میرے اگلے وزیر اعظم عمران خان - ثمینہ رشید

گزشتہ کئی روز سے زینب کیس اعصاب پر سوار رہا زینب کے کیس کے سوا کچھ لکھنے کو جی نہ چاہا۔ لیکن کل ایک مشہور دانشور کا ایک آرٹیکل پڑھا جس نے قلم اٹھانے پر مجبور کردیا۔ صرف اس لیے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ کل جب مورخ تاریخ کا جائزہ لے تو معاملے کا ایک پہلو تو اس پر عیاں ہوں اور دوسرا بالکل مخفی۔

یوں تو حقیقی دانشوروں کا مملکتِ خداداد میں قحط ہے، کوئی تنخواہ دار دانش ور ہے تو کوئی مراعات یافتہ۔ اس پر طرّہ یہ کہ دانشوری جھاڑتے ہوئے "بنا ہے شاہ کا مصاحب پھرے ہے اتراتا" کا خیال رکھنا بھی اب دانشوری کے آداب میں داخل ہوچکا ہے۔ شاہ کے مصاحب ہوئے بغیر زر کے ساتھ ساتھ اب دانش کا حصول بھی مشکوک ہی قرار پایا ہے جوکہ پہلے صرف پڑھنے لکھنے اور غیر جانبدارنہ اور حق گوئی سے مشروط ہوا کرتا تھا۔

دانش بھی ایسی دو نمبر کے دور و قریب میں جہاں جہاں بھی ایسے دانشوروں پر نظر ڈالی جائے تو انہیں محبوب کے جلووں کی طرح شاہ کی خوبیاں ہی خوبیاں نظر آتی ہیں اور شاہ کے بڑے بڑے نقائص یہ محبوب کے ماتھے کے بل کی طرح نظر انداز کردیتے ہیں۔ ایسے میں بڑھتی عمر کی ساتھ ساتھ بصیرت و بصارت کی کمی و بیشی کا مارجن رکھ بھی لیا جائے تب بھی اس دانش کو ہضم کرنا نئی نسل کیا ہم جیسی نئی اور پرانی نسل کے درمیان والوں کے لیے بھی انتہائی مشکل ہے۔

اسی طرح کے ایک دانشور کا خیال ہے کہ عمران اُن کے وزیر اعظم نہیں بن سکتے اور یہ پڑھ کر ہم نے صد شکر ادا کیا کہ ایسا ہونا بھی نہیں چاہیے کیونکہ اگر عمران خان آج وزیراعظم نہیں اور انہیں آج کسی تنخواہ دار دانشور کا کندھا بھی میسر نہیں پھر بھی وہ موجودہ اپوزیشن پر ووٹوں کی تعداد کے حوالے سے برتری رکھتا ہو تو اسے کسی ایسی دانش کی پرورش کرنے والوں کا سرٹیفیکیٹ ہرگز درکار نہیں۔

عظیم دانشور کا خیال ہے کہ 28 جولائی ایک خوفناک دن تھا۔ اگر ان کے نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو واقعی ایک سانحہ تھا۔ نواز شریف کی کرپشن اور اس سے فائدہ اٹھانے والے میڈیا ہاؤسز اور دانشواران کے مفادات کو جس فیصلے سے براہ راست ضرب پڑتی ہو اس پر ان کا اتنا احتجاج تو جائز ہے کہ وہ 28 جولائی کو خوفناک کہہ سکیں۔

انہیں نواز شریف کا جی ٹی روڈ پر سفر ایک کامیابی لگتا ہے۔ شاید انہیں یاد نہیں کہ جی ٹی روڈ کا "جم غفیر" تو کسی کو نظر نہ آیا۔ لیکن کم از کم سفر کا آخری دن ہی یاد کرلیا ہوتا جب قافلے کو ہزیمت سے بچانے کے لیے تیز رفتاری سے بغیر رکے سفر کیا گیا۔ حتی کہ آخری خطاب کے لیے داتا صاحب کے ساتھ تنگ سڑک کا انتخاب کرکے اس کمی کو چھپانے کی کوشش کی گئی کہ نواز شریف دلوں کے وزیر ہیں۔ مقام عبرت تھا وہ دن جب 28 جولائی کی نا اہلی کے بعد کہیں کوئی قابلِ ذکر احتجاج تک ریکارڈ نہ کیا گیا۔

پھر آنجناب نقطہ اٹھاتے ہیں ضمنی انتخابات کا، حلقہ این اے 120 ضمنی انتخابات کے حوالے سے تو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ مرکز اور پنجاب حکومت کی مشینری کے ساتھ لڑے جانے والے ضمنی الیکشن کی کامیابی کو حقیقی نہ جانیے۔ اصل مقابلے کے لیے اصل میدان اور اصل وقت کا انتظار کیجیے اور چکوال الیکشن جیتنے کے ساتھ یہ بھی نہ بھولیں کہ چکوال والوں نے تو ابھی سے نواز شریف پر سرمایہ کاری کرنے سے گریز کرتے ہوئے نقلی نوٹ نچھاور کردیے کیونکہ لیڈر شپ کی ریکارڈ ٹمپرنگ جیسی خوبیوں سے آخر کارکنوں نے کچھ نہ کچھ تو سیکھنا ہی تھا۔

یہ بھی یاد رکھیے کہ لاہور کے ایک حلقے کے الیکشن کو جیتنے کے لیے حکمران جماعت کو ناکوں چنے چبوانے والا صرف ایک عمران خان ہی تھا۔ اس ایک حلقے میں انہیں اتنی محنت کرنا پڑی جو کہ دس حلقوں کے الیکشن کی تیاری اور مقابلے کے لیے بھی نہ کی ہو۔ بہ نسبت اس کے میانوالی کا الیکشن بغیر کسی تیاری کے بھی پی ٹی آئی نے باآسانی جیت لیا تھا۔

اس کے بعد بات آتی ہے دلوں کے وزیراعظم ہونے کی تو صاحب شوگر کوٹڈ ہونے سے تو یہ تلخی چھپ نہیں سکتی کہ نواز شریف اب دلوں کے وزیراعظم نہیں رہے ۔

صد شکر کہ عوام کی اکثریت کا معیار وہ نہیں جو آپ نے ایک اچھے لیڈر کے لیے بیان کیا۔ ہاتھ میں پرچی پکڑ کر بین الاقوامی فورم پر عالمی لیڈران سے اٹک اٹک کر خود اعتمادی سے عاری لہجے میں بات کرنے والا وزیر اعظم تو جس معیار پر پورا اترتا ہو لیکن سی این این پر ڈٹ کر بات کرنے والے آکسفورڈ کا تعلیم یافتہ اس پر پورا نہ اترتا ہو۔

یہ بھی پڑھیں:   میری سمجھ میں کچھ نہیں آتا - حبیب الرحمن

اگلا اعتراض دانشور صاحب کو یہ ہے کہ پی ٹی آئی والے اپنے رہنما کی مخالفت میں اندھا دھندا ٹوٹ پڑتے ہیں۔ اور ان سے مخالفت پر مردود قرار دیتے ہیں۔ یہ الزام بھی سراسر غلط بیانی پر مشتمل ہے۔ کہاں نون لیگ کی پیڈ سوشل ٹیم، مریم نواز کی "غیر اخلاقی" ٹوئیٹس، بلال و دانیال کی لن ترانیاں، مریم اورنگزیب کی تیز چھریاں، خواجگان کے بے شرم موشگافیاں اور اس پر حنیف عباسی کے بیہودہ بیانات اور کہاں پی ٹی کے کچھ خود ساختہ سوشل مجاہدین۔ کیونکہ اتنے بڑے مخالف ٹولے سے مقابلے کے لیے پیسے خرچ کرنے کے لیے عمران خان کے پاس ٹیکس ادا کرنے والوں کی کوئی دولت نہیں۔

شاید یہ لکھتے ہوئے دانشورصاحب نون لیگ کا تابناک اور باحیا ماضی سراسر فراموش کرگئے جس میں بینظیر اور نصرت بھٹو کی ٹمپرڈ تصویریں جلسہ گاہ میں گرائیں گئیں، وہ حربے فراموش کرگئے جو زمان پارک پر عمران خان کے گھر کا گھیراؤ کرکے انہیں سیاست سے پیچھے ہٹانے کے لیے اپنائے گئے تھے۔

اس کے بعد اگلا اعتراض دانشور صاحب کو ہے کہ خان صاحب سیاست کے لیے درکار ذہانت کے اعلیٰ ترین معیار پر پورے نہیں اترتے۔ البتہ ایک بات خان صاحب کی وہ ماننے پر مجبور ہیں کہ وہ دیانت دار ہیں ، شکر الحمداللہ، لیکن اگلے ہی جملے میں وہ دیانت داری کی صفت کو صرف بینک چوکیدار تک محدود کرکے تعصب کی اعلیٰ مثال نظر آتے ہیں۔ چلیں سرِ تسلیمِ خم اس بہانے انہوں نے نواز شریف کی دیانت داری کو خود ہی مشکوک قرار دے دیا۔

جہاں تک رہی ذہانت کی بات تو شکر ہے خان صاحب واقعی اتنے ذہین نہیں کہ پرچی دیکھ کر بھی "طرز کہن کے پرزے اُڑا " سکیں۔

پھر دانشور صاحب فرماتے ہیں کہ اچھے سیاستدان کو معیشت کی فکر کرنا ہوتی ہے۔ معاشرت کے الجھاؤ سلجھانے ہوتے ہیں۔ بالکل درست فرمایا جناب اس معیشت پر حکومت نے اپنی "دانشمندی" سے اتنے قرضے چڑھا دیے ہیں جن کا تاریخ میں کوئی ریکارڈ نہیں ملتا۔ صرف چار سالوں میں بس نوّے ارب ڈالرز کے اضافی قرضے لیے گئے ہیں۔ تجارتی خسارہ بھی اسی مہارت اور فکر کی وجہ سی بتیس ارب ڈالر تک جا پہنچا۔

اور رہی بات معاشرتی مسائل کے حل کی تو جناب اس سلسلے میں صرف پولیس کی مثال لے لیتے ہیں۔ دس سالوں میں پنجاب حکومت نے آٹھ سو ارب روپے صرف پولیس پر خرچ کیے اور نتیجہ کیا رہا پولیس گردی، پولیس کی کرپشن اور ظلم عروج پر۔ یہی پولیس تھی جو نہتے 14 لوگوں کو ماڈل ٹاؤن میں مار دیتی ہے اور یہی پولیس ہے جس کے زیر سایہ قصور کے سیکڑوں بچے جنسی زیادتی کا شکار ہوجاتے ہیں۔ زینب کیس کے مظاہرین پر گولی چلا کر دو بندوں کو مار دینے والی بھی یہی پولیس ہے۔ جب کہ اس کے مقابلے میں خیبر پختونخوا میں پہلی مرتبہ حکومت کرنے والی جماعت پولیس کو مکمل طور پر ایک غیر سیاسی ادارہ بنانے کی کوشش کرتی ہے۔ پنجاب جہاں ایف آئی آر درج کرانا بھی کارِ دشوار ہے اس کے مقابلے میں کے پی کے میں آن لائن ایف آئی آر سسٹم متعارف کرادیا گیا ہے۔ رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ پاس کردیا جاتا ہے۔ جب کہ اسی دوران پنجاب میں ہر بڑے منصوبے کی ریکارڈ جلا دیا جاتا ہے اور کوئی سوال نہیں کرسکتا۔

یہی نہیں پولیس کی حقیقی ریفارمز کی جگہ تین ارب کا ٹھیکہ منشا گروپ کے نشاط لینن والوں کو دیا جاتا ہے اور پولیس کی اصلاحات کی جگہ یونیفارم تبدیل کردی جاتی ہے۔ حد تو یہ ہے کہ یونیفارمز کی ترسیل کئی ماہ گزرنے کہ باوجود اب تک پنجاب کے کئی علاقوں تک نہیں ہوسکی ہے۔ لیکن معاشرتی بھلائی کے لیے خرچ کئے گئے تین ارب نشاط لینن کو ادا کئے جاچکے ہیں۔ اب ان مثالوں کے بعد عوام ہی فیصلہ کرسکتی ہے کہ دانشور کے اعتراضات "بجا" تھے کہ "بےجا"۔

عمران خان کسی وزارت پر رہے نہ وزارت ِعظمی پر تو ان کی انتظامی صلاحیتوں پر دانشور صاحب کی منفی قیاس آرائی کرنا محض تعصب پر مبنی کہی جاسکتی ہیں۔ رہی قانون سازی سے متعلق عمران کی کوئی تقریر تو جناب شاید بھول گئے عمران ہی تھے جو پانامہ کو بھی پارلیمنٹ میں حل کرنا چاہتے تھے لیکن حکومت نے ایک نہ سنی اور بالآخر لیڈر صاحب نااہل قرار پائے۔ دو تہائی اکثریت رکھنے والی تجربہ کار پارٹی کے مقابلے میں عمران کی سیاسی بصیرت اور پانامہ پہ ان کی جیت ان کے قانونی معاملات پر گرفت کا بین ثبوت ہے۔ یہ عمران خان ہی تھے جو اداروں کی غیر جانبداری اور خود مختاری کےقائل ہیں اور ملک میں قانون کی حکمرانی کی بات کرتے ہیں ججوں کو خریدنے اور پارلیمنٹ پر حملوں جیسے شرمناک ماضی رکھنے والے لیڈر نہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   شریف برادران کی غیرموجودگی میں ن لیگ کون چلائےگا؟

دانشور صاحب کا خیال ہے کہ عمران خان پاکستان کی "جمہوری روایت " میں رچے بسے نہیں ڈنڈے کھانے اور جیل جانے سے محروم رہے۔ دانشور صاحب سامنے کی حقیقت کو فراموش کرکے عمران خان پر تنقید کرتے ہیں اور یہ بھول جاتے ہیں کہ ان کے نظریاتی لیڈر نے کیسے رات و رات این آر او کرکے اس ملک سے خاندان سمیت فرار اختیار کیا تھا۔ شکر ہے کہ عمران کا ماضی کسی این آر او سے داغدار نہیں۔ رہی بات قانون کا سامنہ کرنے کی تو جناب من آپ ہی نے فرمایا کہ عمران کسی انتظامی عہدے پر نہیں رہے۔ تو ان پر کوئی کرپشن کا یا بد انتظامی کا مقدمہ تو بن نہیں سکتا تھا لے دے کر نظریاتی لیڈر نے ان پر ان گنت سیاسی مقدمات قائم کئے۔ ٹائلز والے کیس سے لے کر نا اہلیت کے مقدمے تک سارے کیسز سیاسی بنیادوں پر قائم ہیں لیکن یہ سچ لکھتے دانشور صاحب کی انگلیاں ساتھ نہیں دیتیں۔

پھر دانشور صاحب اعتراض کرتے خان صاحب کے لہجے کی قطعیت کی۔ دراصل ہمیں بطور پاکستانی ڈپلومیٹک لہجوں اور جھوٹ کی اتنی عادت ہے کہ خان صاحب کا لہجہ اکثر کو ناگوار گزرتا ہے۔ اور کیوں گزرتا ہے یہ بھی کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔

دانشور صاحب کے نزدیک خان صاحب کی شخصیت اتنا منظر پر نظر آتی ہے کہ عام ماہر نفسیات ان کے آر پار دیکھ سکتا ہے۔ دانشور صاحب جس بات کو بطور تنقید پیش کر رہے ہیں وہ خان صاحب کی لیڈر شپ کا سب سے اہم جز ہے کہ وہ جو ہیں وہی نظر آتے ہیں جو کہتے ہیں وہ کر دکھاتے ہیں اور یہی وہ چیز ہے جو آج کی نسل کو ان کے گرد کھینچتی ہے۔ ان میں جرات ہے کہ جو دل میں ہے وہ کہہ سکیں۔ وہ فضل الرحمن نہیں جو کشمیر کمیٹی کے سربراہ ہوکر بھی کشمیر کا نام نہیں لیتے وہ نواز شریف بھی نہیں جو ملکی مفادات کو پسِٰ پشت ڈال کر جندال سے ملاقاتیں کرتے ہیں۔

محترم دانشور کے خیال میں صرف اسٹیبلشمنٹ سے انحراف کرکے لوگوں کے دلوں تک پہنچا جاسکتا ہے جس سرکشی سے عمران خان محروم ہیں۔ دوسرے لفظوں میں وہ نواز شریف کو وہ سرکش ثابت کرنا چاہ رہے ہیں۔ جبکہ حقیقت حال کس سے چھپی ہے۔اداروں کو ان کے دائرہ کار تک محدود کرنے کے لیے اپنے ہی ملک کے اداروں سے سرکشی درکار نہیں ہوتی بلکہ ایک ایماندار اور دیانت دار قیادت اداروں کو سرنگوں بنانے کے بجائے انہیں خودمختار اور مضبوط کرنے پر اپنی تمام تر صلاحیتیں صرف کرتی ہے۔ ناکہ نواز شریف کی طرح سب اداروں کی خود مختاری مجروح کرکے انہیں زیرنگیں بنانے کی کوشش کرتی ہے۔

آخر میں دانشور صاحب کا کہنا ہے وہ عمران خان کو ووٹ دینے سے قاصر ہیں اور ان کے اس حق کا خاکسار کو مکمل احترام ہے۔

انہیں پورا حق حاصل ہے کہ تیس سال کے آزمائے ہوئے گھوڑے پر اپنے ووٹ کو استعمال کریں۔ لیکن یہ کہنے میں کوئی عار نہیں جس طرح پچھلے برس ان کے اندازے ٹرمپ اور امریکہ کہ حوالے سے غلط ثابت ہوئے تھے اس بار پاکستان کے حوالے سے بھی غلط ثابت ہونے والے ہیں۔

البتہ میرے اگلے وزیرِ اعظم اور میرے ووٹ کے حقدار عمران خان ہوں گے۔ کیونکہ مجھے یقین ہے کہ وزیراعظم بننے کے بعد بھی خان صاحب دانشوروں کے کسی ٹولے کو تنخواہ اور مراعات نہں دیں گے۔ نہ ہی انہیں شاہ کا مصاحب بنا کر اپنے برے کاموں کو اچھا اور جھوٹ کو سچ بنا کر پیش کرنے کی ڈگڈگی بجانے پر مجبور کریں گے۔

عمران میرے وزیراعظم اس لیے بھی ہوں گے کیونکہ میں شاہد ہوں کہ خان صاحب نے صحیح اور غلط پر پچھلے بیس سال میں کبھی کوئی سمجھوتہ نہیں کیا ورنہ آج سے کئی سال پہلے ہی وزیراعظم بن چکے ہوتے۔ یہ خان صاحب کی جرات تھی کہ اگر احتساب کے حوالے سے مشرف کی پالیسیز کو سراہا تو اسی جرات سے اس کے ڈکٹیٹر بننے پر اس پر کھل کر تنقید کی۔ نا تو زرداری کی طرح بزدل بنے کہ جنہوں نے مشرف کو گارڈ آف آنر دے کر رخصت کیا تھا اور نہ ہے نواز شریف کی طرح جنہوں نے مشرف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کے لیے عدالت کے پیچھے چھپنے کی کوشش کی۔

ان شاء اللہ میرے ملک کے اگلے وزیر اعظم عمران ہی ہوں گے کیونکہ خان صاحب کی جرات، ایمانداری، دیانت داری اور سچ ہی ان کی اصل طاقت ہے اور یہی وہ خوبیاں ہیں جس کی اس ملک اور قوم کے سربراہ میں ہونے کہ اشد ضرورت ہے۔

Comments

ثمینہ رشید

ثمینہ رشید

ثمینہ رشید برطانیہ میں مقیم ہیں، قانون اور بزنس مینجمنٹ کی تعلیم و تجربے اور دیار غیر کے تجربات کو نظم و نثر میں ایک سے کمال کے ساتھ منتقل کرتی ہیں۔ ویب سائٹ شاہکار کی چیف ایڈیٹر ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.