان پہنچتا ہو''۔

کابل اور ہرات میں ہونے والے اِن دھماکوں کی ابھی تک کسی نے ذمہ داری قبول نہیں کی۔ لیکن امریکہ اس کا ذمے دار حقانی گروپ کو سمجھتا ہے۔ زیادہ تر ہلاکتیں ٹینکر ٹرک دھماکے کے نتیجے میں ہوئیں جس میں اندازاً 1500 کلوگرام دھماکہ خیز مواد لَدا ہوا تھا۔ افغان صدر اشرف غنی نے کابل میں منعقدہ ایک بین الاقوامی اجلاس میں بتایا کہ اِن شدید دھماکوں کے نتیجے میں 150 سے زائد افراد ہلاک جب کہ 350 زخمی ہوئے، جن میں غیر ملکی شامل ہیں۔ یہ 2001 کے بعد افغانستان میں ہونے والا مہلک ترین حملہ تھا۔ ملا سراج الدین حقانی پر پانچ ملین ڈالر کا انعام بھی امریکہ نے مقرر کررکھا ہے۔ دل جسپ بات یہ ہے کہ ملا سراج الدین حقانی کے والد جلال الدین حقانی 1979میں سوویت یونین کے خلاف سب سے زیادہ نقصان پہنچانے والے رہنماؤں میں شامل تھے، یہاں تک کہ امریکی صدر رونلڈ ریگن بھی ان سے متاثر تھے اور ان کی دعوت پر جلال الدین حقانی نے وائٹ ہاوس کا دورہ بھی کیا تھا۔ لیکن اب یہی حقانی گروپ امریکہ کے لیے سب سے زیادہ پریشانی کا سبب بن گیا ہے۔ ملا سراج الدین حقانی افغان طالبان کے نائب امیر ہونے کے علاوہ اپنی جنگجو پالیسی اور امریکہ؍افغان فورسز کو سب سے زیادہ نقصان پہنچانے میں سرفہرست ہیں۔

امریکہ کو ماضی کی طرح اب بھی یقین ہے کہ جلال الدین حقانی کے صاحب زادے کے روابط پاکستان کے ساتھ برقرار ہیں۔ گوکہ شمالی وزیر ستان میں آپریشن ضرب عضب کے دوران حقانی گروپ کے خلاف بھی بلا امتیاز کاروائی کی گئی اور امریکی حکام نے ان علاقوں کے دورے بھی کئے۔ عالمی برداری نے بھی آپریشن ضرب عضب کو سراہا لیکن امریکہ اب بھی ماننے کو تیار نہیں جبکہ حقانی نیٹ ورک کے اہم ٹھکانے اب افغانستان کے صوبے وردک، پکیتیا، کنٹر اور غزنی میں ہیں۔ شمالی وزیر ستان سے حقانی نیٹ ورک کا مکمل خاتمہ کیا جا چکا ہے لیکن امریکہ آپریشن ضربِ عضب اور رد الفساد کی کامیابی کو مشکوک سمجھتا ہے کہ پاکستان کی جانب سے حقانی گروپ کے کسی بھی بڑے رہنما کی گرفتاری یا ہلاکت کا منظر عام پر نہ آنا دراصل حقانی گروپ کے خلاف کوئی کاروائی نہ ہونا ہے گو کہ پاکستان نے بلا امتیاز تمام نیٹ ورک کا خاتمہ کیا۔ پاکستان تحمل مزاجی سے ثابت کرنے کی کوشش کررہا ہے کہ حقانی گروپ کا نیٹ ورک اب پاکستان میں کئی موجود نہیں ہے۔ پاکستان یہ موقف بھی دیتا ہے کہ لاکھوں کی تعداد میں افغان مہاجرین پاکستان میں موجود ہیں۔ جب تک لاکھوں افغان مہاجرین واپس افغانستان نہیں چلے جاتے۔ کسی افغان طالبان کے رہنما کا پاکستان میں ہونا خارج از امکان نہیں ہے۔ امریکہ جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ انٹیلی جنس کا مضبوط نیٹ ورک رکھتا ہے۔ ماضی میں افغان طالبان کے کئی بڑے بڑے رہنما پاکستان سے ہی گرفتار کئے گئے تھے۔ امریکہ اپنی انٹیلی جنس شیئرنگ کرنے کے بجائے‘ چاہتا ہے کہ وہ ڈاکٹر عافیہ کی طرح افغان طالبان رہنماؤں کو امریکہ کے حوالے کردے۔ جس طرح سابق صدر جنرل(ر) پرویز مشرف نے کیا تھا۔ پاکستان مشترکہ کاروائی نہیں کرنا چاہتا کیونکہ ماضی میں جس طرح امریکہ نے زلزلہ متاثرین کی آڑ میں ملک بھر میں سی آئی اے ایجنٹس کا جال بچھا دیا تھا۔ اس کے بعد دوبارہ پاکستان امریکہ پر اعتماد نہیں کرتا۔

امریکہ کو یقین ہے کہ افغان طالبان کی مرکزی شوریٰ پشاور اور کوئٹہ میں ہے۔ یہ دعویٰ ماہ اگست 2017ء میں امریکی جنرل نکلسن نے ایک ٹی وی انٹرویو میں کیا تھا۔ ان کا الزام ہے کہ افغان اعلیٰ قیادت پشاور اور کوئٹہ میں موجود ہے۔ جبکہ پاکستان اس بات کا مکمل رد کرچکا ہے۔ ایسے افغان طالبان کی شوریٰ بھی کہا جاتا ہے۔ امریکی جنرل نکلسن پاکستان کے شہروں میں اعلیٰ افغان طالبان رہنماؤں کی موجودگی کا الزام بھی لگاتے ہیں لیکن اس کے ثبوت فراہم نہیں کرپاتے۔ کیونکہ امریکہ پشاور کے نواحی علاقوں اور فاٹا میں ڈرون حملے کرتا رہتا ہے۔ لیکن افغان طالبان کی پشاور میں موجودگی کے الزام کے باوجود ڈرون حملوں کا نہ ہونا اور ماضی کی طرح ڈروں حملوں میں اضافے کے بجائے کمی کا ہونا ثابت کرتا ہے کہ امریکی الزامات قیاس پر مبنی ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو امریکہ کم ازکم صوبہ پختونخوا میں ڈرون حملوں میں اضافہ ضرور کرتا۔ امریکہ چاہتا ہے کہ کوئٹہ میں ڈرون حملے کئے جائیں لیکن پاکستانی حکام کی سخت مخالفت کی وجہ سے امریکہ کو کوئٹہ اور اس کے قرب و جوار میں آزادانہ ڈرون حملوں اور جیکب آباد فوجی اڈا دوبارہ قائم کرنے کی اجازت نہیں ملی۔ امریکہ چاہتا ہے کہ کوئٹہ شوریٰ کے خلاف امریکہ آپریشن کرے جبکہ پاکستان کا کہنا ہے کہ وہ نشان دہی کرے پاکستان انہیں خود نشانہ بنائے گا اور بم باری کرے گا لیکن امریکہ کے مقاصد و ترجیحات میں صرف اپنی من مانی شامل ہے۔

امریکہ سمجھتا ہے کہ اس وقت امارات اسلامیہ افغانستان کی مرکزی شوریٰ ان دونوں شہروں کے علاوہ میر ان شاہ شوریٰ اور کراچی شوریٰ بھی موجود ہے اور موجودہ امیر شیخ ہیبت اللہ اخند زادہ کو امارات اسلامیہ افغانستان کو ئٹہ میں تمام شوریٰ کی بڑی تعداد میں شریک تھی اور ان کا پاکستان میں اجلاس ہوا تھا۔ جس کے بعد ہی امیر افغان طالبان کی متفقہ منظوری کا اعلان کیا گیا تھا۔ سابق افغانستان کے صدر امن کونسل کے سربراہ برہان الدین ربانی کی ہلاکت کی ذمے داری افغان خفیہ ایجنسی کے نائب سربراہ ضیا نے کوئٹہ شوریٰ پر ستمبر 2011 میں عائد کرتے ہوئے سابق افغان صدر حامد کرزئی پر زور دیا تھا کہ اس حملے کی منصوبہ بندی کوئٹہ شوریٰ نے کی تھی۔ افغان طالبان نے اس حملے کی ذمے داری قبول کرنے سے انکار کردیا تھا۔ تاہم 12 رکنی کوئٹہ شوریٰ کے خلاف امریکہ و افغانستان کی جانب سے مسلسل الزامات لگتے ہیں کہ افغان طالبان کی اعلیٰ قیادت و اہم رہنما کوئٹہ کے علاقوں سمیت ضلع قلعہ موسیٰ میں اب بھی موجود ہیں۔ جو با آسانی ایران اور افغانستان کا سفر کرتے ہیں، خاص کر موسم سرما میں افغان طالبان کے کئی سنیئر رہنما کوئٹہ آتے ہیں۔ افغان طالبان کے سابق امیر ملا اختر منصور کے پاس پاکستانی دستاویزات پر ایران کے سفر کی تفصیلات نے پاکستان کی مشکلات میں اضافہ کیا۔ لیکن پاکستانی حکام اس بات کا مکمل رد کرتے رہے ہیں کہ افغان طالبان کی کسی مرکزی شوری کا اجلاس پشاور یا کوئٹہ سمیت کسی علاقے میں نہیں ہے۔

دراصل امریکہ کوئٹہ میں براہ راست مداخلت کے بہانے جیکب آباد اور پسنی کے مقام پر پاکستان ائیر فورس کے زیر انتظام رہنے والے فوجی اڈے دوبارہ حاصل کرکے ایران کی سرحدوں کے قریب ہونا چاہتا ہے۔ لیکن پاکستان، امریکہ کے اس مطالبے کے راہ میں حائل ہے۔ گوکہ سعودی عرب کی جانب سے ایران، قطر کے معاملے میں پاکستان پر سخت دباؤ کا سامنا رہا ہے۔ یہاں تک کہ متحدہ عرب امارات نے سعودی عسکری اتحاد اور پاک فوج کی زمینی جنگ میں غیر جانب داری پر سخت بیان بھی دیا تھا اور پاکستان کے خلاف سخت ردعمل کا اظہار کیا تھا۔ پاک-افغانستان سرحد میں ملّا اختر منصور کی ہلاکت کا ثرات براہ راست پاکستان اور افغان طالبان تعلقات پر نمایاں ہوئے اور پاکستان کا اثر مزید کم ہوتے ہوئے عدم اعتماد کی جانب گامزن ہوگیا۔ امریکہ اپنے مقاصد میں ناکام رہا سابق امیر ملا عمر کے صاحب زادے ملا عبد المنان اور حقانی گروپ کے سربراہ ملا سراج الدین حقانی نے شیخ ہیبت اللہ اخند زادہ کے ہاتھوں بیعت کرلی جس کے بعد امارات اسلامیہ افغانستان میں ٹوٹ پھوٹ کا عمل نہیں ہوسکا۔ امریکہ کا سابق امیر افغان طالبان پر پاکستانی حدود میں حملہ کرنے کا مقصد یہی تھا۔ لیکن اس میں امریکا کو ناکامی ہوئی اور ملا اختر منصور کے بعد حیرت انگیز طور پر ملا ہیبت اللہ اخند زادہ کا غیر متوقع نام سامنے آیا جن کا نام امریکا کی ترتیب دی گئی عالمی دہشت گردوں کی فہرست میں شامل نہیں ہے۔ امریکہ و افغانستان سمجھتے ہیں کہ امارات اسلامیہ افغانستان میں اگر ٹوٹ پھوٹ کا عمل شروع ہوجائے اور گروپ بندیاں ہوجائیں تو افغانستان میں فتح کے قریب آسکتے ہیں۔ اس لیے امریکہ ملا ہیبت اللہ اخند زادہ کو نشانہ بنانے کے لیے پاکستان پر دباؤ ڈال رہا ہے۔ امریکہ کا یہ خیال ہے کہ پشاور کوئٹہ شوریٰ کی موجودگی کے سبب افغانستان میں امریکی اور افغان فورسز کو نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ پاکستان کے بعض سیاست دانوں اور ایک سیاسی جماعت کے سربراہ نے اس مفروضوں کو تقویت دینے میں اُس وقت بڑا کردار ادا کیا تھا جب قطر طرز پر پشاور میں طالبان کو سیاسی دفتر کھولنے کی دعوت دی گئی۔ حالانکہ واضح ہے کہ افغانستان کا نصف سے زیادہ علاقوں میں امارات اسلامیہ افغانستان کی عمل داری ہے۔ افغان طالبان کی معروف قیادت و رہنماؤں کے لیے محفوظ علاقے اب افغانستان میں ہی ہیں۔ امریکہ کاافغان طالبان رہنماؤں کے نیٹ ورک کی پاکستان میں موجودگی کا دعویٰ کھوکھلا اور محض قیاس آرائیوں پر مشتمل ہے۔ ماضی میں جس طرح افغان طالبان کے کئی مرکزی رہنماؤں کو امریکہ کے حوالے یا مشروط معاہدے کے تحت پاکستان سے گرفتار اور جیلوں سے آزاد کرکے نظر بند کیا گیا ہے۔ اس کے بعد افغان طالبان کا پاکستانی انتظامیہ سے اعتماد ختم ہوچکا ہے۔ افغان طالبان اپنے رہنماؤں کی حفاظت کے لیے پاکستانی علاقوں کو محفوظ نہیں سمجھتے۔ اس کا سب سے بڑا ثبوت خود سابق امیر ملا اختر منصور تھے۔ جو زیادہ تر ایران میں روپوش رہے اور امریکہ انہیں پاکستان میں تلاش کرتا رہا۔ دسمبر 2012ء میں افغان حکام نے تصدیق کی تھی کہ 18افغان طالبان رہنماؤں کو پاکستان کی جیلوں سے افغان امن کونسل کی درخواست پر رہا کئے گئے۔ یہ رہائی سابق صدر آصف علی زرداری اور حامد کرزئی کے درمیان ملاقات کے بعد عمل میں لائی گئی تھی۔ جبکہ مزید 7 رہنماؤں کو ستمبر 2013ء میں رہا کیا گیا۔ ان میں ملا بردار جیسے اہم سینئر افغان طالبان کے رہنما بھی تھے۔ افغان حکام کا یہ بھی مطالبہ رہا تھا کہ پاکستان اپنی قید میں موجود افغان طالبان کے حوالے سے فہرست بھی مہیا کرے۔

پاکستان میں افغان طالبان کے رہنماؤں کی گرفتاریاں ثابت کرتی ہیں کہ افغانستان میں قیام امن کے لیے پاکستان نے موثر کردار ادا کیا۔ امریکہ اور افغان حکومت کے ساتھ امارات اسلامیہ کے درمیان مذاکرات کے بعد یہ رہنما پاکستانی جیلوں سے ہی آزاد کئے گئے لیکن اس کے بعد انہیں آزاد نہ نقل وحرکت کی اجازت نہیں دی گئی۔ افغان طالبان نے بھی ان رہنماؤں کی رہائی کے بعد امریکی طرز عمل پر انہیں موثر کردار ادا نہ کیے جانے پر ناراضگی کا اظہار کیا اور ان کا مطالبہ رہا کہ بلیک لسٹ ختم کرکے افغان طالبان کے رہنماؤں کو دیگر ممالک میں سفر کرنے کی اجازت دی جائے۔ چونکہ ماضی میں کئی افغان سینئر رہنما پاکستان میں گرفتار ہوچکے ہیں۔ اس لیے امریکہ اب بھی یہی یقین ہے کہ پاکستان میں کئی سنیئر افغان طالبان موجود ہیں۔ یہاں پاکستان اپنے موقف کو دوبارہ دوہراتا ہے کہ انہیں افغان طالبان رہنماؤں کی موجودگی کا علم نہیں اگر امریکہ کو ہے تو بتائے پاکستان کاروائی کرے گا۔ لیکن وہی اہم بات کہ پاکستان سے افغان طالبان رہنماؤں کی روپوشی کا سلسلہ تقریباً ختم ہوچکا ہے۔ کیونکہ پاکستانی حکام بغیر کسی قانونی کاروائی کئے افغان طالبان کے رہنماؤں کو گرفتار اور پھر رہا کرتا رہا ہے۔ اس لیے اب افغان طا لبان، خاص کر ایبٹ آبادآپریشن کے بعد پاکستانی حکام پر بالکل بھروسہ نہیں کرتے بلکہ ایران یا افغانستان میں اپنے محفوظ ٹھکانوں میں رہنے کو ترجیح دیتے ہیں۔

امریکہ چونکہ بھارت کو چین کے خالف مضبوط بنانا چاہتا ہے اس لیے افغانستان میں پاکستان کے ساتھ بھارت کا غیر فطری اتحاد دیکھنے کا خواہش مند ہے۔ لیکن دوسری جانب بھارت مقبوضہ کشمیر سے کسی صورت میں دست بردار نہیں ہونا چاہتا اس لیے بھارت کی خوشنودی کے لیے امریکہ حافظ محمد سعید کے خلاف اسامہ طرز کا آپریشن کرنا چاہتا ہے کیونکہ حافظ محمد سعید پر سر کی قیمت پر مقرر کرچکا ہے لیکن امریکہ کے پاس ایسے کوئی شواہد نہیں ہے کہ حافظ محمدسعید نے پاکستان میں رہ کر امریکہ کے خلاف ایسی کیا کاروائی کی ہے جس کی وجہ سے وہ حافظ محمد سعید کی گرفتاری کے لیے ایک کروڑ ڈالر دینے پر تیار ہے؟ پاکستان میں بھارتی پارلیمنٹ مبینہ حملے کا ماسٹر مائنڈ بھارت حافظ محمد سعید کو قرار دیتا ہے۔ حافظ محمدسعید اداروں کی تحویل میں بھی رہے اور کئی عرصے تک نظر بند بھی رہے لیکن ان کے خلاف کچھ ثابت نہیں کیا جاسکا۔ امریکی دباؤ پر حافظ سعید کو سیاسی عمل کا حصہ بنانے سے بھی روک دیا اور ان کی تمام فلاحی سرگرمیوں پر پابندی بھی عائد کرکے پہلی بار ایف آئی آر بھی درج کردی گئی۔ امریکہ یہ سمجھتا ہے کہ پاکستان، اس طرح کی کاروائیاں کرکے دراصل حافظ محمد سعید کے خلاف امریکی آپریشن کی راہ میں رکاوٹ بن رہا ہے کیونکہ حافظ سعید روپوش نہیں ہیں اس لیے امریکہ مبینہ ایبٹ آباد طرز کا آپریشن نہیں کرسکتا۔

اسی طرح پاکستان اور امریکہ کے درمیان ایسا کوئی معاہدہ نہیں ہے کہ جس میں ملزموں کو قانونی طور پر ایک دوسرے کے حوالے کیا جاسکے اس لیے امریکہ چاہتا ہے کہ حافظ سعید کو ماضی کی روایات کے مطابق کسی ڈورن حملے میں ہلاک کرنے کے لیے افغانستان جانے پر مجبور کیا جائے تاکہ امریکہ حافظ سعید کو گرفتار یا ہلاک کرکے بھارت کا سب سے بڑا مطالبہ پورا کرسکے۔ امریکہ کے مطالبات کی فہرست میں شکیل آفریدی کی رہائی و امریکہ روانگی سرفہرست ہے۔ شکیل آفریدی نے پولیو مہم کی آڑ میں پاکستانی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے امریکہ کے لیے جاسوسی کی۔ ایبٹ آباد آپریشن کے لیے جعلی پولیو مہم چلائی۔ امریکہ کے نزدیک شکیل آفریدی ہیرو ہے۔ لیکن پاکستان نے امریکہ کے شدید دباؤ اور متعدد بار مطالبات کے باوجود شکیل آفریدی کو رہا نہیں کیا۔ فاٹا قوانین کے تحت مئی 2012ء میں شکیل آفریدی کو جاسوسی و غداری کے الزام میں 33 برس کی سزا سنائی گئی ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ اگر فاٹا کا صوبہ پختونخوا سے انضمام ہوجاتا ہے تو فاٹا قوانین کے خلاف شکیل آفریدی اپنی رہائی کے لیے حکومتی آئین کے مطابق اعلیٰ عدالتوں سے رجوع کرسکتا ہے۔ اس وقت فاٹا ٹریبونل میں شکیل آٖٖفریدی کی جانب سے سزا کے خلاف نظر ثانی کے لیے دائر درخواست 30 مرتبہ ملتوی ہوچکی ہے۔ آخری سماعت 2 جنوری 2018ء کو کی گئی تھی۔ فاٹا کے عوام کو پاکستانی آئین کے مطابق ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ جانے اور فاٹا قوانین کے کالعدم قرار دیے جانے کے بعد ممکن ہے کہ شکیل آفریدی کی آزادی کے لیے قانونی راہ نکل آئے۔ بعض حلقے اس معاملے میں امریکہ کی جانب سے وقتی خاموشی کو فاٹا قوانین کے کالعدم قرار دیے جانے کا انتظار قرار دے رہے ہیں۔ اسی طرح قادیانیوں و توہین رسالت کے قوانین کو تبدیل کرنے کے لیے امریکی بے چینی پاکستانی عوام کے ردعمل کے سبب رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔ لیکن امریکہ کا سرفہرست مطالبات کوئٹہ شوریٰ کا خاتمہ، حقانی گروپ کے سربراہ کی گرفتاری، ملا ہیبت اللہ اخندزادہ کی ہلاکت، حافظ سعید کی ماورائے عدالت امریکہ حوالگی اور امریکن سی آئی اے کو پاکستان میں خفیہ آپریشن کرنے کی آزادی اور آزاد ویزے ہیں۔

پاکستان کے لیے فیصلہ نا گزیر ہوگیا ہے کہ یا تو امریکہ کے مطالبات مان کر اتحادی بنا رہے یا پھر "ردّ ِڈو مور" کرکے حریف بن جائے۔ امریکہ بار بار جو یہ کہتا ہے کہ پاکستان جانتا ہے کہ اُسے کیا کرنا چاہیے تو اس کا مطلب واضح ہے کہ ماضی کی طرح پاکستان امریکی ڈکیٹیشن پر دوبارہ وہی کرے جو کرتا رہا ہے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */