کیا جنسی تعلیم مسئلے کا حل ہے؟ - اقبال شاہد

جب کبھی درخت کاٹے جاتے ہیں تو سوشل میڈیا سمیت مختلف جگہوں پرپیغامات اور بینرز لگا دیے جاتے ہیں، مگر سینکڑوں میل پر مشتمل بیابانوں پہ کوئی توجہ نہیں دے گا۔ اسی طرح جب کوئی سانحہ واقعہ ہوتا ہے تو مختلف اذہان اپنی سوچ اور تدبّر کی مناسبت سے مشورے دیتے ہیں۔ کوئی سیاسی گدھ تو کوئی سوشل میڈیا کا شاہین بن جاتا ہے اور آپس کی بحث و تکرار میں اصل ذمہ داران صاف نکل جاتے ہیں۔ اگلے دن کوئی اور سانحہ ہوتا ہے اور لعن طعن کا وہی سلسلہ پھر شروع ہوجاتا ہے۔

بچوں سے زیادتی کا حالیہ مسئلہ ہی لے لیجیے، کسی نے اس کی بنیاد پر جنسی تعلیم کے لیے آواز اٹھائی تو کسی نے ان کی آواز دبانے کے لیے اسلام کو ڈھال کے طور پہ آگے کیا۔ اگر جنسی تعلیم کا مطالبہ کرنے والوں کی بات مانی جائے تو سوال اٹھتا ہے کہ ان 24 ملین بچوں کا کیا ہوگا، جو بچوں کی کل آبادی کا 47 فیصد ہیں، جنہوں نے کبھی اسکول کا دروازہ تک نہیں دیکھا اور پڑھنے والوں میں سے بھی 47 فیصد پرائمری اسکول کی تعلیم بھی مکمّل نہیں کر پا تے؟ اس لحاظ سے تو پاکستان دنیا میں تیسرے نمبر پر ہے۔ دوسری بات کہ کیا جنسی تعلیم حاصل کرنے کے بعد یہ بچے، جن کی عمر دس سال تک بھی نہیں، وہ کیا کسی کا مقابلہ کر سکیں گے؟ تصور کرلیتے ہیں کہ بچہ جنسی تعلیم کے ساتھ ساتھ سپرمین کی طرح اس کو پچھاڑ بھی دیتا ہے، تو کیا اس سلسلے کا خاتمہ ہو جائے گا۔

بچوں کے جرائم کے خلاف تحقیقاتی سینٹر کے ڈائریکٹر، ڈیوڈ فینکیلور کے مطا لعے کے مطابق ہر پانچ بچیوں میں سے ایک جبکہ لڑکوں/بچوں میں 20 میں سے ایک جنسی زیادتی کا شکار ہوتا ہے، اور سالانہ امریکا کے اندر 14 سے 17 سال کے 16 فیصد بچے جنسی زیادتی کا شکار ہوتے ہیں جبکہ 7 سے 13 سال کی عمر کے بچے بہت خطرے کا شکار ہوتے ہیں اور کل تعداد کا 75 فیصد تو تین سال سے کم عمر بچوں کا ہے جو والدین کی زیادتی کا شکار ہوتے ہیں۔ 2015 میں صرف امریکا کے اندر 683,000 بچے زیادتی کا شکار ہوئے ہیں(بحوالہ: Child Abuse Statistics September 08, 2017)۔ یقیناً اس کی وجہ جنسی تعلیم سے بےخبری نہیں مگر بچوں کا جسمانی کمزوری کے ساتھ کم قوت مدافعت، وہاں کا ماحول اور ماں باپ کی کم توجہ ہے۔ اعداد و شمار میں تفریق مختلف مطالعاتی طریقہ کار، دورانیہ اور جگہوں کے مناسبت سے ہوسکتی ہے۔

حد یہ کہ اک صاحب نے ساحل سمندر پر نیم عریاں بلکہ ان کے قانون کے مطابق باپردہ مردووزن (جنہوں نے اپنے جسم کے صرف دو عدد پرائیویٹ حصے چھپائے) کی تصویر شائع کی کہ یہاں تو کوئی ریپ نہیں ہورہا اور نہ ہی کیا جاتا ہے مگر اپنے اس سادہ لوح بھائی کو کیسے سمجھاؤں کہ کوٹھوں سمیت ساحل سمندر کے بھی اپنے اصو ل ہوتے ہیں، وہاں ریپ نہیں باہمی رضامندی سے کام ہوتےہیں جس کی رپورٹ درج تبھی ہوتی جب ایک کا دل بھر جائے۔ وہاں اصل مسئلہ قانون کی با لادستی کا ہے نہ کہ جنسی تعلیم سے آگاہی کا۔ اور تو اور آنے والا ہر شخص قانون کی پا سدا ری کرتا ہے اور دوسروں کی زندگی میں مداخلت نہیں کرتا، ورنہ تو آپ جیسوں کو مایوس واپس آنا پڑے گا۔ باقی رہی بات جنسی تعلیم کی تو ان صاحبان کو ان ممالک میں جنسی ہراسگی کے رپورٹ ہونے والے کیسز سمیت باہمی رضامندی والے کیسز کی تعداد بھی جاننی چاہیے تاکہ اندازہ جائے۔

دوسرے طرف اسلام پسندوں کی چند اقسام سامنے آجاتی ہیں۔ ایک وہ جو جذباتی ہوکر جنسی تعلیم کا مطالبہ کرنے والوں پہ چڑ ھ دوڑتے ہیں، دوسرے وہ جو دفاعی انداز اپنا کر اسلام سے اس کے حلال و حرام کے فتوے ڈھونڈتے ہیں اور سب سے دلچسپ تیسرے گروہ والے ہیں جو اپنی علمی بحث و مباحثے میں پڑھ کر لوگوں کو اور تقسیم کر دیتے ہیں۔ ہاں ایک چوتھا گروہ بھی ہے جو جلد از جلد اسلامی سزاؤں کی تنفیذ کو واحد حل قراردیتے ہیں حالانکہ سوال یہ بنتا ہے کہ جہاں اسلامی سزائیں دی جاتی ہیں تو کیا وہاں گناہ یا جرم نہیں ہوتے؟ اور جہاں جرم کم ہے تو کیا ان کافر ممالک میں بھی شریعت نافذ ہے؟

ہمیں اختلاف کی جگہ باہمی دلچسپی کے امور پہ توجہ دینی کی ضرورت ہے۔ اسلام نے تو کافروں سے بھی مشترک باتوں پہ اتفاق کا حکم دیا گیا ہے یہ تو پھر بھی اپنے مسلمان بھائی ہیں جو جدّت کے قائل ہیں، اسلام سے لا علمی کی وجہ سے یا پھر حالا ت کی ضرورت کی وجہ سے۔

ہمیں یہ بات تو ماننی پڑے گی کی کہ موجودہ ریاستی تصور میں پابندی صرف اس بات کی ہے، جو قانون کا حصّہ ہیں اور قانون وہی ہوتا ہے جسے قانون ساز اداروں یا افراد کی نظر کرم لگی ہو۔ ورنہ اسلامی احکامات تو لاتعداد ہے جن کی قانون کی صورت میں نہ ہونے کی وجہ سے پابندی نہیں کی جاتی اور نہ ہی کوئی اس پراز خود نوٹس لیتے ہیں۔

ان سب کے بیچ سوال یہی اٹھتا ہے کہ کیا جنسی تعلیم نہ ہونے کی وجہ سے ایسا ہوتا ہے؟ اگر اپ مسائل کو تجزیاتی طریقہ کار (Problem Analysis Tree) یا مردہ گھوڑے کی تھیوری (Dead Horse Theory) سے پڑھیں تو شاید اصل مسئلے کی تہہ تک کچھ نہ کچھ رسائی ہوجائے۔ اب اس مسئلے کے جڑ تک پہنچنے کے لیے مختلف مسائل کا جائزہ لیا اور پھراس میں سے اہم مسائل کی نشاندہی کے بعد ہی اس کے لیے کوئی لائحہ عمل بنایا جا سکتا ہے۔ کچھ وجوہات جو اس جیسے مسائل کو جنم دے سکتی ہیں، نیچے دی گئی ہیں مگر ان کے علاوہ اور بھی ہو سکتی ہیں۔

- جنسی تعلیم نہ دینا، جس کی وجہ سے بچوں کو اس کے بارے میں پتہ ہی نہیں ہوتا۔

- جرم کے مرتکب ان پڑھ ہیں، جن کو اس کے اثرات و مضمرات کا پتہ نہیں ہوتا اور بالآخر زیادتی کے بعد ڈر کی وجہ سے بچوں کو قتل کر دیتے ہیں تا کہ پکڑے نہ جائیں۔

- جرم کرنے والا محض ایجنٹ ہوتا ہے جو اپنی غربت وافلاس اور دوسروں کے ہو س کی آگ بجھا نے کے لیے یہ سب کرتا ہے، بس اس کو اپنے پیسوں سے مطلب ہوتا ہے اور پھر شکار بچے اس عمل کے دوران ہی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں یا پھر آخر میں وہ قتل کر دیتے ہیں تاکہ کوئی ثبوت باقی نہ رہے۔ لیکن مسئلہ غربت ہے ناکہ جنسی تعلیم۔

- بچے معصوم ہوتے ہیں ا ور جلدی بہک جاتے ہیں خاص کر اپنے رشتہ داروں کے ذریعے، خاندانی نظام کے اندر جرائم پیشہ افراد یا بد کردار افراد کی نشاندہی نہ کرنا، جس کی وجہ سے بچہ غلط ہاتھوں میں چلا جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ بچوں کو والدین محبت نہ ملنا یا ضروریات پوری نہ کرنا، جن کی وجہ سےوہ دوسروں کی طرف راغب ہوجاتے ہیں اور جنسی بے را ہ روی کا شکار ہوجاتے ہیں۔

- بعض بچے جنسی لطف حاصل کرنے کے لیے اسی طرح کے کام کرتے ہیں جن کی وجوہات مختلف نوعیت کی ہوتے ہیں مگر یہ من پسند لوگوں کے ساتھ جاتے ہیں، جس کی وجہ سے دوسرے بھی ان سے مطالبہ کرتے ہیں اور انکار کی صورت میں زبردستی یا زیادتی کے شکار ہوجاتے ہیں۔

-غربت اس کی وجوہات میں سے ایک ہے کیونکہ اکثر غریب گھرانوں کے لوگ معاشرتی برائیوں کے شکار ہوتے ہیں ۔ والدین محض بچے گنتے ہے، ان کی کردار سازی و تربیت سے ان کا کوئی لینا دینا نہیں ہوتا۔ مسئلہ جنسی تعلیم کا نہیں ماں باپ کا اپنے حقوق سے پہلو تہی کا ہے۔

- قانون نافذ کرنے والوں کی نا اہلی، طاقتور اور کمزور کے لیے اداروں دہرا معیار، جس کی وجہ سے لوگ جرم کرنے سے نہیں ڈرتے، چاہے جرم کتنا ہی گھناؤنا کیوں نہ ہو۔

- ریاستی اداروں کا اپنا کام نہ کرنا، جس کی وجہ سے لوگ مایوس ہوکر مصا لحت کا شکار ہوتے ہیں اور اپنی محرومی کا رونا روکر یا چند روپے لیکر خاموشی اختیار کرلیتے، ورنہ ڈرا دھمکا کر خاموش کرا دیے جاتے ہیں۔

- کافی کیسز میں اس بچے یا گھر کے دیگر افراد کا زیادتی کا شکار ہونا، جن کے لیے بعد میں یہ معمول کے کا م بن جاتے ہیں۔ خاندانی پس منظر بہت اہم کردار ادا کرتا ہے جس کے اثرات بچوں پہ پڑ تے ہیں اور ان خاندانوں کے بچوں کو جنسی طورپہ استعمال کرنا لوگ اپنا حق سمجھتے ہیں۔

یہ تو چند بنیادی وجوہات ہیں جو زیادتی کے واقعات کو جنم دیتی ہیں۔ فہرست بڑی طویل ہے مگر مسائل کی تہہ تک پہنچنے کے لیے مسائل کے تجزیاتی طریقہ کار کو فالو کرنا پڑے گا اور پھر فیصلہ کرنا پڑے گا کہ کیا جنسی تعلیم سے اس مسائل کا خاتمہ یا اس میں کمی ممکن ہے بھی یا نہیں؟ ہمیں سطحی سوالات جوابات یا وقتی حل کا نہیں ایک مکمل پیکیج کا سوچنا پڑے گا جس میں قانون کی بالا دستی، قانون کے نفاذ کے لیے جدید آلات و سہولیات کے انتظامات کرنا، معاشرے میں جرم کی سزاؤں اور جنسی بیداری سمیت ہر شہری بالخصوص پارلیمنٹرینز کا کردار بھی شامل ہو۔

مملکت خداداد میں قانون تو قتل، چوری، ڈاکا، زنا اور ہرچھوٹے بڑ ے جرم کے لیے موجود ہے، لیکن اس کے باوجود اولاد آدم کی عزت محفوظ نہیں۔ کوئی دفتر میں ہراسگی کا شکار ہے تو کوئی گھر میں کسی کی زیادتی کا نشانہ۔ اگر جنسی تعلیم سے آگاہی ہی اس مسئلے کا واحد حل ہے تو یا بسم اللہ! لیکن وقت ملے تو ڈاکٹر فوزیہ سعید کی کتاب''Working with Sharks'' کا مطالعہ ضرور کیجیے تاکہ جنسی تعلیم سے آگاہ لوگوں اور ان کے لیے کام کرنے والوں کا دوسرا رخ بھی دیکھنے کو ملے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */