حدود اور قصاص کی سزائیں صرف عہدِ رسالت کے مجرموں کے لیے تھیں - ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

اللہ تعالیٰ نے انسان کی فطرت میں خیر وشر کے مبادی کا مکمل شعور رکھا ہوا ہے اور پھر اسے عقل کی نعمت عطا کی ہے جس کے ذریعے وہ فطرت میں راسخ تصورات دریافت کرسکتا ہے۔ البتہ جہاں انسانی عقل کے ٹھوکر کھانے کا امکان تھا وہاں اللہ تعالیٰ نے انبیاء کے ذریعے اپنی وحی بھیج کر رہنمائی فراہم کردی۔ پس گنتی کے چند امور کے علاوہ باقی تمام امور میں انسان اپنی عقل و فطرت کی روشنی میں فیصلہ کرنے کا اختیار رکھتا ہے۔

تاہم یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ اللہ تعالیٰ ان انبیاے کرام میں بعض جلیل القدر ہستیوں کو رسول کی حیثیت دی اور ان کے ذریعے ان کی قوموں پر حجت تمام کردی۔ اس اتمامِ حجت کے بعد ان رسولوں کے مکذبین کے لیے دنیا میں ہی قیامتِ صغریٰ برپا کی گئی اور ان پر کبھی ساف و حاصب کے ذریعے تو کبھی دوسرے قدرتی طریقوں سے عذاب آیا اور اگر رسول کے متبعین معتد بہ تعداد میں تھے تو کبھی ان کی تلوار کے ذریعے ان کے مخالفین پر اللہ کا فیصلہ نافذ کیا گیا۔

رسول کے مکذبین پر اللہ کا عذاب جیسے جنگ کی صورت میں نازل ہوا ایسے ہی رسول کی موجودگی میں فساد فی الارض کا ارتکاب کرنے والے بدترین مجرموں کو جو سزائیں دی گئیں وہ بھی اسی اتمامِ حجت کے نتیجے میں دی گئی اور ان کی حیثیت بھی اللہ کے فیصلے کی تھی جو رسول کے ساتھیوں کے ذریعے ان مفسدین پر نافذ کیا گیا۔ قرآن نے یہ حقیقت صاف الفاظ میں بیان کردی ہے جس کے بعد اس معاملے میں کسی دوسری رائے کی گنجائش نہیں رہی لیکن ہمارے فقہا نے ان خصوصی سزاؤں کا حکم عام سمجھا اور اس وجہ سے غلط فہمی میں پڑ گئے۔

ارتدادکی سزا کے متعلق ہم پہلے ہی واضح کرچکے ہیں کہ یہ سزا انھی لوگوں کو دی گئی جنھوں نے رسول کی جانب سے اتمامِ حجت کے بعد واپس کفر کی راہ اختیار کی۔ اس وجہ سے یہ بات قطعی طور پر ثابت ہے کہ عہدِ رسالت کے بعد کے لوگوں پر اس سزا کا نفاذ نہیں کیا جاسکتا۔ اسی طرح دیگر حدود سزاؤں کے علاوہ قصاص کی سزا کے متعلق بھی نظمِ قرآن کی قطعی گواہی یہ ہے کہ ان سزاؤں کا اطلاق صرف ان لوگوں پر ہونا تھا جنھوں نے رسول کی موجودگی میں اور رسول کی جانب سے اتمامِ حجت کے بعد فساد کی روش اختیار کی جبکہ ان کے پاس ایسا کرنے کے لیے کوئی عذر باقی نہیں رہا تھا۔

چنانچہ سورۃ المآئدۃ میں پہلے یہود و نصاری کے ساتھ اللہ کے میثاق کا ذکر آیا ہے اور پھر بتایا گیا ہے کہ کیسے انھوں نے اللہ کے ساتھ کیے گئے میثاق کی خلاف ورزی کی جس کے نتیجے میں انھیں عبرتناک سزائیں دی گئیں۔ اسی ضمن میں آدم کے دو بیٹوں کی لڑائی اور اس کے بعد قاتل کی ندامت کے ذکر کے بعد کہا گیا کہ بنی اسرائیل پر ہم نے قصاص کی سزا لازم کی تھی۔ سیاقِ کلام کی دلالت قطعی ہے کہ اس سزا کا تعلق رسول کے بعد اتمامِ حجت ہی کے اصول سے تھا اور اسی وجہ سے اس کا اطلا ق بنی اسرائیل پر کیا گیا۔ سزا کے ذکر کے بعد رسالت اور اتمامِ حجت کا ذکر ان الفاظ میں آیا ہے: و لقد جآتھم رسلنا بالبینٰت ثم ان کثیراً منھم بعد ذلک فی الارض لمسرفون (یہ بھی حقیقت ہے کہ (اِن پر اتمام حجت کے لیے) ہمارے پیغمبر اِن کے پاس نہایت واضح نشانیاں لے کر آئے، لیکن اِس کے باوجود اِن میں سے بہت سے ہیں جو زمین میں زیادتیاں کرنے والے ہیں۔)

پھر اس کے معاً بعد آیتِ حرابہ ہے جس میں ایسے ہی "مسرفون" کو "اللہ اور اس کے رسول کے خلاف محاربہ کرنے والے" کہا گیا ہے اور انھی کو فساد فی الارض کا مرتکب قرار دیا ہے :

" (اِنھیں بتا دیا جائے کہ) جو اللہ اور اُس کے رسول سے لڑیں گے اور زمین میں فساد پیدا کرنے کی کوشش کریں گے، اُن کی سزا پھر یہی ہے کہ عبرت ناک طریقے سے قتل کیے جائیں یا سولی پر چڑھائے جائیں یا اُن کے ہاتھ اور پاؤں بے ترتیب کاٹ دیے جائیں یا اُنھیں علاقہ بدر کردیا جائے۔ یہ اُن کے لیے دنیا میں رسوائی ہے اور آخرت میں اُن کے لیے ایک بڑا عذاب ہے۔"

یہاں دیگر باتوں کے علاوہ اس امر پر بھی غور کریں کہ ایسے لوگوں کے لیے دنیا میں رسوائی اور آخرت کے عذاب کا ذکر ہے جو ظاہر ہے کہ صرف رسول کے مکذبین پر ہی صادق آتا ہے۔ پس قرآن نے صاف الفاظ میں بتادیا ہے کہ حرابہ کی یہ سزا اس صورت میں ہے جب "اللہ کا رسول دنیا میں موجود ہو اور لوگ اُس کی حکومت میں اُس کے کسی حکم یا فیصلے کے خلاف سرکشی اختیار کرلیں۔ "

اسی وجہ سے اگلی آیت میں ان لوگوں کو اس سزا سے مستثنی کردیا گیا ہے جو توبہ کرلیں : " مگر اُن کے لیے نہیں جو تمھارے قابو پانے سے پہلے توبہ کرلیں۔ سو (اُن پر زیادتی نہ کرو اور) اچھی طرح سمجھ لو کہ اللہ بخشنے والا ہے، اُس کی شفقت ابدی ہے۔"یہاں توبہ کے الفاظ اسی طرح آئے ہیں جیسے سورۃ التوبہ میں مشرکینِ عرب کے لیے آئے ہیں : فان تابوا و اقاموا الصلوۃ و آتوا الزکوۃ فخلوا سبیلھم۔

اس کے متصل بعد والی آیت میں ایسے توبہ کرنے والے لوگوں کو اللہ سے ڈرنے کا کہا گیا ہے۔ پھر ان مفسدین کے لیے آخرت کی سزا کا ذکر ہے اور اس کے بعد سلسلۂ کلام واپس فساد کی سزا کے ساتھ جڑ گیا ہے اور سرقہ کا ذکر کیا ہے جس کا ارتکاب رسول کی موجودگی میں کیا جائے تو وہ فساد کی بدترین قسم بن جاتا ہے اور اسی وجہ سے اس پر ہاتھ کاٹنے کی سزا مقرر کی گئی ہے۔ واضح رہے کہ سورۃ یوسف میں قرآن نے صراحت کے ساتھ چوری کو فساد فی الارض میں شمار کیا ہے : ما جئنا لنفسد فی الارض و ما کنا سٰرقین۔ پھر یہ بھی دیکھیے کہ ہاتھ کاٹنے کی اس سزا کے متعلق قطعی الفاظ میں تصریح کی گئی ہے کہ یہ نکالاً من اللہ یعنی " اللہ کی طرف سے عبرت ناک سزا کے طور پر " دی جارہی ہے۔

کے بعد پھر توبہ کا ذکر ہے : " پھر جس نے اپنے اِس ظلم کے بعد توبہ اور اصلاح کرلی تو اللہ اُس پر عنایت کی نظر کرے گا۔ بے شک، اللہ بخشنے والا ہے، اُس کی شفقت ابدی ہے۔"غامدی صاحب حرابہ کے بعد توبہ اور سرقہ کے بعد توبہ میں فرق کیا ہے اور وہ اس کے قائل ہیں کہ حرابہ کے بعد پکڑے جانے سے قبل توبہ کی جائے تو حرابہ کی سزا نہیں دی جائے گی لیکن چوری کی سزا اس کے باوجود دی جائے گی۔ تاہم قرآن کی قطعی دلالت کے سامنے بوحنیفہ و شافعی، اشعری و ماتریدی اور جنید و شبلی کی طرح اصلاحی و غامدی کی رائے کی بھی کوئی حیثیت نہیں۔ پس توبہ جیسے شرک، ارتداد اور حرابہ و قصاص کی سزا معطل کردیتی تھی، ایسے ہی چوری کی سزا بھی معطل کرنے کے لیے بھی کافی تھی۔ اور عہدِ رسالت کے بعد تو ان سزاؤں کا نفاذ ویسے بھی نہیں ہونا۔ یہ بات سیاقِ کلام سے قطعی طور پر ثابت ہے کیونکہ چوری کے جرم کے بعد توبہ پر اللہ کی مغفرت کے اعلان کے بعد پھر "یا ایھا الرسول" کے الفاظ سے رسول اللہ ﷺ کو مخاطب کرکے انھیں تسلی دی گئی ہے کہ ایسے مفسدین کی روش سے آپ غمزدہ نہ ہوں۔ یہ قرآن نے صاف الفاظ میں بتادیا کہ سارا معاملہ رسول کے متعلق خصوصی قانون یعنی اتمامِ حجت کے قانون کا ہے۔ یہاں پھر دیکھیے کہ قطعی الفاظ میں تصریح کی گئی ہے کہ ان مفسدین میں کچھ وہ ہیں جو منہ سے کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے اور کچھ یہود میں سے ہیں : " تمھیں آزردہ نہ کریں وہ لوگ، اے پیغمبر جو (خدا کی شریعت کے) منکر ہوجانے میں ایک دوسرے سے بڑھنے کی کوشش کر رہے ہیں،وہ بھی جو منہ سے کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے ہیں، دراں حالیکہ اُن کے دل ایمان نہیں لائے اور وہ بھی جو یہودی ہوچکے ہیں۔"ان الفاظ نے قطعی طور پر واضح کردیا کہ حرابہ، قصاص اور سرقہ کی آیات میں مفسدین سے مراد یہی لوگ تھے جو رسول کی موجودگی میں اور اس کی حکومت میں اس کے خلاف سرکشی کررہے تھے۔

باقی رہا زنا کی سزا کا معاملہ تو قرآن نے صاف الفاظ میں بیان کردیا ہے کہ یہ بھی عہدِ رسالت میں اس جرم کا ارتکاب کرنے والے مفسدین کے لیے تھی۔ چنانچہ پہلے مرحلے میں سورۃ النسآء میں ان لوگوں کو قید کرنے کا حکم دیا گیا۔ پھر سورۃ النور میں ان کے لیے سو کوڑوں کی سزا مقرر کی گئی۔ یہ اس کے بعد بھی اپنی حرکتوں سے باز نہ آئے تو سورۃ الاحزاب میں ان کے لیے حتمی حکم نازل کیا گیا اور اس میں قطعی الفاظ میں کہا گیا ہے کہ اس سزا کا اطلاق ان لوگوں پر ہوتا تھا جنھوں نے رسول کی موجودگی میں رسول کے شہر میں فساد کا ارتکاب کیا :

" یہ منافقین اگر (اِس کے بعد بھی) اپنی حرکتوں سے باز نہ آئے اور وہ بھی جن کے دلوں میں بیماری ہے اور جو مدینہ میں لوگوں کو بھڑکانے کے لیے جھوٹ اڑانے والے ہیں تو ہم اُن پر تمھیں اکسا دیں گے، پھر وہ تمھارے ساتھ اِس شہر میں کم ہی رہنے پائیں گے۔اُن پر پھٹکار ہو گی، جہاں ملیں گے، پکڑے جائیں گے اور بے دریغ قتل کر دیے جائیں گے۔ یہی اُن لوگوں کے بارے میں اللہ کی سنت ہے جو پہلے گزر چکے ہیں اور اللہ کی اِس سنت میں تم ہرگز کوئی تبدیلی نہ پاؤ گے۔ "

پھر جہاں تک قذف کی سزا کا تعلق ہے تو نظمِ کلام کی قطعی گواہی یہ ہے کہ یہ سزا امہات المؤمنین پر الزام رکھنے والے ان مجرموں کے لیے مقرر کی گئی تھی جو عہد رسالت میں اس فساد کا ارتکاب کرتے تھے۔ چنانچہ واقعۂ افک کی آیات میں قطعی الفاظ میں اس امر کی تصریح کی گئی : لو لا جآوا علیہ باربعۃ شھدآء اگلی آیات بھی صاف الفاظ میں بیان کررہی ہیں کہ سارا معاملہ امہات المؤمنین پر بہتان تراشی کرنے والے منافقین کا تھا اور اسی لیے ان آیات میں رسول کے ان مخالفین کے لیے جو رسول کی موجودگی میں اس فساد کا ارتکاب کررہے تھے، آخرت کے عذاب عظیم کا بھی ذکر کیا۔

پس اس معاملے میں دو رائیں نہیں ہوسکتیں کہ حدود سزائیں ہوں یا قصاص کی سزا، ان کا تعلق رسول اللہ ﷺ کے اولین اور براہِ راست مخاطبین سے تھا جن پر رسول اللہ ﷺ نے خود اتمامِ حجت کیا۔ بعد کے ادوار سے ان کا کوئی تعلق قطعاً نہیں ہے اور ان کے حکم کو عام سمجھنا ایک بہت بڑی غلطی ہے۔


پس نوشت: جو قارئین الجھن میں ہیں ان کے لیے یہ تصریح ضروری ہے کہ اس تحریر میں پیش کی گئی رائے میری نہیں ہے، الحمد للہ!

یہ تحریر غامدی صاحب کے اصولوں کے اطلاق پر مبنی ہے۔ یہ بات بھی نوٹ کرلیں کہ اس تحریر میں واوین میں موجود الفاظ غامدی صاحب ہی کے ہیں۔ البتہ ان سے استدلال میں نے کیا ہے اور یہ استدلال غامدی صاحب کے اصولوں کی روشنی میں کیا ہے۔ اگر غامدی صاحب کے ترجمان یا متاثرین یہ سمجھتے ہیں کہ غامدی صاحب کے اصولوں کے اطلاق میں کہیں غلطی ہوئی ہے تو وہ اس غلطی کی نشان دہی کرکے عند اللہ ماجور اور عند الناس مشکور ہوں گے۔

Comments

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد بین الاقوامی اسلامی یونی ورسٹی، اسلام آباد میں شریعہ اکیڈمی کے ڈائریکٹر جنرل ہیں، اس سے قبل شعبۂ قانون کے سربراہ تھے۔ ایل ایل ایم کا مقالہ بین الاقوامی قانون میں جنگِ آزادی کے جواز پر، اور پی ایچ ڈی کا مقالہ پاکستانی فوجداری قانون کے بعض پیچیدہ مسائل اسلامی قانون کی روشنی میں حل کرنے کے موضوع پر لکھا۔ افراد کے بجائے قانون کی حکمرانی پر یقین رکھتے ہیں اور جبر کے بجائے علم کے ذریعے تبدیلی کے قائل ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

  • السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ
    محترم ڈاکٹر صاحب ، غامدی صاحب کے افکار اور اصولوں کا اطلاق کرتے ہوئے آپ نے جو کچھ لکھا اُس سے ایک عام قاری یہ ہی سمجھے گا کہ ’’’ حدود اور قصاص کی سزائیں صرف عہدِ رسالت کے مجرموں کے لیے تھیں ‘‘‘ لہذا عہد ء رسالت کے بعد میں یہ سزائیں قابل نفاذ نہیں ، کو ہی درست سمجھ کر آپ نے یہ مضمون لکھا ہے ،
    آپ سے درخواست ہے کہ اس موضوع پر اپنی ذاتی رائے سے بھی مستفید فرمایے ، پیشگی شکریہ اور جزاک اللہ خیراً ، و السلام علیکم۔